04:41 pm
قصہ ایک ناقابل یقین وزیراعظم کا

قصہ ایک ناقابل یقین وزیراعظم کا

04:41 pm

٭آج سابق وزیراعظم لیاقت علی خاں کا 125 واں یوم ولادت ہے، اہم باتیںO پانچ ن لیگی ارکان اسمبلی کی وزیراعلیٰ سے ملاقاتO شہبازشریف: بیوی اور بیٹی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری O راولپنڈی: مشہور سیاسی رہنما حنیف عباسی کو شوکت خانم ہسپتال پر جھوٹے الزامات کی سزا، 50 لاکھ جرمانہ، مقدمہ آٹھ سال چلا!O مولانا فضل الرحمان کو اثاثوں کے لئے طلب نہیں کیا گیا: نیبO بھارتی فائرنگ، ایک فوجی جوان، دو افراد شہید، 5 زخمی O پنجاب پولیس، نئی وردیاں، ایک فرم کو 54 کروڑ 72 لاکھ کا ٹھیکہ۔
٭قارئین محترم! اس عالم میں کہ چھوٹے کلرکوں، پاپڑ فروشوں اور خانساموں کے بنک اکائونٹس اربوں سے بھرے ہوئے نکل رہے ہیں۔ کھربوں کی بیرون ملک سمگلنگ سے دنیا بھرمیں بے حد و حساب اثاثوںکے لرزہ خیز حقائق سامنے آ رہے ہیں، ایک وزیراعظم کی ناقابل یقین داستان بھی سن لیجئے جو سستی ترین سبزی کھاتا تھا، گھر میں کوئی ڈریسنگ روم نہیں تھا، بچے اپنے کھانے کے برتن خود دھوتے تھے۔ اسے ایک بدبخت نے گولی مار کر شہید کر دیا تو سادہ سی پرانی بنیان اور پھٹی ہوئی جرابیں پہنے تھا، بنک میں صرف چند سو روپے موجود تھے۔ یہ شخص قیام پاکستان سے پہلے کرنال کا بہت دولت مند نواب تھا، آکسفورڈ یونیورسٹی میں بیرسٹری کی تعلیم کے لئے گیا تو ایک ذاتی خانساماں اور ایک خدمت گار ساتھ تھا۔ وہ پاکستان کا وزیراعظم بنا تو اس کے پاس کوئی سرکاری، غیر سرکاری یا ذاتی گاڑی بھی نہیں تھی۔
٭قارئین کرام! اس وزیراعظم کا نام لیاقت علی خاں تھا، جو بھارت کے شہر کرنال کا بہت دولت مند نواب تھا۔ وہ بھارت میں اربوں (اب کھربوں) کی جائیداد چھوڑ کر پاکستان آیا، وزیراعظم بنا تو وسیع بھارتی جائیداد کا کوئی کلیم داخل نہ کیا۔ نہائت تنگ دستی سے زندگی گزاری۔ گھرمیںایک وقت میں ایک سستی سبزی پکتی تھی۔ میں ملک کے معروف بلند پایہ درویش صفت، نہائت دیانت دار سابق بڑے افسر اور کالم نگار جناب ڈاکٹر صفدر محمود کا ممنون ہوں کہ انہوں نے اپنے حالیہ کالم میں جناب لیاقت علی خاں شہید کے ایک خانساماں عبدالستار کے ایک پرانے شائع شدہ انٹرویو کے کچھ اقتباسات شائع کئے ہیں۔ ان میں سے چند باتیں پڑھئے۔ ستار نے بتایا کہ ’’قائداعظم کے بعد تحریک پاکستان کی نامور ترین شخصیت نے پاکستان آ کر وزیراعظم کے عہدہ کا حلف اٹھایا تو ان کے پاس کوئی سرکاری، غیر سرکاری یا ذاتی گاڑی نہیں۔ انہیں معروف صنعت کار یوسف ہارون نے ایک گاڑی بھجوا دی، کچھ عرصہ بعد ان کی اپنی پرانی سی گاڑی آ گئی تو یوسف ہارون کی گاڑی واپس کر دی۔ اس دوران ایک سیاہ سرکاری گاڑی بھی آ گئی! ستار نے کہا کہ جناب لیاقت علی خاں، پالک بہت شوق سے کھاتے تھے، یہ سستی ترین سبزی تھی۔ گھر میں صرف ایک سبزی پکتی تھی۔ پھل بھی سستے ترین آتے تھے۔ ایک بار قیمتیںپوچھیں۔ میں نے بتایا سیب ڈھائی روپے سیر،پپیتا بارہ آنے (1947) سیر ملتا ہے۔ کہنے لگے کہ ٹھیک ہے صرف پپیتا لے آیا کرو!کھانے کی میز پر بیگم صاحبہ اور دونوں بچے اکبر اور اشرف بھی موجود ہوتے۔ کھانے کے بعد بیگم صاحبہ دونوں بچوں کو اپنے برتن خود دھونے کی ہدائت کرتیں!۔ ستار نے بہت سی باتیں اور بھی بتائیں، صرف ایک بات اور کہ وزیراعظم ہائوس بہت سادہ سا تھا۔ اس میں کپڑے تبدیل کرنے کے لئے کوئی ڈریسنگ روم نہیں تھا۔ بیڈ روم میںغسل خانے کے باہر لکڑی کی ایک الماری تھی، وزیراعظم اس کی اوٹ میں لباس تبدیل کیا کرتے تھے۔ ایک بار وزیرخزانہ غلام محمد آئے۔ بیگم صاحبہ نے ان سے کہا کہ گھر میں ایک ڈریسنگ روم بنوا دیں۔ وہ کہنے لگے کہ وزیراعظم کے حکم اور اجازت کے بغیر خزانے کا ایک پیسہ بھی استعمال نہیں ہو سکتا۔ آپ وزیراعظم صاحب سے اجازت لے دیں۔ بیگم صاحبہ کہنے لگیں کہ نہیں! میں نہیں کہہ سکتی! وہ ڈانٹ دیں گے اور خود وہ کبھی ڈریسنگ روم کی بات نہیںکریں گے۔ اور ایک عرصے کے بعد خود کابینہ نے اصرار کرکے ڈریسنگ روم کی منظوری دی۔ یہ تیار ہونا شروع ہوا او…اور 16 اکتوبر کو خاں صاحب کو شہید کر دیا گیا۔ ڈریسنگ روم وہیں رہ گیا…‘‘ یہ کیفیت بیان کرتے ہوئے ستار زاروقطار رو پڑا! قارئین کرام! آنکھیں تو میری بھی نم آلود ہو رہی ہیں…میں بہت چھوٹا سا تھا جب وزیراعظم خان لیاقت علی خاں نارووال میں کسی انتخابی جلسے سے خطاب کرنے آئے تھے۔ ان کے قافلے میں صرف پانچ گاڑیاں تھیں، ایک اپنی سیاہ گاڑی، دو پولیس کی سکیورٹی گاڑیاں، ایک ایمبولینس، ایک ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی جیپ! اور بس! موجودہ وزیراعظم کے ساتھ 50، بلاول زرداری کے ساتھ 40، وزیراعلیٰ سندھ و پنجاب کے ساتھ بھی 35 سے 40 گاڑیاں ہوتی ہیں!! ایک غریب ترین ملک کے رئیس ترین حکمران!! ان لوگوں کا ماضی کیا تھا؟ کوئی سینما گھرکی ٹکٹیں بیچتا بیچتا دنیا بھر میں 87 بڑے بڑے اثاثوں کا مالک بن گیا، کوئی اعتراف کرتا ہے کہ داداجان ایک معمولی کسان تھے اور اولاد ملک کے اندر درجنوں فیکٹریوں، ہزاروں ایکڑ اراضی اور لندن کے اربوں کھربوں کے فلیٹس، بچے بارہ، چودہ سال کی عمر میں ہی اندرون و بیرون ملک فیکٹریوں اور فلیٹوں کے مالک بن گئے۔ مگر پھر ملک و قوم کی اس وسیع بے رحمانہ لوٹ مار کا انجام!! گرفتاریاں، جیلیں، عدالتوں میںمسلسل پیشیاں،ضمانتیں، ملک کے باہر روپوشی، مفرور اور اشتہاری قرار!! ایسی بیماریاں کہ کھانے میں صرف امرودوں کے چھلکے، خشک چنے اور گھی کے بغیر ابلی سبزیاں!! کس کام آئے لوٹے ہوئے قارون کے خزانے!! کچھ دوسری باتیں!
٭نیب 1نے بڑے اہتمام کے ساتھ خبر جاری کی کہ مولانا فضل الرحمان کی ملک بھر میں کھربوں روپے کی جائیدادوں کا انکشاف ہوا ہے ان کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ مولانا نے ہنس کر جواب دیا کہ یہ باتیں تو پہلے بھی ہوتی رہی ہیں، بار بار کیا جواب دیا جائے؟ اب نیب کا بیان آیا ہے کہ مولانا کو کسی تحقیقات کے سلسلے میں طلب نہیں کیا گیا! یہ اس ادارے کا انتہائی قابل اعتراض، غیر قانونی و غیر آئینی غلط کردار ہے۔ ادھر ادھر کی کسی اطلاع پر کسی ثبوت کے بغیر کسی بھی شہری کے بارے میں سنگین الزامات عائد کر کے تفصیلات بھی جاری کر دو اور پھر کہہ دو کہ محض تحقیقات ہو رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان ملک کی معروف ترین شخصیت ہیں۔ ان کے پاس ملک کے ہر صوبے، ہر بڑے شہر میں وسیع پیمانہ پر جائیدادیں بکھری ہوئی ہیں تو آج تک عوام کو ان کا علم نہ ہو سکا؟ فرض کریں کہ جائیدادیں واقعی موجود ہیں تو پہلے اچھی طرح تحقیق اور تفتیش کرکے ان کا ریفرنس عدالت میں پیش کیا جائے، پھر عدالت کے حوالے سے ان کی تفصیل جاری کی جا سکتی ہے مگر یہاں نیب کی بدمزاجی کا عالم یہ کہ مولانا کے ’بے شمار‘ اثاثوں کی محض تحقیقات ہو رہی ہیں اور میڈیا میں جلی سرخیوں کے ساتھ مولانا کے نام کو اچھالا جا رہا ہے۔ ان کی سبکی کی جا رہی ہے۔ میں دہراتا ہوں کہ بے شمار اثاثے تو ایک طرف، مولانا کے خلاف ایک پیسے کا بھی ناجائز اثاثہ ثابت ہوتا ہے تو اس کا ضرور ذکر کیا جائے، مگر محض اس لئے بدنام کیا جائے کہ وہ حکومت کے خلاف بننے والے اپوزیشن کے اتحادکے سربراہ بن گئے ہیں!! موجودہ تو کیا ہر دور کے حکمرانوںکی ایک ہی طرح کی بددماغی!! حبیب جالب نے انہی لوگوں کے بارے میں کہا کہ ’’تم سے پہلے جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا… اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا!‘‘
٭کالم طویل اور بوجھل ہو گیا۔ مشہور مزاح نویس شوکت تھانوی کی ایک مختصر دلچسپ تحریر! لکھتے ہیں کہ ایک رسالے میں میری پہلی غزل چھپی، میں خوشی سے بے قابو ہو گیا۔ رسالے کا غزل والا صفحہ کھول کر میز پر رکھ دیا کہ ہر آنے جانے والے کی نظر پڑتی رہے۔ شامت یہ آئی کہ اس پر سب سے پہلے والد صاحب کی نظر پڑ گئی۔ اس کا ایک شعر پڑھ کر غضب ناک ہوگئے۔ شعر تھا ’’ہمیشہ غیر کی عزت تیری محفل میں ہوتی ہے…! تیرے کوچے میں جا کر ہم ذلیل و خوار ہوتے ہیں…‘‘ والدہ کو بلا کر شعر دکھایا اور پوچھا کہ یہ اس کوچے میں کیا کرنے جاتا ہے! والدہ خوف زدہ ہو کر بولیں کہ ’’غلطی سے چلا گیا ہو گا، آئندہ نہیں جائے گا۔‘‘


