01:43 pm
غداری کا کوئی مقدمہ درج نہیں!

غداری کا کوئی مقدمہ درج نہیں!

01:43 pm

٭ملک میں غداری کا کوئی مقدمہ موجود نہیں، صرف بغاوت کے مقدمے ہیںO بغاوت کا قانون 184 سال پرانا ہے، برطانیہ میں منسوخ ہو چکا ہےO کرونا پھیل رہا ہے، اپوزیشن کے مظاہروں سے مزید پھیلنے کا خدشہO نوازشریف کے خلاف مقدمہ درجج کرانے والا بدررشید قتل وغیرہ جیسے متعدد جرائم کا ملزم اور تحریک انصاف کا کارکن نکلا!! گورنر ہائوس سے رابطے، گورنر ہائوس لا علمی کا اظہار!O امریکی صدر ٹرمپ گھر واپس، متعدد امریکی جرنیل قرنطینہ میں!O ایران کا سپیکر، ملائیشیا کا وزیراعظم کرونا میں مبتلاO روس، سپین، اٹلی، تمام سکول بند!!، بھارت میں مندروں میں بُتوں، کتابوں اور دروازوں کو چھونے پر پابندی!!O ن لیگ، 12 اکتوبر کو  کراچی میں جلسہO اپوزیشن کے جلسوں کو روکنے کا آسان طریقہ، کرونا لاک ڈائون!
٭غداری کے شور شرابا کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس وقت کسی بھی جگہ غداری کا کوئی مقدمہ درج نہیں۔ اس کی ایک سادہ وجہ یہ ہے کہ کسی شخص کے خلاف غداری کا مقدمہ صرف حکومت درج کرا سکتی ہے، کسی عام شہری کو ایسا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ ویسے بھی غداری کا مقدمہ درج کرانے سے پہلے باقاعدہ عدالت سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بطور وزیراعظم اپنی مخالف نیپ، نیشنل عوامی پارٹی (اب عوامی نیشنل پارٹی) کو غدار اور کالعدم قرار دینے سے پہلے باقاعدہ سپریم کورٹ سے منظوری حاصل کی تھی۔ اس سلسلے میں ولی خاں، دوسرے سیاسی رہنمائوں (حبیب جالب سمیت) کو حیدرآباد قلعہ میں بند کر کے وہاں مشہور حیدرآباد سازش کیس کی سماعت شروع کرائی۔ طویل سماعتوں اور بے شمار گواہیاں درج ہوتے ہوتے جنرل ضیاء الحق نے حکومت کا تختہ الٹ کر ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کر کے پھانسی دے دی۔ پھانسی کی توثیق اور اجازت اس سپریم کورٹ نے دی جس نے بھٹو کو نیپ کے خلاف غداری کے مقدمہ کی اجازت دی تھی (عدالت!!) اور یہ بھی طُرفہ تماشا کہ ضیاء الحق نے حیدرآباد سازش کیس کالعدم کر دیا تو نیپ کے غداری کے یہ ملزم جنرل ضیاء الحق کے ساتھ مل گئے (آج پیپلزپارٹی اور اے این پی، سابق نیپ ایک دوسرے سے ہم آغوش ہو چکے ہیں) ملک میں اس کیس کے بعد کسی کے خلاف غداری کا مقدمہ درج نہیں ہوا، البتہ بغاوت کے مقدمات چلتے رہتے ہیں۔ بغاوت کا معاملہ دوسرا ہے۔ غداری ملک و قوم کے ساتھ دشمنی قرار پاتی ہے۔ بغاوت کسی دور کی حکومت کے خلاف اقدامات کی بنا پر کارروائی کا باعث بنتی ہے! بغاوت کے قانون کی مختصر روداد یہ ہے:۔
O 1837ء میں انگریزوںکی حکومت کے خلاف مزاحمت شروع ہوئی تو ایک برطانوی سیاست دان تھامس میکالے نے باغیوںپر قابو پانے کے لئے بغاوت پر کنٹرول کا قانون تیار کیا۔ انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کرنے کے بعد اس قانون میں کچھ ترامیم کیں اور 1862ء میںتشکیل پانے والے قوانین کے مجموعہ ’’تعزیرات ہند‘‘ (انڈین پینل کوڈ) میں دفعہ 124-A شامل کر دی۔ اس کے تحت کوئی بھی شخص تحریری، زبانی یا علاماتی صورت میں حکومت کے خلاف توہین، ناپسندیدگی، یا نفرت کو بھڑکائے، اسے تین سال سے عمر قید تک سزا دی جا سکتی ہے۔ اس قانون کے تحت 1947ء تک انگریز حکومت کے خلاف تحریکیں چلانے والے بے شمار سیاسی رہنمائوں کو گرفتار و قید کیا گیا۔ زیادہ زور دار تحریکوں والے افراد کو بیس بیس سال تک کے لئے جزائر انڈیمان میں (کالا پانی) میں قید رکھا گیا۔ اس قانون کے تحت موہن داس گاندھی (مہاتما گاندھی کے والد) کو چھ برس قید ہوئی۔ ایک آزادی پسند کردار گنگا دھرتلک کو تین بار تین سال اور چھ چھ سال تک قید رکھا گیا۔ 1916ء میں اس کے مقدمہ کی قائداعظم محمد علی جناح نے پیروی کی۔ 1947ء میں آزادی کے بعد بھی دفعہ 124۔ اے کا قانون بدستور اب تک نافذ ہے۔ اس قانون کے تحت محترمہ فاطمہ جناح، حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو، خان غفار خاں، ولی خاں، فیض احمد فیض، غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ مینگل، عطاء اللہ شاہ بخاری اور بہت سے دوسرے افراد کے خلاف مقدمات قائم ہوئے۔ نوازشریف اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف بھی اس 184 سال پرانے قانون کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ اہم بات یہ کہ یہ قانون برطانیہ میں بھی نافذ تھا مگر 2009ء میں اسے برطانیہ میں ختم کر دیا گیا ہے، پاکستان میں جاری ہے۔ اور اس پر ایسے عمل ہو رہا ہے کہ شاہدرہ کے تھانہ میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر پر بغاوت کا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ ایک نالائق ان پڑھ تھانیدار جسے یہ بھی معلوم نہیں کہ پاکستان کے یہ قوانین آزاد کشمیر پر لاگو نہیں ہوتے، ویسے بھی بغاوت کے مقدمات براہ راست فوری طور پر درج نہیں ہوتے انہیں اندراج کی منظوری کے لئے وزارت داخلہ اور وزارت قانون کو بھیجنا پڑتا ہے۔ ایک پراپرٹی ڈیلر بدر رشید نے جو مقدمہ درج کرایا ہے اس میں نوازشریف پر Edition'‘ (بغاوت) کا الزام ہے۔ غداری کے لئے 'Treason" کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہ الزام صرف حکومت لگا سکتی ہے۔ اس شخص ’بدر رشید‘ کے بارے میں عجیب انکشافات ہو رہے ہیں۔ اس نے خود کو ن لیگ کا رکن ظاہر کیا۔ ن لیگ نے جواب دیا کہ یہ شخص تحریک انصاف کا کارکن ہے۔ تحریک انصاف کی راوی ٹائون لاہور کی یوتھ لیگ کا صدر ہے اور تحریک انصاف کی ٹکٹ پر مقامی یونین کونسل کے ناظم کا انتخاب بھی لڑ چکا ہے۔ ایک انکشاف یہ ہوا کہ وہ تو خود قتل وغیرہ کے کئی مقدمات میں ملوث ہے اور ضمانتوں پر رہا ہے۔ اس کے خلاف لاہور کے تین تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔ تحریک انصاف نے بھی اس شخص سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ وزیراعظم عمران خاں نے اس مقدمہ پر سخت ناپسندیدگی اور برہمی کا اظہار کیا۔ حکومت کا اعلان آیا کہ وہ اس مقدمہ کی پیروی نہیں کرے گی (تماشا دیکھے گی)۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے تو بدر رشید کو’بدمعاش‘ قرار دیا ہے اور اس ’بدمعاش‘ کا دعویٰ ہے کہ اس کے گورنر چودھری محمد سرور کے ساتھ تعلقات ہیں، گورنر ہائوس آنا جانا ہے بلکہ یہ کہ گورنر کے ساتھ اس کی تصاویر بھی موجود ہیں۔ گورنر ہائوس سے پہلے تو بیان آیا کہ گورنر نے اس شخص سے تعلق ختم کر دیا ہے، بیان آیا کہ اس سے پہلے بھی کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ گورنر ہائوس میں ہزاروں افراد آتے ہیں اور گورنر کے ساتھ تصویریں بنوائی جاتی ہیں۔
٭قارئین کرام! میں دوسری باتیں چھوڑ کر اس بات کا نوٹس لے رہا ہوں کہ ’’گورنر ہائوس میں ہزاروں لوگ آتے ہیں‘‘؟ سیدھا سوال ہے کہ ہزاروں لوگ کیوں آتے ہیں؟ گورنر کا منصب سرکاری ملازم کا عہدہ ہے۔ اس کا اپنے خاندان کے افراد کے سوا کسی بھی دوسرے شخص سے تعلق اور گورنر ہائوس میں آنے جانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ کیا کسی چیف جسٹس یا آرمی چیف کے پاس بھی اسی طرح ہزاروں افراد آتے جاتے ہیں؟ معاملہ یہ ہے کہ آصف زرداری نے ایوانن صدر کو پیپلزپارٹی کے اجلاسوں کا مرکز بنا دیا تھا، میڈیا نے شور مچایا تو کافی عرصہ بعد یہ سلسلہ رکا۔ اسی طرح تحریک انصاف کے اقتدار میں چاروں صوبوں، خاص طور پر پنجاب اور سندھ کے گورنر ہائوس تحریک انصاف کے سیاسی مراکز بن چکے ہیں۔ ان میں پنجاب کے گورنر چودھری محمد سرور سیاسی طور پر زیادہ نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔ سرکار کی حمائت میں اور اپوزیشن کے خلاف ہر روز کوئی نہ کوئی بیان! بہت دفعہ اس کالم میں عرض کیا کہ جناب آپ بالکل غیر سیاسی منصب دار ہیں، سیاسی سرگرمیوں سے گریز کریں مگر کوئی فرق نہیں پڑا اور اب عالم یہ ہو چکا ہے کہ لاہور کا ایک مبینہ بدمعاش شخص (بقول وزیر تعلیم) گورنر ہائوس اور گورنر کے ساتھ گہرے تعلقات کا دعویٰ کر رہا ہے! آئین، قانون، ضابطے مُنہ دیکھ رہے ہیں!
٭مولانا فضل الرحمان اپوزیشن اتحاد کے سربراہ بن کر پہلے سے زیادہ سخت انداز میں سامنے آ رہے ہیں۔ ٹیلی ویژنوں پر ان کی دھمکیوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ میرے سامنے میرا ایک سال پہلے 8 اکتوبر کا کالم ’راوی نامہ‘ پڑا ہے۔ اس میں شائع شدہ صرف دو تین سطریں پڑھئے: ’’مولانا 27 اکتوبر کو اسلام آباد میں آزادی مارچ اور دھرنے کا اعلان کیا۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں نے اعلان کیا کہ آزادی مارچ کو گزرنے نہیں دیںگے۔ اور مولانا کے ساتھی اکرم درانی نے اعلان کیا کہ کسی نے روکا تو اسے گاجر مولی کی طرح کاٹ کے رکھ دیں گے۔ اب تو دھمکیوں کا قد کاٹھ مزید بڑھ گیا ہے!
٭ایک چھوٹی سی بات: کچھ سینئر ڈاکٹروں نے خدشہ کا اظہارکیا کہ کرونا جس طرح دوبارہ تیزی سے ابھر رہا ہے (گزشتہ روز 12 اموات) اس کے پیش نظر کسی قسم کے جلسے جلوسوں سے یہ وبا اچانک بے قابو ہو سکتی ہے!
 

