01:47 pm
گریٹراسرائیل‘خواب یاحقیقت

گریٹراسرائیل‘خواب یاحقیقت

01:47 pm

کیا نیتن یاہوگریٹراسرائیل کے خواب کی تکمیل کیلئے جلدمشرق وسطیٰ کانقشہ بدلنے جارہاہے اور بظاہردنیایہ سب ہوتادیکھتی رہ جائے گی؟اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش کے مطابق اسرائیل کی طرف سے غرب اردن کایکطرفہ الحاق بین الاقوامی قانون کی سب سے سنگین خلاف ورزی ہوگی۔مسلم دنیااور یورپی ممالک بھی فلسطینی غرب اردن کوزبردستی ہتھیانے کے اسرائیلی منصوبے کی مذمت اورمخالفت کرچکے ہیں لیکن اس کاکوئی اثرنہیں ہواکیونکہ نیتن یاہوکواس انتہائی متنازع اقدام کیلئے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اور انتہائی مضبوط یہودی لابی کی پشت پناہی حاصل ہے۔یادرہے کہ اس وقت دنیاکی مکمل تجارت ’’آئل،ادویات اوراسلحے کی انڈسٹری‘‘کے ساتھ الیکٹرانک کے ساتھ ساتھ دیگرزندگی کی ضروریات کو38کارپوریشنزکنٹرول کررہی ہیں اوریہ تمام عالمی کارپوریشنزیہودیوں کی ملکیت ہیں اورانہوں نے بڑی چابکدستی سے چین کے اندربھی بہت سے انڈسٹریزمیں سرمایہ کاری کررکھی ہے لیکن پچھلے دس برسوں سے چین نے بڑی حکمت کے ساتھ اپنا کنٹرول بحال کرلیاہے جس کے بعد یہ کارپوریشنز بھی کھل کرسامنے آگئی ہیں اورہرصورت میں دنیا میں چین کی بڑھتی ہوئی معاشی سبقت کونیچادکھانے کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوگئی ہیں۔ اس حوالے سے یقیناامریکی سپرمیسی کوآلہ کارکے طورپراستعمال کرنے کیلئے سازشوں میں مصروف ہیں اوراسی تناظرکی تفصیل 20ستمبرکو ’’کیاتیسری جنگ عظیم کااسٹیج تیارہوچکا ہے ؟ ‘‘ کے عنوان سے میں اپنے آرٹیکل میں تفصیلاً تحریرکر چکا ہوں جس کوقارئین کی ایک بڑی تعدادمیں خاصی پذیرائی حاصل ہوچکی ہے۔  
مشرق وسطیٰ کے مبصرین اس بات پرمتفق ہیں کہ نیتن یاہوطاقت کے زور پرجوکچھ کرنے جارہاہے اس کے خطے کے امن و استحکام پرگہرے منفی اثرات پڑیں گے۔نیتن یاہوغرب اردن کااسرائیل کے ساتھ زبردستی الحاق کرنے کے بعداگرفلسطینیوں کووہاں سے بے دخل کرسکتاتو شائد کردیتا لیکن ایساممکن نہیں۔غرب اردن میں فلسطینیوں کی تعدادکوئی 25 لاکھ ہے۔اسرائیل کاحصہ بننے کی صورت میں فلسطینی اسرائیلی آبادی کاچالیس فیصدہوجائیں گے۔ نیتن یاہو چاہے توانہیں اسرائیلی شہریت دے کربرابری کے حقوق کاوعدہ کرسکتا ہے لیکن ایسا کرنے سے اسرائیل میں فلسطینیوں کی تعدادبڑھ جائے گی جس سے یہودی اکثریت کوخطرہ ہوسکتاہے۔اس لیے نیتن یاہوفلسطینیوں کوبطورشہری برابرکے حقوق دینے کے بھی خلاف ہے لیکن اگراسرائیل نے فلسطینیوں کو اپنے ہی علاقے میں دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوشش کی تواس سے غم وغصہ بڑھے گا۔جنوبی افریقہ میں سفیدفام اقلیت نے ایک عرصے تک مقامی سیاہ فام آبادی پراسی طرح حکومت کی اوراس کااستحصال کیالیکن وہاں کے لوگوں کی جدوجہداورعالمی دباؤکے بعد بالآخر اس نظام کاخاتمہ ہوگیا۔ اسرائیل کیلئے آج کے دورمیں اسی طرح کاامتیازی نظام متعارف کرناناممکن نہیں تومشکل ضرورہوگا۔اس روش کے آگے جاکرخطرناک نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔
فوری طورپرشائدکوئی شدیدردِعمل سامنے نہ آئے۔عرب حکمران اوردیگرملک فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی دکھانے کی خاطر زبانی کلامی اسرائیل کی مذمت کریں گے لیکن عملی طورپر دنیانے بظاہر فلسطینیوں کواب ان کے حال پر چھوڑدیاہے۔ بیشترممالک سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایک حدتک ہی محاذآرائی کی جا سکتی ہے لیکن فلسطینیوں کی خاطران سے لڑا ئی نہیں کی جاسکتی۔خودفلسطینی قیادت اتنی مایوس ہے کہ اس کاکہناہے کہ وہ اس کی سخت مخالفت کرے گی لیکن اسرائیل کے خلاف پرتشدد مظاہروں کی حمایت نہیں کرے گی۔ 
امریکہ سمیت عالمی برادری نوے کی دہائی سے اوسلومعاہدے کے تحت خطے میں دوریاستوں کے قیام کیلئے کوشاں رہی ہے لیکن دنیاکی نظرمیں نیتن یاہوکایہ اقدام فلسطینیوں کااپنی علیحدہ ریاست کادیرینہ خواب چکناچورکرنے کے مترادف ہے اورنیتن یاہوکی ان خواہشات میں ٹرمپ کے یہودی نژاددامادجیرالڈنے خوب رنگ بھراہے اورحالیہ عرب معاہدوں کیلئے سب سے زیادہ اس نے وہی کام کیاہے جوخلافتِ عثمانیہ کوپارہ پارہ کرنے کیلئے لارنس آف عریبیہ نے کیاتھا۔نیتن یاہواوران کے حمایتیوں کے نزدیک غرب اردن کاعلاقہ انتہا پسندیہودی عقیدے کے اعتبارسے اسرائیل کااٹوٹ انگ ہے اورملک کی سلامتی کیلئے بھی ناگزیرہے لیکن دنیاکے نزدیک اسرائیل نے ان علاقوں پر1967ء کی جنگ کے بعدسے قبضہ کررکھاہے۔پچھلی چنددہائیوں میں اسرائیل ان مقبوضہ علاقوں میںنئے زمینی حقائق قائم کرنے کی پالیسی پرگامزن رہاہے جس کے تحت وہاں مسلسل نئے گھراورفلیٹ تعمیرکرکے باہرسے یہودی خاندانوں کولالاکربسایاجاتارہاہے۔عالمی برادر ی کی نظرمیں یہ تعمیرات غیرقانونی ہیں۔اس کے باوجودآج غرب اردن کی ان شاہکاربستیوں میں کوئی پانچ لاکھ کے قریب اسرائیلی یہودی بستے ہیں۔نیتن یاہوکاخیال ہے کہ وہ طاقت کے بل پرگریٹراسرائیل کے خواب کوعملی جامہ پہنانے کیلئے تیارہے لیکن دنیاکی نظرمیں ان کا یہ عمل خطے کوتباہی اورجنگ کی طرف دھکیل رہاہے جس سے اسرائیل کے وجودکوبھی شدیدخطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ 
دوقومی نظریہ تقسیم ہند کا اصل محرک بنایعنی مسلمان اورہندودوالگ قومیں ہیں جن کامذہب، ثقافت، تاریخ،رہن سہن اورتہذیب وتمدن سب یکسرمختلف ہے۔اس فلسفے کے تناظرمیں مملکتِ خداداد پاکستان معرضِ وجودمیں آیااورہندوستان دوالگ الگ ملکوں میں بٹ گیا۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے فروری1948ء  میں امریکہ کے نام پیغام میں فرمایا تھا’’میں نہیں جانتاکہ پاکستان کے دستورکی آخری شکل کیاہوگی لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ اسلام کے بنیادی اصولوں کاآئینہ داراورجمہوری اندازکاہوگا۔اسلام کے اصول آج بھی ہماری زندگیوں میں اسی طرح قابل عمل ہیں،جس طرح1300سوسال پہلے تھے۔اسلام نے ہمیں وحدتِ انسانیت اور عدل ودیانت کی تعلیم دی ہیــ‘‘۔ یہ تھاوہ نظریہ جس کی بنیاد پرپاکستان وجودمیں آیا۔یہ کوئی نیانظریہ نہیں بلکہ بنیادی طورپریہ وہی نظریہ ہے جورسول کریم ﷺ نے آج سے تقریباً 1450سال قبل انسانیت کودیاتھا۔اس کی روشنی میں دیکھیں توپاکستان کوئی معمولی ملک نہیں،اس کے قیام کی نوید1450سال قبل سنائی گئی تھی۔
(جاری ہے)


