07:36 am
اردگان اورآئی ایم ایف

اردگان اورآئی ایم ایف

07:36 am

ترک ادارہ شماریات(ٹی ایس آئی)کے فراہم کردہ اعدادوشماربھی مشکوک حیثیت کے حامل ہیں۔ 2017ء میں جرمنی کے دوسرے سب سے بڑے قرض دہندہ کامرز
(گزشتہ سے پیوستہ)
ترک ادارہ شماریات(ٹی ایس آئی)کے فراہم کردہ اعدادوشماربھی مشکوک حیثیت کے حامل ہیں۔ 2017ء میں جرمنی کے دوسرے سب سے بڑے قرض دہندہ کامرزبینک نے ترکی میں اقتصادی نموکے مشکوک اعداد وشمارکے حوالے سے رپورٹ مرتب کی تھی،جس کاعنوان تھاترکی۔۔۔۔۔۔ کیاآپ مذاق کررہے ہیں؟
اردگان کی معیشت حکمران جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے دوستوں کیلئے بیلنس شیٹ سے ہرکیے جانے والے انتظامات کی بنیاد پرفروغ پذیرہے۔اس کی ایک واضح مثال مغربی ترکی کے صوبے کتھایامیں تعمیرکیاجانے والادی ظیفر ایئرپورٹ ہے جس کانظم و نسق تعمیرات کے شعبے سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی شخصیت کے ہاتھ میں ہے جواردگان کی دوست ہے اورجس نے میڈیا آوٹ لیٹس کوسرکاری آغوش میں لابٹھانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ حکومت نے پیش گوئی کی تھی کہ پہلے سات برس میں اس ایئر پورٹ سے 76لاکھ افراد سفر کریں گے۔یہ تعدادتاحال تین لاکھ تک پہنچ سکی ہے!اس ایئرپورٹ کی تعمیرپر 5کروڑ50لاکھ ڈالرخرچ ہوئے۔حکومت کی طرف سے آمدنی کی ضمانت کے طورپرکی جانے والی ایک ڈیل کے تحت(جو2044ء میں ختم ہوگی)کمپنی کو عوام سے لیے گئے ٹیکس سے کم وبیش 22کروڑ 80 لاکھ ڈالران پروازوں کیلئے اداکیے جائیں گے،جن کاکوئی وجود نہیں۔
اگرترک قیادت عالمی مالیاتی فنڈسے کوئی پروگرام یابیل آوٹ پیکیج لیتی ہے تواس کے ساتھ آنے والی شرائط کی تعمیل کے نتیجے میں پرائیویٹ کمپنیوں کواس نوعیت کی آمدنی کی ضمانت اوردیگر آف دی بیلنس شیٹ جیسے انتظامات کاخاتمہ لازم ہوگا۔بیل آوٹ پیکیج کے ساتھ آنے والی شرائط کے تحت اصلاحات لازم ہوں گی۔ ٹیکنو کریٹس کی خدمات حاصل کرناہوں گی، شفافیت لازم بنانا ہوگی ، جوابدہ ہوناپڑے گا،خودمختار ریگولیٹری ایجنسیز قائم کرناپڑیں گی اورمرکزی بینک کوہرطرح اورہرسطح کے سیاسی دباؤسے آزادکرنا ہوگا۔ اگرایساہواتو اردگان کوبہت سے مشکوک معاملات سے الگ ہونا پڑے گا، ان کے حاشیہ برداروں کیلئے مشکلات پیدا ہوں گی کیونکہ وہ انہیں کچھ زیادہ دے نہیں پائیں گے۔ اگردیگرالفاظ میں کہیں توآئی ایم ایف سے کوئی بھی ڈیل اردگان کے اقتدار کیلئے حقیقی نوعیت کاخطرہ ثابت ہوگی۔ ساتھ ہی ساتھ ان کے سرپرستوں اور دوستوں کوبھی منظرسے ہٹناپڑے گا۔
ترکی کیلئے آئی ایم ایف کاپچھلاپروگرام 1999ء میں شروع ہوا اور 2001ء میں اختتام کوپہنچا۔اس پروگرام کے تحت ترکی میں خاصی شفافیت آئی اور سرکاری فنڈ کے حوالے سے جوابدہی کا اہتمام بھی کیا جاسکا۔ وہ پیکیج سرکاری قرضوں کے بڑھتے بوجھ، ترک تجارتی بینکوں کی ہدف پذیری کے باعث دیاگیاتھا۔آئی ایم ایف نے اس بات پرزوردیاتھاکہ سرکاری فنڈکے خرچ کے حوالے شفافیت اورجوابدہی یقینی بنانے سے متعلق اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔مالیاتی نظم ونسق بہتربنانے کیلئے نیاانتظامی ڈھانچادرکار تھا۔ ترک حکومت مان گئی اورآئی ایم ایف اپنی بات منواتے ہوئے معیشت ومالیات کے ڈھانچے کی ساخت میں اصلاحات متعارف کرانے کے حوالے سے کامیاب رہا۔ترکی استحکام کی طرف بڑھااور آئندہ6برس تک اس کی شرح نمواوسطاً 7فیصد رہی۔