تازہ ترین خبریں

وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب کو اسلام آباد طلب کرلیا

وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب کو اسلام آباد طلب کرلیا

میں عہدے سے مستعفی ہوجائوں گااگر۔۔۔اسپیکرقومی اسمبلی نے اپوزیشن کو بڑاچیلنج دیدیا

میں عہدے سے مستعفی ہوجائوں گااگر۔۔۔اسپیکرقومی اسمبلی نے اپوزیشن کو بڑاچیلنج دیدیا

آسمان سے گراکھجورمیں اٹکا،فیصل واوڈا کی بطور  سینیٹر کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کیلئے بڑااقدام اٹھالیاگیا

آسمان سے گراکھجورمیں اٹکا،فیصل واوڈا کی بطور سینیٹر کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کیلئے بڑااقدام اٹھالیاگیا

بے شک نمبر کاٹ لیں لیکن وزیراعظم نوازشریف ہی ہے،کمسن بچی

بے شک نمبر کاٹ لیں لیکن وزیراعظم نوازشریف ہی ہے،کمسن بچی

بلاتاخیر گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنایا جائے ،وفاقی وزیر داخلہ

بلاتاخیر گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنایا جائے ،وفاقی وزیر داخلہ

پہلے نفرت کی گولی اوراب جوتی کھائی ،ملک خانہ جنگی کی طرف جارہا ہے،احسن اقبال

پہلے نفرت کی گولی اوراب جوتی کھائی ،ملک خانہ جنگی کی طرف جارہا ہے،احسن اقبال

شادی ہالز کھولنے کا فیصلہ واپس لینے پر غور،کیاسکولز بھی دوبارہ بندہونیوالے ہیں؟شہراقتدار سے بڑی خبرآگئی

شادی ہالز کھولنے کا فیصلہ واپس لینے پر غور،کیاسکولز بھی دوبارہ بندہونیوالے ہیں؟شہراقتدار سے بڑی خبرآگئی

لیاری، فائرنگ سے چینی شہری سمیت 2 افراد زخمی

لیاری، فائرنگ سے چینی شہری سمیت 2 افراد زخمی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی جنرل سرنکولس پیٹرک کارٹر کی ملاقات

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی جنرل سرنکولس پیٹرک کارٹر کی ملاقات

کورونا کےبڑھتےکیسز،گجرات کے مختلف علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ

کورونا کےبڑھتےکیسز،گجرات کے مختلف علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ

گلگت بلتستان اسمبلی میں خطے کو صوبہ بنانے کی تاریخی قرارداد منظور

گلگت بلتستان اسمبلی میں خطے کو صوبہ بنانے کی تاریخی قرارداد منظور

شاطر پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کو بلیک میل کررہی ہے ،فردوس عاشق اعوان

شاطر پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کو بلیک میل کررہی ہے ،فردوس عاشق اعوان

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس کل طلب

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس کل طلب

26مارچ کو لانگ نہیں’’ کوئیک ‘‘مارچ ہوگا،فرخ حبیب

26مارچ کو لانگ نہیں’’ کوئیک ‘‘مارچ ہوگا،فرخ حبیب