08:26 am
قرآن،عقل اورسائنس

قرآن،عقل اورسائنس

08:26 am

 ( گزشتہ سے پیوستہ )
سائنس کاتصورحقیقت قبول کرلینے کا دوسرا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہم یہ مان لیں کہ علم کااصل منبع وحی نہیں بلکہ عقل انسانی ہے،نیزیہ کہ وحی تب ہی معتبرہوگی کہ جب وہ سائنس کے اصولوں کے مطابق ہو۔دوسرے لفظوں میں وحی عقل پرنہیں بلکہ عقل وحی پرحاکم ہے۔یہ دعوی ٰکہ سائنس کے ذریعے حق تک پہنچناممکن ہے اس بات کااقرارہے کہ عقل کے ذریعے خیراورشر،حق اورباطل کاادراک کرلیناممکن ہے اوراگرعقل کے ذریعے ایسا کرناممکن ہے توپھروحی،نبوت اورشریعت بے کارباتیں ہیں جن کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔یہی وہ رجحانات ہیں جوقرون اسلام میں معتزلہ فرقے کے ہاں پائے جاتے تھے جب انہوں نے عقل کووحی سے بالاتر گردانا تو خود کو شریعت،نبوت اوروحی سے بے نیازسمجھنے لگے۔
یہ کوئی قصہ پارینہ ہی نہیں بلکہ اگرکوئی شخص اس رجحان کاعملی نظارہ کرناچاہتاہے تووہ مغربی فلاسفی اوران کے الحادی خیالات پربننے والے معاشروں کودیکھ لے کہ جہاں عقل اور سائنس کی غیرمنطقی بالا دستی کے نتیجے میں فکرآخرت،خوف خدا، للہیت، عشق رسولﷺ،تقویٰ، عفت، حیاء، زہد،فقر، قناعت وغیرہ جیسے مذہبی حقائق اور اعلیٰ صفات کس طرح مہمل اوربے معنی ہوکررہ گئی ہیں اوربدقسمتی یہ ہے کہ اب مسلمان معاشروں میں بھی جدیدسائنسی علوم کی اعلیٰ سطح پربالادستی کی وجہ سے اخروی نجات کے بجائے دنیاوی عیش وآرام،اصلاح وتسخیر قلب نیزعلم باطن کے حصول کی بجائے سائنسی ایجادات اورتسخیرکائنات کرنے کی فکراوررجحانات عام ہوتے جارہے ہیں جوایک نہایت خطرناک امرہے ۔
اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ سائنسی علمیت کواسلام پر منطبق کرنے کے نتائج کیانکلتے ہیں۔اس کوشش کاایک لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہم یہ مان لیں کہ اسلام کی تمام تعلیمات،بشمول اس کے عقائد، احکامات، اخلاقیات وغیرہ،اصولی طورپر قابل ردہیں۔ یہ اس لیے  ضروری ہے کیونکہ فی زمانہ مروج سائنسی معیارعلم کے مطابق صرف وہی باتیں اور مفروضات علم کہلانے کے مستحق ہیں جنہیں تجربے ومشاہدے میں لاکرردکرناممکن ہو۔ جومفروضات تجربے کی روشنی میں ناقابل ردہوں وہ قطعاسائنسی علم نہیں ہو سکتےچنانچہ سائنس اورغیر سائنس میں تمیزکرنے والی شے یہ امکان تردیدہی ہے ۔
اب دیکھئے کہ اس بات کی زدکہاں کہاں پڑتی ہے۔قرآن مجید سورہ بقرہ کے بالکل ابتدائی کلمات میں اپناتعارف ہی ان الفاظ سے کراتا ہے کہ’’ذالک الکتاب لاریب فیہ‘‘ہی اس میں بیان کردہ حقائق کے غلط ہونے یاان میں شک کرنے کاکوئی امکان ہے ہی نہیں ۔ایک شخص کاایمان اس وقت تک معتبرہی نہیں ہوتاجب تک وہ اس بات پرکامل ایمان نہ رکھتا ہوکہ اسلام کے بیان کردہ حقائق نا قابل رد ہیں۔اب علماء خود تحقیق کرسکتے ہیں کہ کیاایسے شخص کاایمان کوئی حیثیت رکھتاہے جواس بات کے امکان کوبھی مانتا ہوکہ قرآن وسنت میں بیان کردہ حقائق تجربے وغیرہ کی روشنی میں غلط ثابت کیے جاسکتے ہیں؟لہٰذایہ کہناکہ اسلام ایک سائنسی مذہب ہے ایک مومن کے ایمان پرنقب لگانے کے مترادف ہے۔
