01:11 pm
سیاسی وجدان، نجوم، روحانی میزان کے ساتھ

سیاسی وجدان، نجوم، روحانی میزان کے ساتھ

01:11 pm

(گزشتہ سے پیوستہ)
کیا ملک میں لبرا‘ عمران خان کی حکومت ہے یا خاموشی کے ساتھ عسکری اسٹیبلشمنٹ کی؟ مدت سے میرا وجدان اور نجوم میزان والے بھی عملاً ملک میں خاموش مارشل لاء کی موجودگی کو شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ جنرل باجوہ عقرب مضبوط شخصیت رکھتے ہیں۔ ’’لبرا‘‘ عمران خان کے ساتھ ان کا کردار مفاہمت کو قبول کرتا رہتا ہے۔ البتہ آنے والے دو مہینوں میں ہر عقرب ‘ جنرل باجوہ کو بھی مخالفت اور اندرونی دبائو کا شدید سامنا ہوسکتا ہے اور وہ اس موسم میں صبروتحمل‘ برداشت کو بطور ’’دوا‘‘  اگر استعمال کریں گے تو ناراض ہوتے ساتھیوں کو اپنی محبت سے دوبارہ ہمنوا بناسکیں گے۔ ویسے خاکی اسٹیبلشمنٹ کا کردار اور کافی بڑھ رہا ہے۔ میری مراد جنرل باجوہ کے علاوہ دیگر خاکیوں کی اہم موجودگی سے ہے۔ اوپر سے بھارت پاکستان پر جنگ مسلط کرنے سے باز نہیں آئے گا لہٰذا آنے والے مہینے شدید دبائو‘ انتشار‘ عدم استحکام کے بھی ہوسکتے ہیں۔ مگر جو قومیں‘ صبر واستقامت‘ ایثار‘ قربانی ‘ مسلمان ہو کر اللہ سے تعلق  اللہ پر توکل‘ نمازوں کے ذریعے‘ استغفار کے ذریعے مدد طلب کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی جھولی اطمینان قلب‘ تسلی‘ یقین محکم سے بھر دیا کرتا ہے ۔ اگر یہ عمل جاری ہے تو عمومی طور پر تقدیر الٰہی میں کچھ تبدیلیاں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ ’’کن فیکون‘‘ کا جو تکوینی الوہی  نظام موجود ہے۔ وہ اچانک مددگار بن جاتا ہے۔
عمران خان اگر اپنے صبر‘ استقامت سے‘ تحمل سے‘ دورا ندیشی سے‘ جنرلز سے تصادم کئے بغیر ’’مشکلات‘‘ کا پل عبور کر گئے تو وہ جنوری 2021ء میں شائد بہت طاقتور ہو جائیں گے۔ جبکہ ان کے سیاسی مخالف  چت ہوجائیںگے۔ پاکستان کے سعودیہ و امارات کے ساتھ تعلقات ہمیشہ  برقرار رہنا چاہیں۔ عمران خان پرانی غلطی کو درست کریں۔ ماضی میں انہوں نے مہاتیر محمد‘ طیب اردوان‘ ایران ‘ قطر کے ساتھ متبادل مسلمان قیادت کے لئے جو آپشن استعمال کیا تھا وہ بالکل غلط تھا۔ مستقبل میں ہمیں عربوں کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ عرب خود ہمیں  اپنے سے دورکر  دیں تب بھی ان کے ساتھ ہی رہیں کیونکہ یہ خود خلیجی عرب و سعودیہ آنے والے مہینوں میں بہت سے نئے مسائل و مصائب سے دوچار نظر آتے ہیں۔ انہیں پاکستان کی شدید ضرورت ہوگی۔
مولانا فضل الرحمان کی شخصیت نجوم میزان میں تو بہت کمزور زائچہ رکھتی ہے۔ ان کی دلی مرادیں یعنی عمران خان کا اقتدارا سے اخراج فی الحال ناممکن ہے۔ اگر ایسا کبھی ہوا بھی‘ تو وہ عمران خان کی اپنی صوابدیدی غلطیوں کے سبب ہوگا جس کا بہت زیادہ فائدہ مولانا کو پہنچنا نظر نہیں آتا۔ مولانا قبائلی علاقوں کے حوالے سے ماضی میں جو منفی کردار ادا کر چکے ہیں۔ محمود اچکزئی کی طرح کا شائد وہ اب ان کے راستے میں کافی بڑی رکاوٹ رہے گا۔
