08:13 am
اِک ماں کی بے حرمتی!ذمہ دار کون؟

اِک ماں کی بے حرمتی!ذمہ دار کون؟

08:13 am

لاہور، سیالکوٹ موٹروے پر پولیس کی سیکورٹی مقرر کرنا کس کی ذمہ داری تھی؟ بغیر سیکورٹی مقرر کئے اس راستے کو کس کی سفارش اور کس کے حکم سے کھولا گیا؟
موٹروے پر سفر کرنے والی ایک عزت مند خاتون کے ساتھ اس کے معصوم بچوں کی دیکھتی آنکھوں کے سامنے جو بدترین سلوک کیا گیا … اس کی  ’’مذمت‘‘ کیلئے  میرے پاس الفاظ نہیں ہیں… یقین کیجئے  اگر شریعت میں جائز ہوتا تو میں ’’قلم‘‘ اپنے لہو میں ڈبو کر کالم کے صفحات کو سرخ کر ڈالتا … میں اس  تکلیف دہ موضوع پر لکھنے سے بچنا چاہتا تھا … لیکن لکھنا اس لئے ضروری ہوگیا، بھاڑے کے ’’ٹٹو‘‘ … جنسی درندگی کے اس واقعہ کو بنیاد بناکر پوری قوم کو گالیاں  بک رہے ہیں … یاد رکھیئے ہر قسم کے مجرم ، ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں … ’’جرم‘‘ کو ہونے سے روکنا یا جرم  سرزد ہونے کے بعد ’’مجرم‘‘ کو سخت سے سخت سزا دے کر نمونہ عبرت بنانا یہ کام عوا م کا نہیں بلکہ حکومت، ریاست اور عدلیہ کا ہوتا ہے … ’’قوم‘‘ کو گالیاں بکنے والے ’’بھاڑے‘‘ کے ان ٹٹوئوں کو کوئی بتائے  کہ پاکستانی قوم تو نواز شریف دور میں بھی حکومت سے مطالبے کرتی رہی کہ جنسی درندگی میں ملوث مجرموں کو سرعام پھانسیاں دی جائیں … لیکن اس عوامی مطالبے کے راستے میںسب سے بڑی رکاوٹ بنے سول سوسائٹی، موم بتی مافیاء، ڈالر خور این جی اوز کے خرکار، بعض حکومتی وزراء اور دجالی میڈیا کے بعض اینکرز اور اینکرنیاں ہیں، آج موم بتی مافیا کی جو آنٹیاں اور انکلز، موٹروے سانحہ پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں … ان سے کوئی پوچھے کہ کیا جنسی درندگی کے واقعات کو میرا جسم میری مرضی کے فحش نعرے لگاکر روکا جاسکتا ہے؟کیا جنسی بے راہ روی کو عورت اور مرد کو مادر پدر آزادی دے کر روکا جاسکتا ہے؟ کوئی دجالی میڈیا کے پردھانوں سے پوچھے کہ کیا جنسی درندگی کے واقعات کو فحاشی، عریانی اور آوارگی کو عام کرنے سے روکا جاسکتا ہے؟ تم نے بے حیائی، فحاشی ، عریانی اور آوارگی کی جو آگ جلائی تھی … ہوس و جنس کی اس آگ نے اگر اب پاکیزہ دامن جلانا شروع کئے ہیں تو شکوہ کیسا؟ مگرمچھ کے آنسو کیوں بہاتے ہو؟ چیختے اور چلاتے کیوں ہو؟ پاکستانی قوم کو گالیاں کیوں بکتے ہو؟
کیا وہ سارے عناصر… ان جنسی درندوں کے  سہولت کار نہیں ہیں کہ جو ملک میں اسلامی سزائوں کے نفا  ذ کی مخالفت کرتے ہیں؟
