01:43 pm
عمر رسیدہ افراد کا عالمی دن

عمر رسیدہ افراد کا عالمی دن

01:43 pm

14 دسمبر1990 ء کو اقوام متحدہ کی جنرل  اسمبلی میں کثرت رائے کے ساتھ قرارداد منظور ہوئی کہ ہر سال یکم اکتوبر کو ’’بزرگوں کا عالمی دن‘‘  منایا جائے گا۔ اس وقت سے لے کر اب تک ہر سال اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک میں یہ دن باقاعدگی کے ساتھ منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس میں بزرگ شہریوں کے مسائل اور حقوق کے حوالے سے شعور بیدار کرنا اور ان کی معاشرے کیلئے خدمات کا اعتراف کرنا ہے۔ بزرگ افراد کی ضروریات، مسائل  اورتکالیف کے بارے میں سماجی آگاہی فراہم کرنا اور لوگوں کی توجہ بزرگ افراد کے حقوق کی پاسداری کی طرف مبذول کرانا ہے۔ یہ دن پہلی مرتبہ یکم اکتوبر 1991 ء کو منایا گیا۔ بزرگوں کے عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر میں حکومتی سطح پر انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کے زیراہتمام سیمینارز، ریلیاں اور کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں۔ بزرگ شہریوں کے احترام، دیکھ بھال، علاج معالجے اور پنشن کے حصول میں آسانی کے مطالبات کیے جاتے ہیں۔ 
پاکستان کی 25 فیصد آبادی بزرگ شہریوں پر مشتمل ہے یعنی ساڑھے چھ کروڑ بوڑھے شہری علاج، کفالت، رہائش، ٹرانسپورٹ کے مسائل کا شکار ہیں۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ کسی بھی معاشرے کے بزرگ افراد ایک قابل قدر اثاثہ ہوتے ہیں۔ آج بھی بہت سی قومیں پڑھے لکھے اور تجربہ کار بزرگوں پر مشتمل ’’تھنک ٹینک‘‘ تشکیل دے کر  اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی تہذیب و تمدن میں عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال پر بہت توجہ دی جاتی ہے۔ 60 سال کی عمر کے بعد علاج معالجہ اور سفری سہولیات مفت مہیا کی جاتی ہیں۔ ان کے لیے کثیر تعداد میں نجی اور سرکاری ’’دار الکفالہ‘‘ (Old Age Homes) موجود ہیں، جہاں وہ اپنی زندگی کے آخری دن آرام سے گزار سکتے ہیں۔ مغربی معاشروں میں بوڑھے لوگوں کیلئے اس انتظام و انصرام کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اولاد اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کو بوجھ سمجھتی ہے اور ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں قبول نہیں کرتی۔ کبھی کبھار’’کرسمس‘‘"’’فادرز ڈے‘‘ یا’’مادرز ڈے‘‘  پر رابطہ کر کے انہیں کچھ تحائف دے کر اولاد اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو جاتی ہے۔
 اسی کی دیکھا دیکھی مسلمان معاشروں خصوصاً پاکستان میں بھی ’’اولڈ ایج ہوم سسٹم‘‘ رواج پا رہا ہے۔ پاکستان میں بھی بڑی تیزی کے ساتھ بزرگوں کو دارلکفالہ اور دارلامان جیسی جگہوں پر چھوڑ کر جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور لوگ اپنے بزرگوں سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ’’اولڈ ایج ہومز‘‘ میں رہائش پذیر بزرگ مرد اور خواتین کی نگاہیں الم ناک داستانیں بیان کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ بزرگ افراد اپنے بچوں کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب نظر آتے ہیں۔ بعض احسان فراموش اور بدبخت اولادیں عیدکے دن بھی اپنے والدین کی خیریت دریافت کرنے نہیں آتیں ۔ نہ صرف والدین بلکہ اسلام میں تو عزیز و اقارب اور ہمسایوں کے بھی بے شمار حقوق وفرائض ادا کرنے کا حکم ہے۔ لاوارث بوڑھے افراد کیلئے ’’دارالکفالہ‘‘کا قیام ایک اچھا اور قابل تحسین اقدام ہے۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ مسلمانوں معاشرے کی اولادیں ماں باپ اور بزرگوں کی خدمت کو بوجھ سمجھیں اور انہیں ان خیراتی اداروں کے حوالے کر دیں۔ لیکن اب ہمارے معاشرے کی تلخ حقیت یہ ہے کہ اولادیں احسان فراموش ہوتی جا رہی ہیں۔ کچھ ایسے واقعات بھی منظر عام پر آئے کہ والدین سے بدسلوکی تو کیا احترامِ انسانیت کی ساری حدیں بھی پار ہو گئیں (الامان والحفیظ)۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ چار قسم کے عمر رسیدہ افراد کو’’دار الکفالہ‘‘میں قیام پذیر ہو نا پڑتا ہے۔ ایک وہ جنہوں نے ساری زندگی شادی نہیں کی اور اعزہ و اقارب  بھی دیکھ بھال کی ذمہ داری سے قاصر ہیں۔ دوسرے وہ جنہوں نے شادی تو کی لیکن اولاد سے محروم رہے اور دیگر تعلق دار بھی ان کی خبر گیری کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔ تیسرے وہ جن کی اولاد نافرمان ہے اور ماں یا باپ کو اپنے لیے بوجھ سمجھتی ہے۔ لہٰذا ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان بزرگوں کے (بوجہ بڑھاپا)چڑچڑا پن اور خدمت گزاری سے جان چھڑانے کا آسان طریقہ یہی ہے کہ انہیں کسی ایسے رفاعی ادارے کے سپرد کر دیں جو ان کی کفالت کی ذمہ داری قبول کرے۔ چوتھا یہ کہ  کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے تو چاہتے ہیں کہ ماں باپ کی خدمت کریں لیکن ان کی بیویاں بزرگوں کو گھر میں برداشت نہیں کرتیں۔ ہر روز کی تو تکار سے جان چھڑانے کیلئے دل پہ ہاتھ رکھ وہ اپنے والد یا والدہ کو کسی ’’اولڈ ایج ہوم‘‘ میں چھوڑ آتے ہیں۔ 
تہذیب حاضر کی نقالی میں پروان چڑھنے والے یہ رویے ہم سب کیلئے باعث عبرت اور ندامت ہیں۔ ہم مسلمان ہیں اور دین اسلام نے والدین اور بزرگوں کی خدمت پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ افسوس! کہ جس ماں کے قدموں تلے جنت ہے اور جس باپ کی رضا مندی میں اللہ تعالیٰ راضی ہے، جنہوں نے زندگی بھر محنت و مشقت اور تکلیفیں برداشت کر کے اولاد کی پرورش کی ہے۔ آج جوان اولاد ان محسنوں کو اولڈ ایج ہوم کی نرسوں کے حوالے کر کے خود ایک عظیم سعادت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ وقت ہوتا ہے اپنے والدین کی خدمت کرکے ان سے دعائیں لینے اور ان کے احسانات کی قدردانی کا لیکن بصد افسوس کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارا معاشرہ بھی اس سعادت اور برکت سے محرومی کی راہ پر چل پڑا ہے۔
  22جون 2020 ء کو اقوامِ متحدہ کی مدد سے برطانیہ کی Southampton University    نے ایک رپورٹ مرتب کی جس میں ہوشربا انکشافات کیے گئے کہ ’’ پاکستان بزرگوں کو بہتر معیارِ زندگی مہیا کرنے کے حوالے سے بد ترین ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے‘‘۔ جہاں حکومت کو اس حوالے سے بہتر کارکردگی دکھانی چاہیے وہاں نوجوان نسل میں ماں باپ اور بوڑھے رشتہ داروں کی خدمت کے شعور کو بیدار کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ تعلیمی ادارے،  مساجد کے خطباء اور سماجی تنظیمیں اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ قرآن پاک کی سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 23 میں اللہ تعالیٰ نے والدین کی عزت و تکریم کے حوالے سے ارشاد فرمایا کہ ’’ اور تیرا رب فیصلہ کر چکا ہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو، اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے ادب سے بات کرو‘‘۔


