01:40 pm
نوازشریف اپنے خاندان کی کرپشن بچانے کیلئے لڑرہاہے؟

نوازشریف اپنے خاندان کی کرپشن بچانے کیلئے لڑرہاہے؟

01:40 pm

یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ پاکستان کے سیاستدان اپنے ہی سیاستدانوں سے لڑرہے ہیں یعنی عمران خان کی حکومت کے خلاف جوکہ ایک جمہوری حکومت ہے اور جوپاپولر ووٹوں کے ذریعہ مسند اقتدار پر براجمان ہے۔ نوازشریف کی ذاتی مسلم لیگ کو عمران خان پسند نہیں ہیں‘ اس کی صرف ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے ان کے خلاف کرپشن کے کیسز کھول رکھے ہیں۔ یہ کیسز ہرلحاظ سے بالکل ٹھیک ہیں۔ نیب نے بڑی چھان بین کرنے کے بعد ان پر مقدمات قائم کئے ہیں۔ نوازشریف اور اس کی بیٹی مریم صفدر (جواب نانی اماں بن چکی ہیں) نے بھی نیب کے سامنے غلط بیانی سے کام لیا اور اپنی آمدنیوں کے گوشواروں میں ہیر پھیر بھی کی ہے جس میں وہ پکڑی گئی ہے۔ نوازشریف نے گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے کے دوران اپنے نمک خواروں کو عسکری اداروں کے پاس بھیجے تاکہ نواز خاندان پہ مقدمات واپس لے لئے جائیں اورا س کے عوض وہ موجودہ حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اس کو پانچ سال پورے کرنے دیںگے۔ لیکن جب ان کو ہاں میں جواب نہیں ملا تو وہ کھل کر حکومت کے ساتھ ساتھ فوجی قیادت پر بھی تنقید کررہے ہیں۔ نوازشریف کو یہ بات سخت ناگوار گزر رہی ہے کہ فوجی قیادت اور حکومت کے درمیان تعلقات کیوں خوشگوار ہیں‘ وہ جس کی بناء  پر ان تعلقات میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس میں اس کو کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ اس سے قبل جب اس کو کرپشن اور بھارت کے  ساتھ خفیہ تعلقات استوار کرنے کی پاداش میں نکالا گیا تو اس نے جی ٹی روڈ پر اپنا گلا پھاڑ پھاڑ کر تقریروں میں فوج کی عزت اور حیثیت کو کم کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کا یہ بھی بانیہ تھا کہ اس کو نیب کے ذریعہ انتقام کانشانہ بنایاجارہاہے۔
 چنانچہ جب نوازخاندان کو این آر او نہیں ملا تو وہ بھارت کی شہہ پر لندن میں بیٹھ کر عسکری اداروں کو تنقید کانشانہ بنارہاہے اوربڑی ڈھٹائی سے کہہ رہاہے کہ ہماری جنگ عمران خان سے نہیں ہے بلکہ فوج کے خلاف ہے۔ یہ وہی فوج ہے جس نے اس احسا ن فراموش کو کچھ نہ ہونے سے بہت کچھ بنادیا۔ اب اس کو اپنی یہ عزت راس نہیں آرہی ہے فوج کے خلاف وہی الفاظ استعمال کررہاہے جو بھارت کا فسطائی وزیراعظم نریندر مودی اور اس کے کمانڈر استعمال کررہے ہیں۔ نوازشریف نے نیپال میں بھی نریندر مودی سے خفیہ ملاقات کی تھی جس میں پاکستانی فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے پراتفاق ہواتھا۔ بھارتی صحافی پرکھادت کی کتاب کو پڑھ کر بہت کچھ نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ جب نوازشریف نے لاہور میں مودی کے جہاز کو اترنے کی اجازت دی تھی اور اپنے گھر مہمان بلایا تھا‘ اس وقت ان دونوں کے درمیان فوج کو کمزور کرنے پراتفاق ہوا تھا ۔ لاہور میں اپنے گھر پر مودی کو بلاکر اس نے براہ راست پاکستان کے عوام اور فوج کو چیلنج کیاتھا‘ کیونکہ نریندر مودی ا ور اس کی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس پاکستان توڑنے کے در پے ہے۔ ان کافلسفہ یہی ہے کہ کسی طرح قائداعظم ؒکے دوقومی نظریے کی نفی کرکے پاکستان کو دوبارہ بھارت میں ضم کرلیاجائے‘ پاکستان کا باشعور طبقہ‘ بھارتی وزیراعظم کی اس مکروہ چہرے اور سوچ سے وقف ہے جبکہ عوام میں پاکستان کی فوج کیلئے جو محبت پائی جاتی ہے۔ 
وہ نوازشریف اور بھارتی وزیراعظم کے گٹھ جوڑ سے کسی طرح بھی کم نہیں ہوسکے گی۔ نیز پاکستان کاباشعور طبقہ اس ناقابل تردید حقیقت سے کلی طور پر واقف ہے کہ پاکستان کے سیاست دانوں کی اکثریت سیاست میں مال بنانے کیلئے آتے ہیں اور ان عناصر نے ایسا کرکے ثابت بھی کردیا ہے۔شریف خاندان کا قیام پاکستان سے قبل کوئی سماجی حیثیت نہیں تھی‘ یہ معمولی لوگ تھے جس کا گزر بسر محنت مزدوری کرکے ہوتاتھا۔ پاکستان بننے کے بعد بھی ایک عرصے تک ان کو کوئی نہیں جانتا تھا‘ لیکن کسی نہ کسی طرح مستری شریف(نواز کے والد) نے جنرل جیلانی مرحوم کے ساتھ تعلقات استوار کرکے نوازشریف کو سیاست میں متعارف کرایا۔ جنرل ضیا ء الحق نے بھی اس کے سرپر شفقت کا ہاتھ رکھا  اور یہ بھی کہا کہ ’’ میری عمر نواز کو لگ جائے ‘‘ اس غیر معمولی پذیرائی کی وجہ سے اس کا دماغ خراب ہوگیا تھا۔ اس نے اپنے دوسرے دور اقتدار میں آئین میں پندرویں ترمیم کے ذریعہ امیر المومنین بننے کی کوشش کی تھی جس میں اس کو نہ صرف ناکامی ہوئی بلکہ خفت کاسامنا بھی کرنا پڑا ۔ نوازشریف ‘ شہباز شریف اور اس کے دیگر خاندان کے افراد نے جس طرح پاکستان کے وسائل کو لوٹا ہے‘ اس کی مثال اس خطے کے کسی ملک میں نہیں ملتی ہے۔ اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق نوازشریف کو قومی خزانے میں300بلین روپے جمع کرانے ہیں جواس نے ناجائز طور کک بیک کے ذریعہ کمائے ہیں۔ اسی طرح شہبازشریف نے 90بلین روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے۔
 پنجاب میں اپنے دس سالہ دور اقتدار میں بحیثیت وزیراعلیٰ ناجائز طور پر اپنے فرنٹ مینوں کے ذریعے بے تحاشہ دولت کمائی ہے۔ اس کا بیٹا حمزہ شہباز بھی اس ہی قسم کے ناجائز لین دین کی وجہ سے جیل میں ہے اور اس پر مقدمہ چل رہاہے۔ اب مسلم لیگ (ن) کے وہ عناصر جنہوں نے ان دونوں بھائیوں کی مدد سے لوٹ مار میں حصہ لیا ہے یا پھر سہولت کار رہے ہیں‘ بظاہر حکومت کے خلاف لیکن اصل میں فوج کے خلاف’’ تحریک‘‘ چلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اب بھی پاکستان کے آئین کے مطابق‘ فوج پر تنقید کرنا ملک وملت سے غداری کے زمرے میں آتاہے۔ میرا خیال ہے کہ حکومت کو نوازشریف سمیت ان تمام عناصر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرنی چاہیے جو بھارت کی شہ پہ پاکستان کو توڑنے کی سازش کررہے ہیں۔ نوازشریف کی پارٹی جمہوری پارٹی نہیں ہے‘ یہ شریف خاندان کی ملکیت ہے‘ یعنی جمہوریت کے نام پر مورثی سیاست کی جارہی ہے‘یہی حال پی پی پی کا ہے۔ یہ  عناصرجمہوریت اور سویلین بالا دستی کا نعرہ لگاکر عوام کودھوکہ دے رہے ہیں۔ کیا بھلاکرپٹ سیاستدان سویلین بالادستی کے اہل ہوسکتے ہیں؟ سویلین بالادستی وہ سیاستدان قائم کر سکتا ہے جو کرپٹ نہ ہو‘ قانون کا احترام کرتا ہو اور آئین کا بھی ‘ یہ خصوصیت نوازشریف میں نہیں پائی جاتی ہے۔ یہ شخص عدلیہ‘حکومت اور ڈاکٹروں کو دھوکہ دے کر لندن فرار ہوا ہے جہاںسے بیٹھ کر وہ پاکستان کے احساس اداروں کو بلاجواز تنقیدکانشانہ بنارہاہے ۔ بنیادی طور پر یہ ایک بزدل شخص ہے ۔ اگر اس میں ہمت وحوصلہ ہوتا تو پاکستان آکر مقدمات کاسامناکرتا۔ لیکن وہ لندن میں بیٹھ کر بھارت کی آشیر باد سے پاکستان کو توڑنے کی کوشش کررہاہے۔ یہ اس کی ہاری ہوئی ذہنیت کا مظہر ہے۔


 

تازہ ترین خبریں

پاکستان ڈیموکریٹک اجلاس ۔۔۔۔۔ رہنماوں کے درمیان تلخ کلامی ۔۔۔ اختلافات سامنے آگئے 

پاکستان ڈیموکریٹک اجلاس ۔۔۔۔۔ رہنماوں کے درمیان تلخ کلامی ۔۔۔ اختلافات سامنے آگئے 

26 مارچ کو لانگ مارچ ہوگا ۔۔ ملک سے غیر آئینی اور غیر جمہوری حکومت کے خاتمے کیلئے قوم اپنا کردار ادا کرے ۔ مولانا فضل الرحمان 

26 مارچ کو لانگ مارچ ہوگا ۔۔ ملک سے غیر آئینی اور غیر جمہوری حکومت کے خاتمے کیلئے قوم اپنا کردار ادا کرے ۔ مولانا فضل الرحمان 

معلومات تک رسائی کے قوانین کے نفاذ کا تجزیہ کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد

معلومات تک رسائی کے قوانین کے نفاذ کا تجزیہ کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے اجلاس

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے اجلاس

 ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس پہلی بار یوم پاکستان پریڈ میں شرکت کرے گی

ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس پہلی بار یوم پاکستان پریڈ میں شرکت کرے گی

پی ڈی ایم اجلاس۔۔۔۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کون ہونگے؟ اہم خبر سامنے آگئی

پی ڈی ایم اجلاس۔۔۔۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کون ہونگے؟ اہم خبر سامنے آگئی

وزیراعظم کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس۔۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کی حکمت عملی پر بھی مشاورت

وزیراعظم کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس۔۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کی حکمت عملی پر بھی مشاورت

 لانگ مارچ سے قبل ہوم ورک ضروری ہے، ہم ناکامی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔یوسف رضا گیلانی

لانگ مارچ سے قبل ہوم ورک ضروری ہے، ہم ناکامی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔یوسف رضا گیلانی

پاک بحریہ کی جانب سے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پیٹرول کے دوران دوطرفہ بحری مشقوں کا انعقاد کیاگیا۔

پاک بحریہ کی جانب سے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پیٹرول کے دوران دوطرفہ بحری مشقوں کا انعقاد کیاگیا۔

شہر قائد میں رشوت کے عوض ڈرائیونگ لائنسز بنانے کا انکشاف ۔۔۔ اہلکار معطل

شہر قائد میں رشوت کے عوض ڈرائیونگ لائنسز بنانے کا انکشاف ۔۔۔ اہلکار معطل

بٹگرام میں تین ماہ سے مسلسل گونگی بہری لڑکی سےبد فعلی کرنے والا سفاک ملزم گرفتار

بٹگرام میں تین ماہ سے مسلسل گونگی بہری لڑکی سےبد فعلی کرنے والا سفاک ملزم گرفتار

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی ملاقات

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی ملاقات

بلاول بھٹو کسی ایک ایم این اے بارے بتائیں جو غیر حاضر تھا،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کابلاول بھٹو زرداری کو چیلنج

بلاول بھٹو کسی ایک ایم این اے بارے بتائیں جو غیر حاضر تھا،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کابلاول بھٹو زرداری کو چیلنج

سعودی عرب میں پاک میڈیا جنرنلسٹس فورم کی جانب سے خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے خصوصی ویبنار کا انعقاد

سعودی عرب میں پاک میڈیا جنرنلسٹس فورم کی جانب سے خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے خصوصی ویبنار کا انعقاد