01:06 pm
سیاسی وجدان، نجوم، روحانی میزان کے ساتھ

سیاسی وجدان، نجوم، روحانی میزان کے ساتھ

01:06 pm

سیاسی، معاشی، معاشرتی انتشار ، عدم استحکام کیا صرف پاکستان میں ہے؟ نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہے۔ اکتوبر2020 ء سے جنوری، فروری، مارچ2021 ء تک عدم استحکام،
سیاسی، معاشی، معاشرتی انتشار ، عدم استحکام کیا صرف پاکستان میں ہے؟ نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہے۔ اکتوبر2020 ء سے جنوری، فروری، مارچ2021 ء تک عدم استحکام، انتشار، جنگ و جدل کا ماحول، موسم، فضا، دن بدن بڑھتی ہوئی محسوس ہوگی۔ عالمی سطح پر بھی ، خطوں میں علاقائی سطح پربھی ہمارے ملک کے اندر بھی اور مشرق وسطیٰ میں بھی۔ عربوں کے لئے بہت مشکلات دیکھ رہا ہوں۔ یہ مدت مارچ2023 ء تک ہے۔
وجدان، نجوم، روحانیات میزان کے مطابق پہلے ملک کے اندر کی فضا کو سیاسی شخصیات کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں۔22 ستمبر سے 30 ستمبر تک میاں نواز شریف کو، شہباز شریف کو، کچھ اہم ’’سرپرائزز‘ ‘ ملنا تھے، جو ’’امر ربی‘‘ سے اب تک احتساب عدالت لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ  سے انہیں عملاً مل چکے ہیں۔ نواز شریف کے لئے مشکلات میں اب مزید اضافہ ممکن دکھائی دے گا۔ شہباز شریف اور ان کی اولاد کے معاملات مزید خراب ہوں گے، چونکہ شہباز شریف کا معاملہ زیادہ پیچیدہ ہے اس لئے شائد ان کی سیاسی جگہ کو اب خالی تصور کیا جارہا ہے۔ ’’عقرب‘‘ مریم نواز شریف شعلہ بار ہوچکی ہیں۔ وہ کہہ چکی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان شہباز شریف کو متبادل وزیراعظم کے طو ر پر خطرہ سمجھتے ہیں لہٰذا وہ انہیں نیب گٹھ جوڑ کے ذریعے جیل میں رکھنے کی تدبیر کررہے ہیں۔ شہباز شریف ’’لبرا‘‘ اور ’’ورگو‘‘ کے اثرات کا اجتماع  ہے۔ مکمل ’’لبرا‘‘ نہیں جبکہ عمران خان مکمل ’’لبرا‘‘ ہیں۔ اگرچہ شہباز شریف بھی اپنے محسنوں سے آنکھوں کو بند کرکے خود غرضی کا راستہ آرام سے اپنالیتے ہیں مگر عمران خان بھی اس معاملے میں شہباز شریف سے کم نہیں۔ وہ کتنے ہی محسنوں سے دور ہوکر، آنکھیں بند کرکے ان کے کندھوں پر بیٹھ کر آگے جاچکے ہیںا ور انہیںاس  ذرا سا افسوس یا ملال نہیں ہے۔ مگر سیاست و اقتدار میں اگر ’’اخلاقیات‘‘ معیار اول بن جائے تو ریاست و اقتدار مکمل عبادت ، صوفیانہ ریاضت ہو جاتی ہے۔ ویسے بھی قرب قیامت کے اثرات بھی تو سیاست و اقتدار پر وہ موجود ہیں جن کی پیشگی اطلاع نبی آخر الزمانؐ نے دے رکھی ہے اور کتب احادیث میں یہ سب کچھ موجود بھی ہے۔ نواز شریف (جدی برج)  شہباز شریف (لبرا  و  ورگو اثرات کے ساتھ) اور وزیراعظم عمرن خان ’’لبرا‘‘ شخصیت کے طور پر اکتوبر، نومبر میں مزید بڑے مسائل، مشکلات، شدید مخالفت میں موجود ہوسکتے ہیں۔ شریف خاندان کے اندر کی  داخلی سیاست میں عقرب مریم نواز شریف وجہ تنازع ہے۔ مریم نواز شریف ہی کے سبب وزیراعظم نواز شریف کی ماضی میں جنرلز کے ساتھ اندرونی لڑائی تیز ہوتی رہی ہے۔ عقرب مریم نواز شریف نے جدی (کیپری کان) والد کے اقتدار کو انا، خودپسندی، ٹکرائو ، تصادم کے راستے پر گرمائے رکھا ہے۔ ماضی میں جب مریم موجود نہ تھی سیاسی طور پر تو جدی (کیپری کان) وزیراعظم نواز شریف کو چوہدری نثار علی خان (اسد شخصیت) قابو میں رکھتے تھے اور ساتھ ہی لبرا و ورگو شہباز شریف بھی دونوں اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کا حصول ممکن بنائے رکھتے تھے۔
لبرا، ورگو شہباز شریف مذاکرات کے ماہر بتائے جاتے ہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کے داعی بتائے جاتے ہیں مگر وہ آخری مرحلے میں عملاً نواز شریف کھیل کا دوسرا رخ ثابت ہو جاتے ہیں۔
چوہدری نثار علی اسد ہیں31 جولائی 1954ء کی پیدائش کے ساتھ۔ بہت انا پرست ، نرگسیت کے ساتھ، اسی لئے وہ اس ماحول میں موجود نہ رہ سکے  جس نئے ماحول میں پرویز رشید، عرفان صدیقی اور لبرل و سیکولر نجم سیٹھی وغیرہ نے نواز شریف کو محاصرے میں لیا ہوا تھا۔ چوہدری نثار علی اور شہباز شریف نکال دئے گئے تو مریم عقرب کو اپنے تصادم و ٹکرائو شخصیت رکھتے والد کو ان قوتوں سے لڑانے کی مزید آسانی ہوگئی جو خاکی اسٹیبلشمنٹ کہلاتی ہیں۔ جنرل راحیل شریف سے آخری مرحلے پر ٹکرائو ہوا، پھر اب جنرل باجوہ (عقرب شخصیت) کے ساتھ ٹکرائو و تصادم عروج پر ہے۔ آنے والے موسموں میں سیاسی طور پر نواز شریف و مریم شدید سیاسی مزید نقصان سے دوچار ہوں گے اور شائد اس مرحلے کے خاتمے کے بعد اس ’’دولت‘‘ سے بھی محروم ہو جائیں گے جس کے سبب وہ سیاسی تکبر و غرور میں اکثر خود کو شہنشاہ اعظم سمجھتے رہتے ہیں۔ جب وہ مالی طور پر غربت سے دوچار ہوں گے (2021 ء سے 2023ء تک) تو وہ بہت قابل رحم ہوں گے کیونکہ ان کی سیاسی حیثیت صرف دولت و جنرلز کے ساتھ مفاہمت کی بناء پر ہمیشہ طلوع ہوتی رہی ہے۔ اخلاقیات کی بنیاد پر نہیں۔ اب دونوں ہی اسباب دنیا کا فقدان  جو ’’امر ربی‘‘ سے ممکن ہوگا بلکہ عقرب مریم کی نجی اور خاندانی زندگی و حیثیت میں نیا شدید اختلاف بھی نمودار  ہوگا۔ ممکن ہے20 دسمبر سے وہ نئے عہد ابتلا میں داخل ہو جائیں۔ اندرونی اور خاندانی مخالفت بہت بڑھ جائے، حتیٰ کہ والد نواز شریف بھی انہیں غلط کہنا شروع کر دیں گے۔یہ سب کچھ مارچ2021 ء تک ممکن طور پر وہ محسوس کریں گی۔ جنرل باجوہ اور مریم دونوں عقرب ہیں ان میں دوستی و مفاہمت کبھی نہیں ہوگی۔ ویسے دونوں ہی مسائل، دبائو سے دوچار رہیں گے۔ اکتوبر، نومبر میں خاص طور پرجاری ہے۔
 

