08:58 am
حکومت، اپوزیشن، سب ملک کے درپے!

حکومت، اپوزیشن، سب ملک کے درپے!

08:58 am

٭کراچی، تیسرے روز بھی بارش، شہر مزید ڈوب گیا! حکومت غائبO گندم اور چینی پہلے سمگلنگ سے باہر بھیجی اب دونوں درآمد کی جا رہی ہیںO حکومت و اپوزیشن کی نیب اصلاحات کمیٹی مذاکرات ناکامO تاجر، پولیس جھڑپیں، مارکیٹیں کھلیO نوازشریف: نئی میڈیکل رپورٹ، گھر سے باہر نکلنے پر پابندیOدشمن نے اشتعال دلایا تو کچل دیں گے، آرمی چیفO شہباز فیملی 7326 ملین روپے (سات ارب 32 کروڑ80 لاکھ روپے) کے ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہOفضل الرحمن: ڈپٹی کمشنر بھائی پختونخوا کو واپس O ملائیشیا، سابق وزیراعظم نجیب رزاق، اربوں کی کرپشن، 12 سال قید، 4 کروڑ80 لاکھ ڈالر جرمانہO بلاول زرداری ہمارے لیڈر ہیں، شہباز شریفO کرکٹر محمد حفیظ: جائیداد چھپانے پر دو کروڑ60 لاکھ ٹیکس عائد۔
٭اسلام آباد: نیب میں اصلاحات کے لئے حکومت اور اپوزیشن کی 24 رکنی کمیٹی (دونوں طرف سے 12,12 ارکان) کی پہلی ملاقات ہی ناکام ہو گئی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے نیب میں اصلاحات کے لئے 35 تجاویز پیش کی تھیں جن پر عمل کر کے نیب تقریباً ختم ہو جاتی مثلاً یہ کہ چیئرمین کے عہدہ کی میعاد تین سال کر دی جائے، نیب صرف ایک ارب روپے کے اوپر کی کرپشن کے کیس دیکھے، پانچ سال سے پہلے کے تمام کیس ختم کر دیئے جائیں وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ پانچ سال سے اوپر کے کیس ختم کرنے سے آصف زرداری، نوازشریف، چودھری برادران، شاہد خاقان عباسی وغیرہ کے تمام کیس ختم ہو جائیں گے۔ ایک ارب تک کرپشن پر کوئی کارروائی نہ ہونے پر 99 کروڑ 99 لاکھ روپے کی کرپشن کی کھلی اجازت دے دی جائے گی۔ چیئرمین سے کسی کی گرفتاری کا اختیار واپس لے لینے پر اس کی حیثیت محض ایک بے اختیار یونین کونسل کے چیئرمین جیسی ہو جائے گی۔ اب حکومت کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکلنے کے لئے کرپشن کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے ورنہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی بجائے بلیک لسٹ میں ڈالے جانے کا خطرہ موجود ہے، اس کا مطلب سیدھے سیدھے پاکستان کو اقوام متحدہ کے کنٹرول میں دینا ہو گا۔ اس کی غیر ملکی تجارت بند، افواج کو غیر مسلح کرنے، ایٹمی تنصیبات کو ختم کرنے اور دنیا بھر میں پی آئی اے کی پروازیں بند کئے جانے کی سزائیں شامل ہوں گی۔ ایف اے ٹی ایف نے اکتوبر تک ملک میں کرپشن ختم کرنے کی مہلت دے رکھی ہے، اپوزیشن کو اس پوزیشن کا پورا احساس ہے مگر اس نے اپنی 35 شرائط منوانے کے لئے ایسا دبائو اختیار کیا جس سے سابق حکمرانوں کی تمام بدعنوانیوں، کھربوں کی کرپشن اور ملک کو لوٹ کر باہر کھربوں کے اثاثے بنانے کے جرائم کا محاسبہ ختم ہو جائے گا اور ایک ارب سے کم کرپشن کی کھلی چھٹی مل جائے گی۔ اہم بات یہ کہ 24 رکنی کمیٹی میںاپوزیشن کے متعدد ایسے نمائندے شامل تھے جو خود بھاری کرپشن کے کیسوں میں ملوث ہیں اور عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ اپوزیشن کی طرف سے اعلان آیا ہے کہ اب حکومت سے کوئی بات نہیں ہو گی۔ اور اب اپوزیشن کی عید  کے بعد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں فیصلہ کن اقدامات کئے جائیں گے، ایف اے ٹی ایف ملک کے ساتھ جو کرتی ہے، اپوزیشن کو اس کی کوئی فکر نہیں۔