تازہ ترین خبریں

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا جیل بھرو تحریک کا اعلان

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا جیل بھرو تحریک کا اعلان

عمران خان کی نااہلی متوقع،پی ڈی ایم ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لے، فضل الرحمن کا شہباز شریف کو مشورہ

عمران خان کی نااہلی متوقع،پی ڈی ایم ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لے، فضل الرحمن کا شہباز شریف کو مشورہ

قتل  ہوا  تو  ذمہ دار آصف زرداری، بلاول، شہباز اور رانا ثنا اللہ ہوں گے، شیخ رشید   کا دعویٰ

قتل ہوا تو ذمہ دار آصف زرداری، بلاول، شہباز اور رانا ثنا اللہ ہوں گے، شیخ رشید کا دعویٰ

وزیرخزانہ اسحاق ڈار اپنے معاشی اعداد وشمار درست کریں، شوکت ترین کی تنقید

وزیرخزانہ اسحاق ڈار اپنے معاشی اعداد وشمار درست کریں، شوکت ترین کی تنقید

ہرجانہ کیس ، افتخار چوہدری کے اعتراض پر عمران خان کیخلاف بینچ تبدیل

ہرجانہ کیس ، افتخار چوہدری کے اعتراض پر عمران خان کیخلاف بینچ تبدیل

انتقامی کارروائیوں سے معیشت بہتر نہیں ہوگی،حکومت الیکشن کا اعلان کرے مذاکرات  کیلئے تیار ہیں، فیصل جاوید

انتقامی کارروائیوں سے معیشت بہتر نہیں ہوگی،حکومت الیکشن کا اعلان کرے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، فیصل جاوید

تحریک انصاف کے سابق ارکان قومی اسمبلی سے پارلیمنٹ لاجز کے کمرے خالی کروالئے گئے

تحریک انصاف کے سابق ارکان قومی اسمبلی سے پارلیمنٹ لاجز کے کمرے خالی کروالئے گئے

شیخ رشید  اسلام آباد کے کسی تھانے میں موجود نہیں، راشد شفیق کا دعویٰ

شیخ رشید اسلام آباد کے کسی تھانے میں موجود نہیں، راشد شفیق کا دعویٰ

حکومتی ترجیحات امن نہیں، مقدمات ہیں، ہمیں کسی اور کی جنگ کاایندھن بنایا جارہا ہے، مراد سعیدکا انکشاف

حکومتی ترجیحات امن نہیں، مقدمات ہیں، ہمیں کسی اور کی جنگ کاایندھن بنایا جارہا ہے، مراد سعیدکا انکشاف

مہنگائی میں اضافے سے عوام کو تکلیف پہنچی ،ہم سب جانتے ہیں، وزیرخزانہ اسحاق ڈار

مہنگائی میں اضافے سے عوام کو تکلیف پہنچی ،ہم سب جانتے ہیں، وزیرخزانہ اسحاق ڈار

سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کیخلاف کراچی میں مقدمہ درج ، پولیس گرفتاری کیلئے اسلام آباد پہنچ گئی

سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کیخلاف کراچی میں مقدمہ درج ، پولیس گرفتاری کیلئے اسلام آباد پہنچ گئی

کوہاٹ تاندہ  ڈیم خادثہ ، آخری طالب علم  کی لاش 6 روز بعد  نکال لی گئی،جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 53 ہو گئی

کوہاٹ تاندہ ڈیم خادثہ ، آخری طالب علم کی لاش 6 روز بعد نکال لی گئی،جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 53 ہو گئی

معروف اینکر عمران ریاض خان کیخلاف مقدمہ خارج ، عدالت کا فوری رہا کرنے کا حکم

معروف اینکر عمران ریاض خان کیخلاف مقدمہ خارج ، عدالت کا فوری رہا کرنے کا حکم

شیخ رشید کی مشکلات میں مزید اضافہ، مری میں بھی مقدمہ درج

شیخ رشید کی مشکلات میں مزید اضافہ، مری میں بھی مقدمہ درج