01:08 pm
لمحوں نے خطا کی تو صدیوں نے سزا پائی

لمحوں نے خطا کی تو صدیوں نے سزا پائی

01:08 pm

’’وقف املاک زیر اختیا ر لینا۔(1) باوجود اس کے کہ کوئی بھی شئے اس کے یاکسی دیگر فی الوقتی نافذالعمل قانون یا اس میں شامل یا کسی رسم ورواج یا کسی عدالت یا دیگر اتھارٹی
(گزشتہ سے پیوستہ)
 اس ایکٹ کے پیرانمبر8 میں کیا لکھا ہے… ملاحظہ کیجیے۔
’’وقف املاک زیر اختیا ر لینا۔(1) باوجود اس کے کہ کوئی بھی شئے اس کے یاکسی دیگر فی الوقتی نافذالعمل قانون یا اس میں شامل یا کسی رسم ورواج یا کسی عدالت یا دیگر اتھارٹی کی کسی ڈگری،فیصلہ یاحکم یا کسی عدالت میں زیر سماعت کسی کارروائی میں اس کے برعکس کچھ درج ہوکے منافی نہ ہو ناظم اعلی بذریعہ اعلامیہ کسی وقف املاک کا قبضہ،اس کا انتظام وانصرام،کنڑول اور دیکھ بھال اپنے زیراختیار لے سکتاہے،بشرطیکہ ناظم اعلیٰ جائیداد وقف کرنے والے شخص کی زندگی کے دوران ایسے شخص یا اشخاص کی مرضی کے بغیر ایسی وقف جائیداد کا انتظام وانصرام،دیکھ بھال اور کنڑول نہیں سنبھالے گا۔
وضاحت …اس دفعہ کے مقاصد کے لیے ’’کنڑول اور انتظام‘‘ میں وقف جائیدادکی مذہبی،روحانی، ثقافتی اور دیگر خدمات اور تقریبات (رسومات) کی ادائیگی اور انتظام پر کنڑول شامل ہوگا۔(2) کوئی شخص ناظم اعلیٰ سے پیشگی اجازت اور اس کی دی گئی ہدایات کی مطابقت کے بغیر ذیلی دفعہ (۱) میں حوالہ دی گئی خدمات یا تقریبات سرانجام نہیں دے گا۔(۳) ناظم اعلیٰ ذیلی دفعہ (۶) یا ایسی انتظامیہ جس پر قبضہ لیاگیا ہے یا دفعہ (۷) کے تحت سنبھالا گیا ہے اپنے پاس اندراج شدہ تمام املاک کو ایسے طریق میں مرکزی ریکارڈ کو ایسے طریق پر تیار کرے گا اور بنائے گا جیسا کہ صراحت کیا گیا ہو یا سرکاری جریدے میں مشتہر کیاگیا ہوکو سنبھالے گا۔(۴)ہرمالی سال کے اختتام پر ناظم اعلیٰ ذیلی دفعہ (۶) یا ایسی انتظامیہ جس پر قبضہ لیا گیا ہو یا دفعہ (۷) کے تحت سنبھالاگیا ہو،اندراج شدہ تمام املاک کی رپورٹ تیارکرے گا اور وفاقی حکومت کو جمع کروائے گا۔‘‘
اس عبارت کو بار بار پڑھ کر اندازہ کیجیے کہ یہ محض ایک ایکٹ نہیں بلکہ جس طرح ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ملیں اور کارخانے قومیائے گئے اور سب کا ستیاناس کر دیا گیا اسی طرح تمام مساجد ومدارس اور رفاہی وفلاحی اداروں کو قومیانے اور سرکاری تحویل میں لینے کی منصوبہ بندی اور تیاری کی جارہی ہے اور اللہ نہ کرے ان اداروں کا بھی وہی حشر ہونے کا خدشہ ہے جو بھٹو دور میں ملوں اور کارخانوں کے ساتھ ہوا۔
یہاں یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ صرف یہ قانون وقف املاک کو تحویل میں لینے کی کوشش نہیں بلکہ اس میں سزا وجزا کا جو نظام تشکیل دیا گیا وہ انتہائی خطرناک ہے۔چنانچہ جزا وسزا سے متعلق بل کا حصہ دیکھیے
 ’’جرائم  (۱) جو کوئی درج ذیل کو روکتا، مزاحمت کرتا ہے،یا حائل ہوتاہے یابصورت دیگر مداخلت کرتا ہے (الف) کسی اتھارٹی،افسر یا کسی شخص کو جواس ایکٹ کے ذریعے یا اس کی تعمیل میں اس کو سونپاگیا عائد کیا گیا کوئی اختیار استعمال کررہا ہے یا کوئی فرض سرانجام دے رہا ہے یا بصورت دیگر اس ایکٹ کے تحت کوئی قانونی کام سرانجام دے رہا ہے یا  (ب) کسی شخص کو جو مذکورہ بالاکسی ایسی اتھارٹی افسر یا شخص کے احکام بجاآوری کررہاہے یا جو بصورت دیگر اس ایکٹ کے تحت اپنی ذمہ داری کے مطابق کام کررہا ہے اسے پانچ سال تک کی قید باجرمانہ یا دونوں کی سزاہوگی۔ (۲) کوئی شخص جو دفعہ ۲۱ کے تحت کسی مطلوب جواب دہی میں مرضی سے قاصر رہے تواسے قید کی سزا دی جائے گی جو ایک سال سے کم نہ ہوگی مگر پانچ سال تک ہوسکتی ہے اور جرمانہ ادا کرنے کا پابند ہوگا جو کہ وقف املاک سے حاصل کردہ افادیت سے کم نہ ہوگا مگر املاک سے حاصل شدہ آمدن کی رقم کے تین گناہ تک ہوسکتاہے۔(۳) کوئی شخص جو دفعہ ۷ کے احکامات کے مطابقت جواب دہی کے لیے نیت سے قاصر رہے یا ارادتاً کوئی معلومات چھپائے یا ناظم اعلیٰ کو نامکمل یا غلط معلومات فراہم کرے جیسا کہ ایکٹ کے تحت مطلوب ہو تو ایسی رقم ادا کرنے کا متقاضی ہوگا جس کا تخمینہ متعلقہ ضلعی کلیکٹر یا ناظم اعلیٰ کی جانب سے وقف املاک کے امور تنقیح طلب کے عرصے یا پانچ سال قید،یادونوں کے لیے،کوئی دیگر باضابطہ مجاز اتھارٹی لگائے گی۔‘‘ اور جرمانے اور سز امیں صرف اسی پر اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ اڑھائی کروڑ کی خطیر رقم بطور جرمانہ عائد کرنے کی تلوار بھی لٹکائی گئی ہے۔ چنانچہ ایکٹ میں درج ہے کہ ’’کوئی شخص اس ایکٹ کے احکامات کی مطابقت میں یا کسی دیگر وجوہات کے لیے تعمیل کرنے میں ناکام رہے تو سزاکا مستوجب ہوگا جس کی رقم پچیس ملین تک ہوگی‘‘
اس ایکٹ کے پیرا نمبر ۴۲ میں درج ہے کہ ناظم اعلیٰ اوقاف کا حکم اور فیصلہ کسی دیوانی،ریونیوعدالت یا کسی دیگر اتھارٹی کو زیر سماعت نہیں ہوگا‘‘یہ چیز آئین کے آرٹیکل 199کے خلاف ہے۔اس ایکٹ میں اوقاف کی رقم کی نیلامی اور فروخت کا پورا نظام ذکر کیا گیا حتیٰ کہ فصلیں تک ضبط کرنے اور عمارتیں منہدم کرنے کی بات کی گئی جبکہ شرعی طور پر وقف چیز کی خرید وفروخت یا نیلامی جائز نہیں اسی طرح شرعی طور پر وقف چیز جن مقاصد کے لیے وقف کی جائے انہیں پیش نظر رکھنا ضروری ہے جبکہ اس ایکٹ کے ذریعے وقف کی رقم کو سکول،سڑکیں وغیرہ بنانے اور دیگر مقاصد کے استعمال کرنے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی گئی ہے۔آئین کے آرٹیکل 19میں جو فریڈم آف سپیچ کی ضمانت دی گئی اس ایکٹ کے ذریعے وہ بھی سلب کر لی جائے گی اور حکومت کی طرف سے سیاسی تقاریرکا بہانہ بنا کر کسی قسم کے وعظ پر پابندی عائد کر دی جائے گی اور من مانی اور لکھی لکھائی تقاریر کروائی جائیں گی۔اس ایکٹ کے ذریعے صرف وقف غیر منقولہ اشیاء ہی نہیں بلکہ چندہ بکسوں میں ڈالے جانے والے چندے تک بھی سرکارکی رسائی ہوگی اور اسے بھی وقف تصور کیا جائے گا چنانچہ بل میں اگرچہ مزاروں کا نام لکھا گیا مدارس ومساجد کاتذکرہ تو نہیں کیا گیا لیکن عملی طورپر کل کلاں سب کو ایک لاٹھی سے ہی ہانکا جائے گا۔
الغرض اوقاف ایکٹ 2020ء کی جس دفعہ،جس پیرے کو پڑھیے حیرت ہوتی ہے …افسوس ہوتا ہے…سمجھ نہیں آتی کہ ہم اپنے دین،اپنی قوم،اپنے ملک،اپنی نسل نو اور اپنے مستقبل کے ساتھ کیا کرنا چاہ رہے اور اس ملک وقوم کو کدھر لے جانا چاہ رہے ہیں …اگر کوئی اس ملک کا خیر خواہ ہے …کسی میں ذرا بھی خداخوفی موجود ہے…کسی میں ذرا بھی احساس کی کوئی رمق باقی ہے تو خدا را اس بل کوواپس لیجیے …اس کو واپس کروانے میں کردار ادا کیجیے…اس تلوار کو …اس شکنجے کو اپنے مستقبل سے ہٹا لیجیے …نہیں تو یاد رکھیے
لمحوں نے خطا کی تو صدیوں نے سز ا پائی
 