تازہ ترین خبریں

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

شیخ رشیدکی درخواست ضمانت مستردکردی گئی

شیخ رشیدکی درخواست ضمانت مستردکردی گئی

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

ترکی ،شام تباہ کن زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں اور مناظر دماغ کو سن کر رہے ہیں، شہباز شریف

ترکی ،شام تباہ کن زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں اور مناظر دماغ کو سن کر رہے ہیں، شہباز شریف

ملک کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان

ملک کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات، اہم فیصلہ آج ہو گا

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات، اہم فیصلہ آج ہو گا

توشہ خانہ کیس ، عدالت نے عمران خان   حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

توشہ خانہ کیس ، عدالت نے عمران خان حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا   اجلاس آج  ہوگا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

ترکیہ   میں زلزے  نے تباہی مچا دی ،  سات روزہ سوگ کا اعلان

ترکیہ میں زلزے نے تباہی مچا دی ، سات روزہ سوگ کا اعلان

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی، ہلاکتیں 1300 سے زائد، ترکیہ میں ایمرجنسی نافذ

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی، ہلاکتیں 1300 سے زائد، ترکیہ میں ایمرجنسی نافذ

اے پی سی کیلئے پی ٹی آئی کو دعوت نامہ نہیں ملا، فواد چوہدری

اے پی سی کیلئے پی ٹی آئی کو دعوت نامہ نہیں ملا، فواد چوہدری

مشکل وقت میں  درکار  انسانی امداد پیش کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان  کا  ترکیہ ،شام زلزلے پر افسوس کا اظہار

مشکل وقت میں  درکار  انسانی امداد پیش کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان  کا  ترکیہ ،شام زلزلے پر افسوس کا اظہار

کل جماعتی کانفرنس کی تاریخ تبدیل کردی گئی ،7 کی بجائے 9فروری کو ہوگئی

کل جماعتی کانفرنس کی تاریخ تبدیل کردی گئی ،7 کی بجائے 9فروری کو ہوگئی

عمران خان پہلےخود جیل جائیں پھرتحریک شروع کریں، مریم نواز کا مشورہ

عمران خان پہلےخود جیل جائیں پھرتحریک شروع کریں، مریم نواز کا مشورہ