08:13 am
قرآن،عقل اورسائنس

قرآن،عقل اورسائنس

08:13 am

قرآن کی سائنسی تفسیر ات کے ضمن میں ایک عام گمراہی الفاظ قرآنی کی دورازکارتاویلات کرکے فی زمانہ مروج سائنس کے ہر مشہورنظرئیے کوقرآن سے ثابت کرنے کی کوشش کرنابھی شامل ہے۔اس سعی کے پیچھے یہ مفروضہ کارفرماہے کہ قرآن مجید سے کسی سائنسی نظرئیے کاثابت نہ ہوسکناگویاقرآن کیلئے ایک قسم کاعیب ہے۔ لہٰذا ڈارون کے حیات انسانی کے نظریہ ارتقا، کائنات کی ابتداکی ’’بگ بینگ تھیوری‘‘،نیززمین کی حرکت وسورج کی مرکزیت سے لیکر ایٹم بم تک کے نظریات قرآن سے نکالے جارہے ہیں اورایسا کرنے میں ہی اسلام کابھلاسمجھاجارہاہے۔اس قسم کے تفسیری شاہکارخصوصاًمصرکے علامہ طنطاوی کی تفسیرالجواہرمیں دیکھے جاسکتے ہیں جس کے بارے میں علماء کی رائے یہ ہے کہ اس کتاب میں سوائے قرآن کی تفسیرکے اور سب کچھ ہے۔
اس طرزتفسیرکے مضمرات ونقصانات کااندازہ اس تاریخی حقیقت سے لگایاجاسکتاہے کہ جس وقت دنیامیں یہ نظریہ عام تھاکہ زمین ساکن ہے اورسورج اس کے گردگھومتاہے توچرچ نے اس عقیدے کوعیسائی ایمانیات کالازمی حصہ بناکراسے بائبل کے ساتھ منسوب کردیا۔اس عقیدے کواپنانے کی وجہ یہ نہ تھی کہ بائبل میں اس کے بارے میں کوئی واضح تعلیم دی گئی تھی بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ عقیدہ چرچ کے اس تصورکے ساتھ مناسبت رکھتاتھاکہ چونکہ خداکا بیٹااس زمین پرتشریف لایالہٰذازمین ہی کائنات کامرکزبھی ہونی چاہئے البتہ جب سائنس کی دنیامیں کو’’پرنیکس‘‘ کے اس نظرئیے کومقبولیت حاصل ہوئی کہ کائنات کامرکززمین نہیں بلکہ سورج ہے اورزمین اس کے گردچکرلگاتی ہے توعیسائی دنیاکاایمان بائبل سے جاتارہا۔اس ناقابل تلافی نقصان کی اصل ذمہ داربائبل نہیں بلکہ چرچ کاناعاقبت اندیشانہ رویہ تھاجس نے ایک ایسی بات کوبائبل کی طرف منسوب کیاجس کی اس میں کوئی تعلیم نہیں دی گئی تھی اوراس رویے کانقصان سائنس کونہیں بلکہ عیسائیت کوہوا۔ جلتی پرتیل ڈالنے کاکام چرچ کے ان مظالم نے کیا جوبعض ملحدقسم کے سائنس دانواں پرتوڑے گئے ۔ اس ردِعمل کی بجائے اگرچرچ اپنی علمی غلطی کا اعتراف کرکے یہ اعلان کر دیتاکہ بائبل کے ساتھ مرکزیت زمین کے نظرئیے کومنسوب کرناغلط ہے توشایدناعیسائی مذہب کوناقابل تلافی نقصان پہنچتا اورنہ چرچ اورپوپ کے کردارکوتاریخ میں محض ایک برائی کے طورپررقم کرکے مسخ کیاجاتا۔
تاہم قرآن کی سائنسی تفسیرکے پیچھے بھی یہ غلط مفروضہ کارفرماہے کہ کسی سائنسی نظرئیے کاقرآن سے ثابت نہ ہونا قرآن کیلئے ایک عیب ہے۔ درحقیقت یہ مفروضہ قرآن کے اصل موضوع کونہ سمجھنے کی وجہ سے پیداہواہے۔قرآن کوئی سائنس کی کتاب نہیں کہ جس میں فزکس، کیمسٹری، حیاتیات وغیرہ کی تفصیلات بیان کی گئی ہوں بلکہ قرآن کااصل موضوع نوع انسانیت کی اس راستے کی طرف ہدایت کرناہے جس پرعمل پیراہوکروہ اپنے رب کے حضورسرخرو ہوسکے۔ چنانچہ کسی سائنسی نظرئیے کا قرآن میں ناہوناکوئی عیب نہیں کیونکہ یہ قرآن کاموضوع ہی نہیں۔ اگرکوئی شخص قانون کی کسی کتاب میں کسی سائنسی ایجادکی وجہ سے پیداہونے والی قانونی پیچیدگیوں کی تفصیلات دیکھ کریہ طے کر لے کہ وہ سائنس کاہر نظریہ اس کتاب سے نکالے گاتو ایسے شخص کی عقل پرہرشخص ماتم کرے گا اوراس سے یہی کہے گاکہ یہ قانون کی کتاب ہے ناکہ سائنس کی نیزاس میں اگر کوئی سائنسی بات زیربحث لائی بھی گئی ہے تواسے قانون ہی کے موضوع کے تحت سمجھناچاہئے۔