تازہ ترین خبریں

وزیراعظم کا انتخاب کل ، شہباز شریف اور عمر ایوب کے کاغذات منظور

وزیراعظم کا انتخاب کل ، شہباز شریف اور عمر ایوب کے کاغذات منظور

وزیراعظم کا انتخاب: شہباز شریف اور عمر ایوب نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئیے 

وزیراعظم کا انتخاب: شہباز شریف اور عمر ایوب نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئیے 

ایم کیو ایم کو گورنر شپ سمیت دو وزارتیں ملنے کا امکان، کون کون سی ؟ دیکھیں 

ایم کیو ایم کو گورنر شپ سمیت دو وزارتیں ملنے کا امکان، کون کون سی ؟ دیکھیں 

 محمود اچکزئی کی  نامزدگی پر پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کا ردِ عمل سامنے آ گیا 

 محمود اچکزئی کی  نامزدگی پر پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کا ردِ عمل سامنے آ گیا 

پیپلز پارٹی کے میر سرفراز بگٹی بلوچستان کے وزیراعلیٰ منتخب

پیپلز پارٹی کے میر سرفراز بگٹی بلوچستان کے وزیراعلیٰ منتخب

صدارتی انتخابات، آصف علی زرداری اور  محمود خان اچکزئی نے کاغذات جمع کرادیے

صدارتی انتخابات، آصف علی زرداری اور محمود خان اچکزئی نے کاغذات جمع کرادیے

پی ٹی آئی کی خاتون رہنما کو سعودی عرب سے واپسی پر ایئرپورٹ سے گرفتار

پی ٹی آئی کی خاتون رہنما کو سعودی عرب سے واپسی پر ایئرپورٹ سے گرفتار

بارش و برفباری کا سلسلہ کب تک رہنے والا ہے ؟آج02 مارچ  بروزہفتہ پاکستان میں مختلف علاقوں میں موسم کی صورتحال جانیں

بارش و برفباری کا سلسلہ کب تک رہنے والا ہے ؟آج02 مارچ بروزہفتہ پاکستان میں مختلف علاقوں میں موسم کی صورتحال جانیں

سنی اتحاد کونسل نے صدارتی امیدوار کا اعلان کر دیا

سنی اتحاد کونسل نے صدارتی امیدوار کا اعلان کر دیا

عدالت کی جانب سے یاسمین راشد کو خوشخبری مل گئی 

عدالت کی جانب سے یاسمین راشد کو خوشخبری مل گئی 

ایاز صادق ایک بار پھر اسپیکر قومی اسمبلی منتخب، حلف اٹھالیا

ایاز صادق ایک بار پھر اسپیکر قومی اسمبلی منتخب، حلف اٹھالیا

صحافی عمران ریاض کو دہشتگردی کے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا

صحافی عمران ریاض کو دہشتگردی کے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا

 حضرت شاہ حسین المعروف مادھو لال حسین کے عرس پر تعطیل عام کا اعلان کر دیا گیا ، کب ؟ دیکھیں

 حضرت شاہ حسین المعروف مادھو لال حسین کے عرس پر تعطیل عام کا اعلان کر دیا گیا ، کب ؟ دیکھیں

پیپلز پارٹی کیجانب سے سرفراز بگٹی  وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد 

پیپلز پارٹی کیجانب سے سرفراز بگٹی  وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد