07:34 am
چوہدری محمد علی سے بیرسٹر خالد انور تک

چوہدری محمد علی سے بیرسٹر خالد انور تک

07:34 am

علمی و فکری یا تاریخی واقعات پر کالم لکھتے لکھتے کبھی کبھی قارئین کے ذائقہ کو بدلنے کے لئے میں حقیقی سیاسی واقعات پر کالم لکھ دیتا ہوں۔ میں نے حال
علمی و فکری یا تاریخی واقعات پر کالم لکھتے لکھتے کبھی کبھی قارئین کے ذائقہ کو بدلنے کے لئے میں حقیقی سیاسی واقعات پر کالم لکھ دیتا ہوں۔ میں نے حال میں ایک کالم میں بیگم شائستہ سہروردی اکرام اللہ کے حوالے سے لکھتے ہوئے غلام محمد اور چوہدری محمد علی کا ذکر کیا ہے۔ یہ دونوں حضرات معاشی بیورو کریسی میں امام کا درجہ  رکھتے تھے۔ چوہدری محمد علی کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے ہی 14اگست1947ء کے حوالے سے ہونے والی قائداعظمؒ کی تقریر کو سنسر کیا تھا۔ مجبوراً آرکیو کے لئے نئی دہلی ریڈیو سے نشرہ شدہ مسودہ منگوا کر اسے تاریخی مواد کے طور پر محفوظ کیا گیا تھا۔ مرزا سلیم بیگ موجودہ چیئرمین پیمرا‘ جب پی آئی او سے پہلے ڈی جی تھے پی آئی ڈی میں تو انہوں نے قائداعظمؒ کی تاریخی تقریر کو کتابی صورت میں چھاپ دیا تھا اور یہ تقریر قائداعظمؒ کی مکمل تقریر تھی۔ جس میں سنسر شدہ حصہ بھی شامل اشاعت کیا گیا تھا۔ چوہدری محمد علی دائیں بازو کے آرائیں قبیلے کے کفایت شعار بیورو کریٹ سیاستدان تھے۔ انہوں نے اپنی سیاسی پارٹی بنائی اور وزیراعظم بنے۔ انہوں نے اسلام آباد جی سیکس فور میں ایم این اے ہوسٹل کے بالکل سامنے والی آبادی میں گھر بنایا تھا۔ چوہدری محمد علی کے ایک بیٹے بیرسٹر خالد انور ہیں۔
جب نواز شریف کو صدر غلام اسحاق خان نے معزول کرکے اسمبلی توڑی اور جسٹس نسیم حسن شاہ سپریم کورٹ میں تھے‘ تب نواز شریف نے بیرسٹر خالد انور کے ذریعے خود کو سپریم کورٹ میں بطور مدعی پیش کیا تھا کراچی سے تعلق رکھنے والے بیرسٹر خالد انور نے سپریم کورٹ سے نواز شریف کی حکومت بحال کروا دی تھی۔ یوں وہ اچانک قانون کی دنیا میں بہت مشہور ہو گئے۔ دبلے‘ پتلے سے لمبے قد کے‘ خاموش طبع اور سنجیدہ ‘ سفید رنگت چہرے والے۔
جب اگلے انتخابات میں نواز شریف دوتہائی اکثریت لے کر پھر سے وزیراعظم بنے تو انہوں نے اسی بیرسٹر خالد انور کو وزیر قانون بنایا‘ پی پی پی سے مفاہمت کی‘ اور تیرہویں اور چوہودیں  آئینی ترامیم کو سینٹ سے اجتماعی حمایت سے پاس کروا کر صدر کے 58-2-Bکے صوابدیدی اختیارکو ختم کر دیا۔ صدر غلام اسحاق خان نے اسی صوابدیدی اختیار کے ساتھ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتیں ختم کی تھیں جبکہ صدر فاروق لغاری نے بھی اسی اختیار کے ساتھ بے نظیر بھٹو کی پی ڈی ایف ‘ جونیجو گروپ سے اتحاد کرکے جو حکومت بنائی گئی تھی اسے پی ڈی ایف حکومت کہا جاتا تھا جس میں بعدازاں نوابزادہ نصراللہ بھی شامل ہوئے اور مولانا فضل الرحمان نے بھی  اسمبلی میں اپنے چھ ووٹوں کے ذریعے حکومتی حمایت کرنا شروع کر دی تھی۔ اس اتحادی روئیے سے مولانا فضل الرحمان اور پی پی پی کے مابین وسیع المشرب تعلق قائم ہوا تھا۔
