07:38 am
مشیروں کی واپسی شروع!

مشیروں کی واپسی شروع!

07:38 am

کراچی: شہر کی صفائی کے لئے فوج طلبO پٹرول سات روپے لٹر مزید مہنگ
٭دو مشیر ڈاکٹر ظفر مرزا اور تانیہ الدروس فارغO قومی اسمبلی ہنگامہ آرائی، دو بل منظور، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب!O کراچی: شہر کی صفائی کے لئے فوج طلبO پٹرول سات روپے لٹر مزید مہنگا کرنے کی سفارشO گندم کمیشن، چینی کمیشن کے بعد پٹرول کمیشنO پھل سبزیاں مزید مہنگے، انگور 350 روپے کلوO یوٹیلیٹی سٹوروں پرآٹا چینی ختمO میٹرک پاس ایم پی اے پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن کا چیئرمینO قصابوں کا ریٹ، بکرا دنبہ 5 ہزار، بیل 10 ہزار، اونٹ 20 ہزار روپےO پنجاب: کابینہ ناکام، نئی گڈ گورننس کونسل قائمO مولانا فضل الرحمان اپوزیشن کے اتحاد سے مایوسO 15 لاکھ ٹن گندم درآمد، 20 ارب روپے جاری۔
٭وفاقی حکومت کے دو غیر ملکی مشیر ڈاکٹر ظفر مرزا اور تانیہ الدروس فارغ، دونوں سے استعفے طلب کئے گئے۔ دونوں پر بھاری کرپشن اور بدانتظامی کے الزامات! ظفر مرزا 15 ماہ قبل عالمی ادارہ صحت سے چھٹی لے کر پاکستان آئے تھے۔ ان کے پاس امریکی شہریت ہے۔ تانیہ الدروس کے پاس بیک وقت پاکستان، کینیڈا اور سنگا پور کی تین شہریتیں ہیں۔ ان دونوں کے پاس پاکستان میں اپنی کمپنیاں بھی ہیں جنہیں بھاری فائدے پہنچانے کے علاوہ دوسرے الزامات بھی ہیں۔ ظفر مرزا پر ایک الزام یہ کہ بھارت سے تجارت پر پابندی کے باوجود بھارت سے اربوں کی دوائیں منگوائیں اور ملک میں دوائوں کی قیمتیں کم نہ کرائیں جب کہ ان کی دوائوں کی اپنی کمپنی بھی ہے جسے بھاری فائدہ پہنچایا گیا۔ ان کی ویسے بھی کرونا وغیرہ کے سلسلے میں کارکردگی ناقص رہی۔ متعدد سرکاری ہسپتالوں میں سربراہ مقرر نہ کئے اس سے ان ہسپتالوں کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ میں عمران خاں کے کہنے پر عالمی ادارہ صحت کو چھوڑ کر آیا تھا تاہم پتہ چلا ہے کہ موصوف چھٹی لے کر آئے تھے اور اب واپس چلے جائیں گے۔ تانیہ ایدروس بھی سنگا پور سے آئیں۔ انہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ماہر قرار دیا گیا اور انہیں پاکستان میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے ادارے کی چیئرپرسن بنا دیا گیا۔ انہوں نے پاکستان پہنچتے ہی جہانگیر ترین کے ساتھ مل کر اپنی ڈیجیٹل کمپنی بنائی اور مبینہ طور پر اسے بھاری فنڈز جاری کر دیئے۔ ان دونوں مشیروں کو پورے وزیر کا درجہ اور سہولتیں حاصل تھیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ وزیراعظم ان دونوں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے، وہ وزیراعظم کے سوالات کے اطمینان بخش جوابات نہ دے سکے اور ان سے استعفے مانگ لئے گئے۔
