08:29 am
اصلی مخدوم

اصلی مخدوم

08:29 am

(گزشتہ سےپیوستہ)
میں نے بے چینی سے کروٹ بدلی اورعرض کیا’’ جناب اللہ کوکیسے راضی رکھاجاسکتاہے لیکن آپ نے موضوع ہی ڈی روٹ کردیا۔‘‘وہ مسکرائے اورمیری طرف اس طرح دیکھاجیسے فلسفی جاہلوں اوربے وقوفوں کی طرف دیکھتے ہیں۔وہ ذرادیرتک مجھے ایسی نظروں سے دیکھتے رہے اورپھربولے’’تم مجھے پہلے یہ بتاؤجب اللہ کسی شخص پرراضی ہوتاہے تووہ اسے کیادیتا ہے۔’’میں نے عرض کیا’’جناب میراعلم بہت محدود ہے،میں آپ ہی سے اس سوال کی وضاحت کی درخواست کرتاہوں۔‘‘وہ ذرا دیر رکے اورپھربولے ’’اللہ کی ذات جب کسی شخص پرراضی ہوتی ہے تووہ اس پررزق کشادہ کر دیتی ہے۔وہ اسے امن دیتی ہے، خوشی دیتی ہے،سکون دیتی ہے اوروہ اس کے اقتدارکو وسیع کردیتی ہے اورجب وہ ناراض ہوتاہے تویہ ساری چیزیں ریورس ہوجاتی ہیں،اقتدار مختصرہو جاتاہے، زندگی سے سکون خارج ہوجاتاہے،خوشی ختم ہوجاتی ہے،امن غارت ہوجاتاہے اوررزق دور ہو جاتا ہے اوروہ گھرہو،کمپنی ،فیکٹری،دکان یاپھرملک تمام برباد ہو جاتے ہیں۔‘‘میں خاموشی سے سنتا رہا، وہ بولے ’’اللہ خالق کائنات ہے وہ اس کائنات کاسب سے بڑاتخلیق کارہے اورانسان اس کی محبوب ترین تخلیق، چنانچہ جب تک کوئی شخص اس کی محبوب ترین تخلیق سے محبت نہیں کرتااللہ تعالی اس وقت تک اس سے راضی نہیں ہوتااورجس سے اللہ راضی نہ ہواس دنیامیں اس شخص کارزق،خوشی،سکون،امن اوراقتداروسیع نہیں ہوتا۔’’وہ رکے اوردوبارہ بولے’’اللہ نے انسان، جانور، پودے،جھیلیں اورپہاڑبنائے،اس نے کائنات کی ہرشے تخلیق کی لیکن انسان اللہ کی تخلیقی فہرست میں پہلے نمبرپرآتا ہے اور دنیا کا جوملک،معاشرہ،نظام اورشخص اللہ کی وضع کردہ ترجیحات کے مطابق اس کی تخلیقات سے محبت کرتاہے،وہ اس کی تخلیقات کی عزت کرتا ہے، انہیں ان کاجائزمقام دیتا ہے اللہ بھی اس سے اتناہی راضی ہوجاتاہے اوردنیامیں اسے اتناہی امن، سکون،خوشی،رزق اوراقتدارمل جاتا ہے، میں خاموشی سے سنتارہا۔
وہ دم لینے کیلئے رکے اورچندلمحے رک کربولے"تم اب اس حقیقت کوسامنے رکھ کردنیاکے مختلف ممالک کاجائزہ لوتوتمہیں معلوم ہوگا دنیاکے جس جس ملک میں لوگوں کااحترام کیا جاتا ہے، غریب لوگوں کے حقوق کاخیال رکھا جاتا ہے،عام شہریوں کی عزت نفس محفوظ ہے،بیماروں کودوا،بیروزگاروں کو روزگار، جاہلوں کوعلم اورمظلوموں کوانصاف ملتاہے،وہ ملک خوشحال بھی ہیں،ان میں امن بھی ہے،رزق بھی،خوشی بھی اوراس ملک کے اقتدارکی سرحدیں بھی وسیع ہیں لیکن جن ممالک میں انسانوں کی قدرنہیں،جن میں غریب غریب تراور امیر امیر تر ہوتاجارہاہے اورجوملک طبقاتی نظاموں میں جکڑے ہوئے ہیں،وہ ملک تیسری دنیا کہلارہے ہیں،وہ ملک بھکاری بن کرخوشحال ملکوں کے دروازوں پربیٹھے ہیں اوران ملکوں میں حکمرانوں کوچند مہینوں سے زائد اقتدارنصیب نہیں ہوتا۔