یہ تو حکومتی موقف ہے۔ اب اپوزیشن کا معاملہ اور موقف یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت کو ہر حالت میں ختم کرنا ہے، اس کے لئے نئے انتخابات ضروری ہیں۔ ظاہر اس مقصد کے لئے جلسے جلوس، ریلیاں نکالی جائیں گی، مختلف اطراف سے ہڑتالیں کرائی جائیں گی۔ حکومت پہلے ہی اپنی بے سمت پالیسیوں کے باعث لرز رہی ہے۔ میز پر جوتا رکھ کر مذاکرات اور مخالفین کو تھپڑ مارنے والے ہُلڑباز وزیروں کے سہارے لڑکھڑا رہی ہے، اس کے اتحادی اس کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ ملک ناقابل برداشت شدید مہنگائی کی زد میں آ چکا ہے، کرونا نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔ اسے اپوزیشن نے تو کیا گرانا ہے، کسی ایک اتحادی نے مزید اتحاد چھوڑ دیا تو ویسے ہی گر جائے گی۔
٭مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت ختم ہو جانے پر کوئی نئی حکومت نہیں بن سکے گی۔ کسی پارٹی کے پاس حکومت بنانے کی مطلوبہ صلاحیت ہی نہیں۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی مل کر بھی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں نئے انتخابات ضروری ہو جائیں گے۔ مگر کرونا کی صورت حال میں یہ ممکن دکھائی نہیں دیتے۔ اس کا حل طویل عرصے کے لئے صدر راج ہو سکتا ہے جو ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف وغیرہ کو قبول نہیں ہو گا۔ دوسری صورت میں بھاری بوٹوں کی دھمک اور خاکی رنگ!! بالفرض انتخابات ہو بھی جائیں تو نئی حلقہ بندیوں وغیرہ کے لئے کم از کم چھ ماہ درکار ہوں گے۔ اس عرصے سے ملک کا کیا بنے گا، حکومت اور اپوزیشن دونوں کو کوئی احساس نہیں۔
٭عالم یہ ہے کہ کراچی پر تیسرے روز بھی بارش نے قیامت برپا کر دی ہے۔ پورا شہر پہلے ہی گہرے پانی میں ڈوبا ہوا ہے، اس میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ایک سرکاری وزیر ترجمان نے سوال کیا ہے کہ سندھ کے وزیراعلیٰ اور وزرا کہیں دکھائی نہیں دے رہے، یہ لوگ کہاں ہیں؟ دوسری طرف والد صاحب کی سالگرہ کا جشن مناکر سندھ کی حکومت کے سپر وزیراعلیٰ بلاول کراچی کو چھوڑ کر لاہور میں اپوزیشن کے ساتھ اے پی سی کے شغل میلے میں مصروف ہیں۔ پر تکلف ضیافتیں ہو رہی ہیں، جس شخصیت نے بار بار والد صاحب کا پیٹ پھاڑ کر ملک کی دولت نکالنے کا اعلان کیا تھا اسے جپھیاں ڈالی جا رہی ہیں۔ اپوزیشن یہ جواب نہیں دے رہی کہ نئے انتخابات کون کرائے گا؟ واقعی یہ نہائت صاف شفاف ہوں گے؟ ان کے نتیجے میں کیا اپوزیشن کی متحدہ حکومت بن اور چل سکے گی؟ وزیراعظم کون ہو گا؟ بلاول یا شہباز شریف یا مولانا فضل الرحمن؟
٭اپوزیشن نیب کا تیا پانچہ کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے اور نیب نے شہباز شریف اور بیٹوں حمزہ شریف اور سلمان شریف کے خلاف سات ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن کے تین نئے ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تفصیل اخبارات میں موجود ہے۔ اس سے  کیا واضح اشارہ ملتا ہے کہ نیب کے پاس کوئی مضبوط سہارا موجود ہے!!
