07:35 am
جید علماء کی پکار‘ حکومت اور ملکی ادارے کہاں ہیں؟

جید علماء کی پکار‘ حکومت اور ملکی ادارے کہاں ہیں؟

07:35 am

قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے سیاست دان آپس میں لڑ رہے ہیں‘ وفاقی وزراء اپوزیشن ممبروں پر... اور اپوزیشن ممبران وفاقی وزرارء
قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے سیاست دان آپس میں لڑ رہے ہیں‘ وفاقی وزراء اپوزیشن ممبروں پر... اور اپوزیشن ممبران وفاقی وزرارء پر ایسے ایسے الزامات عائد کرتے ہیں کہ جنہیں سن کر کانوں سے دھواں نکلنا شروع ہو جاتا ہے‘ حکمرانوں کو اپوزیشن سے لڑائی سے ہی فرصت نہیں ہے‘ جبکہ فرقہ وارانہ جن اور چڑیلیں ایک دفعہ پھر ملکی فضائوں میں نفرتوں کا گند گھولنے کے لئے تیار نظر آرہی ہیں‘ اہلسنت کے معتدل مزاج رکھنے والے جید علماء کرام جن میں شیخ الحدیث مولانا محمد حنیف جالندھری‘ رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا مفتی منیب الرحمن‘ مولانا قاری زوار بہادر‘ علامہ اتبسام الٰہی ظہیر‘ جمعیت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر سمیت دیگر سینکڑوں علماء بھی شامل ہیں... وفاقی حکومت اور ملکی سلامتی کے ضامن اداروں کو بار‘ بار متوجہ کر رہے ہیں کہ خلفائے راشدینؓ‘بنات رسولﷺ‘ ازواج مطہراتؓ اور صحابہ کرامؓ کے حوالے سے متنازعہ اور توہین آمیز پریس کانفرنس کرکے ملک کی اکثریتی اہلسنت آبادی  کے کروڑوں مسلمانوں کے نہ صرف یہ کہ مذہبی جذبات کو کچلنے کی کوشش کی گئی بلکہ انہیں اشتعال بھی دلایا گیا... مفتی منیب الرحمن نے تو یہاں تک کہا کہ یہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے‘ انہوں نے شیعہ اور مجلس وحدت المسلمین کے اکابرین کا نام لے کر ان سے اپیل کی کہ وہ اپنے لوگوں کو کنٹرول کریں اور ایسی باتوں سے روکیں کہ جس سے اکثریتی اہلسنت آبادی کے جذبات مجروح ہوں‘ لیکن ساتھ ہی انہوں نے ملکی سلامتی کے اداروں سے یہ اپیل بھی کہ کہ وہ اس ساری صورتحال کا فوراً نوٹس لیں تاکہ فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہو‘ یاد رہے کہ دیوبندی‘ بریلوی‘ اہلحدیث اکابرین نے ’’تحفظ بنیاد اسلام‘‘ بل کی  مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
اس حوالے سے میری وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا حنیف جالندھری سے گزشتہ روز بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ صحابہ کرامؓ‘ خلفائے راشدینؓ‘ امہات المومنینؓ‘ اور اہل بیت اطہارؓ کی شان عزت و ناموس کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ان کی تنقیص کا راستہ روکنے کے لئے پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والے تحفظ بنیاد اسلام بل اہم سنگ میل ثابت ہوگا‘ انہوں نے کہا کہ حضرت محمدکریمﷺ کی چاروں صاحبزادیوں کی شان اور ناموس کو یقینی بنانے کے لئے یہ بل مبارک ثابت ہوگا‘ ہم بدزبانی و بدکلامی کے کسی صورت بھی قائل نہیں ہیں... حضوراکرم ﷺ کی شان... ناموس رسالتؐ کے حوالے سے جو قانون موجود ہے اس قانون کو عالمی قوتیں اظہار رائے کی آزادی کے خلاف کہتی ہیں جبکہ صحابہ کرامؓ اور اہل بیتؓ کی شان کے تحفظ یعنی تحفظ بنیاد اسلام بل کو بھی بعض مخصوص لوگ انسانی حقوق کے خلاف قرار دے رہے ہیں... تو گویا ایسے لوگوں کے نزدیک توہین رسالت اور توہین صحابہؓ اظہار رائے کی آزادی اور انسانی حقوق کے عین مطابق ہے۔
مولانا حنیف جالندھری نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کا یہ بل پنجاب میں فرقہ واریت کا راستہ روکے گا‘ انہوں نے کہا کہ توہین صحابہؓ ملک میں فسادات کو ہوا دینے کے مترادف ہے... انہوں نے آج جمعۃ المبارک کو یوم ناموس رسالت ﷺ اور ناموس صحابہؓ کے طور پر منانے کا اعلان بھی کیا‘ مولانا حنیف جالندھری نے  بتایا کہ دیوبند کے معتدل مزاج رکھنے والے اکابر بریلوی مسلک کے معتدل علماء ہوں یا اہلحدیث علماء... وہ سب اس بات پہ متفق ہیں کہ پرامن پاکستان میں فرقہ وارانہ آگ لگانے کے لئے بیرونی قوتوں کے ایماء پر لاہور کی پریس کانفرنس میں اعلانیہ توہین صحابہؓ کا ارتکاب کیا گیا... انہوں نے کہا کہ خلفائے راشدینؓ ہوں‘ بنات رسولﷺ ہوں ‘ صحابہ کرامؓ ہوں یا اہل بیت عظامؓ... وہ کسی ایک فرقے کے نہیں بلکہ ہر مسلمان کا مشترکہ قیمتی اثاثہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سے فرقہ وارانہ فسادات کے خاتمے کے لئے تمام مسالک کے اکابر علماء نے ہمیشہ حکمرانوں سے تعاون کیا... ہم ہی وہ علماء تھے کہ جنہوں نے خودکش حملوں کے حرام ہونے کے فتوے جاری کئے تھے... ہم نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں فوج کی مکمل حمایت کی تھی‘ تحفظ بنیاد اسلام کا بل پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کرکے کارنامہ سرانجام دیا تھا... اگر اس پہ کسی کو اعتراض تھا تو اسے متعلقہ فورم پر رجوع کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا چاہیے تھا... لیکن پریس کانفرنس کرکے توہین صحابہؓ کرنا ملک کی اکثریتی اہلسنت آبادی کو اشتعال دلانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں توہین صحابہ پر مبنی پریس کانفرنس کے بعد تو اور بھی ضروری ہوگیا ہے کہ تحفظ بنیاد اسلام بل کو فوری طور پر قانون کی شکل دی جائے... انہوں نے کہا کہ اس نازک موقع پر حکومت اور ملکی اداروں کو فوری طور پر متحرک ہو کر گستاخان صحابہؓ کی سرکوبی کرنی چاہیے۔