08:57 am
اردگان اورآئی ایم ایف

اردگان اورآئی ایم ایف

08:57 am

بہت سی دوسری معیشتوں کی طرح ترک معیشت بھی خرابی سے دوچارہے اورمکمل یابہت بڑے پیمانے کی ناکامی کی طرف بڑھنے کی راہ دیکھ رہی ہے۔تین سال کے دوران ترک کرنسی لیرا امریکی ڈالرکے مقابلے میں اپنی قدرکم وبیش90 فیصد تک کھو چکی ہے۔لیراکوبچانے کیلئے ترک قیادت نے گزشتہ ماہ اپنے بین الاقوامی کرنسی ریزروز کاایک بڑاحصہ داؤ پر لگادیا۔ترکی کی بہت سی کمپنیوں پرغیرمعمولی مالیاتی دبائوہے۔زرمبادلہ کی شکل میں ان کے واجبات کم وبیش300ارب ڈالرکے ہیں۔یہ کمپنیاں معاشی خرابی کی غیرمعمولی قیمت ادا کررہی ہیں۔ترک رہنمااردگان اب بھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈسے غیرمعمولی نوعیت کابیل آوٹ پیکیج لینے کے حق میں نہیں۔اس حقیقت سے کوئی انکارنہیں کرسکتاکہ ترکی کواس وقت عالمی مالیاتی فنڈسے غیرمعمولی بیل آوٹ پیکیج درکار ہے۔یہ معیشت کی فوری ضرورت ہے۔
آئی ایم ایف سے کوئی بڑابیل آوٹ پیکیج لینے سے گریزکاایک بڑاسبب یہ بھی ہے کہ اردگان مسائل کوٹھوس اندازسے اوربڑی مدت کیلئے حل کرنے کے بجائے فوری نوعیت کے حل پرزیادہ متوجہ ہوتے ہیں۔ جب بھی کوئی بحران کھڑاہوتا ہے،وہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طورکوئی فوری حل نکل آئے۔فوری حل تلاش کرنے کی عادت نے معاملات کوبگاڑاہے۔ انہوں نے حال ہی میں قطر کے ساتھ لیراریال تناسب کووسعت دی ہے۔یہ فوری نوعیت کاحل ہے،جس کے نتیجے میں ترکی کے مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر(کاغذکی حد تک)5ارب ڈالرسے بڑھ کر15ارب ڈالر ہوجائیں گے۔ترک معیشت کواس نوعیت کے فوری انتظامات کی ضرورت نہیں۔وہ تومسائل کاقدرے دیرپاحل چاہتی ہے۔ لازم ہے کہ آئی ایم ایف سے کوئی اسٹینڈبائی ایگریمنٹ یاپھرایکسٹینڈیڈفنڈ فیسلیٹی لی جائے۔اس کے نتیجے میں ترکی کووسط مدتی،کم شرح سودوالاقرضہ ملے گاجواسٹرکچرل ریفارمز کی راہ بھی سجھائے گا۔
ترکی میں اورترکی کے باہرسیاسی ومعاشی ا مو رکے بہت سے ماہرین کی رائے یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے کوئی بیل آوٹ پیکیج لینے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اردگان کے نظریات کے ساتھ ساتھ یہ خوف بھی ہے کہ آئی ایم ایف سے کوئی پیکیج لینے کی صورت میں حکمران جماعت کے ووٹربدک جائیں گے۔ماہرین کااندازہ غلط ہے۔اردگان کو دراصل یہ خوف لاحق ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈاگرکوئی بڑاپیکیج دے گاتواس کے ساتھ چندایسی شرائط بھی عائدکرے گا،جوترکی میں اس وقت نافذاندازِ حکمرانی کو قبول کرنے سے انکاری ہوں گی۔ اردگان نے کم وبیش تمام اختیارات اپنے مٹھی میں کررکھے ہیں۔ان کی ذات ترکی میں حکومتی سطح کے اختیارات کامجموعہ ہوکررہ گئی ہے۔
