08:56 am
خلیج عرب میں امریکہ چین کشمکش

خلیج عرب میں امریکہ چین کشمکش

08:56 am

صدر ٹرمپ انتظامیہ ’’لنگڑی بطخ‘‘ ہوچکی ہے کہ نومبر کے پہلے ہفتے میں صدارتی انتخاب ہونگے طویل مدت سے دانشور خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ شکست ہو جانے کے باوجود پھڈے بازی کریں گے۔ مخالف ڈیموکریٹ کی جیت کو قبول نہیں کریں گے۔  لنگڑی بطخ ٹرمپ انتظامیہ کی بھرپور کوشش ہے کہ وہ چین مخالف عالمی اتحاد نئے سرے سے بنائے جس میں مشرق وسطیٰ  کے عربوں کا بھی واضح کردار موجود ہو اور عربوں کو قابو کرنے کے لئے چین و ایران اتحاد کو سبب‘ وجہ ‘راستہ بنایا جائے۔
چین نے اسرائیل کے ساتھ حیفہ کی بندرگاہ کی تعمیر‘ بحراحمر تک موٹروے کی تعمیر کا معاہدہ کیا تو کوئی شور نہیں ہوا۔ نیتن یاہو‘ ٹرمپ کے منظور نظر نے ہی یہ تعمیراتی ٹھیکے چین کو دئیے تھے چین نے ماضی میں سعودی عرب کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کئے مگر کسی نے اس پر شور نہیں مچایا تھا حالانکہ شاہ سلمان اور محمد سلمان صدر ٹرمپ سے خصوصی تعلقات رکھتے تھے۔ مگر غور طلب بات یہ ہے کہ چین نے ایرانی صدر حسن روحانی انتظامیہ کے ساتھ 25سالہ اسٹریٹجک معاہدہ کیا جس میں ہرمز کے قریب کچھ جزائر پر چینی دفاعی حیثیت کو قبول کیا گیا تو امریکہ و مغرب میں زلزلہ آگیا۔ اب پھر سے بھارتی مودی سرکار اور امریکہ عربوں کو قابو کرنے اور چین سے دور کرنے کی حکمت عملی رکھتے ہیں۔ ایران نے چاہ بہار‘ بندرگاہ اور ریلوے لائن کی تعمیر سے مودی سرکار کو نکال باہر گیا‘ چین سے خود کو وابستہ کیا‘ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی حمایت کی‘ گوادر  بندرگاہ کو قبول کیا ہے تو بھارت و امریکہ کے اوسان خطاء ہونے لگے ہیں‘ اب سعودیہ‘ امارات‘ بحرین ‘ مصر وغیرہ کو پھر سے ’’قابو‘‘ میں  لانے کی سعی ہو رہی ہے اور بھارت عرب سرمایہ کاری کو ایرانی چاہ بہار منصوبے سے زیادہ فائدہ مند ثابت کر رہا ہے۔
میں نے دو عشرے تک ایران و سعودیہ و عرب ریاستوں میں ’’مکالمہ‘‘ اپنے کالموں میں تحریر کیا ہے۔ ایرانی اصلاح پسندوں‘ جن میں مرحوم صدر رفسنجانی‘ ڈاکٹر خاتمی کی خاص طور پر تعریف لکھی ہے کہ وہ ایرانی توسیع انقلانی حکمت عملی کے بجائے  عربوں سے بالعموم اور سعودیہ سے بالخصوص مفاہمانہ قریبی تعلقات کے قیام کو ایرانی مشکلات و آلام کا حل تصور کرتے ہیں۔ مجھ پر کچھ ایرانی اذہان ناراضی بھی مسلط کرتے رہے ہیں۔ حالانکہ میں پورے اخلاص سے ایران و سعودیہ و امارات میں مفاہمت کا آرزو مند تھا۔ البتہ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح بھی لکھ رہا تھا۔ مجھے اس عرصے میں دلچسپ تجربات و مشاہدات سے بھی گزرنا پڑا جو مالدار عرب بادشاہتوں اور ان کے سفارتی فیصلہ سازوں کے ذریعے میرے سامنے آتے رہے اور ایرانی رویہ بھی میرے مشاہدے اور تجربات کا سامان بنتا رہا ہے۔ 
ایک بہت ہی انوکھی‘ دلچسپ پیش رفت ایرانی سرزمین کی طرف سے سعودی عرب  کے حوالے سے ہوچکی ہے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق سابق ایرانی صدر احمدی  نژاد نے تین خطوط سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو لکھے ہیں اور بظاہر ان خطوط سے سعودی‘ ایرانی تعلقات کی ’’اصلاح‘‘ کی ’’خوشبو‘‘ آتی ہے۔ میں ایرانی سرزمین سے اس پیش رفت پر مسرور ہوں کہ یہی وہ راستہ ہے جو خود ایران کے لئے مفید ہے اور سعودیہ کے لئے بھی اگر دونوں اطراف میں علاقائی مسائل‘ خطرات‘ خدشات‘ اندیشوں کا فہم طلوع ہو جائے تو دونوں اطراف مزید تباہی و بربادی سے بچ سکتے ہیں۔ فی الحال اتنا ہی لکھنا مفید ہے۔ کیا سابق صدر احمد نژاد اور شہزادہ محمد بن سلمان کا دل جیت لیں گے؟