جس طرح قانون کی کتاب میں طب،فزکس،کیمسٹری کی تفصیلات کانہ ہوناکوئی عیب نہیں ایسے ہی قرآن میں سائنسی بیانات کانہ ہوناکوئی عیب نہیں۔نیزجس طرح کسی قانون کی کتاب میں کسی سائنسی ایجادیا تاریخی واقعے کے درج ہونے سے وہ سائنس یا تاریخ کی کتاب نہیں بن جاتی، بالکل اسی طرح قرآن میں کسی سائنسی حقیقت کی طرف ضمناًاشارہ آجانے سے قرآن سائنس کی کتاب نہیں بن جاتی بلکہ اس بیان کی صحیح تفہیم کیلئے ضروری ہے کہ اسے قرآن کے عمومی موضوع کے تحت ہی سمجھا جائے۔ یہ بالکل ایساہی ہے کہ جیسے قرآن میں ماضی کی کئی امتوں کے حالات پرتفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے،اب اگرکوئی شخص قرآن کوتاریخ کی کتاب سمجھ لے اوراس میں ساری انسانیت کے تاریخی واقعات تلاش کرناشروع کردے تووہ سخت غلطی کامرتکب ہوگاکیونکہ قرآن جب کسی ماضی کے واقعے کی طرف اشارہ کرتاہے تو بطور تاریخی حوالے کے نہیں بلکہ بطورہدایت (نصیحت،عبرت،ہمت وصبرپیدا کرنا و غیرہم) کرتا ہے اوراسی پس منظرمیں رہ کرہی ان واقعات کی درست تفہیم ممکن ہے۔ مثلاً حضرت یوسف علیہ السلام کاطویل قصہ بیان کرنے کے بعدسورہ یوسف کی آخری آیت میں قرآن کہتا ہے :لقد ان فِی قصصِہِم عِبر لِولِی اللبابِ(اگلے لوگوں کے ان واقعات میں ہوش مندوں کیلئے عبرت ہے)۔
ایسے ہی کسی سائنسی بیان کے بعدقرآن کہتا ہے کہ اس میں عقل اورایمان والوں کیلئے اللہ کی نشانیاں ہیں یااس میں عقل والوں کیلئے عبرت کا سامان ہے وغیرہ۔دوسرے لفظوں میں قرآن کا کسی سائنسی حقیقت کوبیان کرنے کامقصد ہرگز کسی سائنسی نظرئیے کی داغ بیل ڈالنا،لوگوں کو سائنس سکھانایا انسانوں کوتسخیرکائنات پرابھارنا نہیں ہوتا بلکہ ہدایت انسانی کی خاطراسے ایک ایسی حقیقت کی طرف اشارہ کرناہوتاہے جس پرغورکرکے وہ اصل حقیقت تک پہنچ کرخودکواپنے رب کے حضور جھکا دے۔
یہ چندباتیں اختصارکے ساتھ اہل علم کی خدمت میں عرض کی گئی ہیں۔کوئی ہرگزاس احساس کمتری میں مبتلانہ ہوکہ سائنس کو قرآن سے علیحدہ کرنے سے خدانخواستہ معجزنماقرآن کی شان کم ہوجائے گی بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ سائنسی علم کی حقیقت سے ناواقفیت کی بناء پرہمارے مفکرین نے سائنس کو اسلامیانے کی خاطر جو دعوے تراش رکھے ہیں وہ مغربی سائنس کی تاریخ سے تومیل کھاتے ہیں مگرتاریخ انبیاء اورقرآن کی بنیادی تعلیمات سے ہرگزمطابقت نہیں رکھتے۔نیزسائنسی علم کوقرآنی علوم میں جگہ دیناگویاایساہی ہے جیسے کوئی شخص کسی پاک،صاف اورشفاف پانی کی نہرمیں کہیں دوردرازسے ایک گدلے پانی کاپرنالہ گرانا شروع کردے۔ہمیں اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ ہمارے مفکرین کی ایسی تمام سعی اورکوششیں خلوص نیت پرہی مبنی ہیں لیکن صرف خلوص نیت کسی بات کے صحیح ہونے کا معیارنہیں بن سکتاجیسے کسی ماں کاکتنے ہی خلوص اور محبت کے ساتھ اپنے بچے کوزہرپلا دینا بچے کیلئے تریاق نہیں بن سکتا۔آئیے دیکھیں کہ سائنسی علمیت کوقرآن پرمنطبق کرنے کے کیانتائج نکلے ہیں۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں