01:42 pm
پانچواں صوبہ 

پانچواں صوبہ 

01:42 pm

 (  گزشتہ سے پیوستہ )
پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلوں میں بھی یہی تسلیم گیا ہے۔ چونکہ گلگت بلتستان ، ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے اور یہ بھی پوری ریاست کی طرح ابھی تک متنازعہ ہے جس کا ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے اس لئے اس کا حتمی فیصلہ بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ہی ہوگا اور کسی ایک جماعت، فرد یا کچھ لوگوں کے جانب سے ازخود کئے گئے کسی بھی فیصلہ کی کوئی حیثیت نہیں اور نہ ہی کسی کو اس کا اختیار حاصل ہے۔
 
مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی نے بخشی غلام محمد کے دور میں جب 15 فروری 1954ء کو بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا اور پھر 26جنوری 1957ء کو مقبوضہ کشمیر کے آئین میں کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیا جس پر پنڈت نہرو نے 29مارچ 1956ء میں لوک سبھا میں کہا کہ کشمیر اب آئینی طور پر بھارت سے الحاق کر کے اس کا حصہ بن گیا ہے۔ اب رائے شماری کی باتیں فضول ہیں۔ جو لوگ اس بات پر مصر ہیں کہ گلگت بلتستان کا 16 نومبر 1947ء کو پاکستان کے ساتھ الحاق ہوگیا تھا انہیں مقبوضہ کشمیر کا بھارت سے الحاق بھی تسلیم کرلینا چاہیے۔ گلگت بلتستان کے الحاق کہ نہ کوئی دستاویز ہے اور ہی یہ کوئی قانونی طور پر کسی اسمبلی نے کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے بھارت کے الحاق کو مسترد کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ نے 24جنوری 1957ء کو قرارداد نمبر 122منظور کی، جس میں اپنی سابقہ قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی کو بھی ریاست کے کسی بھی حصہ کے مستقبل کا فیصلہ اپنے طور پرکرنے کا اختیار نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی حیثیت ہے۔ اس قرارداد کا اطلاق ریاست جموں کشمیر کے تمام علاقوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر بھی ہوتا ہے۔پاکستان کے وزراء خارجہ ظفراللہ خان اور ذوالفقار عل بھٹو نے بالترتیب 16جنوری 1948ء اور 16مارچ 1963ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی میں پاکستان کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو ریاست جموں کشمیر کا حصہ قرار دیتے ہوئے متنازعہ علاقے تسلیم کیا۔ حال ہی میں 5اگست 2020ء کو پاکستان کے نئے سیاسی نقشہ میں گلگت بلتستان کو ریاست جموں کشمیر کا حصہ قرار دیتے ہوئے ایک ہی رنگ میں ظاہر ہے اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں اس کی وضاحت بھی کی۔ 
پاکستان کا مؤقف ہی اقوام متحدہ کی قرارد اد یں ہیں جن کی بنیاد پروہ پوری دنیا میں کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کو چیلنج کرتا ہے۔ ریاست جموں کشمیر میں تعینات اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین جو  کنٹرول لائن پر موجود ہیں ان کے گلگت اور سکردو میں موجود دفاتر بھی اسی حقیقت کا نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ علاقے ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہیں۔ 1954ء تک گلگت بلتستان کے لوگ اپنا ڈومیسائل مظفر آباد آزادکشمیر سے حاصل کرتے تھے۔ آزاد کشمیر کی ہائی کورٹ نے 1992ء میں اپنے ایک فیصلہ میں گلگت بلتستان کو ریاست جموں کشمیر کا حصہ قرار دیا تھا جس کی بعد میں آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے توثیق کی تھی۔ذوالفقار علی بھٹونے اپنے دور حکومت میں آزادکشمیر کو پاکستان کی صوبہ کی پوری کوشش کی جو ناکام رہی۔ گلگت بلتستان کو بھی صوبہ بنانے کی تجویز پہلے بھی آتی رہی لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا اور نہ ہی یہ اب ممکن ہوگا۔ گلگت بلتستان کے عوام کو جمہوری حقوق اور اختیار ضرور ملنا چاہیے۔ اِن علاقوں کو آزادکشمیر کے ساتھ ملا کرایک بڑا انتظامی یونٹ بنانا چاہیے اور دونوں علاقوں میں منتخب اسمبلیاں ہونی چاہیں جو ایک مشترکہ سینٹ کا انتخاب کریں جس سے صدر اور وزیر اعظم منتخب ہوں جن میں سے ایک کا تعلق لازمی طور پر گلگت بلتستان سے ہو۔ ان دونوں علاقوں کی مشترکہ سپریم کورٹ ہو۔ دفاع، امور خارجہ، خزانہ اور مواصلات ایک معاہدہ کے تحت حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہوں ۔پاکستان کے ستر سال سے کشمیر پر اصولی مؤقف کا تقاضا ہے کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جو تقسیم کشمیر یا اصولی موقف کے منافی ہو۔ بھارت کی یہ شاطرانہ چال ہے کہ جس طرح اس نے لداخ کو مرکز کے تحت علاقہ قرار دیا ہے پاکستان بھی گلگت بلتستان کو اپنا صوبہ بنائے۔ اسلام آبا دکو اس کے مضمرات کا علم ہونا چاہیے اور ایسی تجاویز کو مسترد کردینا چاہیے کیونکہ ان سے کشمیری عوام میں بددلی اور مایوسی پھیلے گی ۔ اسلام آباد کو دہلی کے نقش قدم پر نہیں چلنا چاہیے بلکہ اپنے اصولی موقف پر قائم رہنا چاہیے۔ 

