11:52 am
اصلی مخدوم

اصلی مخدوم

11:52 am

بعض موضوعات ایسے ہوتے ہیں جن پرکچھ کہنایالکھناآسان نہیں ہوتا،زبان وقلم کی ساری صلاحیتیں ناکافی لگنے لگتی ہیں۔خصوصاًایسے موضوعات جن کا تعلق ہماری ذاتی یاملی ناکامیوں سے ہو،وہاں ہماراخاص قومی مزاج خود پسندی اوررجحان راہ میں حائل ہوجاتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسے دورمیں جب  انسان مادی ترقی کی معراج پرپہنچ چکاہے،مسلم دنیاکے تصورکے ساتھ ہی ایک ایسی شکست خوردہ قوم کی تصویرابھرتی ہے جواپنے جوہرسے ناآشنااور مغربی دنیاکی اسیرہے جس کاکوئی متعین مقصدہے نہ متعین پالیسی اورنہ منزل۔آج کوئی بھی مسلم ملک جدیدعلوم وتحقیقات کے میدان میں کسی قابل ذکر مقام پر نہیں کھڑا۔دنیابھرمیں مسلمان عالمی طاقتوں کے نرغے میں ہیں۔کہیں مسلمانوں کاوجودزنجیروں میں جکڑاہواہے توکہیں وہ نفسیاتی غلامی کا شکارہے کہ اندھی تقلیدسے آگے کچھ بھی سوچنے سے قاصرہے۔یہ ہماری موجودہ ملکی صورتحال کی ایک جھلک ہے۔’’بات تو سچ ہے مگربات ہے رسوائی کی‘‘
اقوام عالم کے عروج و زوال کی تاریخ کے مطالعے سے یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ قوموں کو سرفرازی،کامیابی و کامر ا نی،عظمت و سر بلند ی اور عزت و افتخار کے بام عروج تک پہنچانے میں ا تحاد و اتفاق،جذبہ خیر سگالی اور ا خوت و بھائی چارگی نے نہائت اہم کر دار ادا کیا ہے۔عزت و ا فتخار کی فلک بو س چو ٹیوں سے ذلت و رسو ائی،نکبت و پستی اور ا نحطاط و تنزل کی رسوا کن وادیوں میں قو میں اس وقت جا گر تی ہیں جب با ہمی ا خوت و اتحاد کی ر سی کمزور پڑ جا تی ہے اور معا شرے میں نا اتفا قی،خود غرضی،نا ا نصا فی اور عدم تعاون جیسی مہلک بیما ریاں جنم لینے لگتی ہیں، جو قومی و سماجی بنیاد کو دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کر دیتی ہیں اور پو را معا شرہ عدم تو ازن سے دوچار ہو کر ا نحطاط و تنزل کی گہر ا ئیوں میں گر پڑتا ہے۔نتیجتاً پو ری قوم بد امنی و انارکی،ا نتشار و لا مر کزیت کا شکار ہو کر ذلت و رسوائی اور بے یقینی کی ز ندگی بسر کر نے پر مجبور ہو جا تی ہے۔
مسلما نوں کی پستی اور ذلت کی ا صل وجہ جہاں احکام اسلام کی پیروی سے انحراف ہے و ہیں ایک بڑا سبب باہمی اختلاف و انتشار بھی ہے حالانکہ ا تحاد میں وہ فولادی قوت مضمر ہے جس کے ذریعے پہا ڑوں سے ٹکرانے ،طوفان کے مقابلے میں ڈٹ جانے اور ٹھا ٹھیں ما رتے ہوئے سمندر میں کود پڑنے کا جوش و ولولہ پیدا ہوتا ہے، ہر محاذ پر پا مردی اور ثابت قدمی کا نمونہ پیش کرنے کا جذبہ دل میں مو جزن ر ہتا ہے اور جب اتحاد کی جگہ انتشار لے لیتا ہے تو دلوں میں بزدلی آجاتی ہے ،پیروں میں جنبش آجاتی ہے ،مقابلے کی قوت سلب ہو جاتی ہے۔
