08:56 am
حکومت: سارے اتحادی ناراض!

حکومت: سارے اتحادی ناراض!

08:56 am

٭آزاد کشمیر میں برف تھم گئی، گلگت  بلتستان میں جاری، نیلم ویلی میں مزید پانچ لاشیں دریافت ہو گئیں ملک میں شدید سردی جاری ہے۔ وزیراعظم پاکستان کا برف زیادہ علاقوں کا دورہ! دنیا بھر میں موسم بدل رہا ہے۔ اس وقت شدید سردی اس کے بعد شدید گرمی ہو گی، اقوام متحدہ کا اعلان آ گیا ہے! اعلان کے مطابق دنیا بھر میں جنگل کاٹ کر اور صنعتی اداروں کی گیس نے خود فضائی حالات کو تبدیل کیا ہے۔ آزاد کشمیر میں تین دیہات برف باری سے دبے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے برف زدہ علاقوں کا دورہ کیا،امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ دنیا بھرطوفانی بارشوں کا عالم یہ ہے کہ بھارت میں پیاز کی ساری فصل تباہ ہو گئی۔ پیاز کی زیادہ پیداوار جنوبی بھارت میں ہوتی ہے وہاں گزشتہ مون سون بارشوں سے پیاز کی لاکھوں ایکڑ پیاز کی فصل تباہ ہو گئی۔
٭ملک میں جُوتا پھر اہمیت اختیار کر گیا۔ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے ایک ٹیلی ویژن کے پروگرام میں میز پر ایک فوجی جوتا رکھ کر کہا کہ اپوزیشن پہلے اس جوتے کی مخالفت کرتی تھی اب اسے چوما چاٹا جا رہا ہے۔ فیصل واوڈا کے اس اقدام کی ہر شعبے میں مذمت کی جا رہی ہے، خود حکومت کے اندر اطلاعات کی خصوصی معاون فردوس عاشق اعوان نے مذمت کی ہے کہ فوجی جوتی کو سیاست کا موضوع بنایا جا رہا ہے۔ فیصل واوڈا نے خود بتایا ہے کہ وزیراعظم نے میرے اس اقدام کو ناپسند کیا ہے۔ اس پر میں نے یقین دلایا ہے کہ آئندہ اچھا بچہ بنوں گا، آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔ وزیراعظم ہائوس سے اس بارے کوئی اطلاع باہر نہیں آئی۔ عوامی حلقوں میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ فیصل واوڈا نے اس حرکت سے فوج کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچانے کے علاوہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پیدا ہونے والی مفاہمت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔ میز پر جوتے رکھنا ویسے ہی بدتمیزی شمار ہوتی ہے۔ اس پر سپیکر قومی اسمبلی نے بھی افسوس ظاہر کیا ہے۔ مشہور شاعر اکبر الٰہ آبادی کا مشہور شعر یاد آ رہا ہے۔ ڈاسن کمپنی کا جوتا بہت مشہور تھا۔ اکبر الٰہ آبادی لکھتے ہیں کہ ’’ڈاسن نے جوتا بنایا، میں نے اک مضمون لکھا…میرا مضموں تو نہ پھیلا: ڈاسن کا جوتا چل گیا۔‘‘ایک جوتی یاد آ رہی ہے۔ بھارت کے شہر کانپور میں چمڑے کی صنعت، خاص طور پر جوتا سازی بہت مشہور ہے۔ پورے ملک کو جوتے فراہم ہوتے ہیں۔ ایک اصطلاح جوتم پیزاری کی ہے۔ اس میں دو مخالف فریق ایک دوسرے پر جوتے چلاتے ہیں۔ (خواتین کو یہ کام بہت پسند ہے) ایک مشہور سیاسی واقعہ اقوام متحدہ میں 1950ء کے عشرہ میں پیش آیا۔ سوویت یونین کے وزیراعظم خروشیف نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کسی مسئلے پر پائوں سے جوتا نکال کر میز پر بجایا اور روس کے بارے میں کسی اعتراض کو مسترد کر دیا۔یہ حرکت دنیا بھر میں مذموم قرار پائی۔ بات فیصل واوڈا سے شروع ہوئی تھی۔ موصوف فرماتے ہیں کہ جوتا تھیلے میں چھپا کر لایا تھا۔ پیمرا نے اس واقعہ کا سخت نوٹس کر دیا ہے اور پروگرام کے اینکر پرسن پر دو ماہ تک کسی چینل میں آنے پر پابندی لگا دی ہے۔ فیصل واوڈا نے جوتے کے قصے میں معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے۔
قارئین کرام! ملک کی بدقسمتی کہ مشکل سے حکومت اور اپوزیشن میں مفاہمت کا جو ماحول پیدا ہونے لگا تھا، وہ فیصل واوڈا نام کے صرف ایک شخص کی فضول باتوں سے سبوتاژ ہوتی دکھائی دے رہی ہے مگر صرف واوڈا ہی نہیں، اس حمام میں سب ایک جیسے ہیں۔ مخالفین کو سڑکوں پرگھسیٹنے، پیٹ پھاڑنے، کٹھ پتلی، سلیکٹڈ وزیراعظم، ٹریکٹر ٹرالی، جرنیلوںکی اینٹ سے اینٹ بجانے والے غول بیابانی ہر دور میں ہر پارٹی میں رہے ہیں بدقسمتی کہ ایک بڑھک باز وزیر کہہ رہا ہے کہ عمران خان ایسی باتوں پر خوش ہوتے ہیں! اور دیکھئے، قومی اسمبلی میں رانا ثناء اللہ اور شہر یار آفریدی نے ایک دوسرے کے خلاف اپنے بیان کو سچ ثابت کرنے کے لئے قرآن مجید کو اٹھا لیا۔ اس پر حکومت کے ’’مہذب ترین، نرم گو، شائستہ مزاج‘‘ وزیر فواد چودھری نے فرمایا ہے کہ میں سپیکر ہوتا تو ان دونوں کو معطل کر دیتا!مقام شکر کہ جنگل کے جانوروں کو آگ لگانے کا طریقہ نہ آیا ورنہ کوئی جنگل باقی نہ رہتا۔
٭سندھ کی حکومت نے دوسرے آئی جی پولیس کلیم امام کو بھی فارغ کر کے تیسرے آئی جی کو لانے کا اعلان کیا ہے۔ الزام ہے کہ صوبے میں جرائم بڑھ گئے ہیں۔ ممکن ہے ایک جرم یہ بھی ہو کہ صوبے میں لوگوں کو کتوں کے کاٹنے کی تعداد مناسب حد سے زیادہ ہو گئی ہے یا یہ کہ کراچی میں سردی کیوں بڑھ گئی ہے؟ اصل جرم یہ ہے کہ حکومت نے بلدیاتی انتخابات کی آمد پر آئی جی کے علم میں لائے بغیر پولیس کے اعلیٰ افسروں کے من پسند تبادلے شروع کر دیئے تھے جب کہ یہ تبادلے آئی جی کی طرف سے کئے جاتے ہیں۔ آئی جی کلیم امام نے اس پر مراسلہ لکھا کہ اس کے نظام اور اختیارات میں مداخلت کی جا رہی ہے اور اسے آزادی سے کام نہیں کرنے دیا جا رہا۔ یہ موقف بالکل درست ہے کہ پولیس کے ہاتھ پائوں باندھ دیئے جائیں تو وہ کام کیسے کر سکے گی؟ بہرحال موجودہ صورت میں آئی جی کو جانا ہی پڑے گا۔ سندھ کی حکومت کبھی کسی آئی جی سے نہیں نبھا سکی۔ اے ڈی خواجہ، غلام حیدر جیلانی، امجد جاوید سلیمی وغیرہ کے خلاف بھی یہ رویہ، کسی کو آرام و آزادی سے کام نہ کرنے دیا۔ اب اور کوئی ٹھوس وجہ ہاتھ نہ آئی تو بقول محاورہ کہ ’’آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہے؟‘‘ جرائم میں اضافہ ہاتھ آ گیا ہے۔ رینجرز نے جرائم پر ہاتھ ڈالا تو اس پر پابندی لگا دی کہ وہ حکومت کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا۔ ویسے پیپلزپارٹی کی حکومتوں کا یہ رویہ نیا نہیں۔ آصف زرداری کے دور میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل طارق کھوسہ نے کراچی میں پیپلزپارٹی کے ایک ’بڑے‘ کی کرپشن پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کیا۔ پیر کی صبح اسلام آباد سے کراچی جانے کے لئے طیارہ میں نشست بک کرائی۔ غلطی یہ ہوئی کہ اس بات کو راز میں نہ رکھا۔ اس شخص نے صدر سے بات کی۔ صدر نے وزیراعظم سے کہا کہ یہ کارروائی رکوائی جائے۔ اتوار کو چھٹی کا دن تھا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اس دن خاص طور دفتر کھلوایا۔ سیکرٹری کو بلایا اور فوری طور پر طارق کھوسہ کو ’ترقی‘ دے کر ایک معمولی سے محکمہ کا سیکرٹری بنا دیا! اس بڑے ’عزیز‘ کے خلاف کارروائی رک گئی۔ایف آئی اے کا نیا ’یَس سَر‘ ڈائریکٹر جنرل لایا گیا، اس نے ساری کارروائی ہی ختم کر دی! حکومتوں پر زوال ایسے ہی نہیںآیا کرتے!مگر سندھ پنجاب سے بہت پیچھے ہے 16 مہینوں میں5 آئی جی پولیس اور4 چیف سیکرٹری تبدیل!
٭ مصیبت کبھی تنہا نہیں آتی۔ حکومت کو مینڈک تولنے پڑ گئے ہیں۔ مینڈک کبھی نچلا نہیں بیٹھ سکتا۔ حکومت ایک مینڈک کو ترازو میں رکھتی ہے، دوسرا بھاگ نکلتا ہے۔ ابھی ایم کیو ایم کے نخروں سے نمٹ رہی تھی کہ بلوچستان سے نیشنل پارٹی دھمکیاں دیتی ہوئی اچھل پڑی بلوچستان کے وزیراعلیٰ اپنی پارٹی ’’بلوچستان عوامی پارٹی‘‘ کے مطالبات کا تھیلا پکڑے اس انداز میں آ ٹپکے کہ بقول شاعر’’کودا نہ تیرے گھر پہ کوئی یوں دھم سے ہو گا...وہ کام کیا ہم نے جو رُستم سے نہ ہو گا!‘‘ وزیراعظم نے عاجزانہ طور پر سارے مطالبات تسلیم کر لئے تو ق لیگ نے گانا شروع کر دیا ’’ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں‘۔‘ وزیراعظم نے کابینہ کا اجلاس بلایا۔ سارے ’مینڈک‘ غائب۔ اجلاس میں صرف تحریک انصاف کا غول بیابانی! وہیں اطلاع آئی کہ پیر پگاڑا کا موڈ بہت خراب ہے کہ ان کی پارٹی سے کیا جانے والا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا اس لئے، محبت پھر کبھی ہو گی‘‘ اس کے ساتھ ہی ق لیگ کا چیلنج آ گیا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر ہمارے مطالبات (وزیروں کا اضافہ) تسلیم نہ کیا گیا تو پھر دھما دھم مست قلندر ہو گا! اور حکومت! کابینہ کے نہائت ’’مہذب‘‘ وزیرآپس میں ہی لڑ رہے ہیں۔ صبح شام پریس کانفرنس بردار فردوس عاشق اعوان بنام فیصل واوڈا، فواد چودھری بنام شہر یار آفریدی! وزیراعظم چھ ماہ اسمبلی میں نہیں آئے 16 ماہ میں گیارہ غیر ملکی دورے! سابق حکومتوں کے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگوانے کی افتتاحی تقریبات سے فرصت نہیں ملتی، اپنے اتحادی آنکھیں دکھا رہے ہیں گھر چل نہیں رہا اور ایران اور سعودی عرب میں مفاہمت کا اشٹام اٹھائے کبھی تہران کبھی ریاض!