01:46 pm
بھارت میں انسانیت کی تلاش؟

بھارت میں انسانیت کی تلاش؟

01:46 pm

لگتا ہے کہ نریندر مودی کے بھارت سے ’’انسانیت‘‘ کو دیس نکالا کرنے کا فیصلہ  ہوچکا... نریندر مودی سمیت بھارتی  عدلیہ‘ فوج اور میڈیا تو پہلے ہی انسانیت سے عاری ہوچکے  بھارتی عدلیہ نے 1992ء میں انتہائی منظم انداز میں شہید کی جانے والی بابری مسجد کا 28سال بعد گزشتہ دنوں فیصلہ سنایا تو اس فیصلے سے بھی درندگی و سربریت اور ہندو شدت پسندی جھلکتی ہوئی نظر آئی‘ لکھنو میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ہندو شدت پسندی کے بانی سابق نائب وزیراعظم ایل کے ایڈوانی‘ مرلی منوہر جوشی‘ اوما بھارتی کلیسان سنگھ‘ نرتیہ گوبال داس سمیت تمام 32ملزمان  کو بری  کر دیا۔
ہندو شدت پسندی کی عکاس عدالت نے جب یہ شدت پسندانہ اور انتہائی جانبدارانہ فیصلہ سنایا تو عدالت میں موجود شدت پسند ہندوئوں نے ’’جے شری رام‘‘ کے  نعرے لگائے... اور عدالت سے باہر نکلتے ہی بابری مسجد کی شہادت سے برآت کا عدالتی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے ملزم جسے بھگوان کوئل نے چیختے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے بابری مسجد توڑی تھی... ہم میں سخت غصہ تھا‘ ہنومان جی ہرکارسیوک کے اندر آئے تھے... عدالت اگر ہمیں مسجد توڑنے پر سزا بھی دے دیتی تو بھی ہم قبول کرتے اور ہمیں خوشی ہوتی‘ عدالت نے ہمیں سزا نہیں دی تو یہ ہندو دھرم کی فتح ہے‘ ہندو قوم کی فتح ہے۔‘‘
1992ء میں بابری مسجد کو شہید کرنے کے خلاف جو مقدمہ درج ہوا... اس کی چارج شیٹ میں بی جے پی کے خونی لیڈر ایل کے ایڈوانی‘ مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت 49 ملزمان کے نام شامل تھے... جن میں سے 7ملزم طبعی موت سے ہمکنار ہوئے... اور باقی 32ملزمان کو سی بی آئی عدالت کے خصوصی جج ’’ایس کے یادو‘‘ نے بری کر دیا... مطلب یہ کہ عدالت نے سرے سے ہی یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ بابری مسجد کو کسی نے کبھی شہید بھی کیا تھا؟ اگر یہ عدالت ہے تو پھر ظلم‘ ذلالت فریب کاری اور شیطنت کس کا نام ہے؟  کئی ماہ کی منصوبہ بندی کے بعد اعلانیہ طور پر ایڈوانی‘ منوہر جوشی‘ اوما بھارتی اینڈ کمپنی نے ہزاروں ہندو بلوائیوں کے ساتھ دن دیہاڑے‘ سورج کی روشنی میں بابری مسجد پر حملہ کرکے اسے شہید کیا تھا... لیکن 28سال کی ’’ہندو‘‘ تحقیق و تفتیش کے بعد عدالت نے انصاف کا گلا کاٹ کر... ہندو ازم کی لاج رکھ لی۔
پرلے درجے کے اس متعصبانہ فیصلے کے بعد کیا یہ بات کہنا درست نہیں ہوگا کہ بھارتی عدالت کے کٹہرے میں ’’انسانیت‘‘ کو لہولہان کر دیا گیا... جس بھارت کی عدالتوں میں انصاف کی کرسیوں پر ہندو شدت پسندی کی کٹھ پتلیاں بیٹھی ہوں... جس بھارت کی فوج میں درندوں سے بھی بدتر فوجی وردیوں میں ملبوس ہوں... جس بھارت کے میڈیا پر ہندو شدت پسندی اور جھوٹ کے سائے گہرے ہوں‘ جس بھارت کے اداکار‘ پاکستان اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے خلاف فلمیں بناتے ہوں... جب بھارت کی گلیوں‘ بازاروں‘ چوکوں‘ چوراہوں‘ حتیٰ کہ یونیورسٹیوں تک میں بے گناہ مسلمانوں کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنا کر ... ان کی ڈیڈ باڈیز کا مشلہ کیا جاتا ہو... جس بھارت میں گائے کو ذبح کرنے کے شک میں جیتے جاگتے انسانوں کو شہید کرنا معمول کی بات سمجھی جاتی ہو‘ میں اس بھارت‘ وہاں کے حکمرانوں‘ فوج‘ عدلیہ‘ میڈیا کو ’’انسانیت‘‘ کا قاتل  ’’انسانیت‘‘ کا دشمن‘ لکھنا اپنا صحافی فریضہ سمجھتا ہوں۔