وزیراعظم کے مشیروں کے گروہ میں ابھی 17 افراد باقی ہیں جو لاکھوں روپے ماہوار لے رہے ہیں۔ خزانہ اور صحت جیسی اہم وزارتیں وزراء کے بغیر چل رہی ہیں۔ قومی اسمبلی میں وزیراعظم کی حکومت کو 179 ارکان کی حمائت حاصل ہے۔ ان میں کسی کو صحت اور خزانے کا وزیر بنانے کا اہل نہیں سمجھا گیا اور باہر سے مشیر درآمد کئے جاتے رہے۔ ماضی میں ایک تلخ تجربہ ہو چکا ہے۔ عبوری وزیراعظم کے عہدے کے لئے باہر سے معین قریشی اور شوکت عزیز کو منگوایا گیا۔ معین قریشی نے کرپشن کا احتساب شروع کیا مگر 3 ماہ کے بعد اسے چھوڑ کر واپس جانا پڑا۔ شوکت عزیز نے پاکستان کی واحد سٹیل ملز کو ہتھیانے کا منصوبہ بنایا۔ سعودی عرب اور روس کی کمپنیوں کے ساتھ ایک بھارتی صنعت کار ’پٹیل‘ کو ملا کر اپنا ایک سنڈیکیٹ بنایا اور اسے 22 ارب روپے میں سٹیل ملز فروخت کر دی جب کہ سٹیل ملز کے صرف پاور ہائوس کی قیمت ہی 22 ارب سے زیادہ تھی اور سٹیل ملز کی زمین کی قیمت کھربوں میں پہنچتی تھی۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں چلا گیا۔ سٹیل ملز حاصل ہونے پر27 مارچ کو لندن میں بڑے پیمانے پر جشن کا اعلان ہو چکا تھا، دعوت نامے بھی تقسیم ہو چکے تھے۔ کسی طرح ایک دعوت نامہ سٹیل کا کاروبار کرنے والے میرے ایک دوست کے پاس بھی پہنچ گیا۔ میں نے اس سکینڈل کی طویل اور گہری تحقیقات کیں اور ’اوصاف‘ کا پورا صفحہ شائع کر دیا۔ سعودی کمپنی نے مجھے اس ایڈیشن کو روکنے کے لئے سعودی عرب میں کچھ بڑی سہولیات کی پیش کش کی اور ایڈیشن چھاپنے پر خاص قسم کی دھمکیاں بھی دی گئیں مگر یہ ایڈیشن نہ رک سکا! سپریم کورٹ کے فیصلے سے لندن والا جشن بھی بیچ میں رہ گیا۔ وزیراعظم شوکت عزیز کا موڈ بھی خراب ہو گیا۔ یہ صرف ایک داستان ہے۔ ایسی اور بھی داستانیں ہیں مگر غیر ملکی افراد کو کیا کہا جائے؟ ہمارے اپنے ملکی حکمرانوں نے وسیع پیمانہ پر ملک کو جس بے دردی سے لوٹ کر باہر کھربوں کے اثاثے بنائے اور ان اثاثوں کو بچانے کے لئے اب نیب کو ہی ختم کرنے کے دَر پے ہو گئے ہیں۔ (ایک معذرت: گزشتہ راوی نامہ میں نیب کو ختم کرنے کے لئے اپوزیشن کی 35 ترامیم کا ذکر کیا تھا۔ وضاحت آئی ہے کہ 35 نہیں، صرف 34 ترامیم پیش کی گئی ہیں!)
٭قارئین کرام! ایک پرانا شعر یاد آ رہا ہے کہ ’’یادِ ماضی عذاب ہے یا رب، چھین لے مجھ سے حافظہ میرا‘‘ 1950ء کے مارشل لا تک پاکستان کے کسی حکمران نے کسی بیرونی ملک میں کوئی اثاثہ نہ بنایا قائداعظم، لیاقت علی خاں بھارت میں بھاری اثاثے (اب کھربوں سے بھی زیادہ) چھوڑ کر آ گئے۔ قائداعظم اپنے پاکستان میں اثاثے بھی قوم کے لئے وقف کر کے چلے گئے۔ (دفتر میں وزراء کو سرکاری چائے بھی روک دی تھی)۔ اور اب!! پاکستان کا کوئی حکمران، کوئی وزیر، کوئی رئیس، نواب، چودھری، وڈیرا ایسا ہو جس کے پاس باہر کی شہریت اور بھاری غیر ملکی اثاثے نہ ہوں!! ایک وزیر نیٹو کے اسلحہ بھرے 200 کنٹینر غائب کر کے اربوں کماتا ہے اورباہر بھاگ جاتا ہے، آج تک کوئی تفصیلات؟ کوئی کارروائی!؟ کارروائی تو وہ کرے جس کے اپنے ہاتھ صاف ہوں!
