07:34 am
جبری ٹیکس میں چھوٹ

جبری ٹیکس میں چھوٹ

07:34 am

آج میں وزیراعظم‘ وزیر خزانہ اور ایف بی آر کی توجہ ایک بہت ہی اہم مسئلے پر مبذول کروانا چاہوں گا جو آئندہ چند مہینوں میں پاکستان بھر کی کمپنیوں
آج میں وزیراعظم‘ وزیر خزانہ اور ایف بی آر کی توجہ ایک بہت ہی اہم مسئلے پر مبذول کروانا چاہوں گا جو آئندہ چند مہینوں میں پاکستان بھر کی کمپنیوں کو پیش آنے والا ہے۔ اگر ضروری اقدامات فوری طور پر نہ اٹھائے گئے تو بہت سی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
اس سال کرونا کی وجہ سے بہت سے کاروبار شدید مشکلات کا شکار ہوئے ہیں۔ خاص کر مارچ سے جون تک بہت سی کمپنیوں نے بہت کم یا صفر بزنس کیا ہے۔ پاکستان کی کمپنیوں کی اکثریت ہر سال جون کے آخر میں اپنی اکائونٹس بکس بند کرتے ہیں اور سالانہ انکم سٹیٹ منٹ  اور بیلنس شیٹ بناتے ہیں۔ اب دیکھا جائے تو تین یا چار مہینے تک کوئی سیلز نہ ہوں مگر اخراجات تقریباً اسی سطح پر رہیں تو کون سی کمپنی منافع بنا پائے گی۔ مثال کے طور پر اگر فیکٹری بند بھی ہو تو بھی واپڈا سٹینڈ بائی بل ضرور بھیجتی ہے۔ دوکان کا کرایہ‘ ملازمین کی تنخواہیں وغیرہ اسی طرح رہتی ہیں۔ لہٰذا غالب امکان ہے کہ بہت سی کمپنیاں 30جون 2020ء کو ختم ہونے والے مالی سال  میں نقصان پائیں گی۔
اب آئیے ہمارے ٹیکس قوانین کی ستم ظریفی کی طرف! ان قوانین کے مطابق اگر کمپنی خالص خسارے  یعنی نیٹ لاس کی پوزیشن میں بھی ہو تو بھی اسے کم از کم یعنیMinimum Taxاپنی سیلز کے ایک فیصد کے برابر ادا کرنا پڑے گا۔ یعنی ایک کمپنی نقصان میں ہو اور اس سے تقاضا کیا جائے کہ وہ منافع ٹیکس دے ۔ اگرچہ اس نے کوئی منافع نہیں بنایا ہے۔ ایک مثال دینا چاہوں گا تاکہ صورتحال کچھ واضح ہو جائے۔
اے بی سی کمپنی کی سیلز عام طور پر 45کروڑ روپے سالانہ ہوتی ہیں مگر 30جون 2020ء کو ختم ہونے والے سال میں ان کی سیلز صرف 32کروڑ روپے تھیں۔ ان کا منافع  پچھلے سالوں میں جو بھی رہا ہو اس سال انہوں نے ایک کروڑ کا نقصان بنایا ہے۔ اب انکم ٹیکس قوانین کے حساب سے اس کمپنی کو 32لاکھ روپے Minimum Tax انکم ٹیکس کے طور پر ادا کرنا ہوگا۔ یعنی اس کا خالص خسارہ ایک کروڑ سے بڑھ کر ایک کروڑ بتیس لاکھ ہو جائے گا اور کمپنی کو یہ بتیس لاکھ روپے اپنی انکم ٹیکس ریٹرن کے ساتھ ہی ادا کرنے ہوں گے۔ اب آپ ہی بتائیے یہ ظلم نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ ایک برے حالات کی شکار کمپنی کو آپ کہہ  رہے ہیں یہ بتیس لاکھ روپے کا انکم ادا کرو اور فوراً ادا کرو۔