٭لاہور ہائی کورٹ میں نوازشریف کی عدم حاضری کے بارے میں نئی میڈیکل رپورٹ پیش  کی گئی ہے کہ برطانیہ میں کرونا پھیلا ہوا ہے اور ڈاکٹروں نے موصوف کو گھر پر آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے! خبروں سے واضح ہوتا ہے کہ رپورٹ میں نوازشریف کے کسی علاج معالجہ کی کا کوئی ذکر موجود نہیں، صرف برطانیہ میں کرونا کا ذکر ہے؟ عدالت نے نوازشریف کو لندن میں علاج کے لئے چھ ہفتے دیئے تھے، انہیں وہاں آٹھ ماہ سے زیادہ ہو گئے ہیں، کسی ہسپتال میں علاج وغیرہ کچھ نہیں، اب کرونا آ گیا ہے! چار ماہ پہلے تو کرونا نہیں تھا، پھر؟
٭لاہور میں بلاول اور شہباز شریف یوں گھل مل گئے جیسے پانی میں بتاشہ ! جپھیاں، قہقہے، پرتکلف کھانے، بلاول نے شہبازشریف کو تندرست قرار دے دیا، شہباز شریف نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ نوجوان بلاول ہمارے لیڈر ہیں! مولانا فضل الرحمن خوش کہ بجلی کے منفی مثبت دونوں سرے آپس میں مل گئے اب ملک میں موج میلہ ہو گا، جلسے جلوس، ریلیاں اور شائد ’’میرے عزیز ہم وطنو!‘‘ کی پرکشش آواز!!
٭ بہت شور شرابے کے باعث سندھ کی حکومت کو مولانا فضل الرحمن کے بھائی کو ڈپٹی کمشنر بنائے جانے کا تحفہ ہضم نہ ہو سکا اور انہیں خیبرپختونخوا کو واپس جانا پڑا۔ موصوف ضیا الرحمن خیبرپختونخوا کی صوبائی سروس میں ملازم تھے۔ ان کا دائرہ کار صرف اندرون صوبے تک محدود تھا۔ صرف وفاقی سروس کے ملازم ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں جا سکتے ہیں مگر مولانا کے بھائی کو کن ضروری فرائض کے سلسلے میں کراچی بھیجا گیا جو سندھ کا کوئی افسر انجام نہیں دے سکتا تھا؟ پھر کیا حاصل ہوا؟
٭بلاول زرداری نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی ریلی ابھی نصف راستے میں ہو گی تو حکومت گر جائے گی۔ بلاول کو شائد اس کے والد صاحب کا صدارتی دور یاد آ گیا ہو جب بھوربن مری کے ہوٹل میں نوازشریف کے سامنے قرآن مجید رکھ کر معزول ججوں کی بحالی کا وعدہ کیا اور اسلام آباد پہنچ کر اعلان کیا کہ وعدے کوئی قرآن و حدیث نہیں ہوتے کہ ان پر عمل کیا جائے۔ اس پر نوازشریف نے لاہور سے آصف زرداری کے خلاف، اسلام آباد پر حملے کے لئے ریلی نکالی۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما چودھری اعتزاز احسن نے بھی اپنی ہی پارٹی کے سربراہ (آصف زرداری)کے خلاف وکلا کی ریلی نکالی۔ دونوں ریلیاں گوجرانوالہ تک پہنچیں تو جنرل اشفاق پرویز کیانی ڈنڈا لے کر دربار ایوان صدر اور وزیراعظم اعظم ہائوس گئے اور فوری طور پر تمام جج بحال ہو گئے! شائد بلاول کے ذہن میں بھی ایسا کوئی ڈنڈا گھوم رہا ہو!!