چوہدری  پرویز الٰہی عقرب شخصیت ہیں اور پرامید بھی کہ 2021ء میں ان کے لئے نئے کردار کا حصول ممکن ہو جائے گا۔ یہ ان کی سوچ اور خواہش‘ میرا تجزیہ وجدان اس سے الگ ہے۔ اوپر جو کچھ لکھا گیا ہے وہ محض قیافہ ہے۔ وجدان ہے‘ یا نجوم و روحانی ماہرین کا موقف‘ قادر مطلق علم غیب رکھتی حیثیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ وہ جب چاہیے دلوں کو پھیر  دے۔ جب چاہے ڈوبتوں کو بچالے۔ مگر اقتدار کے حوالے سے ’’سنت اللہ‘‘ جو ہے اس میں عموماً تبدیلی خود اللہ تعالیٰ بھی نہیں لاتے۔ شریف خاندان جس قابل رحم حالت میں ہے۔ وہ ان کے اپنے ہاتھوں سے پیدا کردہ حالات ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ ’’دولت‘‘ کی بنیاد پر کسی کو خریدنے یا اپنانے کی روش اپنائی۔ دولت اور مال‘ بہت اہم ہے۔ بلکہ اسباب دنیا میں تو بہت ہی اہم ترین ہے۔ مگر ملکوں‘ قوموں کی تقدیر صرف اخلاقی اقدار‘ روایات‘ کردار کی بنیاد پر اقتدار میں آنے والے فقراء مزاج کے درویش صفت لوگ ہوتے ہیں۔ قارون و نمرود فرعون بنے ہوئے نہیں۔ خدا کرے کہ پاکستان کا اقتدار باصلاحیت فقراء‘ درویشوں‘ ایثار و قربانیاں دینے والے مفلسوں کے پاس چلا جائے ثقہ مسلم لیگیوں کو اب اخلاقی معیار کو ’’اولیت‘‘ دینی ہوگی ورنہ انہیں شریف خاندان کی طرح اقتدار سے ہمیشہ کی محرومی سے دوچار ہونا پڑے گا۔
اب ذرا مشرق وسطیٰ کی طرف چلتے ہیں۔ میرے روحانی وجدان کے دوست بہت عرصے سے مجھے کہہ رہے ہیں کہ میرے بہت محبوب اور معشوق خلیجی عرب اور سعودیہ کا موجودہ نظام حکومت منہدم ہونے جارہا ہے۔ میں نے بہت غور کیا کہ حکمران شخصیات کا منظر سے ہٹنا یا بادشاہتوں کا انہدام؟ تاحال میں اس حوالے سے متردد ہوں۔ مگر مشرق وسطیٰ کی موجودہ بادشاہتوں میں اگر عرب بہار نے تو پھوڑ کی تھی تو متوقع نئی عالمی جنگی صورتحال بھی توڑ پھوڑ کرے گی۔
مجھے صدرٹرمپ کے انتخابی عمل کے ساتھ محمد بن سلمان اور محمد بن زید النہیان ، دونوں  ہی ولی عہد ہیں، ایک سعودیہ کا عملاً حکمران تو دوسرا متحدہ عرب امارات کا حقیقی حکمران ہے۔ اسرائیل سے قرب کے حوالے سے ان کے فیصلے شائد ان کے گلے کا طوق بنتے ہوئے نظر آجائیں تو مجھے ہرگز تعجب نہ ہوگا۔ کیونکہ ماہرین نجوم صدر ٹرمپ کے انتخاب کے ساتھ نومبر، دسمبر میں عالمی سطح پر خون آلود منظر بھی دیکھتے ہیں۔ اگر صدر ٹرمپ  عوامی طور پر انتخاب نہ جیت سکے تو پھر محمد بن سلمان اور محمد بن زید النہیان کدھر جائیں گے ؟ کہ جوبائیڈن صدر اوبامہ والی مشرق وسطیٰ پالیسی کو دوبارہ اپنالیں گے جبکہ فلسطینی ریاست کے قیام کا بھی وہ برملا اعلان کرچکے ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انقلاب ایران متوقع تبدیلیوں میں محفوظ رہے گا۔ محمد بن زید  النہیان اور محمد بن سلمان صدر طیب اردوان کے سیاسی دشمن بنے ہوئے ہیں جبکہ مصر کے جنرل عبد الفتاح السیسی بھی۔ مگر عالمی سطح پر جو تبدیلیاں متوقع ہیں کیا ان کے اثرات ایران کی طرح مصر پر بھی  محسوس نہیں ہوں گے؟ حیرت اور تعجب ہے کہ ماہرین نجوم چین کے حوالے سے بھی متوقع مستقبل بعید کی تبدیلیوں کی بھی نشاندہی کررہے ہیں۔





