08:26 am
سرعام سزائیں اور جِنسی محرومی!

سرعام سزائیں اور جِنسی محرومی!

08:26 am

٭وزیراعظم، سپیکر، اپوزیشن، سرعام سزائوں  پر اتفاق O جِنسی مجرم کو جِنس سے محروم کر دیا جائے، وزیراعظم کی منظوریO موٹر وے کیس،تا دم تحریر ایک ملزم چھٹے روز بھی گرفتار نہ ہو سکاO حمزہ شہباز و بیوی کرونا! ’’علاج صرف ہمارے ہسپتال میں ہمارا ڈاکٹر کر سکتا ہے‘‘ مریم نواز، مریم اورنگزیب (اس کے بعد لندن!)O اسلام آباد! رَیڈ زون میں فائرنگ، ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر ملک معطل! O سابق آئی جی شعیب دستگیر،سابق ڈی سی سیالکوٹ نے چھ ماہ پہلے موٹر وے پر پولیس ہونے کے خط لکھے تھےO سی سی پی او، گورنر و عدالت کی ڈانٹ ڈپٹ پر معافی! موجودہ آئی جی کے بارے سابق آئی جی ذوالفقار چیمہ کے سنسنی خیز ’انکشافات‘ !! O بلاول،50 گاڑیوں کا جلوس، متعدد اہم وزراء، ارکان اسمبلی کرونا میں مبتلا!!
٭موٹر وے کیس کا ایک ملزم شفقت پکڑا گیا۔دوسرا تا دم تحریر چھٹے روز بھی غائب تھا (شائد کالم چھپنے تک پکڑا جا چکا ہو؟) ان دو ملزموں کے کچھ سہولت کار اور ان کے جرائم میں شریک افراد بھی پکڑے گئے ہیں۔ حیرت،ستم،انتہا،بے حسی، بلکہ بے حیائی کہ ایک ایسا مجرم آزاد پھر رہا ہے جو موٹر وے کیس جیسے دوسرے چھ اور قتل وغیرہ کے گیارہ مقدمات میں ملوث رہا ہے! مختلف تھانوں سے اس مجرم عابد کے خلاف مقدمات نکل آئے ہیں۔ دوسرے ملزم شفقت کا بھی ایسا ہی حال رہا ہے۔ شفقت نے موٹر وے کیس اور دوسری وارداتوں کے ایسے ایسے انکشافات کئے ہیں کہ سر پھٹنے لگتا ہے! یہ پولیس!! غضب خدا کا! گیارہ سنگین ہولناک جرائم کا مجرم عابد آزاد پھرتا رہا، گیارہ مقدمے اور حرام خور نااہل،خود ’مجرم‘ پولیس نے اس پر ہاتھ ڈالنے کی کوئی کوشش نہ کی! کیا پولیس اس شخص کے بارے میں لاعلم تھی؟ اس پولیس کے تعاون اورپشت پناہی کے بغیر ایسا کیسے ممکن ہو سکتا تھا؟ دوسرے مجرم شفقت کا بھی یہی عالم تھا۔ 23 سالہ نوجوان دونوں غیر تعلیم یافتہ تھے۔ کوئی کام نہیں کرتے تھے، مگر امیر کبیر لوگوں والی اعلیٰ زندگی گزارتے تھے۔! پولیس والوں کو بے کار نوجوانوں کی یہ عیاشانہ زندگی دکھائی نہ دی؟
٭اور کیا قیامت ہے کہ سابق آئی جی پولیس شعیب دستگیر اور سیالکوٹ کے سابق ڈپٹی کمشنر نے چھ ماہ پہلے وزیراعلیٰ کو خطوط لکھے کہ موٹر وے ابھی افتتاح کے قابل نہیں،پہلے پولیس وغیرہ کے حفاظتی اقدامات کئے جائیں، مگر وزیراعلیٰ نے کوئی توجہ نہ دی۔ موصوف کے سر پر سابق وزیراعلیٰ کی تعمیر کردہ موٹر وے پر اپنے نام کی تختی لگانے اور فوٹو سیشن کا خُمار سوار تھا۔ آئی جی اور ڈی سی کے خطوط ردی کی ٹوکری میں ڈال دیئے۔