01:12 pm
پانچواں صوبہ

پانچواں صوبہ

01:12 pm

آج کل گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی تجویز زیر بحث ہے اور مقتدر حلقے اس میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانا چاہیے یا نہیں ، اہل اقتدار کو یاد لانا چاہیں گے کہ وہ پہلے جنوبی پنجاب کو پاکستان کا صوبہ بنائیں جس کا مطالبہ وہاں کے عوام کررہے ہیں۔ حکومت اور حزب اختلاف دونوں اس میں متفق ہیں تو پھر جنوبی پنجاب کو پانچواں صوبہ بنانے میں کیا امر مانع ہے۔ کراچی کے عوام بھی الگ صوبہ کا مطالبہ کررہے ہیں اور ان کا مطالبہ جائز بھی ہے کہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ آبادی والے اس شہر قائد کو الگ صوبہ ہوناچاہیے۔ اسی طرح ہزارہ صوبہ کی تحریک موجود ہے اور وہاں کے لوگ الگ صوبہ چاہتے ہیں۔ بہاولپور کے عوام بھی اپنی شناخت اور حقوق کے لئے الگ صوبے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں ۔ اس لئے گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانے سے قبل یہ صوبے بنانے اس لئے بھی ضروری ہیں کہ یہ علاقے آئینی اور قانونی طور پر پاکستان کا حصہ ہیں جبکہ گلگت بلتستان آئینی اور قانونی طور پر پاکستان میں شامل نہیں ہے۔ لہٰذا پہلے یہ صوبے بنا لیں پھر گلگت بلتستان کا سوچیں۔ ویسے بھی پاکستان کے صوبے دنیا بھر میں رقبہ اور آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے ہیں اور نئے صوبے بننا بہت ضروری ہیں جس سے عوام کی مشکلات کم ہوں گی۔ افغانستان، سری لنکا اور سویڈن کی آبادی اور رقبہ پاکستان سے بہت کم ہے لیکن ان میں بالترتیب چونتیس، نو اور پچیس صوبے ہیں۔عوامی مطالبوں اور انتظامی مسائل کے حل کے لئے پاکستان میں مزید صوبے بننے چاہیں۔
جہاں تک گلگت بلتستان کا تعلق ہے تو یہ علاقے ریاست جموں کشمیرکا آئینی، قانونی حصہ اور  ان کی بین الاقوامی حیثیت ریاست کے دیگر علاقوں کی طرح متنازعہ ہے۔ کشمیر کے مسلمان حکمران سلطان شہاب الدین (1360-1387 ء ) نے یہ علاقے جموں کشمیر کی سلطنت میں شامل کئے جوتقسیم ہندوستان کے وقت بھی ریاست جموں کشمیر کا حصہ تھے۔ریاست جموں کشمیر کے کل رقبے ساڑھے چوراسی ہزار مربع میل میں گلگت بلتستان کا رقبہ تقریباً اٹھائیس ہزار مربع میل شامل ہے جسے سروے آف پاکستان اور اقوامِ متحدہ نے آج تک تسلیم کیا ہوا ہے۔ 1937 ء اور 1941 ء کے ریاست جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں گلگت بلتستان سے پانچ ارکان شامل ہوتے تھے اور یہ سلسلہ 1947ء تک جاری رہا۔ برطانوی ہند کے دور میں شمال کی جانب سے روس کے اس علاقے پر چڑھائی کے خطرے کے پیش نظر برطانوی ہند کی حکومت نے کشمیر کے حکمران مہاراجہ رنبیر سنگھ سے معاہدہ گلگت کے تحت یہ علاقہ 1935ء میں سا ٹھ سال کے عرصہ تک اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ مگر معاہدہ کی رو سے یہ تسلیم کیا گیا کہ یہ علاقے ریاست جموں کشمیر کا حصہ رہیں گے اور سرکاری عمارتوں پر ریاست کا پرچم لہرایا جائے گا۔ نیز کان کنی کے اختیارات بھی مہاراجہ کشمیر کے پاس ہوں گے۔ وہاں کے سول ملازمین ریاست جموں کشمیر کے ماتحت تھے اور اب بھی بہت سے لوگ مقبوضہ کشمیر اور آزادکشمیر میں موجود ہیں جو خود یا ان کے والدین گلگت بلتستان میں ریاست جموں کشمیر کے ملازمین تھے۔تقسیم ہندوستان سے قبل ریاست جموں کشمیر کے تعلیمی اداروں میں جو جغرافیہ پڑھایا جاتا تھا اس میں گلگت صوبہ کے طور پر شامل تھا اور مردم شماری میں ان علاقوں کی آبادی ریاست جموں کشمیر میں شامل تھی۔ 
انگریزوں نے ہندوستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو یکم اگست 1947ء کو یہ علاقے مہاراجہ کشمیر کو لو ٹا دیئے گئے۔ مہاراجہ جموں کشمیر نے بریگیڈئیر گھنسارا سنگھ کو گلگت بلتستان کا گورنر بنا کر بھیج دیا۔ بعد ازاں حریت پسندوں نے ڈوگرہ فوج کو شکست د یکر اسے گرفتار کر لیا جسے بعد میں قائد اعظمؒ کے سیکرٹری کے ایچ خورشید (بعد میں صدر آزادکشمیر) کے ساتھ تبادلہ میں رہا کیا گیا۔ 1947ء میں قائم ہونے والی آزادکشمیر حکومت اپنے مسائل اور وسائل کی وجہ سے ان علاقوں کا انتظام خود نہیں سنبھال سکتی تھی اس لئے28 اپریل 1949ء  میں وزارتِ امورِ کشمیر حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر اور مسلم کانفرنس کے درمیان معاہدہ کراچی کے تحت گلگت بلتستان عارضی طور پر انتظام کی غرض سے حکومتِ پاکستان کے حوالے کیا گیا، جس کے بعد حکومتِ پاکستان نے محمد عالم خان کو اس علاقے کا پولیٹیکل ایجنٹ بنا کر یہاں بھیج دیا۔پاکستان کے 1956ء ، 1962ء اور 1973ء کے آئین میں کہیں بھی گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ قرار نہیں دیا گیا۔ موجود 1973کے آئین کی دفعہ ایک کی ذیلی شق دو میں پاکستان کن علاقوں پرمشتمل ہے، کی تفصیل دی گئی ہے۔ اْن میں گلگت بلتستان شامل نہیں ہے۔ 
( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں

آر یا پار۔۔وزیراعظم عمران خان نے تمام مصروفیات ترک کردیں۔۔کچھ دیر میں کیا کرنےوالےہیں؟جانیے تفصیل

آر یا پار۔۔وزیراعظم عمران خان نے تمام مصروفیات ترک کردیں۔۔کچھ دیر میں کیا کرنےوالےہیں؟جانیے تفصیل

ملک کو مافیا سے نجات دلانےکے مشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،شہبازگل

ملک کو مافیا سے نجات دلانےکے مشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،شہبازگل

حکومت مہنگائی کرے گی توان کیخلاف ہی فیصلے آئیں گے ،حمزہ شہباز

حکومت مہنگائی کرے گی توان کیخلاف ہی فیصلے آئیں گے ،حمزہ شہباز

وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد ہوچکا،نیا ڈرامہ کرنے کی بجائے گھر جائیں،رانا ثناء اللہ

وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد ہوچکا،نیا ڈرامہ کرنے کی بجائے گھر جائیں،رانا ثناء اللہ

وزیراعظم نے اعتماد کا ووٹ لینے کا دلیرانہ فیصلہ کیا ،گیڈروں میں ایسی ہمت نہیں،شبلی فراز

وزیراعظم نے اعتماد کا ووٹ لینے کا دلیرانہ فیصلہ کیا ،گیڈروں میں ایسی ہمت نہیں،شبلی فراز

حفیظ شیخ کی شکست:وزیراعظم نے آج اہم اجلاس طلب کرلیا

حفیظ شیخ کی شکست:وزیراعظم نے آج اہم اجلاس طلب کرلیا

وزیراعظم نے اعتماد کا ووٹ لینے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا، فردوس عاشق اعوان

وزیراعظم نے اعتماد کا ووٹ لینے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا، فردوس عاشق اعوان

 اپوزیشن کی سیاست ’’حکومت میں آئو اور خوب پیسے کمائو‘‘ ہے،فواد چوہدری

اپوزیشن کی سیاست ’’حکومت میں آئو اور خوب پیسے کمائو‘‘ ہے،فواد چوہدری

فیصل واوڈا نااہل ہونے سے بچ گئے،عدالت سے بڑی خبر آ گئی

فیصل واوڈا نااہل ہونے سے بچ گئے،عدالت سے بڑی خبر آ گئی

پی سی بی کی کھلاڑیوں اور آفیشلز کو کورونا ویکسین لگانے کی پیشکش

پی سی بی کی کھلاڑیوں اور آفیشلز کو کورونا ویکسین لگانے کی پیشکش

غریدہ فاروقی پی ڈی ایم کی کامیابی پر خوشی سے نہال

غریدہ فاروقی پی ڈی ایم کی کامیابی پر خوشی سے نہال

سینیٹ انتخابات میں ہار ۔۔ عمران خان ایوان سےاعتمادکاووٹ لیں گے ۔ شاہ محمود قریشی

سینیٹ انتخابات میں ہار ۔۔ عمران خان ایوان سےاعتمادکاووٹ لیں گے ۔ شاہ محمود قریشی

سینٹ انتخابات میں پی ڈی ایم کے امیدواروں اور یوسف رضا گیلانی کی کامیابی پارلیمنٹ کا عمران نیازی پر عدم اعتماد ہے ۔ اسلم غوری

سینٹ انتخابات میں پی ڈی ایم کے امیدواروں اور یوسف رضا گیلانی کی کامیابی پارلیمنٹ کا عمران نیازی پر عدم اعتماد ہے ۔ اسلم غوری

میں خیبرپختونخواہ سے سینیٹ کا انتخاب ہار گیا ہوں، ہار جیت ہر جمہوری عمل کا حصہ ہوتی ہے اور مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔فرحت اللہ بابر

میں خیبرپختونخواہ سے سینیٹ کا انتخاب ہار گیا ہوں، ہار جیت ہر جمہوری عمل کا حصہ ہوتی ہے اور مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔فرحت اللہ بابر