08:14 am
ایک سیشن جج پرایم پی اے بیوی کے شوہر کا تشدد!

ایک سیشن جج پرایم پی اے بیوی کے شوہر کا تشدد!

08:14 am

٭اسلام آباد: ایم پی اے بیوی کے خاوند کا ایڈیشنل سیشن جج پر تشدد، تھپڑ، مکے ناک کی ہڈی توڑ دی، چہرہ زخمی، پائوں فریکچر! ملزم گرفتار، صلح کا دبائو!! O لاہور:وزیراعلیٰ آئی جی، وزرا کی بھرپورپریس کانفرنس ’’ہم موٹر وے سانحہ کے ملزم نہیں پکڑ سکے‘‘ پریس کانفرنس ختم!!O گاڑی میں سوار پولیس کے سامنے عورت پیدل فرار ہوگئی!!O ہم افغانستان کے ایک  ایک انچ پر موجود ہیں، 400  بھارتی منصوبے، دو ارب ڈالر امداد، بھارتی وزیرخارجہOبھارتی سرحد پر پاکستان کی سرنگوں کا انکشاف! مسلح دہشت گرد آتے جاتے ہیں، ٹائمز آف انڈیاO شہباز شریف نے 9 آئی جی پولیس تبدیل کئے ہم نے صرف پانچ! صوبائی وزیراطلاعات!!O ’’سارا حلوہ حکمران کھا جائیں گے‘‘ مولانا فضل الرحمان کا انتباہO اپوزیشن کی اے پی سی ہوٹل میں O ’’افسوس! ملک میں قومی بحث نہیں ہوتی‘‘!! عمران خاںO پانچ روز کی خواری کے بعد لاہور کے سی سی پی او نے گورنر کے حکم پر معافی مانگ لیO پولیس نے ملزم وقار کو بے گناہ قرار دیدیا۔
٭باقی باتیں بعد میں! پہلے اسلام آباد فارن آفس کے سامنے کا واقعہ!! بدنصیب معاشرہ جس میں ایک چھوٹی اسمبلی کی غیر منتخب رکن عورت کا رعونت، نخوت سے بھرا خاندان چودھری خرم ایک ایڈیشنل سیشن جج ملک جہانگیر پر اس لئے بے رحمانہ تشدد کرتا ہے کہ اس نے اپنی گاڑی اس کی بیوی کی گاڑی سے آگے کیوں نکالی؟ جہاںاسمبلی کی ایک غیر منتخب رکن عورت عابدہ راجہ کے خاوند کی رعونت اور تکبر کا یہ عالم ہو کہ وہ ملک کے ایک ایڈیشنل سیشن جج پر وحشیانہ تشدد کرے تو اس عورت کی نخوت اور رعونت کا عالم کیا ہوگا!! ان لوگوں کو اچانک چاندی کا پیالہ ہاتھ آ جائے تو یہ آسمانوں پر جا بیٹھتے ہیں اور اس پیالے میں پانی پی پی کر ان کے پیٹ پھول جاتے ہیں!! یہ لوگ پہلے عام لوگوںکو، پولیس کے افسروں اور اہلکاروں کو تھپڑ مارتے تھے اب جج بھی ان کی زد میںآنے لگے ہیں۔ شدید زخمی ہونے کے بعد جج ملک جہانگیر نے جان بچانے کے لئے اپنے پستول سے اس تھپڑ باز انسان کے قدموں پر دو فائر کر دیئے۔ کوئی نقصان نہیں ہوا، پولیس نے دونوں افراد کو تھانے پہنچا دیا۔ جج کا طبی معائنہ کرا کے مقدمہ درج کر لیا۔ اس خاتون عابدہ راجہ کے ’مہاراجہ‘ شوہر کو تحویل میںلے لیا۔ ایک خبر کہ اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دوسری خبر کہ اس عورت کے مطابق راضی نامہ ہو رہا ہے! کالم چھپنے تک کوئی نتیجہ سامنے آ گیا ہو گا! مقدمہ یا صلح نامہ! مجھے ان دونوں سے کوئی غرض نہیں ممکن ہے ایڈیشنل سیشن جج نے خوف یا کسی دبائوکے تحت خاموش رہنا مناسب سمجھا ہو۔ مگر یہ محض دو افراد کا ذاتی معاملہ نہیں، ملک گیر وحشت، دہشت اور جبر و تشدد کا ایک اور منحوس روح فرسا واقعہ ہے۔ ایسے اذیت ناک واقعات کی ابتدا بہت پہلے ہوئی تھی اب انتہا ہو گئی ہے۔ جنرل ایوب خاں کے دور میں لاہور میں مغربی پاکستان اسمبلی (چاروں صوبوں کی مشترکہ) کے ایک اجلاس میں بہاولپور کے ایک سفید ریش والے بزرگ رکن اس عالم میں روتے ہوئے ایوان میں داخل ہوئے کہ ان کی داڑھی آنسوئوں سے بھیگ چکی تھی۔ ایوان میں سناٹا چھا گیا۔ مولانا(نام پھر بھول گیا) نے بتایا کہ انہوں نے بہاول پور کا کوئی مسئلہ اسمبلی میں بیان کیا تھا اس پر سیکرٹری داخلہ نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔ غلام، بے بس نامزد اسمبلی میں تھوڑی دیر کے لئے کچھ شور ہوا، پھر سارے خاموش ہو گئے اور اسمبلی کا کام پھر شروع ہو گیا۔ اس افسر کی کوئی جواب طلبی تک نہ ہوئی۔ ذوالفقار بھٹو کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران ایک بڑے افسر کی بیوی نے لاہور کے ایس پی کو تھپڑ مارا، اخبارات میں واضح تصویریں چھپیں، کوئی کارروائی نہ ہوئی! ایس پی نے تبادلہ کروا لیا! بہت سے اور واقعات بھی ہیں۔ ایک حالیہ واقعہ تو یہ کہ وزیربن کر چوتھے پانچویں آسمان پر بیٹھے، چاندی کے کٹورے میں پانی پیتے پیتے اس وزیر نے یکے بعد دیگرے دو صحافیوں کو تھپڑ مار دیئے! ایک دوسرے وزیر نے ٹیلی ویژن ٹاک شو میں میز پر جوتا رکھا اور بات شروع کر دی!! اور اب!! گھروں میں ہانڈی روٹی کرتی اچانک اسمبلیوں میں آ جانے والی خواتین میں سے ایک کے شوہر نے اندھا دھند اس بنا پر ایک بڑے عہدے والے جج پر شدید تشدد کیا! کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا کہ اس کی بیوی ایک ڈگمگاتی حکومت والی لرزتی اسمبلی کی رکن ہے؟!! غالبؔ یاد آتا ہے کہ ’’اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا!‘‘
٭اور اب: دنیا بھر کی اس بے مثال حکومت اور پولیس کا جو چوری ہونے سے پہلے چور کو پکڑ لیتی ہے مگر پانچ دنوں میں (بوقت تحریر)، دو ملزموں کو نہیں پکڑ سکی۔ حکومت کا عالم یہ کہ موجودہ وزیراعلیٰ نے پچھلے وزیراعلیٰ کی شروع کی ہوئی لاہور سے سیالکوٹ تک ایسی موٹر وے کا افتتاح کیا جس کے کسی ٹول پلازا پر کوئی کیمرہ نہیں تھا، پوری سڑک چھ ماہ اجاڑ ویران پڑی رہی، کوئی موٹر وے پولیس، عام پولیس، طبی امداد کا کوئی سنٹر، کوئی پٹرول پمپ، کوئی آرام گاہ، کچھ نہیں۔ اس اجڑی پجڑی سڑک کا پنجاب کے وزیراعلیٰ نے بہت بڑے پروٹوکول اور شان و شوکت کے ساتھ افتتاح کیا، طویل فوٹو سیشن ہوئے، اخبارات میں ایڈیشن چھپے اور پھر… قارئین سب کچھ جانتے ہیں…! میں تو صرف ایک بات کر رہا ہوں کہ بڑے بڑے عالی دماغوں کی پریس کانفرنس ہوئی۔ وزیراعلیٰ، تین چار وزیر، آئی جی پولیس اور دوسرے لوگ!! دن بھر ٹیلی ویژنوں پر بریکنگ نیوز کہ وزیراعلیٰ موٹر وے سانحہ کے بارے میں سنسنی خیز گرفتاریوں اور دوسری باتوں کے انکشافات کریں گے…اور…اور مختصر یہ کہ بڑے کروفر کے ساتھ بہت بڑی پریس کانفرنس ہوئی، وزیراعلیٰ اور آئی جی نے بڑے اعتماد کے ساتھ کہا کہ ابھی تک کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوسکا!! اور پھر ستم خیز واقعات!! پریس کانفرنس میں دو ملزموں کے نام اور تصویریں جاری کی گئی ہیں۔ ان کی اطلاع پر 25,25 لاکھ روپے انعامات کا اعلان! کوئی نتیجہ نہیں! پانچویں روز ایک ملزم وقار الحسن خود ہی تھانہ میں آ جاتا ہے کہ میری تصویر اخبارات میں چھپی ہے کیا بات ہے؟ میرا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں، کبھی موٹر وے پر نہیں گیا، البتہ یہ کہ میرا سالہ عباس میرا موبائل فون استعمال کرتا ہے اس کا دوسرے ملزم عابد سے رابطہ ہے! (یہ بھی جرم ہے) پہلی بات تو یہ کہ اس شخص وقارالحسن کی اخبارات میں تصویریں چھپتی ہیں، ٹیلی ویژنوں پر نشر ہوتی ہیں۔ وہ بڑے آرام کے ساتھ شیخوپورہ سے چلتا ہے۔ پولیس کے متعدد ناکوں سے گزرتا ہے، کسی جگہ نہیں روکا جاتا اور وہ خود ہی تھانے میںپہنچ جاتا ہے! کیا اعلیٰ بے مثال کارکردگی ہے حکومت اور اس کی پولیس کی؟؟ یہ کیس اب ہائی کورٹ میں جا چکا ہے۔ فاضل چیف جسٹس کے سخت ریمارکس ضرورپڑھیں۔ صرف ایک جملہ کہ وزیر قانون کو کیس کی تحقیقات کا کیا پتہ کیا تجربہ؟ اسے کیوں تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا؟ حکومت صرف کمیٹی کمیٹی کھیل رہی ہے!
٭مجھے ہمیشہ سرکاری محکموں اور وزیروں کے تعلقات عامہ کے افسروں پر ترس آتا رہا ہے۔ ان بے چاروں کی پہلی اور آخری ڈیوٹی ہوتی ہے کہ اخبارات اور ٹیلی ویژنوں پر اپنے باس کے ان کارناموں کی بھی بھرپور تشہیر کرائیں جن کا خود باس کو بھی پتہ نہیں ہوتا۔ کسی دن اخبار میں کسی وزیر کی کوئی جھوٹی سچی خبر نہ چھپے تو افسر تعلقات عامہ کی شامت آ جاتی ہے، وزیراعلیٰ سے شکائتیں کی جاتی ہیں۔ شہباز شریف وزیراعلیٰ تھے تو ہر روز محکمہ اطلاعات کی شامت آئی رہتی تھی۔ ڈائریکٹر جنرل کی ڈیوٹی ہوتی تھی کہ روزانہ صبح سات بجے وزیراعلیٰ کے دفتر کے باہر موجود رہا کرے۔ سات بجے وزیراعلیٰ باہر نکلتا اور پھر ڈائریکٹرجنرل کی ایسی تیسی شروع ہو جاتی میری فلاں خبر چھوٹی کیوں چھپی ہے؟ میرے خلاف کالم کیوں آ رہے ہیں؟ شہباز شریف کا رویہ بہت اکھڑ اوربدمزاجی کا ہوتا تھا، اچھل اچھل کر افسروں کو گالیاں دینا، لاہور سے اٹھا کر راجن پور یا صادق آباد بھیج دینا (یہ کام موجودہ وزیراعلیٰ کئی گنا زیادہ کر رہے ہیں، صرف یہ کہ اعلیٰ افسروں کو گالیاں نہیں دیتے!) بات ذرا لمبی ہو گئی۔ موجودہ صوبائی وزیراطلاعات موٹر وے سانحہ پر حکومت کی اعلیٰ کارکردگی پر تالیاں بجا رہا ہے تو اس کی محبوری ہے۔ موصوف نے فرمایا ہے کہ شہباز شریف نے 9 آئی جی پولیس (10 برسوں میں) تبدیل کئے تھے، ہم نے تو ابھی صرف پانچ تبدیل کئے ہیں!! (دوبرسوں میں 65 پانچ برسوں میں 10,13 برسوں میں 26 ہوجائیں گے!!)
٭بھارتی میڈیا شور مچا رہا ہے کہ پاکستان نے ورکنگ بائونڈری کے نیچے سے سرحد پار بھارتی علاقے کے اندر تک سرنگیں کھودی ہوئی ہیں ان کے ذریعے بہت سے دہشت گرد بھارت میں داخل ہو چکے ہیں۔ ٹائمزآف انڈیا کے مطابق ایسی دریافت ہونے والی ایک سرنگ 170 میٹر لمبی، 25 فٹ گہری ہے۔
٭چلتے چلتے!! وہی سلسلہ! ملزم وقارالحسن کا ڈی این اے ٹیسٹ آنے سے پہلے ہی پولیس نے فیصلہ دے دیا کہ ملزم بے قصور ہے!!
 

تازہ ترین خبریں