افسوس کہ بھارت سے ’’انسانیت‘‘ کو دھکے مار‘ مار کر نکال دیا گیا‘ گائے‘ بندر‘ سانپ‘ بچھو انسان نہیں  ہیں... لیکن  بدمعاش مودی اور اس کے ہندو ان کی تو پوجا کرتے ہیں... اور انسانوں کا قتل عام کرتے ہیں جس بھارت کا وزیراعظم انسانیت سے عاری ہو‘ آرمی چیف اور اس کے ماتحت انسانیت سے عاری ہوں‘ ججز اور جرنلسٹ انسانیت سے عاری ہوں... ایک یا دو لاکھ نہیں‘ بلکہ کروڑوں ہندو عوام ’’انسانیت‘‘ کی بجائے ’’ہندو شدت پسندی‘‘ پر یقین رکھتے ہوں... مان لیجئے کہ بھارت کا وہ معاشرہ  غیر انسانی رویوں کی وجہ سے خونخوار درندوں کا جنگل بن چکا ہے۔
6دسمبر 1992ء بابری مسجد کے قریب منعقد ہونے والی کارسیوا میں کی جانے والی تقریروں میں بابری مسجد توڑ دو کے نعرے‘ بابری مسجد کے دردیوار اور گنبد شریف کو کدالوں‘ ہتھوڑیوں کے ذریعے شہید کرنے والے موذیوں کی تصویریں صرف بھارت ہی نہیں دنیا بھر کے لوگوں نے دیکھیں‘ لیکن عدالت کے جج کو بابری مسجد کو شہید کرنے والا ایک بھی مجرم نہیں ملا... سب سے بڑھ کر بابری مسجد کے انہدام پر تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سربراہ جسٹس لبرہن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ’’بابری مسجد کی شہادت نہ ہی اچانک ہوئی اور نہ ہی یہ غیر منصوبہ بند تھی‘ یہ کام انتہائی منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا گیا... جس میں بھارتی جنتا پارٹی کے بڑے لیڈران ایل کے ایڈوانی‘ مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی شامل تھے... لبرہن کمیشن رپورٹ کے مطابق... بابری مسجد کو شہید کرنے کا سب سے بڑا مجرم اس وقت کے وزیراعلیٰ اترپردیش  کلیسان سنگھ کو قرار دیا تھا... کمیشن نے بڑے سخت الفاظ میں کہا تھا کہ آر ایس ایس کو ایک ایسے وزیراعلیٰ کی تلاش تھی جو انہیں ہر کام کرنے کی چھوٹ دے اور کلیسان سنگھ کے روپ میں آر ایس ایس کو وہ شخص مل گیا۔
لبرہن کمیشن کے مطابق کہ وزیراعلیٰ کلیسان سنگھ نے پولیس کو خصوصی ہدایت دے رکھی تھی کہ کچھ بھی ہو جائے بابری مسجد پر حملہ کرنے والوں پر نہ تو گولی چلے گی اور نہ لاٹھی چارج ہوگا۔ کوئی سی بی آئی کی عدالت کے خصوصی جج سے پوچھے کہ تم نے اگر بابری مسجد کے مجرموں کو باعزت بری  ہی کرنا تھا تو کم از کم یہ رپورٹ تیار کرنے والے کمیشن کے سربراہ جسٹس لبرہن کو ہی پھانسی دے دیتے۔
اب آخر میں یہ بھی پڑھ لیجئے کہ بھارت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہے؟ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق مودی سرکار... انسانی حقوق کی تنظیموں کے خلاف ایک مہم چلا رہی ہے‘ انسانی حقوق کے دفتر میں کام کرنے والے ملازمین کے بنک اکائونٹ منجمد کر دئیے گئے ہیں... جس کی وجہ سے تمام ملازمین کو فارغ کرکے کام روکنا پڑا... ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت دہلی فسادات اور مقبوضہ کشمیر کے متعلق آوازوں کو دبانے کی کوششیں کر رہی ہے... انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے کام کی وجہ سے بھارت میں نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس وجہ سے انہیں بھارت میں آپریشن بند کرنا پڑ رہے  ہیں۔
بھارت کے حکمرانوں کا اگر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کے ساتھ یہ سلوک ہے تو پھر مان لیجئے کہ اس خاکسار نے کالم کے آغاز میں جو یہ عرض کیا تھا کہ دہلی سمیت پورے بھارت سے ’’انسانیت‘‘ کو رسوا کرکے نکالا جاچکا ہے۔