سرکاری حکام کی اہلیت اور قابلیت جانچنے کا ’موجودہ‘ معیار کہ لاہور کے موجودہ سی سی پی او کی سروس کے بارے میں سات منفی رپورٹیں موجود تھیں۔ترقیاں دینے والے اعلیٰ سطح کے بورڈ نے دو بار اس کی بطور ڈی آئی جی ترقی مسترد کی تھی…مگر وزیراعلیٰ، بلکہ وزیراعظم کو بھی ایسا ’انتہائی قابل، انتہائی اہل، افسر ہی چاہئے تھا، بہت سے سینئر افسروں کو چھوڑ کر اس افسر پر نظریں ٹھہر گئیں!! جو آج تک موٹر وے کیس کی جگہ پر نہیں گیا!!
اور…اور! قارئین سنیں اب ذرا موجودہ چھٹے آئی جی کے بارے میں سابق معروف آئی جی ذوالفقار چیمہ نے کسی تبصرے اور ایک لفظ بھی کم یا زیادہ کئے بغیر ٹیلی ویژن اور وَیب سائٹ پر نشر ہونے والے بیان کے الفاظ…’مجھے موجودہ آئی جی انعام غنی کے اس عہدہ پر آنے پر حیرت ہے…! میں آئی جی پولیس تھا تو یہ صاحب ایف آئی اے کے ایک ڈائریکٹر تھے۔ انسانوں کی سمگلنگ کے ایک کیس میں ان کا بھی نام آیا۔ اہم الزام تھا، دو سال کی ترقی روک دی گئی…اور اب!! ان صاحب کو آئی جی بنا دیا گیا!!‘‘ کیا تبصرہ کیا جائے؟…بس ایک شعر یاد آرہا ہے کہ ’’جب سے دیکھا ہے کہ نااہل بھی ہیں جام بدمست! مجھ کو پیمانہ اٹھانے میں حیا آتی ہے!!‘‘
٭موٹر وے سانحہ اتنا اذیت ناک، اتنا الم ناک کہ اب اسے سوچنے سے بھی ہَول آتا ہے۔ تفصیل میں جانے کی ہمت نہیں پڑ رہی! یہ واقعہ اتنا سنگین ہے کہ وزیراعظم، قومی اسمبلی کے سپیکر، اپوزیشن لیڈر، متعدد ارکان اسمبلی، چودھری شجاعت حسین اور دوسرے اکابرین اس پر تڑپ اٹھے ہیں اور متفق ہیں کہ ایسے جرائم کی سرعام سزا ضروری ہو گئی ہے! یہ کوئی نئی بات بھی نہیں۔ خلافت راشدہ کے دور میں عام رہی۔ اس وقت بھی متعدد عرب، ایران اور دوسرے ملکوں میں ایسی سزائیں دی جاتی ہیں۔ ایک بار جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی دی گئی (سعودی عرب میں اب بند ہوئی ہے) البتہ وزیراعظم عمران خان نے نہائت غصے اور رنج و الم کے ساتھ یہ قانون بنانے کی منظوری بھی دی ہے کہ ایسے مجرم کو جِنسی قوت سے محروم کر دیا جائے! مجھے احساس ہے کہ ایسے مجرموں کو زیادہ سے زیادہ سنگین سزائیں خود دی ہیں مگر اس فطری تخلیقی اہلیت کو ختم کرنے کے بارے میں کچھ شرعی تحفظات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
٭بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ انسانوں کا خالق ہے۔ وہی انہیں پیدا کرتا ہے، زندگی دیتا ہے اور پھر واپس لے لیتا ہے۔ انسان کو زندگی گزارنے کے لئے کچھ اختیارات دیئے گئے ہیں جن پر عمل کرنے کی جزا و سزا بھی مقرر ہے مگر انسان کا جسم اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ انسان کو اس کے جسم کی ملکیت نہیں دی گئی، وہ کسی بھی حالت میں اپنے جسم کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ خود کشی کو حرام اور جرم قرار دیا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے آدمی کو پیدا کر کے اس کے جسم میں تخلیقی صلاحیت بھی پیدا کی۔ یہ خدائی نظام ہے۔ ہم اس معاملے کو روکنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ ایسا کوئی اقدام، خالق حقیقی کے وضع کردہ نظام میں دخل دینے کے مترادف ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی اجازت ہے کہ کسی مہلک مرض کی بنا پر جسم کے کسی متاثرہ حصے کو ہٹایا جا سکتا ہے تاکہ دوسرے حصے محفوظ رہیں تاہم یہ عمل بھی کوئی شخص خود نہیں کر سکتا،صرف ڈاکٹر لوگ ہی ایسی رائے دے سکتے ہیں اور اس پر عمل کر سکتے ہیں۔ اس نقطہ نظر کے بارے میں شرعی ماہرین اور علما کی مشاورت ضروری ہے۔ ایک اور عجیب سی بات کرنے لگا ہوں کہ پھانسی تو صرف ایک سزا ہے،عام مقدمات میں بھی ہو جاتی ہے۔ ایک بار پھانسی ہو گئی سارا قصہ ختم!! مگر ساتھ ہی دوسرے سنگین جرائم کی سزائیں بھی ختم ہو جاتی ہیں! اپنی بات کے پس منظر میں ایک بہت سینئر وکیل بات یاد آ رہی ہے۔ ایک سزائے موت والے مجرم کی سزا تبدیل کرانے کے لئے اس کے لواحقین آئے۔ وکیل نے میرے سامنے کہا کہ جرم ہر طرح ثابت ہو چکا ہے، سزا معاف نہیں ہو سکی، اسے پھانسی لگنے دو، معاملہ آہستہ آہستہ مدھم اور ختم ہو جائے گا۔ سزا عمر قید میں تبدیل ہوئی تو مجرم کئی برسوں تک کال کوٹھڑی میں بند سسکتا اور مرتا رہے گا اور تم سارے لوگ بھی کئی برس تک اس کے آخری سانس تک پھانسی پر لٹکے رہو گے! وکیل کی اس بات سے اتفاق ہو یا نہ ہو مگر اس میں وزن ضرور ہے! جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں ایسے درندوں کے لئے دنیا بھر کی تمام سزائوں کو بھی ناکافی سمجھتا ہوں!
٭چلتے چلتے چند سطریں: طوفان اٹھ پڑا ہے کہ حمزہ شہباز شریف کو جیل میں کرونا ہو گیا ہے۔ اس کا علاج صرف شریف خاندان کے اتفاق ہسپتال میں اس خاندان کا ذاتی ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے (اس کے بعد لندن!) یہ جو ملک کے 22 کروڑ باشندے ہیں، ان کی شریف خاندان کے مریضوں کے سامنے کوئی حیثیت نہیں۔ ملک بھر کے اعلیٰ ترین جدید انتظامات والے سرکاری ہسپتالوں میں ان لوگوں کا علاج نہیں ہو سکتا! اور پھر مریم نواز کا انکشاف قسم کا نیا الزام کہ نوازشریف کو جیل میں ایسا کھانا دیا جاتا تھا جس سے ان کے پلیٹ لَیٹس گر گئے!! اور جیل حکام کی وضاحت کہ نوازشریف کو روزانہ بکرے کے گوشت کی دو بڑی پلیٹیں کھانے کے لئے دی جاتی تھیں،پلیٹ لیٹس کیسے گر گئے؟؟

 

تازہ ترین خبریں