امریکہ ‘بھارت‘ چین اور ایران نئے تعلقات سے امید وابستہ کر رہے ہیں کہ سعودیہ چین مخالف ہو جائے گا اور چین مخالف اتحاد میں موثر کردار ادا کرے گا۔ لیکن مجھے لکھتے ہوئے اطمینان قلب ہے کہ سعودی ذہن زیادہ تر فیصلے غصے‘ جذبات‘ ناراضی سے نہیں بلکہ مستقبل بینی‘ دور اندیشی‘ فہم و فراست سے کرنے کی تاریخ اور روایت رکھتا ہے۔ سعودیہ نے امریکی اتحادی ہو کر تائیوان کو تسلیم کیا جبکہ چین سے سفارتی تعلقات تک نہ تھے۔ مگر چین سے تعلقات سفیر امریکہ شہزادہ بندربن سلطان‘ جو شاہ فیصل کے داماد ہیں‘ جن کی بیٹی ریما بنت بندر آل سعود آج کل امریکہ میں سفیر ہیں‘ کے ذریعے بذریعہ اسلام آباد قائم ہوئے تھے۔ امریکہ سے کچھ میزائل سعودیہ نے طلب کئے مگر اسرائیل کے سبب امریکہ نے انکار کر دیا تھا تو چین سے خاموش تعلقات سعودیہ نے قائم کرلئے تھے‘ حالانکہ سفارتی سطح پر سعودیہ نے چین کو تسلیم ہی نہیں کیا تھا کہ چین کو تسلیم  1990ء میں کیا گیا‘ مگر اسلام آباد کی وساطت سے شہزادہ بندربن سلطان‘ بیجنگ کے لئے اسی طرح جس طرح ہنری کسنجر اسلام آباد سے خاموشی سے بیجنگ پہنچ گئے تھے۔ یوں 1985ء میں چین نے اس  سعودیہ کو مطلوبہ میزائل دے دئیے جو سعودیہ اسے عملاً تسلیم ہی نہیں کرتا تھا۔ یہ میزائل پہلی بار 2014ء میں ریاض میں سعودی قومی دن کی ملٹری پریڈ میں نمائش میں شریک ہوئے یاد رہے جنرل راحیل شریف اس دن ریاض میں مہمان خصوصی تھے۔
چین سے قریبی تعلقات اور روس سے بھی‘ شاہ عبداللہ نے قائم کئے تھے۔ امریکہ سے تعلقات کی موجودگی میں ہی روس ‘ چین  اور مشرق وسطیٰ بعید ممالک کے ساتھ بھارت سے بھی تعلقات کی بنیادیں شاہ عبداللہ  عہد کا تاریخ ساز رویہ ظاہر کرتا ہے۔ شاہ سلمان اور محمد بن سلمان نے‘ بعد میں اماراتی ولی عہد محمد بن زید النہیان نے‘ پھر قطری امیر نے بھی‘ چین کے دورے کئے ہیں۔ کیا ’’لنگڑی بطخ‘‘ بنے ہوئے صدر ٹرمپ‘ سفید فام نسل پرست اسٹیبلشمنٹ اور مودی کی ہندتوا اسٹیبلشمنٹ کی خوشی‘ سیاسی فتوحات کے لئے سعودیہ‘ بحرین‘ امارات‘ صرف اس وجہ سے چین سے قطع تعلقات کرلیں گے کہ اس نے ایران سے کیوں 25سالہ ہمہ گیر تعلقات استوار کرلئے ہیں؟ میرا ذہن ہرگز ہرگز‘ عربوں سے اب کسی نئی غلطی کی امید نہیں رکھتا‘ بے شک یہ عرب ایران کو آج بھی اپنا حقیقی دشمن نمبر ون ہی کیوں نہ سمجھتے ہوں۔ تاریخ تبدیل ہو رہی۔ اس تاریخ میں عربوں کی مستقبل بینی بھی اپنی جگہ بنا رہی ہے اور ایرانی قوم بھی عربوں سے تلخی دشمنی کے خاتمے کی متمنی ہے۔ سابق صدر احمد نژاد کے حامیوں کی کثیر تعداد موجودہ ایرانی پارلیمنٹ میں موجود ہے۔ صدر احمد نژاد کے عہد میں ہی امریکہ سے مل کر عرب بادشاہتوں‘ بالخصوص سعودی کے انہدام کی حکمت عملی  طے پائی تھی  اور اب یہی احمد نژاد‘ ہاشمی‘ خاتمی صدور کی طرح سعودیہ سے مفاہمت کو ایرانی عوام کے لئے مسائل کا حل سمجھتا ہے۔ خدا کرے یہ ناممکن کام ممکن ہو جائے۔