12:53 pm
 شوپیاں کے سیب باغ میں تین نوجوان کیسے قتل ہوئے؟

شوپیاں کے سیب باغ میں تین نوجوان کیسے قتل ہوئے؟

12:53 pm

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کاکمیشن، عالمی عدالت انصاف ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ایشیا واچ جیسے معتبر عالمی ادارے بھارتی فورسز کے جنگی جرائم پر کوئی کارروائی کر سکتے ہیں۔ بھارتی عدالتوں ، کورٹ مارشل سے کشمیریوں کو کبھی انصاف نہیں ملا۔ بھارتی فوج نے راجوری کے تین غریب نوجوان مزدوروں کو قتل کیا۔انہیں غیر ملکی دہشت گرد قرار دے کر اسلحہ و گولہ بارود بر آمد کرنے کا دعویٰ کیا۔اب  سچ سامنے آنے پر سارا الزام اپنے مقامی مخبروں پر ڈال رہی ہے۔جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع میں اشی پورہ علاقے کے ایک باغ میں 18جولائی 2020ء کوبھارتی فوج کی 62آر آر، سی آر پی ایف اور پولیس ٹاسک فورس نے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران فرضی تصادم میں راجوری کے تین مزدور قتل کئے اور انہیں غیر ملکی دہشت گرد قرار دے کر تینوں کو جنگ بندی لکیر کے قریب مظفر آباد، بارہمولہ شاہراہ پر سپردخاک کر دیا۔اڑھائی ماہ قبل قتل کئے جانے والے راجوری کے تین نوجوانوں امتیاز احمد ولد صابر حسین اور ابرار احمد ولد بگا خان ساکنان دھار کوٹر نکہ ساکری اور ابرار احمد ولد محمد یوسف ساکن ترکسی کی لاشیں گانٹہ مولہ بارہمولہ میں واقع غیر ملکی جنگجوئوں کیلئے مخصوص قبرستان سے 75 روز بعد ہفتے کی صبح ایک مجسٹریٹ کی موجودگی میں قبرکشائی کے بعد ورثا ء کے حوالے کی گئیں۔ان میں سے ابرار کی عمر 16سال تھی۔گورکن عبدالمجید کے مطابق لاشیں ابھی تک تازہ تھیں، گلی سڑی نہ تھیں، بدبو بھی نہ تھی۔ یہ ان کی بے گناہی کا ثبوت ہے کہ انہیں نیا کفن پہنا کر نماز جنازہ ادا کی گئی اور پھریہاں سے 450کلو میٹر(براستہ جموں) دور اپنے آبائی قبرستانوں میں دفن کیا گیا۔ اگر خونی لکیر جنگ بندی لائن نہ ہو تو 19گھنٹے کے بجائے صرف نصف گھنٹہ میں بارہمولہ سے راجوری پہنچا جا سکتا ہے۔ لواحقین ایک ایمبولینس گاڑی میں لاشیں لے کر راجوری کیلئے روانہ ہوئے۔راجوری میں جہاں جہاں سے ایمبولنس گزری، وہاں سبھی دیہات میں لوگ سڑکوں پر انتظار کررہے تھے۔
لوگ بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرہ بازی کرتے رہے۔ 18جولائی کو پولیس کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا، جس میں بتایا گیا ’’امشی پورہ شوپیان علاقے میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع فوج کی جانب سے دی گئی، جس کے بعدپولیس، فوج کی آر آر ،سی آر پی ایف نے سیب باغ کا محاصرہ کیا اور مشترکہ آپریشن کیا ،جس کے دوران تین جنگجو مارے گئے‘‘۔بیان میں کہا گیا تھا ’’62آر آر کی طرف سے امشی پورہ میںجنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا گیا، تلاشی کارروائی کے دوران جھڑپ میں تین جنگجو مارے گئے  اس آپریشن میں پہلے فوج نے حصہ لیا بعد میں پولیس اور سی آر پی ایف بھی شامل ہوئی۔بیان میں کہا گیا تھا’’جھڑپ میںتین عدم شناخت جنگجومارے گئے، اور مقام جھڑپ سے تین لاشیں برآمد کی گئیں جنکی شناخت کی جارہی ہے،ان کے قبضے سے قابل اعتراض چیزیں بشمول اسلحہ و گولہ بارود برا ٓمدکیا گیا‘‘۔بیان میں کہا گیا تھا’’عسکریت پسندوں کی لاشیں وصول کرنے کیلئے کوئی سامنے نہیں آیا۔ تو انہیں بارہمولہ میں دفن کر دیا گیا۔