دوسری اہم بات جس کی طرف توجہ کرنالازم ہے وہ یہ کہ کسی علم کے سائنس کہلانے کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کبھی حتمی اورقطعی نہ ہو۔سائنسی علم وہی ہوتاہے کہ جس میں ارتقاء  کاعمل اورامکان ہمیشہ جاری رہے۔ سائنس میں کوئی بھی حقیقت حتمی نہیں ہوتی۔اس کے تمام ترحقائق عارضی نوعیت کے ہوتے ہیں یعنی جسے تجربے کی روشنی میں آج حقیقت سمجھ کرمان لیا گیاہے،ہوسکتاہے کل کوئی نیاتجربہ اس کی تردیدکردے اوروہ بات جسے اب تک حقیقت سمجھاجاتاتھابدل کرماضی کی حکایت اور آج کی گمراہی بن جائے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس میں دریافت شدہ حقائق اس وقت تک کی میسر آنے والی معلومات اور مشاہدات کی روشنی میں ہوتے ہیں اورچونکہ مشاہدات ومدرکات میں تنوع اوروسعت کا امکان ہرلمحہ موجودرہتاہے اس لیے سائنس کے ہر اصول وقاعدے میں تبدیلی وتغیرکا امکان ہروقت موجود رہتاہے۔یہی وجہ ہے کہ سائنس کی دریافت کردہ کسی بھی حقیقت کو حتمی اور قطعی قرار نہیں دیاجاتاچنانچہ وہ علم جواس بات کادعوی ٰکرے کہ اس میں جوبات کہہ دی گئی ہے وہ حتمی ،قطعی اور زمان ومکان کی قیودسے آزادہے ہرگزسائنس نہیں ہوسکتا۔
لہٰذایہ کہناکہ اسلام ایک سائنسی مذہب ہے اس بات کے اعتراف کے مترادف ہے کہ اس میں بیان کردہ تمام حقائق آفاقی اورابدی نہیں بلکہ عارضی ہیں۔ نیز وقت اورحالات کے تبدیل ہونے سے ان کی حقانیت بدل سکتی ہے۔اب علماء کرام اس بات سے خوب واقف ہیں کہ جوشخص ایساایمان رکھتاہواس کے ایمان کی حیثیت کیاہے۔اس قسم کے عقیدے کے بعدان دعوئوں میں آخرکیا معنویت رہ جاتی ہے کہ اسلام ایک آفاقی دین ہے اورمحمدﷺساری نوع انسانی کے ہرہرفرد،وقت اورمقام کیلئے راہ ہدایت متعین کرنے والے آخری رسولؐ بناکربھیجے گئے ہیں؟
اسلام کوسائنسی علم کی کسوٹی پرپرکھنے کامنطقی نتیجہ یہ ہے کہ ہرسودوسوسال کے بعدبنیادی عقائد اور احکامات میں تبدیلی لائی جائے اورہرصدی کے بعداحکام وقوانین ازسرنومرتب کیے جائیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے متہجدین حضرات آئے دن اجتہادکے نام پردین اسلام کی نئی تعبیروتشریحات پیش کرتے رہتے ہیں اورانہیں علماء کرام سے بھی یہ شکایت رہتی ہے کہ انہوں نے اجتہادکادروازہ بندکیوں کردیا ہے۔ ان متہجدین کودراصل یہی غم کھائے جاتاہے کہ کسی طرح اسلام کوسائنسی علوم (چاہے وہ نیچرل ہوں یاسوشل سائنسز )کے عین مطابق ثابت کر دکھائیں لیکن شایدوہ یہ نہیں جانتے کہ وہ اسلام کوجس معیارعلم پر منطبق کرناچاہتے ہیں اس علم میں بذات خودکسی بات کے حق اورباطل پرہونے کی جانچ کرنے کاکوئی قطعی معیار موجودنہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سواسوسال کے عرصے میں بلامبالغہ اسلام کی درجنوں تعبیرات پیش کی جاچکی ہیں اورہرنئی تعبیرپیش کرنے والے مفکر کایہی دعویٰ ہے کہ اصل اسلام توبس یہی ہے۔پس سائنس کی اتنی حقیقت جان لیناہی ایک ہوش مندشخص کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے مگرچونکہ ذہن سائنس کے سحراورکفر سے مغلوب ہوچکے ہیں تواس غلبے کورفع کرنے کی خاطران دلائل کاجائزہ لینابھی ضروری ہوجاتاہے جس کے سہارے جدید سائنس کواسلام کے مساوی یا متبادل حقیقت کے طورپر پیش کیاجاتاہے۔