اردگان بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے تحت لیاجانے والاکوئی بھی پروگرام ترک معیشت کیلئے غیرمعمولی فوائدکی راہ ہموارکرسکتاہے مگرانہیں شرائط کے تحت بہت کچھ چھوڑناپڑے گا۔وہ ایساکرنے کیلئے تیارنہیں۔یہی اصل مسئلہ ہے۔آئی ایم ایف کے پچھلے پیکیج سے ترکی کوبہت کچھ ملاتھا۔سادگی اپنانے سے متعلق اصلاحات نے نتائج دیے تھے ۔ اسی دورمیں ترکی کے سہ طرفہ سیاسی اتحادکے الٹرانیشنلسٹ پارٹنرڈیلویٹ بیچلی نے2002ء میں قبل ازوقت انتخابات کیلئے دباؤڈالا،پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی تمام اپوزیشن جماعتوں کواکھاڑپھینکااوریوں اردگان کو(جواس وقت استنبول کے میئرتھے)اقتدارکے ایوان تک پہنچانے میں کلیدی کرداراداکیا۔ ڈیلویٹ بیچلی تب کی طرح اب بھی ناقابل بیان ہیں اورآج وہ اردگان کے اہم اتحادی ہیں۔
اردگان نے2002 میں ڈیلویٹ بیچلی کی صلاحیتوں سے خوب استفادہ کیاتھا۔ اب وہ 2023ء  کے صدارتی انتخاب سے قبل کوئی بھی بڑی تبدیلی نہیں چاہیں گے۔18سال قبل وہ استنبول کے میئرتھے اوروہاں سے اقتدارکے مرکزی ایوان میں داخل ہوئے تھے۔اس وقت استنبول کے میئراکرم اماموغلوہیں، جوغیرمعمولی سیاسی حیثیت کے حامل ہیں۔انہوں نے اپوزیشن کوجوڑنے اورمضبوط کرنے میں کلیدی کردار اداکیا ہے۔اس وقت سیاسی طورپر اردگان کیلئے سب سے بڑاخطرہ یہی اکرم اماموغلوہیں ۔ انتخابات تین سال دورہیں۔ ترکی میں سیاسی اعتبارسے تین سال خاصی بڑی مدت ہے۔اس مدت کے دوران اردگان چاہیں گے کہ ان کے دوستوں، ساتھیوں اور حکمران جماعت کے مہربانوں کوانڈردی ٹیبل دی جانے والی مراعات جاری رہیں۔
ترک معیشت دگرگوں ہے۔مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔ایسے میں آئی ایم ایف سے کوئی بڑابیل آوٹ پیکیج ہی ترکی کے مسائل حل کرسکتاہے مگرخیر،عالمی مالیاتی ادارے کوترکی کیلئے کوئی بھی پیکیج تیارکرتے وقت یہ نہیں بھولناچاہیے کہ یہ اردگان کیلئے فری پاس نہیں ہوناچاہیے۔ترکی میں معیشت کے حوالے سے غیرمعمولی اصلاحات کی ضرورت ہے۔کوئی  بھی بیل آوٹ پیکیج دیتے وقت اردگان کواس بات کا پابند کرنالازم ہے کہ مالیاتی معاملات میں شفافیت ہونی چاہیے،کسی کوبھی انڈردی ٹیبل کوئی رعایت نہ دی جائے۔فیملی ممبرز کے بجائے ٹیکنوکریٹس کی خدمات حاصل کی جائیں اورسب سے بڑھ کریہ کہ منی لانڈرنگ اورکرپشن کی روک تھام کیلئے سخت ترقسم کے اقدامات کیے جائیں۔ترکی کی بڑی،قدرے جواں اورمتحرک آبادی معاشی نموکے حوالے سے یورپ اورمشرق وسطیٰ کیلئے مثال بن سکتی ہے۔اس آبادی کوایک موقع تودیاہی جاناچاہیے۔