تازہ ترین خبریں

پنجاب میں ٹرانسپورٹ چلانے کی تاریخ میں توسیع

پنجاب میں ٹرانسپورٹ چلانے کی تاریخ میں توسیع

شوال المکرم کا چاند دیکھنے کےلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس  طلب

شوال المکرم کا چاند دیکھنے کےلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب

سندھ میں چھ بجتے ہی شاپنگ کےلئے دی گئی مہلت ختم

سندھ میں چھ بجتے ہی شاپنگ کےلئے دی گئی مہلت ختم

سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے فنڈز کے ناجائز استعمال کا انکشاف

سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے فنڈز کے ناجائز استعمال کا انکشاف

بھارت سے آنے والے طیارے کی پاکستان میں ایمرجنسی لینڈنگ،

بھارت سے آنے والے طیارے کی پاکستان میں ایمرجنسی لینڈنگ،

اسلام آباد میں حساس ادارے کاسابق آفیسر فائرنگ سے قتل

اسلام آباد میں حساس ادارے کاسابق آفیسر فائرنگ سے قتل

سعودی عرب پاکستان کو 500ملین ڈالرز دے گا، وزیر خارجہ

سعودی عرب پاکستان کو 500ملین ڈالرز دے گا، وزیر خارجہ

حکومت کا شہبازشریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کےفیصلے کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

حکومت کا شہبازشریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کےفیصلے کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی بندش کی تاریخ آگے بڑھا دی گئی

ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی بندش کی تاریخ آگے بڑھا دی گئی

والدین کو گھر سے نکالنا پاکستان میں قابل سزا جرم قرار

والدین کو گھر سے نکالنا پاکستان میں قابل سزا جرم قرار

ضلع مہمند میں ٹینک کی دیوار گرنے سے سات بچے جاں بحق

ضلع مہمند میں ٹینک کی دیوار گرنے سے سات بچے جاں بحق

یا اللہ خیر۔۔۔ پورے گاوں میں ماتم۔۔۔ایک ساتھ سات بچے جاں بحق۔۔۔وجہ کیا بنی؟

یا اللہ خیر۔۔۔ پورے گاوں میں ماتم۔۔۔ایک ساتھ سات بچے جاں بحق۔۔۔وجہ کیا بنی؟

راستہ جلدی کیوں نہیں دیا ، جدہ ٹاون میں کار سواروں کی فائ ر نگ۔۔۔۔۔ایک ہلاک ۔۔۔ زخمیوں کی اطلاعات

راستہ جلدی کیوں نہیں دیا ، جدہ ٹاون میں کار سواروں کی فائ ر نگ۔۔۔۔۔ایک ہلاک ۔۔۔ زخمیوں کی اطلاعات

حکومت کا ایک اور بڑا فیصلہ۔۔۔ملک میں تعلیمی ادارے 23 مئی تک بند رکھنے کافیصلہ

حکومت کا ایک اور بڑا فیصلہ۔۔۔ملک میں تعلیمی ادارے 23 مئی تک بند رکھنے کافیصلہ