08:12 am
ڈی ایچ اے کراچی اور سی بی سی، چندمغالطوں کا ازالہ

ڈی ایچ اے کراچی اور سی بی سی، چندمغالطوں کا ازالہ

08:12 am

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں گزشتہ 90سال میں تاریخ کی سب سے زیادہ بارش ہوئی، صرف 12گھنٹے میں 231ملی میٹر برسات ریکارڈ کی گئی۔ 13برس بعد حب ڈیم میں 338.5 فٹ کی سطح عبور ہوئی۔ کراچی میں صرف ماہِ اگست کے دوران 484ملی میٹر(یعنی 19انچ) بارش ریکارڈ کی گئی۔ طوفانی بارشوں کے پانی سے نالے اور نکاسی آب کی لائنیں اُبل پڑیں جس سے شہری کچی آبادیاں ، مضافاتی دیہی  اور شہری علاقے زیرِ آب آگئے۔ پورے شہر میں نظام زندگی درہم برہم ہوگیا ۔ 27 اگست کو کراچی کی مرکزی شاہراوں پر سیلابی پانی کے باعث گھنٹوں ٹریفک جام رہا اور صورت حال اس قدر سنگین ہوگئی کہ ریلیف کمشنر سندھ نے قدرتی آفات ایکٹ 1958کے تحت کراچی کے 7میں سے 6 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا۔ کراچی غربی اور ملیر کے اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ سڑکوں اور گلیوں میں برساتی پانی جمع ہونے کے باعث 70فی صد علاقوں تک رسائی انتہائی مشکل ہوگئی، اعشاریہ 3 فی صد مکانات جزوی یا مکمل طور پر تباہ اور 27فی صد پُل اور راستے جزوی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے۔ شہر میں 10سے 34گھنٹے تک بجلی کی فراہمی معطل رہی۔
ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی  ڈی ایچ ایز اور ملک کی  دیگر ہاؤسنگ سوسائٹیز میں ترقیاتی کاموں کے معیار اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ، ٹرانسفر اور سیکیورٹی میں شفافیت کی وجہ سے عوام، سرمایہ کاروں اور الاٹیز کی نظر میں ممتاز مقام رکھتی ہے۔ شہر میں ہونے والی حالیہ تاریخی بارشوں میں ڈی ایچ اے کراچی شدید تنقید کی زد میں رہا۔ نشیبی علاقوں میں واقع گھروں میں بارش کا پانی داخل ہوگیا جو ڈی ایچ اے کے کل رقبے کا پانچ فیصد ہیں۔ کئی دنوں تک بجلی کی بندش نے یہاں کے مکینوں کی زندگی مزید اجیرن بنا دی اور کم و بیش سبھی ٹی وی چینلز نے ان حالات کو براہ راست نشر کیا۔ 
ڈی ایچ اے کراچی کسی بھی مکان کی تعمیر سے قبل تمام تکنیکی اور قانونی تقاضے پورے  کرتا ہے۔ مکان کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد انتظامات اور انفرااسٹرکچر کی ذمے داری کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ (سی بی سی) کی ہوتی ہے۔ ان میں سڑکوں کی مرمت، پانی کی فراہمی، برساتی پانی کی نکاسی، صفائی ستھرائی، شجر کاری، خود رو پودوں اور جھاڑیوں کو تلف کرنا اور کچرہ جمع کرنے اور ٹھکانے لگانے، آورہ کتوں کا تدارک اور ڈی ڈی ٹی کا چھڑکاؤ وغیرہ کی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ 
