12:59 pm
اسرائیل کے قیام کا مقصد اور عرب منصوبہ

اسرائیل کے قیام کا مقصد اور عرب منصوبہ

12:59 pm

اسرائیل کے مسئلہ پر3اپریل 2002 کو شائع ہونے والا کالم اٹھارہ سال بعد دوبارہ پیش خدمت ہے۔
بیروت میں منعقد ہونے والی عرب سربراہ کانفرنس نے سعودی عرب کے امن منصوبہ کو منظور کر لیا ہے اور کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ اب اس امن منصوبے کو عرب منصوبے کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے ذریعہ امن و سلامتی کیلئے اسرائیل کو  سے قبضہ کیے گئے فلسطینی علاقے خالی کرنے کے عوض معمول کے تعلقات قائم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔
 
اس سے قبل جب سعودی ولی عہد شہزادہ عبد اللہ کی طرف سے کہ مقبوضہ علاقے خالی کر دینے کی صورت میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی تو ہم نے اس کالم میں عرض کیا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب نے فلسطین کی تقسیم اور اسرائیل کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کی اس قرارداد کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس سے سعودی عرب کے بانی شاہ عبد العزیز نے امریکی صدر ٹرومین کے نام اپنے  تحریر کردہ خط میں صاف طور پر انکار کر دیا تھا اور اب عرب سربراہ کانفرنس میں اس منصوبے کو منظور کر لینے کے بعد پوری عرب دنیا اس اسٹیج پر آگئی ہے جہاں کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے کے ذریعہ مصر کے صدر انور سادات نے اسرائیل کو تسلیم کر کے اور فلسطین کی تقسیم کے عمل کو قبول کر کے فلسطینیوں کی خود ان کے وطن کے بڑے حصے سے بے دخلی کو سندِ جواز فراہم کر دی تھی۔
اخباری اطلاعات کے مطابق امریکہ نے عرب لیگ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عرب لیڈروں نے بیٹھ کر اسرائیل سے امن کے لیے بات چیت کی۔ گویا امریکی اطمینان کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ اسے اسرائیل کا وجود تسلیم کرانے اور عربوں اور یہودیوں کو ایک میز پر بٹھانے کے مشن میں کامیابی کے امکانات دکھائی دینے لگے ہیں جس کے لیے امریکہ گزشتہ نصف صدی سے بے چین تھا۔
مگر دوسری طرف اسرائیل نے امن منصوبے کو مسترد کر دیا ہے اور فلسطینی ہیڈکوارٹرز پر تازہ حملوں کی دھمکی دی ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے وزیراعظم شیرون کے مشیر نے کہا ہے کہ منصوبہ موجودہ شکل میں ناقابل قبول ہے۔ اسرائیل کی طرف سے امن منصوبے کو مسترد کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ اسے  میں قبضہ کیے جانے والے علاقے خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے جس میں بیت المقدس بھی شامل ہے۔ کیونکہ  کی جنگ سے قبل بیت المقدس اردن کے کنٹرول میں تھا اور اسرائیل نے حملہ کر کے اس پر قبضہ کیا تھا۔ جبکہ اسرائیل کے نزدیک اس کی اب تک کی جدوجہد اور تگ و دو کا سب سے بڑا مقصد بھی بیت المقدس کا قبضہ تھا جس کے لیے صیہونی لیڈرشپ صدیوں سے منصوبہ بندی کر رہی تھی اور جس کے بغیر اسرائیلی ریاست کا مقصدِ وجود ہی ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسرائیل نے بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت قرار دے رکھا ہے اور امریکہ سمیت بہت سے مغربی ممالک ذہنی طور پر بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے ہوئے ہیں جس کے رسمی اعلان کے لیے کوئی مناسب موقع تلاش کیا جا رہا ہے۔
ادھر فلسطینی مجاہدین کی تنظیم حماس نے بھی اس منصوبے کو مسترد کر دیا ہے اور اسرائیل کے خلاف فدائی حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ لندن سے شائع ہونے والے عربی اخبار القدس کی خبر کے مطابق عرب مجاہد اسامہ بن لادن نے اس منصوبے کو امریکی سازش قرار دیا ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صیہونی ریاست کے خلاف جہاد کریں۔
اس پس منظر میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سعودی امن منصوبہ یا عرب سربراہ کانفرنس کی منظوری کے بعد عرب منصوبہ علاقہ کی صورتحال میں کسی عملی تبدیلی کا باعث تو شائد نہ ہو کیونکہ خطہ کے اصل ممالک یعنی دونوں فریقوں اسرائیل اور حماس نے اسے مسترد کر دیا ہے اور عسکری کشمکش جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ البتہ اس سے ڈپلومیٹک تبدیلی ضرور عمل میں آئی ہے کہ اس کے ذریعے امریکہ نے اسرائیل کو اس کے موقف اور پوزیشن پر بدستور برقرار رکھتے ہوئے عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کو ان کے سخت موقف سے پیچھے ہٹا کر کیمپ ڈیوڈ کی پوزیشن پر لے جانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اسی وجہ سے امریکی حکام نے عرب سربراہ کانفرنس کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔     (جاری ہے 

تازہ ترین خبریں

شہباز شریف بڑے سمجھدار ہیں، وہ قدم پھونک پھونک کر رکھیں گے، وزیر داخلہ

شہباز شریف بڑے سمجھدار ہیں، وہ قدم پھونک پھونک کر رکھیں گے، وزیر داخلہ

پرانا وقت دوبارہ لوٹ آیا ۔۔۔۔۔اب سحر و افطار کا اعلان صدیوں پرانی توپ سے ہو گا۔

پرانا وقت دوبارہ لوٹ آیا ۔۔۔۔۔اب سحر و افطار کا اعلان صدیوں پرانی توپ سے ہو گا۔

ملک بھر کی شاہراہوں پر اس وقت کیا چل رہا ہے ؟؟؟ فواد چوہدری نے خوشخبری سنادی

ملک بھر کی شاہراہوں پر اس وقت کیا چل رہا ہے ؟؟؟ فواد چوہدری نے خوشخبری سنادی

حکومت اور اپوزیشن کا ڈیڈ لاک برقرار ۔۔اپوزیشن نے کیا مانگ لیں جس پر حکومت نے صاف انکار کردیا

حکومت اور اپوزیشن کا ڈیڈ لاک برقرار ۔۔اپوزیشن نے کیا مانگ لیں جس پر حکومت نے صاف انکار کردیا

آئی جی پنجاب ہسپتال پہنچ گئے ۔۔۔ وجہ کیا بنی؟ ۔۔ انتہائی اہم خبر سامنے آگئے

آئی جی پنجاب ہسپتال پہنچ گئے ۔۔۔ وجہ کیا بنی؟ ۔۔ انتہائی اہم خبر سامنے آگئے

ویکسین سے خون جمنے لگا ۔۔۔۔ عارضی طور پر فراہمی روک دی گئی ۔۔۔انتہائی اہم خبر سامنے آگئی

ویکسین سے خون جمنے لگا ۔۔۔۔ عارضی طور پر فراہمی روک دی گئی ۔۔۔انتہائی اہم خبر سامنے آگئی

ویکسین سے خون جمنے لگا ۔۔۔۔ عارضی طور پر فراہمی روک دی گئی ۔۔۔انتہائی اہم خبر سامنے آگئی

ویکسین سے خون جمنے لگا ۔۔۔۔ عارضی طور پر فراہمی روک دی گئی ۔۔۔انتہائی اہم خبر سامنے آگئی

کورونا کی تیسری لہر ۔۔۔۔ ملک کا ایسا صوبہ بھی ہے جہاں 24 گھنٹوں میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ۔۔۔ جان کر آپ بھی خوش ہوجائنگے

کورونا کی تیسری لہر ۔۔۔۔ ملک کا ایسا صوبہ بھی ہے جہاں 24 گھنٹوں میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ۔۔۔ جان کر آپ بھی خوش ہوجائنگے

آئندہ مالی سال کا بجٹ کتنا ہوگا ۔۔۔۔انتہائی اہم خبر سامنے آگئی

آئندہ مالی سال کا بجٹ کتنا ہوگا ۔۔۔۔انتہائی اہم خبر سامنے آگئی

قیدیوں کو لے کر آنے والی وین کو حادثہ، دو پولیس اہلکار جاں بحق

قیدیوں کو لے کر آنے والی وین کو حادثہ، دو پولیس اہلکار جاں بحق

پاکستان میں سیاست مفادات کا ٹکرائو، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو استعمال کرتی رہیں، تجزیہ کار

پاکستان میں سیاست مفادات کا ٹکرائو، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو استعمال کرتی رہیں، تجزیہ کار

جہانگیر ترین جانتے ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی کے پیچھے خود عمران خان ہیں،حامدمیر

جہانگیر ترین جانتے ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی کے پیچھے خود عمران خان ہیں،حامدمیر

آرمی چیف سے امریکی وزیرخارجہ کا رابطہ،دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال

آرمی چیف سے امریکی وزیرخارجہ کا رابطہ،دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال

کابینہ میں تبدیلی ۔ کون کون سی 3وزرا کی چھٹی ہوئی ہے ؟وزیراعظم نے تصدیق کردی۔۔ آج کی بڑی خبر

کابینہ میں تبدیلی ۔ کون کون سی 3وزرا کی چھٹی ہوئی ہے ؟وزیراعظم نے تصدیق کردی۔۔ آج کی بڑی خبر