08:57 am
پی ٹی ایم اور میجر (ر) محمد عامر

پی ٹی ایم اور میجر (ر) محمد عامر

08:57 am

حب الوطنی کی مثال قرار دئیے جانے والے میجر (ر) محمد عامر فرماتے ہیں کہ ’’پی ٹی ایم ایک سیاسی جماعت ہے... اسے وطن دشمن یا غدار نہ کہا جائے...محسن داوڑ‘ منظور پشتین اور علی وزیر کو بھی گلے لگایا جائے‘‘ میجر(ر) محمد عامر نے اپنے حالیہ انٹرویو میں پی ٹی ایم کے حوالے سے جو فرمایا ہم پہلے سے ہی اس پر عمل پیرا ہیں‘ لیکن سوالات اٹھانا ہمارا حق ہے اس لئے چند معصومانہ سوالات افسانوی کردار کے حامل (ر) میجر کی خدمت میں پیش کئے دیتے ہیں... سب سے پہلے تو ’’وطن دشمن اور غدار‘‘ کی تعریف اس قوم کو سمجھا دی جائے کہ ان اصطلاحات کا اطلاق کس قماش کے افراد جماعتوں یا گروہوں پر کیا جاسکتا ہے؟ کیا حسین حقانی‘ اسماعیل گلالئی‘ ٹائپ خواتین و حضرات کہ جو مفرور ہو کر اپنے غیر ملکی آقائوں کی گود میں بیٹھے پاکستان اور افواج پاکستان کو دن رات بدنام کرنے پر لگے ہوئے ہیں... کیا وہ بھی منظور پشتین اور محسن داوڑ کی طرح ’’گلے لگانے‘‘ والے میرٹ پر پورا اترتے ہیں؟
یقینا کسی بھی محب وطن پاکستانی کو غدار اور وطن دشمن قرار دینا انتہائی ظالمانہ فعل ہے... لیکن ’’حب الوطنی‘‘ اور ’’وطن دشمنی‘‘ کو ایک ہی آنکھ سے دیکھنا‘ دہشت گردی اور جہاد کو ایک ہی کیٹگری قرار دینا‘ بھی موم بتی مافیا کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ’’میر اجسم‘ میری مرضی کے نعرے لگانا اور کبھی ’’لال لال لہرانے‘‘ کے دعوے کرنا‘ آخر یہ سب کیا ہے؟
پی ٹی ایم کے حوالے سے پاک فوج کے ترجمان کے باقاعدہ بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں لیکن اس کے باوجود اگر میجر (ر) محمد عامر یہ کہتے ہیں کہ پی ٹی ایم کے لیڈران کو گلے لگایا جائے ... تو یہ ان کا وہ بڑا پن ہے کہ سڑے بسے سیکولرز اور لبرلز شدت پسندوں کا گروہ جس کی گرد راہ کو بھی نہیں پاسکتا۔
یہ بات میں اس لئے لکھ رہا ہوں‘ کیونکہ میں ان کے خاندانی پس منظر سے واقف ہوں... وہ اس پنج پیری خاندان کے چشم و چراغ ہیں کہ جس کی دینی خدمات کا اک زمانہ معترف ہے... بیت اللہ محسود سے لے کر ملا فضل اللہ اور میرانشاہ سے لے کر سوات تک کو انہوں نے فوجی آپریشنز کی زد میں آنے سے بچانے کی بے انتہا کوششیں کیں...’’ وہ مسلمان پختون‘ پاکستانی‘‘ ہیں۔ اس لئے ’’پختونوں‘‘ کا ہمدرد  ان سے بڑھ کر دوسرا کون ہوسکتاہے؟ اس لئے اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ پختونوں کو ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھانا چاہیے تھے تو بالکل  درست کہتے ہیں‘ انہوں نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ’’کون کہتا ہے کہ ہم اگر روس کو  نہ چھیڑتے تو پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوتیں؟ ہم روس کو نہ چھیڑتے تو آج میرا نام ’’عامروف‘‘ ہوتا‘ انڈیا نے ہمیشہ افغانستان کو ہمارے خلاف استعمال کیا‘ افغانستان میں جس سربراہ نے پاکستان سے اچھے تعلقات کی چاہت کی... اسے مار دیا گیا‘ روس کے خلاف افغانستان میں جنگ افغانوں کی آزادی اور ہماری سالمیت کی جنگ تھی‘ وہ انکشاف کرتے ہیں کہ انہوں نے 2007ء میں مولانا فضل اللہ کو قائل کرلیا تھا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا خود اس کی  تباہی ہوگا‘ لیکن جنرل پرویز نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ میجر عامر کو درمیان میں نہیں ڈالنا‘ اس لئے معاملہ آگے نہیں بڑھا‘ وزیرستان آپریشن شروع ہوا تو میں جان خطرے میں ڈال کر وہاں گیا... مگر مذاکرات آگے نہیں چلنے دئیے گئے‘ میجر (ر) عامر کا یہ بھی کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں بمباری نہیں ہوئی‘ چیک پوسٹیں ختم ہوئیں۔
جنرل باجوہ کے موجودہ دور میں میرانشاہ تعمیر ہوا‘ اور آئی ڈی پیز کا خیال رکھا گیا۔ ملا فضل اللہ سے لے کر منظور پشتین‘ محسن داوڑ اور علی وزیر تک کو اگر میجر محمد عامر یہ سمجھانے کی کوشش کرتے چلے آرہے ہیں کہ پختونوں کو ریاست کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھانا چاہیے تھے جنہیں سمجھ نہیں آئی... وہ قصہ پارینہ بن گئے‘ صرف ’’پختون‘‘ ہی نہیں ریاست پاکستان کے خلاف جو بھی ہتھیار اٹھائے گا  ناکامی اور  نامرادی اس کا مقدر بن جائے گی۔
پی ٹی ایم کو غدار نہ کہنے کی تلقین کو  میں نے میجر (ر) محمد عامر کا ’’بڑاپن‘‘ اس لئے لکھا کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ جس وقت وہ وزیرستان اور سوات آپریشن کو رکوانے اور وہاں مذاکرات کامیاب کروانے کی انتہائی جدوجہد کر رہے تھے تو سیکولرز اور لبرلز شدت پسند تجزیہ کاروں اور دانش فروشوں کا گروہ سوات اور فاٹا آپریشن کروانے کے لئے پورا زور لگا رہا تھا... فاٹا پر ہونے والے امریکی ڈرون حملوں پر یہاں بغلیں بجائی  جارہی تھیں اور بعض سیکولر شدت پسند یہ تاویلیں گھڑ رہے تھے کہ اگر ایک دہشت گرد کو مارنے کے لئے امریکی ڈرون حملے میں دس‘ بیس بے گناہ شہری بھی مارے جاتے ہیں۔ تو اس  پہ  سیخ پا ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ بے چارے ’’امریکہ‘‘ کی مجبوری سمجھنے کی ضرورت  ہے۔ فاٹا پر ہونے والے امریکی ڈرون حملوں پر بغلیں بجانے والے سیکولر آج پی ٹی ایم کو  ’’ناراض‘‘ بچے قرار دے رہے ہیں‘ فاٹا پر ہونے والے امریکی ڈرون حملوں اور وہاں کے گروہوں سے مذاکرات کرکے فوجی آپریشن کو رکوانے کی جدوجہد کرنے والے میجر (ر) محمد عامر سیکولرز کے ان ناراض بچوں یعنی پی ٹی ایم کو وطن دشمن اور غدار قرار دینے سے منع کر رہے ہیں‘ اللہ کرے کہ پی ٹی ایم کے منظور پشتین‘ محسن داوڑ اور علی وزیر کو بھی سمجھ آجائے کہ ریاست پاکستان ان کی دشمن نہیں‘ وہ مسلح افواج کے حوالے سے اپنی اور اپنے  ساتھیوں کے شدت پسندانہ موقف اور سوچ کو درست کرنے کی کوشش کریں۔
 بہرحال میرے دل میں ان کے حوالے سے پہلے سے پایا جانے والا احترام مزید بڑھ گیا ہے... اس لئے کہ وہ سیکولرز کی طرح منافقت نہیں کرتے‘ بلکہ پختون ٹی ٹی پی میں ہوں یا پی ٹی ایم میں سب کو ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے سے روکتے ہیں‘ وہ غداری اور وطن دشمنی کے فتوے جاری نہیں کرتے... بلکہ ٹی ٹی پی والے ہوں یا پی ٹی ایم والے‘ سب کو یکساں طور پر وطن دوستی اور ملک سے وفاداری کے مواقع فراہم کرنے کی قائل ہیں۔