پولیس نے یہ بھی کہا تھا کہ تدفین سے پہلے ہلاک شدگان کے ڈی این اے نمونے حاصل کئے گئے۔اگست کے پہلے ہفتے میں3عدم شناخت جنگجوئوں کی تصاویر سوشل میڈیا کے ذریعہ منظر عام پر آئیں۔عدم شناخت جنگجو راجوری کے تین مزدور نکلے۔اس کے فوراً بعدراجوری کے3 کنبے سامنے آئے جنہوں نے بھارتی فوج کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے شہید کئے گئے 3نوجوانوں کو بے گناہ مزدور قرار دیا جوجھڑپ سے صرف ایک روز قبل مغل روڑ سے شوپیان مزدوری کرنے گئے تھے۔یہ مغل روڈ آزاد کشمیر کے ضلع حویلی کو مقبوضہ راجوری پونچھ اضلاع سے گزرتے ہوئے جنوبی کشمیر کے شوپیاں، پلوامہ اضلاع سے ملاتی تھی۔
 اہل خانہ نے کہا کہ یہ تینوں نوجوان مزدوری کے لئے17 جولائی کو بذریعہ مغل روڈ راجوری سے شوپیاں پہنچے، جہاں انہوں نے ایک کمرہ کرایہ پر لیا اور اسی شام اپنے گھر والوں کو فون پر مطلع کیا کہ انہیں ایک مقامی سیب باغ میں کام مل گیا ہے ،جسے وہ اگلے روز شروع کر رہے ہیں۔اس کے بعد ان کا اپنے گھر والوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ۔ ان کے اہل خانہ نے پولیس اور صحافیوں کو بتایا کہ وہ یہ سمجھے تھے کہ کشمیر میں چونکہ فون اور دوسری مواصلاتی سروسز اکثر بند ہو جاتی ہے، اس لئے ان کے عزیز ان سے رابطہ نہیں کر پا رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر جب اس معاملے پر بڑے پیمانے پر بحث شروع ہوئی اورفرضی جھڑپ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جانے لگا تو 13اگست کوشوپیان پولیس نے خصوصی ٹیم ایک ڈی ایس پی کی قیادت میں تشکیل دی، جسے راجوری بھیجا گیا۔ اس نے  اہل خانہ کے بیانات قلمبند کئے ۔اس دوران متاثرہ کنبوں نے ڈپٹی کمشنر آفس راجوری کے باہر دھرنا دیا اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔اس کے بعد ڈاکٹروں کی ٹیم تشکیل دی گئی تاکہ پولیس کی زیر نگرانی پہلے تشکیل دی گئی ٹیم کے تابع ڈی این اے نمونے حاصل کئے جائیں۔راجوری میں ڈی این اے نمونے حاصل کئے گئے۔جب سب کو پتہ چل گیا کہ بھارتی فوج نے تین مزدور غیر ملکی قرار دے کر فرضی جھڑپ میں قتل کر دیئے ہیں تو فوج نے 11اگست کو آپریشن امشی پورہ سے متعلق کورٹ آف انکوائری کرنے کا حکم دیا۔ 18اگست کو فوج نے جھڑپ کی تحقیقات کیلئے سیول گواہوں سے کمیشن آف انکوائری کے سامنے اس جھڑپ کے بارے میں معتبر اطلاعات کا اشتراک کرنے کیلئے مقامی اخبارات میں اشتہارات شائع کئے۔18 ستمبر کوفوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ’’امشی پورہ شوپیان جھڑپ کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہے ۔ فوج نے اعتراف کیا کہ فوج نے بدنام زمانہ کالے قانون افسپا (AFSPA) کے تحت حاصل خصوصی اختیارات سے تجاوز کیا ہے،لہٰذا با اختیار انضباطی اتھارٹی نے حکم دیا ہے کہ فوجی قانون کے تحت ان لوگوں کیخلاف کارروائی کی جائے جو ابتدائی تحقیقات کے دوران جوابدہ پائے گئے ہیں‘‘۔یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارتی فوج نے کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے۔وہ ماورائے عدالت سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہے۔یہ بھی پہلا موقع نہیں کہ آپریشن کرنے والی فورسز کو خصوصی اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے پایا گیا ہو۔
( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں

حکومت جاتے ہی وزراءپہلی رات جہاز سے بھاگ جائیں گے،شاہد خاقان عباسی

حکومت جاتے ہی وزراءپہلی رات جہاز سے بھاگ جائیں گے،شاہد خاقان عباسی

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس،اہم فیصلے متوقع

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس،اہم فیصلے متوقع

عمران خان کےفیصلوں سے14ہزارارب کاقرض بڑھ گیا،مریم اورنگزیب

عمران خان کےفیصلوں سے14ہزارارب کاقرض بڑھ گیا،مریم اورنگزیب

مہنگائی سے نجات کیلئے عمران خان سے چھٹکارہ ناگزیر ہے ،بلاول بھٹو زرداری

مہنگائی سے نجات کیلئے عمران خان سے چھٹکارہ ناگزیر ہے ،بلاول بھٹو زرداری

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہو گا ،شاہ محمود قریشی

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہو گا ،شاہ محمود قریشی

چیئرمین نیب کا راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا حکم

چیئرمین نیب کا راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا حکم

خادم اعلیٰ کالبادہ اوڑھ کرکرپٹ اعلیٰ بننےوالےکےحساب دینےکاوقت ہے،شہبازگل

خادم اعلیٰ کالبادہ اوڑھ کرکرپٹ اعلیٰ بننےوالےکےحساب دینےکاوقت ہے،شہبازگل

 مہنگائی سے نجات کیلئے عمران خان سے چھٹکارہ ناگزیر ہے ،بلاول

مہنگائی سے نجات کیلئے عمران خان سے چھٹکارہ ناگزیر ہے ،بلاول

طاقتور ترین لوگ بھی قانون سے مبراء نہیں،حکومتی اہلکاروں کو احتساب کا خوف ہونا چاہئے،فواد چوہدری

طاقتور ترین لوگ بھی قانون سے مبراء نہیں،حکومتی اہلکاروں کو احتساب کا خوف ہونا چاہئے،فواد چوہدری

سول ایوی ایشن نے اندرون ملک کرایوںمیں اضافہ کر دیا

سول ایوی ایشن نے اندرون ملک کرایوںمیں اضافہ کر دیا

ڈرو اس وقت سے جب تمہارے پاس حکومت اور حکومتی  طاقت نہیں رہے گی،انشاءاللّہ فتح حق اور سچ کی ہوگی

ڈرو اس وقت سے جب تمہارے پاس حکومت اور حکومتی طاقت نہیں رہے گی،انشاءاللّہ فتح حق اور سچ کی ہوگی

 طاقتور ترین لوگ بھی قانون سے مبراء نہیں،حکومتی اہلکاروں کو احتساب کا خوف ہونا چاہئے،فواد چوہدری

طاقتور ترین لوگ بھی قانون سے مبراء نہیں،حکومتی اہلکاروں کو احتساب کا خوف ہونا چاہئے،فواد چوہدری

مولانا طارق جمیل سلمان خان کے فین ہو گئے ، سلمان خان کے والد کو کس بات کی مبارکباد دیدی؟

مولانا طارق جمیل سلمان خان کے فین ہو گئے ، سلمان خان کے والد کو کس بات کی مبارکباد دیدی؟

10 ماہ میں 24.2 ارب ڈالر،شکریہ آپ نے حقیقی معنوں میں پاکستانی ہونے کاحق اداکردیا،وزیراعظم خوشی سے نہال ،وزیراعظم کن کے شکرگزار؟جانیں

10 ماہ میں 24.2 ارب ڈالر،شکریہ آپ نے حقیقی معنوں میں پاکستانی ہونے کاحق اداکردیا،وزیراعظم خوشی سے نہال ،وزیراعظم کن کے شکرگزار؟جانیں