میں نے عرض کیااللہ کوکیسے راضی رکھاجاسکتا ہے ۔ وہ میری بات سن کرمسکرائے اورنرم آوازمیں بولے ’’دنیامیں اللہ کوراضی رکھناسب سے آسان کام ہے‘‘ میں خاموشی سے ان کی بات سننے لگا،وہ بولے ’’یہ کام اتناآسان ہے جتناریموٹ کنٹرول سے اے سی آن کرنایاٹی وی کاچینل بدلنایاپھراٹھ کرلائٹ جلانا۔‘‘ میں خاموشی سے سننے لگا،وہ بولے’’لیکن اللہ کوراضی رکھنے کی تکنیک سمجھنابہت مشکل ہے۔‘‘میں حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگااورچندلمحے رک کرعرض کیا ’’جناب آپ نے بھی عجیب بات کہی یہ کام توآسان ہے لیکن اس کی تکنیک بہت مشکل ہے۔مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آئی۔‘‘وہ مسکرائے اورچندلمحوں کے توقف کے بعد بولے ’’میرے بچے یہ بات سمجھنے کیلئے تمہیں تخلیق کارکی نفسیات سمجھنا ہوگی۔‘‘میں نے عرض کیا’’جناب تخلیق کارکی نفسیات کیاہوتی ہے،وہ بولے تم نے ایڈی سن کانام سن رکھا ہے۔میں نے فوراًہاں میں سرہلایااور عرض کیا’’جی ہاں!یہ وہ شخص تھاجس نے بلب ایجاد کیاتھا،جس نے ریلوے کیلئے سگنل کاسسٹم بنایاتھا، وہ فوراًبولے’’ بالکل ٹھیک میرے بچے،میں اسی ایڈی سن کی ایک بات تمہیں سناناچاہتاہوں،وہ ایک دن بازار سے گزررہاتھا،اس نے دیکھالالٹین بنانے والاایک کاریگراس کی تخلیق کوگالیاں دے رہاہے، لالٹین بنانے والے کاکہناتھاایڈی سن نے ایک احمقانہ تخلیق سے اسے اوراس کے بہن بھائیوں کو بیروزگار کرنے کی کوشش کی ہے،ایڈی سن اپنی تخلیق کی بے توقیری برداشت نہ کرسکااوروہ اس کاریگرسے الجھ پڑا،یہ توتکارجلد ہی ہاتھاپائی تک پہنچ گئی۔پولیس آئی اور ایڈی سن کوپکڑکرلے گئی،اس کے بعدجس بھی شخص نے یہ واقعہ سنااسے یقین نہ آیا کیونکہ کسی نے کبھی ایڈی سن کولڑتے یاجھگڑتے نہیں دیکھاتھالیکن اس کے باوجودیہ واقعہ حقیقت تھا۔‘‘
وہ دم لینے کیلئے رکے اورچند لمحے بعد دوبارہ  بولے ’’یہ بظاہرایک چھوٹاساواقعہ ہے لیکن اس میں تخلیق کارکی ساری نفسیات چھپی ہیں۔دنیاکاہرتخلیق کاراپنی تخلیق کے بارے میں حساس ہوتاہے،وہ اپنی بے توقیری توسہہ لیتاہے لیکن اس سے اپنی تخلیق کی بے عزتی برداشت نہیں ہوتی،تم نے مصوروں،افسانہ نویسوں،شاعروں اورموسیقاروں کودیکھاہوگا،یہ لوگ گھنٹوں اپنی دھنوں ،شعروں،افسانوں اورتصویروں کی تعریف کرتے رہتے ہیں اورانہیں ہروہ شخص اچھا لگتاہے جوان کی تخلیقات کی مداح سرائی کرتاہے،تم کسی شاعرکے سامنے بیٹھ کراس کے شعروں کی تعریف شروع کردو،وہ تمہیں وہاں سے اٹھنے نہیں دے گا،یہ بھی تخلیق کارکی نفسیات ہوتی ہے۔میں خاموشی سے سنتارہا۔وہ بولے ’’دنیا کے ہرتخلیق کارمیں دوچیزیں ہوتی ہیں،وہ اپنی تخلیق کی تعریف سن کرخوش ہوتاہے اوراسے اپنی تخلیق کی بے عزتی پرشدیدغصہ آتا ہے۔‘‘ 
(جاری ہے)