 

تازہ ترین خبریں

دشمن کا پاک فوج پر بڑا حملہ ، کتنے جوان شہید کر دیئے ؟افسوسناک خبر

دشمن کا پاک فوج پر بڑا حملہ ، کتنے جوان شہید کر دیئے ؟افسوسناک خبر

شوکت خانم ہسپتا ل کو دیئے گئے عطیات بھی تحریک انصاف کیلئے استعمال کئے جانے کا انکشاف، سنگین ترین الزام لگ گیا

شوکت خانم ہسپتا ل کو دیئے گئے عطیات بھی تحریک انصاف کیلئے استعمال کئے جانے کا انکشاف، سنگین ترین الزام لگ گیا

درآمدی گاڑیاں انتہائی مہنگی ہونےکا امکان ، ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح میںبڑا اضافہ کر دیا گیا

درآمدی گاڑیاں انتہائی مہنگی ہونےکا امکان ، ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح میںبڑا اضافہ کر دیا گیا

آئندہ دو ماہ میں کہاں کہاں حملوں کا خطرہ ہے؟ وفاقی وزیر داخلہ نے الرٹ دیدیا

آئندہ دو ماہ میں کہاں کہاں حملوں کا خطرہ ہے؟ وفاقی وزیر داخلہ نے الرٹ دیدیا

عوام بڑے جھٹکے کیلئے ہو جائے تیار،یوٹیلیٹی اسٹورز پر کئی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھانے کی تیاریاں

عوام بڑے جھٹکے کیلئے ہو جائے تیار،یوٹیلیٹی اسٹورز پر کئی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھانے کی تیاریاں

انا للہ وانا الیہ راجعون!  جج کادورانِ سماعت عدالت میں ہی انتقال ہو گیا

انا للہ وانا الیہ راجعون! جج کادورانِ سماعت عدالت میں ہی انتقال ہو گیا

بارشیں یا موسم خشک؟آئندہ چوبیس گھنٹے موسم کیسا رہے گا؟محکمہ موسمیات کی تازہ ترین پیشنگوئی آگئی

بارشیں یا موسم خشک؟آئندہ چوبیس گھنٹے موسم کیسا رہے گا؟محکمہ موسمیات کی تازہ ترین پیشنگوئی آگئی

نواز شریف اور جہانگیر ترین کی تاحیات نا اہلی ختم ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اعتزاز احسن کا موقف بھی آگیا

نواز شریف اور جہانگیر ترین کی تاحیات نا اہلی ختم ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اعتزاز احسن کا موقف بھی آگیا

شادی کیلئے شریک حیا ت کا انتخاب کرتے ہوئے کن خصوصیات کو مدِ نظر رکھنا چاہئے ؟ محققین کی نئی تحقیق

شادی کیلئے شریک حیا ت کا انتخاب کرتے ہوئے کن خصوصیات کو مدِ نظر رکھنا چاہئے ؟ محققین کی نئی تحقیق

سابق وزیراعظم نوازشریف اور جہانگیرترین کی نااہلی ختم  کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ سے بڑی خبر آگئی

سابق وزیراعظم نوازشریف اور جہانگیرترین کی نااہلی ختم کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ سے بڑی خبر آگئی

کیا اوورسیز پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی حکومت سےمطمئن ہیں یا نہیں؟ حیران کن ردِعمل آگیا

کیا اوورسیز پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی حکومت سےمطمئن ہیں یا نہیں؟ حیران کن ردِعمل آگیا

6.2شدت کا خوفناک زلزلہ ،مرکز کہا ں تھا؟ شہریوں میں شدید خوف و ہراس

6.2شدت کا خوفناک زلزلہ ،مرکز کہا ں تھا؟ شہریوں میں شدید خوف و ہراس

ہر خاندان کیلئے 10لاکھ روپے سالامانہ حکومت نے بڑی سہولت کا اعلان کر دیا

ہر خاندان کیلئے 10لاکھ روپے سالامانہ حکومت نے بڑی سہولت کا اعلان کر دیا

فروری کے پہلے ہفتے میں بارشیں ہی بارشیں، محکمہ موسمیات نے بارشوں کے نئے سسٹم کی پیشنگوئی کر دی

فروری کے پہلے ہفتے میں بارشیں ہی بارشیں، محکمہ موسمیات نے بارشوں کے نئے سسٹم کی پیشنگوئی کر دی