ایک عشرے کے دوران اردگان نے اپنے اقتدارکوایک ایسے سیاسی پلیٹ فارم پرمضبوط بنایاہے جوغیرروایتی نوعیت کی معاشی پالیسیوں سے متصف ہے۔ سرمایہ کاراردگان کے اس عجیب وغریب نظریے سے پریشان ہیں کہ سودکی شرح ملک میں مہنگائی کا گراف بلندکرے گی اوریہودیوں کی خواہش کے مطابق ملک کی معیشت تباہی سے دوچارہوجائے گی۔وہ دن ہوا ہوئے۔ 2019ء میں ترکی کے مرکزی بینک نے اپنی خود مختاری بہت حد تک گنوادی۔سودکی شرح کوخطرناک قراردینے کی ذہنیت اب تمام معاشی پالیسیوں پربری طرح اثر اندازہورہی ہے۔ بونڈاوراکویٹی کی مارکیٹ سے سرمائے کابڑے پیمانے پراخراج کچھ یوں ہی تو واقع نہیں ہوگیا۔معاملات کومزیدخراب لیراکی شرح مبادلہ کے دفاع کی کوششوں نے کیاہے۔اس کے نتیجے میں ترکی کے مرکزی بینک میں زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حدتک کم ہوگئے ہیں۔اس معاملے میں اردگان آسانی سے ہدف پذیرہیں کیونکہ یہ تمام کوششیں ان کے نا اہل وزیرخزانہ برات البراک نے کی ہیں۔برات البراک کواس منصب پربٹھائے جانے کے حوالے سے اردگان کوغیرمعمولی تنقید کاسامناکرناپڑاہے کیونکہ البراک ان کے دامادہیں۔
اس حقیقت سے بھی بہرحال انکارنہیں کیاجاسکتاکہ پہلے کئی بحرانی کیفیتوں میں اردگان نے خودکوحقیقت پسندثابت کیاہے۔سودکی شرح میں بلندی بھی دکھائی دی ہے اوراس کے نتیجے میں معیشت کوبہتربنانابھی ممکن ہواہے۔اردگان نے پہلے کبھی سودکی شرح بڑھانے کی مخالفت کی تھی توبعدمیں اپنی رائے سے رجوع بھی کیاتھا۔جب روس سے معاملات خراب ہوئے توانہوں نے اپنی انا اورتفاخرکونگل لیااورتعلقات کونئے سرے سے بہترشکل دینے کی بھرپورکوشش کی۔ مشکل صرف یہ ہے کہ ان کی ہرکوشش صرف کوشش تھی، اختیارات منتقل کرنے کی طرف اٹھایاجانے والا قدم نہ تھی۔اس وقت میڈیاپران کامکمل کنٹرول ہے جس کے ذریعے وہ کسی بھی دوسرے جمہوری معاشرے کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے یوٹرن لے سکتے ہیں۔انہوں نے 18برس کی مدت میں اپنے اقتدارکوطول اوراستحکام دینے کاعمل جاری رکھاہے۔جب تک یہ پوراعمل دائو پرنہ لگتاہو،وہ کوئی بھی یوٹرن بہت آسانی سے لے سکتے ہیں۔
ترک معیشت کولاحق بحران کے حل کیلئے اردگان اگرعالمی مالیاتی اداروں کادروازہ کھٹکھٹانے یامددلینے سے گریزکررہے ہیں تو اس کابنیادی سبب یہ ہے کہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جوبھی پیکیج دیاجائے گااس سے منسلک شرائط کے تحت حکمرانی کا اندازبدلناپڑے گا، اختیارات تقسیم اورمنتقل کرناپڑیں گے۔اچھی حکمرانی ہرحال میں یقینی بناناپڑے گی۔ترکی میں سرکاری معاملا ت شفافیت اوردرستی سے دوررہے ہیں۔شفافیت اور جوابد ہی کی ذمہ داری سے استثناکا اردگان کی جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی نے بھرپورفائدہ اٹھایاہے۔
ترکی میں آزادوخودمختارفنڈ،جواردگان کے متوازی بجٹ کی حیثیت رکھتے ہیں،پارلیمان یاپھر کورٹ آف فائنل اکاونٹس کے تحت تنقیح کی منزل سے نہیں گزرتے۔ایک بڑے غیر سرکاری آڈیٹرنے تویہاں تک کہاہے کہ موزوں مواد دستیاب ہی نہیں،جس کی بنیاد پرجامع آڈٹ کیاجائے۔
(جاری ہے)