وہ رکے اوردوبارہ بولے’’تم اللہ کی تخلیق سے محبت کے اس سلسلے کوذراسامزیدوسیع کرکے دیکھو اورسوچو دنیا میں اس وقت کون کون سے ملک ترقی کررہے ہیں،وہ کون سے ملک ہیں جوسپرپاوربنتے جارہے ہیں،تم یہ دیکھ کرحیران رہ جاگے،دنیامیں وہ ملک بڑی تیزی سے آگے بڑھتے جارہے ہیں جن میں انسانوں کے بعدجانوروں،درختوں،ندیوں، نالوں، جھیلوں، دریاں اورپہاڑوں تک کاخیال رکھاجاتاہے جن میں بے بس انسان پرظلم اوردرخت کاٹنا دونوں جرم ہیں۔چنانچہ اللہ ان ممالک سے پوری طرح راضی ہے اوریوں یہ ممالک آگے بڑھ رہے ہیں‘‘وہ رکے اوردوبارہ بولے’’انسان کی سلطنت اوراللہ کی کائنات کاآئین بہت مختلف ہے،دنیامیں انسان ان لوگوں کوزیادہ اہمیت دیتاہے جو صحت،رزق اوراختیارمیں برترہوتے ہیں اوران لوگوں سے دوررہنے کی کوشش کرتاہے جومرتبے میں چھوٹے ہوتے ہیں لیکن اللہ کانظام اس سے بالکل الٹ ہے،وہ محروم لوگوں کے قریب اورخوشحال لوگوں سے دورہوتاہے،وہ بے زبانوں کی زبان اوربے کسوں کی بے بسی میں رہتاہے چنانچہ جو لوگ اس کے محروم لوگوں کاخیال رکھتے ہیں،جومحروم لوگوں کوراضی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں،اللہ ان سے راضی ہوتاجاتاہے۔وہ خاموش ہوگئے۔
میں نے عرض کیا’’جناب یہ فلسفہ تو شاید ملکوں اورمعاشروں کیلئے ہے،یہ نسخہ شایدحکمرانوں کیلئے وضع کیاگیاہے۔اگرعام شخص اللہ کوراضی کرناچاہے تواسے کیاکرناچاہئے؟‘‘وہ مسکرائے اورزوردے کربولے’’اللہ کے قوانین اٹل ہوتے ہیں،وہ عام شخص سے لے کر حکمران تک سب سے ایک جیسی توقعات رکھتاہے،تم اگراللہ کوراضی کرناچاہتے ہوتواس کے غریب،بے بس،بے کس اورمحروم لوگوں کے قریب ہوجاؤ۔اللہ تمہارے قریب ہوجائے گا،تم اس کے محروم لوگوں کواپنی خوشی،سکون،امن ،رزق اور اقتدارمیں شریک کرلواللہ تمہیں اپنے اقتدار،رزق ، امن،سکون اورخوشی میں شریک کرلے گااورتم اللہ کی خوشی اور اقتدار کی وسعت کااندازہ بخوبی لگاسکتے ہو۔‘‘ وہ رکے اور دوبارہ بولے’’حکمرانوں کیلئے بھی یہی فارمولاہے،جس ملک کا حکمران اللہ کے بے بس لوگوں کیلئے کام کرتاہے،اللہ اس حکمران کیلئے کام شروع کردیتاہے اورجس ملک کی حکومت اپنے غریب عوام کورزق،روزگار، دوا،تعلیم ،امن اورخوشی دیتی ہے اللہ اس حکومت کے اقتدارکووسعت دے دیتاہے اوریہ ایک بہت چھوٹااورآسان فارمولاہے،تم آج گھرسے باہر نکلواورکسی بیمارکودردکی ایک گولی خرید کردے دو،کسی بھوکے کوہوٹل میں لے جا ؤاوراسے کھاناکھلادو،تم یہ دیکھ کرحیران رہ جاؤ گے، شام تک تمہارے گھررزق وسیع ہوچکا ہوگااورتم اورتمہارے اہلخانہ بے شماردردوں سے رہائی پاچکے ہوں گے۔ تم یہ کرکے دیکھ لو۔تم ایک باراللہ کوراضی کرکے دیکھ لو،تمہیں امریکااورمغرب کو راضی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔’’تم اصلی مخدوم بن جاگے۔‘‘