٭خانہ کعبہ کا غلاف تبدیل کر دیا گیا۔ اس کے لئے 9 ذی الحجہ کی رات کو باوقار تقریب منعقد ہوئی نیا غلاف چڑھانے کا کام رات بھر جاری رہا۔ نیا غلاف بنانے میں 670 کلو خالص ریشم، 120 کلو خالص سونا اور ایک کلو چاندی کا تار استعمال ہوا۔ 160 ماہرین نے پورا سال کام کر کے مکہ معظمہ کی ’’کسوہ فیکٹری‘‘ میں سخت سکیورٹی میں یہ غلاف تیار کیا۔ مجھے عمرہ کے دوران غلاف کی تیاری دیکھنے کا شف حاصل ہوا ہے۔ شائد بعض قارئین کو علم نہ ہو کہ 1964ء میں خانہ کعبہ کے غلاف کی تیاری کا اعزاز لاہور شہر کو بھی حاصل ہو چکا ہے۔ یہ غلاف مولانا مودودی کی نگرانی میںجماعت اسلامی نے تیار کرایا تھا۔ اسے بڑے احترام کے ساتھ ایک خصوصی جلوس میں درودوسلام کے ساتھ لاہور کے ہوائی اڈے پر پہنچایا گیا۔ پی آئی اے نے اسے بلا معاوضہ خانہ کعبہ تک پہنچایا۔ یہ غلاف ماضی میں مصر سے آیا کرتا تھا۔ پھر کسی وجہ سے سعودی حکومت نے خود تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
٭لاہور میں اپوزیشن عید کے بعد اے پی سی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ مولانا فضل الرحمن ایک بار پھر اپوزیشن کے رویے سے مایوس ہو گئے ہیں۔ ایک موقع پر بات چیت کرتے ہوئے افسوس ظاہر کیا کہ اپوزیشن ابھی تک متحد نہیں ہو سکی، حکومت کے ساتھ کمیٹیوں میں بیٹھ جاتی ہے اور سرکاری بل پاس ہوتے جا رہے ہیں۔
٭ایک دلچسپ واقعہ: قومی اسمبلی میں کراچی کے رکن محمد فہیم خاں نے وزیرمراد سعید کو گلابوں کا ایک ہارپہنایا۔ ن لیگ کے ایک اقلیتی رکن کھیل داس نے یہ ہار مانگ کر پیپلزپارٹی کے عبدالقادر پٹیل کو پہنا دیا۔ یوں یہ ہار مختلف سیاسی چہرے دیکھتا رہا۔ مجھے ایک پرانا ذاتی واقعہ یاد آ گیا۔ نارووال میں ایک فٹ بال ٹورنامنٹ کی کمیٹی نے مجھے ٹورنامنٹ کے افتتاح کے لئے بلایا۔ میں کمیٹی کو عطیہ دینے کے لئے کچھ رقم جیب میں ڈال کر لے گیا۔ کمیٹی نے میرے گلے میں ایک گوٹا کناری والا ہار پہنایا۔ میں نے فیتہ کاٹا، میدان میں دونوں ٹیموں سے ہاتھ ملایا۔ گرائونڈ سے باہر آیا تو کمیٹی نے ہار واپس مانگ لیا کہ اگلے میچوں میں بھی استعمال ہونا ہے۔ میرا موڈ خراب ہو گیا۔ میں نے کمیٹی کو عطیہ دینے کا فیصلہ روک لیا!!
٭کراچی تین روز کی بارشوں سے ڈوب گیا۔ بلاول کو لاہور میں سیاسی شغل میلے سے مصروفیت نہ مل سکی۔ وزیراعلیٰ سندھ کہیں دکھائی نہ دیئے، گزشتہ روز سندھ کے دو وزراء ناصر حسین اور سعید غنی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کون سی بارش؟ کون سا پانی؟ کراچی میں کہیں پانی جمع نہیں ہوا، دو تین مقامات پر پانی دیکھا گیا مگر یہ تو ہمیشہ جمع ہوتا رہتا ہے۔ ایک وزیر نے کہا کہ میں آج ایک جگہ گیا تھا، وہاں کوئی پانی نہیں تھا…اور… اور بختاور بھٹو کا بیان شائع ہوا ہے کہ بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے!!
٭میڈیا شور مچا رہا ہے کہ ایک میٹرک پاس ایم پی اے کو پنجاب کے ایجوکیشن فائونڈیشن کا چیئرمین بنا دیا گیا ہے۔ اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ پنجاب کا ایک میٹرک پاس وزیراعلیٰ، ایف اے پاس گورنر، ایک انڈر گریجویٹ ملک بھر کا صدر رہا۔ ایک نان میٹرک (میٹرک کی جعلی سند) سٹیل ملز کا چیئرمین بن گیا (گیارہ ماہ میں سات ارب کا گھپلا، آخر میں گرفتار!) ان عہدوں کے لئے تعلیم و تربیت کی کوئی ضرورت نہیں، ایم پی اے ہونا کافی ہے اور ایم پی اے بننے کے لئے پرائمری پاس ہونا بھی ضروری نہیں صرف بہت سے پیسے چاہئیں! پنجاب میں تو ایک ٹھیٹ ان پڑھ وزیر بھی رہا جس نے بہر حال دستخط کرنے سیکھ لئے تھے!!