کیا وہ وزراء ، ممبران اسمبلی، نام نہاد سول سوسائٹی، لبرل مافیاء اور چینلز کی بعض اینکرنیاں اور اینکرز … ملک میں موجود جنسی ابلیسوں کے سہولت کار نہیں ہیں کہ جو انہیں پھانسی جیسی سخت سزا دینے کی مخالفت یہ کہہ کر کرتے ہیں کہ پھانسی دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے … گویا ان کے نزدیک جنسی درندے معصوم بچوں، بچیوں اور خواتین کے ساتھ جو ظلم ڈھاتے ہیں ، وہ تو انسانی حقوق کے عین مطابق ہے … ہاں البتہ ان درندوں کو پھانسی کی سزا دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے،ولاحولا ولا قوۃ الا باللہ…جس معاشرے میں اس خاص ’’مائنڈ سیٹ‘‘ کے حامل لوگوں کو سول سوسائٹی، دانشور، ا ینکرز ، وزیر، مشیر سمجھا جائے … اس معاشرے میں بسنے والوں کے ساتھ پھر جو بھی ہو جائے وہ کم ہے … سن لیجئے موٹروے پر ایک عفت مآب خاتون کو جس درندگی کا نشانہ بنایا گیا، یہ سب اس لئے نہیں ہوا کہ یہ اسلامی نظریاتی ملک ہے، میرا چیلنج ہے کہ حکومت آج اسلامی سزائوں پر عمل درآمد شروع کرے پھر ان جنسی درندوں کو پاکستان کے کسی کونے میں پناہ نہیں ملے گی، سوائے اس کے کہ یہ لندن، امریکہ یا دوبئی فرار ہو جائیں۔
اسلامی نظریاتی مملکت کی یہ بدقسمتی رہی کہ اس کا اقتدار اکثر ’’رنگیلوں‘‘ کے پاس رہا … میں زیادہ دور نہیں جاتا صرف رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کا دور دیکھ لیجئے ، موصوف نے روشن خیالی کے عنوان سے جو بے حیاء کلچر متعارف کروایا تھا … یہ اسی کے نتائج ہیں کہ جسے قوم آج جنسی درندوں کی شکل  میں بھگت رہی ہے … جب اقدار کا سنگھاسن، پرویز رشیدوں، مراد سعیدوں اور فواد چودھریوں کے حوالے کرکے قوم مطمئن ہو جائے، جب ’’دانشوری‘‘ مغرب کی ’’دانشگردی‘‘ کا چربہ  بن جائے ، جب ’’شاعری‘‘ عشق، معشوقی اور ’’کوٹھوں‘‘ کا سندیسہ بن جائے، جب موسیقی کے آلات عام ہو جائیں … جب گانے بجانے اور مجروں کو ’’کلچر‘‘ کہا جانے لگے… جب فحاشی اور عریانی پھیلانے والی ’’اداکارائوں‘‘ کو قومی اعزازات سے نوا زا جانے لگے … جب میراثی اور گوئیے تعلیم کے مشیر بن جائیں … جب مشرقی روایات اور اسلامی تہذیب و تمدن کے خلاف باقاعدہ  پروپیگنڈا کی جائے، اگر کوئی پرنسپل اپنے ادارے میں آنے والی بچیوں کو اسکارف یا دوپٹہ اوڑھنے کی تاکید کرے … تو دجالی چینلز کے سٹوڈیوز میں بھونچال آجائے اور سٹوڈیوز میں بیٹھی ہوئی اینکرنی نما انٹیاں سکارف اور دوپٹے و بچیوں پر بوجھ قرار دے کر انسانی حقوق کی پامالی کا واویلا شروع کر دیں ، جب اعلیٰ عدلیہ بے حیائی اور فحاشی کی تعریف کرنے سے ہی قاصر ہو جائے تو پھر حادثات جنم لیا کرتے ہیں …شرافت منہ چھپانے پر مجبور ہو جاتی ہے اور درندے … درندگی کے لئے کھلے پھرتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلے ہر اس ’’سہولت کار‘‘ کو سزا د ی جائے کہ جو جنسی درندوں کو اسلامی سزائیں یا کم از کم سرعام پھانسی جیسی سزا کی مخالفت کرتا ہے، اگر آج وطن عزیز  موم بتی مافیاء ڈالر خور این جی اوز اور جنسی درندوں کے لئے جنت بنتا جارہا ہے … تو اس میں نہ پاکستان کا قصور ہے اور نہ اس کے غریب عوام کا ، بلکہ اس کے اصل ذمہ دار ہیں وہ حکمران اور ادارے کہ جو ملک میں قانون کی عملداری قائم کرنے میں مکمل ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔


 

تازہ ترین خبریں