اس صورتحال کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کمپنیوں کی مالی صورتحال اور خراب ہو جائے گی اور شائد انہیں کاروبار  بند ہی کرنا پڑ جائے۔ دوسری اور زیادہ ممکن سچویشن یہ ہوگی کہ اکثر کمپنیاں اپنے اکائونٹس ہی فائنل نہیں کریں گی اور انکم ٹیکس ریٹرن یا تو فائل ہی نہیں  کریں گی یا پھر بہت تاخیر سے فائل کریں گی۔ گویا یہ بے رحمانہMinimum Tax حکومت کو غالباً وصول ہی نہیں ہوگا۔
حکومت نے انکم ٹیکس قوانین میں Minimum Tax  کیوں رکھا ہے اس پر فی الحال بحث نہیں ہوسکتی۔ مگر میں یہاں ایک تجویز دینا چاہوں گا کہ صرف ایک سال کے لئے یعنی 30جون 2020ء کو ختم ہونے والے سال کے لئے جو کمپنیاں خالص خسارے  یعنی نیٹ لاس کی حالت میں ہیں۔ ان پر Minimum Taxمعاف کر دیا جائے۔
جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ نقصان میں جانے والی کمپنیاں اپنی انکم ٹیکس  ریٹرن فائل نہیں کریں گی یا بہت تاخیر سے فائل کریں گی تو ان پر Minimum Tax کی چھوٹ دینے سے حکومت کو کوئی خاص نقصان نہیں ہوگا۔ میں یہاں مزید عرض کردوں کہ یہ صورتحال زیادہ تر چھوٹی کمپنیوں کے ساتھ ہے۔ جنہیں ہم عام طور پر SMEکہتے ہیں۔ چنانچہ اس ٹیکس چھوٹ کو صرف SMEیا پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں تک محدود کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ بہت سی پبلک لمیٹڈ کمپنیاں بھی اس چھوٹ کی مستحق ہیں۔
اگر حکومت میری یہ عاجزانہ تجویز مان لے تو ایک اور ثانوی مسئلہ بھی اس کی توجہ چاہے گا اکثر کمپنیاں اپنا خام مال امپورٹ کرتی ہیں۔ انہیں ایسی امپورٹس پر دوہولڈنگ انکم  ٹیکس دینا ہوتا ہے جوکہ ایک اچھی خاصی رقم بنتی ہے۔ سال کے آخر میں جب انکم ٹیکس ریٹرن فائل کی جاتی ہے تو سال کے منافع پر لگنے والے انکم ٹیکس سے یہ ودہولڈنگ انکم ٹیکس منہا کرلیا جاتا ہے۔ اب اگر کسی کمپنی پر سال بھر کیلئے کوئی خالص منافع نہیں ہے اور اگر حکومت Minimum Tax پر انکم  ٹیکس کی چھوٹ دے دیتی ہے تو پھر یہ تجویز ہے کہ ایسی نقصان میں رہنے والی کمپنی کو صرف 30جون 2020ء والے سال میں کاٹا گیا ودہولڈنگ انکم ٹیکس فوراً یعنی ٹیکس ریٹرن  فائل کرنے کے تین ماہ کے اندر اندر ریفنڈ کر دیا جائے اس سے مالی مشکلات میں جکڑی ہوئی چھوٹی چھوٹی کمپنیوں کو بہت سہولت ملے گی۔ یاد رہے کہ یہ انہی سے ’’غیر ضروری طور پر‘‘ لیا ہوا ٹیکس واپس کرنے کی بات کر رہا ہوں۔ کسی امدادی رقم کی بات نہیں ہو رہی۔
جہاں اس حکومت نے کاروبار کے لئے اتنے اچھے اقدامات کئے ہیں مثلاً ملازمین کی تنخواہوں کیلئے سستا قرضہ اور بجلی کے بلوں میں مدد وہاں اگر یہ Minimum Tax کو ایک سال  کے لئے چھوڑ دیا جائے اور نقصان میں جانے والی کمپنیوں کو ودہولڈنگ انکم ٹیکس فوری ریفنڈ کر دیا جائے تو یہ ہماری معیشت کو دوبارہ زندہ کرنے میں بہت مددگار