 

تازہ ترین خبریں

اسلام آباد کی سڑک پر 50کے نوٹ بکھرتے ہی راہگیر ٹوٹ پڑے

اسلام آباد کی سڑک پر 50کے نوٹ بکھرتے ہی راہگیر ٹوٹ پڑے

پنجاب میں ٹرانسپورٹ چلانے کی تاریخ میں توسیع

پنجاب میں ٹرانسپورٹ چلانے کی تاریخ میں توسیع

شوال المکرم کا چاند دیکھنے کےلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس  طلب

شوال المکرم کا چاند دیکھنے کےلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب

سندھ میں چھ بجتے ہی شاپنگ کےلئے دی گئی مہلت ختم

سندھ میں چھ بجتے ہی شاپنگ کےلئے دی گئی مہلت ختم

سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے فنڈز کے ناجائز استعمال کا انکشاف

سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے فنڈز کے ناجائز استعمال کا انکشاف

بھارت سے آنے والے طیارے کی پاکستان میں ایمرجنسی لینڈنگ،

بھارت سے آنے والے طیارے کی پاکستان میں ایمرجنسی لینڈنگ،

اسلام آباد میں حساس ادارے کاسابق آفیسر فائرنگ سے قتل

اسلام آباد میں حساس ادارے کاسابق آفیسر فائرنگ سے قتل

سعودی عرب پاکستان کو 500ملین ڈالرز دے گا، وزیر خارجہ

سعودی عرب پاکستان کو 500ملین ڈالرز دے گا، وزیر خارجہ

حکومت کا شہبازشریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کےفیصلے کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

حکومت کا شہبازشریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کےفیصلے کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی بندش کی تاریخ آگے بڑھا دی گئی

ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی بندش کی تاریخ آگے بڑھا دی گئی

والدین کو گھر سے نکالنا پاکستان میں قابل سزا جرم قرار

والدین کو گھر سے نکالنا پاکستان میں قابل سزا جرم قرار

ضلع مہمند میں ٹینک کی دیوار گرنے سے سات بچے جاں بحق

ضلع مہمند میں ٹینک کی دیوار گرنے سے سات بچے جاں بحق

یا اللہ خیر۔۔۔ پورے گاوں میں ماتم۔۔۔ایک ساتھ سات بچے جاں بحق۔۔۔وجہ کیا بنی؟

یا اللہ خیر۔۔۔ پورے گاوں میں ماتم۔۔۔ایک ساتھ سات بچے جاں بحق۔۔۔وجہ کیا بنی؟

راستہ جلدی کیوں نہیں دیا ، جدہ ٹاون میں کار سواروں کی فائ ر نگ۔۔۔۔۔ایک ہلاک ۔۔۔ زخمیوں کی اطلاعات

راستہ جلدی کیوں نہیں دیا ، جدہ ٹاون میں کار سواروں کی فائ ر نگ۔۔۔۔۔ایک ہلاک ۔۔۔ زخمیوں کی اطلاعات