کراچی کے کل 3780مربع کلو میٹر میں سے ڈی ایچ کا رقبہ 35مربع کلو میٹر ہے جو ایک فی صد سے بھی کم بنتا ہے۔ ڈی ایچ اے کا زیادہ سے زیادہ 5فی صد علاقہ تیز بارشوں سے متاثر ہوا جب کہ دوسری جانب کراچی کے 70فی صد علاقے برسات سے متاثر ہوئے جن میں سے 35فی صد میں شدید تباہی ہوئی۔ ڈی ایچ اے کے اعشاریہ 5 فی صد علاقے بُری طرح متاثر ہوئے۔ ناکافی سہولیات کی وجہ سے ڈی ایچ اے کے بعض علاقوں میں شدید مسائل سامنے آئے۔ سی بی سی کے زیر انتظام علاقہ 51مربع کلو میٹر ہے جس میں  7.7مربع کلو میٹر پر پھیلا  فیز VI سب سے زیادہ متاثر ہوا اور اس کے ایک مربع کلو میٹر کا علاقہ چار پانچ روز تک متاثر رہا جب کہ سی بی سی نے بقیہ 50کلو میٹر علاقوں کو 48گھنٹوں میں کلیئر کروالیا۔ برسات کے بعد ڈی ایچ اے کے فیز I، II، IIایکسٹینشن، IV، V، Vایکسٹینشن، بلاک 8اور 9، بازار(کچی آبادی) اور فیز سکس، سیون، سیون ایکسٹینشن کے بڑے علاقے سے 48گھنٹے کے اندر برساتی پانی نکالا جاچکا تھا۔ اتحاد کمرشل، بخاری کمرشل اور نشاط میں شدید بارش ہوئی اور ان علاقوں میں نکاسی کا کافی نظام نہ ہونے کی وجہ سے چار پانچ روز تک پانی جمع رہا  جس کے باعث وہاں پانی کی نکاسی کے لیے اضافی مشینری لگانی پڑی۔ بدقسمتی سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی توجہ کا مرکز بھی یہی علاقے رہے۔ 
صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ اس علاقے میں نکاسیٔ آب کا انفرااسٹرکچر 48گھنٹوں کے دوران 217ملی میٹر بارش کے لیے بنایا گیا ہے۔ جب کہ 27اگست کو علاقائی سطح پر بعض علاقوں میں ایک گھنٹے کے دوران 130ملی میٹر اور چار گھنٹوں میں 230ملی میٹر تک بارش ہوئی۔ اس کی وجہ سے شہری علاقوں میں سیلاب آیا۔ سی بی سی اور ڈی ایچ اے کا علاقہ کراچی کے جنوبی حصے میں واقع ہے جو کہ برساتی نالوں اور دیگر آبی گزرگاہون کا آخری سرا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے پر پانی کا دباؤ بھی زیادہ ہوتا ہے جس کے باعث کئی زیر آب علاقوں سے چارپانچ دن تک پانی نہیں نکالا جاسکا۔ بدقسمتی سے ان علاقوں کا موازنہ دیگر شہر سے کیا گیا جس  کی وجہ سے  یہاں کے مکینوں کا انتظامیہ کے بارے میں تاثر بُری طرح متاثر ہوا۔ ظاہر ہے کہ ڈی ایچ اے کے رہنے والے  بہتر خدمات کی توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں۔ پانی کی تقسیم کی ذمے داری سی بی سی کی ہے۔ ڈی ایچ اے کے مکینوں کو یہ بات سمجھنا چاہیے کہ پانی کی لائنیں کئی دہائیاں قبل بچھائی گئی تھیں۔  علاقے کو نوے لاکھ گیلن یومیہ پانی درکا ہے جس میں سے واٹر بورڈ صرف 40لاکھ گیلن یومیہ فراہم کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سی بی سی کو باقی طلب خود پوری کرنا پڑتی ہے۔ ایک جانب ڈی ایچ اے کے مکینوں کو کے الیکٹرک کی جانب سے مسلسل اضافی بلوں کا مسئلہ درپیش رہتا ہے ، خصوصا بارش کے دنوں میں بجلی کی معطلی اور لائنوں کی خرابی سے پیدا ہونے والے خطرات الگ ہیں۔ 
( جاری ہے )