تازہ ترین خبریں

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

شیخ رشیدکی درخواست ضمانت مستردکردی گئی

شیخ رشیدکی درخواست ضمانت مستردکردی گئی

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

ترکی ،شام تباہ کن زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں اور مناظر دماغ کو سن کر رہے ہیں، شہباز شریف

ترکی ،شام تباہ کن زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں اور مناظر دماغ کو سن کر رہے ہیں، شہباز شریف

ملک کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان

ملک کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات، اہم فیصلہ آج ہو گا

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات، اہم فیصلہ آج ہو گا

توشہ خانہ کیس ، عدالت نے عمران خان   حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

توشہ خانہ کیس ، عدالت نے عمران خان حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا   اجلاس آج  ہوگا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

ترکیہ   میں زلزے  نے تباہی مچا دی ،  سات روزہ سوگ کا اعلان

ترکیہ میں زلزے نے تباہی مچا دی ، سات روزہ سوگ کا اعلان

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی، ہلاکتیں 1300 سے زائد، ترکیہ میں ایمرجنسی نافذ

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی، ہلاکتیں 1300 سے زائد، ترکیہ میں ایمرجنسی نافذ

اے پی سی کیلئے پی ٹی آئی کو دعوت نامہ نہیں ملا، فواد چوہدری

اے پی سی کیلئے پی ٹی آئی کو دعوت نامہ نہیں ملا، فواد چوہدری

مشکل وقت میں  درکار  انسانی امداد پیش کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان  کا  ترکیہ ،شام زلزلے پر افسوس کا اظہار

مشکل وقت میں  درکار  انسانی امداد پیش کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان  کا  ترکیہ ،شام زلزلے پر افسوس کا اظہار

کل جماعتی کانفرنس کی تاریخ تبدیل کردی گئی ،7 کی بجائے 9فروری کو ہوگئی

کل جماعتی کانفرنس کی تاریخ تبدیل کردی گئی ،7 کی بجائے 9فروری کو ہوگئی

عمران خان پہلےخود جیل جائیں پھرتحریک شروع کریں، مریم نواز کا مشورہ

عمران خان پہلےخود جیل جائیں پھرتحریک شروع کریں، مریم نواز کا مشورہ