تازہ ترین خبریں

سائنسدان2 ہزار  سال پرانی  نباتی خاتون کا چہربنانے میں کامیاب ہوگئے

سائنسدان2 ہزار سال پرانی نباتی خاتون کا چہربنانے میں کامیاب ہوگئے

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

شیخ رشیدکی درخواست ضمانت مستردکردی گئی

شیخ رشیدکی درخواست ضمانت مستردکردی گئی

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

ترکی ،شام تباہ کن زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں اور مناظر دماغ کو سن کر رہے ہیں، شہباز شریف

ترکی ،شام تباہ کن زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں اور مناظر دماغ کو سن کر رہے ہیں، شہباز شریف

ملک کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان

ملک کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات، اہم فیصلہ آج ہو گا

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات، اہم فیصلہ آج ہو گا

توشہ خانہ کیس ، عدالت نے عمران خان   حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

توشہ خانہ کیس ، عدالت نے عمران خان حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا   اجلاس آج  ہوگا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

ترکیہ   میں زلزے  نے تباہی مچا دی ،  سات روزہ سوگ کا اعلان

ترکیہ میں زلزے نے تباہی مچا دی ، سات روزہ سوگ کا اعلان

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی، ہلاکتیں 1300 سے زائد، ترکیہ میں ایمرجنسی نافذ

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی، ہلاکتیں 1300 سے زائد، ترکیہ میں ایمرجنسی نافذ

اے پی سی کیلئے پی ٹی آئی کو دعوت نامہ نہیں ملا، فواد چوہدری

اے پی سی کیلئے پی ٹی آئی کو دعوت نامہ نہیں ملا، فواد چوہدری

مشکل وقت میں  درکار  انسانی امداد پیش کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان  کا  ترکیہ ،شام زلزلے پر افسوس کا اظہار

مشکل وقت میں  درکار  انسانی امداد پیش کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان  کا  ترکیہ ،شام زلزلے پر افسوس کا اظہار

کل جماعتی کانفرنس کی تاریخ تبدیل کردی گئی ،7 کی بجائے 9فروری کو ہوگئی

کل جماعتی کانفرنس کی تاریخ تبدیل کردی گئی ،7 کی بجائے 9فروری کو ہوگئی