ان دنوں سینٹ میں صدر غلام اسحاق خان لابی سے دو اراکین سینیٹر سید عباس شاہ اور سینیٹر طارق چوہدری تعلق رکھتے تھے۔ فیصل آباد والے طارق چوہدری مسلم لیگی ہو کر بھی نواز شریف کے کٹر مخالف تھے ۔جب انہیں سینیٹر نہ بنوایا گیا تو سینیٹر سید عباس شاہ نے صدر غلام اسحاق خان سے گھر میں ملاقات کرکے انہیں غیرت دلوائی کہ طارق کو صرف اس لئے سینیٹر نہیں بنایا گیا کیونکہ وہ غلام اسحاق خان کے ذاتی دوست تھے۔ چنانچہ غلام اسحاق نے نہایت غصے سے نواز شریف سے بات کی۔ چنانچہ طارق چوہدری کو اسلام آباد سے ٹکٹ دے کر سینیٹر بنوا دیا گیا تھا۔ ان دنوں سید عباس شاہ کو امید تھی کہ انہیں نواز شریف کابینہ میں لے لیں گے کیونکہ وہ بھی نواز شریف خاندان کی طرح شوگر مل (بنوں میں) کے مالک تھے۔ کاروباری مزاج دونوں کو عملیت پسند جو بناتا تھا۔ ایک دن میں نے ان کے تکیے کے نیچے  ’’دی پرنس‘‘ دیکھ لی‘ پوچھا کیوں پڑھ رہے ہیں؟ بولے ممکن ہے کابینہ میں جگہ مل جائے۔ ’’دی پرنس‘‘ ہر مزاج کے سیاست دان کی کلیدی کتاب رہی ہے۔ میں ہنسنے لگا بولے پروفیسر کیا ہوا؟ میں نے کہا‘ کامیاب وزیر بننے کے لئے ’’دی پرنس‘‘ کو بار بار پڑھنا غیر ضروری ہے۔ کچھ عرصہ بعد مجھے انہوں نے کہا میرے گھر آئو اور کھانا کھائو‘ جی سیکس فور کے پرانی تعمیر کے سادہ سے گھر میں جب میں حاضر ہوا تو پوچھا یہ گھر آپ نے کس سے خریدا ہے؟ بولے چوہدری محمد علی نے یہ گھر خود تعمیر کروایا تھا اور ان کے بیٹے خالد انور بیرسٹر سے  خریدا ہے۔
 اس گھر میں بہت بڑا جامن کا درخت تھا جس کے جامن انہوں نے مجھے کھلائے۔ مگر سید عباس شاہ کو نواز شریف نے کابینہ میں شامل نہ کیا کہ صدر کے داماد انور سیف اللہ کو وہ پہلے ہی شامل کابینہ کر چکے ہیں۔ جب بھی میں انہیں ملتا تو اچانک میرے سامنے ’’دی پرنس‘‘ آجاتی اور میں مسکرانا شروع کر دیتا۔ مگر میں انہیں کبھی نہ بتا سکا کہ میں کیوں مسکراتا ہوں ان سے مل کر۔ بہرحال وہ بہت وضع دار پختون سید تھے جن کا تعلق  بنوں سے تھا۔
 جب نواز شریف کی حکومت کے ساتھ ساتھ صدر غلام اسحاق خان کو بھی آرمی چیف جنرل وحید کاکٹر نے مستعفی ہونے کو کہہ دیا‘ تب یہ دونوں لڑتے ہوئے کردار منظر سے ہٹ گئے اور خالد انور بھی لیگی سیاست کے منظر سے واپس بیرسٹری کی دنیا میں گم ہوگئے۔ مجھے ایک مرتبہ پرویز رشید نے کہا‘ کہنے کو خالد انور طاقتور وزیر قانون ہے مگر اسے آئینی ترامیم کے حوالے سے دن رات کلرکوں کی طرح کام کرنا پڑا ہے‘ بیرسٹر فروغ نسیم نے حال ہی میں تیسری مرتبہ وزیر قانون کا حلف اٹھایا ہے‘ مگر کہاں بیرسٹر خالد انور اور کہاں بیرسٹر فروغ نسیم؟ کیا ریاست خالد انور کی صلاحیتوں سے مستفید ہوسکتی ہے؟
چلتے چلتے اچانک مردان کے جاگیردار لیگی سیاست دان عبدالغفور ہوتی یاد آگئے ہیں۔ ایبٹ آباد میں انہوں نے جو گھر خریدا تھا ایک ہندو سے وہ ہندو وزیراعظم لیاقت علی خان کی بیگم رعنا لیاقت علی کے سبب ہم زلف تھے۔ وزیراعظم لیاقت علی نے  انہیں بحفاظت ہندوستان بھجوا دیا تھا۔ ہوتی خاندان کی ایک کوٹھی تھی نئی دہلی میں‘ ایبٹ آباد والی کوٹھی کے عوض ہوتی خاندان نے نئی دہلی والی کوٹھی دی تھی عبدالغفور ہوتی ایوب کابینہ میں وزیر تجارت‘ جونیجو عہد میں گورنر سرحد تھے۔