01:43 pm
ٹیکس ، حکومت اور عوام

ٹیکس ، حکومت اور عوام

01:43 pm

ناکافی ٹیکس وصولی پاکستان کے بنیادی مسائل میں سرفہرست ہے۔ ہمارے ہاں جمع ہونے والا ٹیکس اسے ادا کرنے کے قابل آبادی کے اعتبار سے انتہائی کم ہوتا ہے۔ ریاستی ادارے آج تک مضبوط نہیں ہوسکے اور نہ ہی کسی مشترکہ ہدف کے لیے ان میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس وہ ایک دوسرے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے نظر آتے ہیں۔ ان اداروں کے انتظامی امور چلانے والے جدید طرز پر کام کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ہمیں اور ہمارے اداروں کو اس ملک کی فلاح کے لیے کیا طرز عمل اختیار کرنا ہے اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں پہلے یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ جدید ریاست اور پاکستانی ریاست کے کام کرنے کے طور طریقوں میں کیا بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔ ہمارے اسکول اور تعلیمی اداروں میں دی جانے والی تعلیم و تربیت بھی ہمیں ایک ذمے دار اور اچھا شہری بنانے کے معیار ہی پر پورا نہیں اترتی۔ 
کسی بھی شہری کو اپنے ملک کے لیے سب سے پہلا کام یہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اپنے کام یا کاروبار سے اس کی ترقی میں اپنا حصہ شامل کرتا ہے۔ اپنی آمدن کے اعتبار سے ٹیکس ادا کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اچھے آئیڈیاز اور ملکی ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرکے بھی شہری فرائض ادا کرسکتا ہے۔ 
جدید ریاست میں بنیادی ترین شہری ذمہ داری ٹیکس ادا کرنا تسلیم کی جاتی ہے، پاکستان میں اس کا مکمل ادراک اور نفاذ دونوں ہی نہیں ہوسکے۔ دنیا کی اکثریت خوشی سے ٹیکس نہیں دیتی، اپنی محنت کی کمائی میں کسی کا حصہ تسلیم کرنا آسان کام  ہے بھی نہیں۔ اسی لیے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ٹیکس کو کم سے کم کرنے یا اس سے بچنے کے لیے قانونی اور غیر قانونی دونون طریقے اختیار کیے جاتے ہیں تاہم ہمارے ہاں تو یہ بات بھی پوری طرح سمجھائی نہیں جاسکی کہ ٹیکس ادائیگی ملکی بقا کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ 
پاکستانی معیشت کی اصلاحات کے لیے کام کرنے والی عالمی بینک کی ٹیموں کی یہی شکایت سامنے آتی رہی ہے کہ پاکستان اپنی ضروریات کے لیے کافی ٹیکس جمع نہیں کرتا۔ اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ ملکی معیشت متاثر ہے یا جی ڈی پی کی شرح کم ہے بلکہ بنیادی سبب یہ ہے کہ جنھیں ٹیکس دینا چاہیے وہ دیتے نہیں اور ریاست اتنی منظم نہیں جو ان ٹیکس چوروں پر ہاتھ ڈال سکے۔ ٹیکس چوری کی ایک بڑی وجہ ٹیکس جمع کرنے والے اداروں میں بیٹھے افسران کی کرپشن ہے۔ ٹیکس نظام کے پیچیدہ اور عام آدمی کے لیے ناقابل فہم ہونے کی وجہ سے ان کرپٹ عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ ٹیکس جمع کرنے والے ادارے غیر منظم ہونے کے ساتھ ساتھ 20کروڑ آبادی کے ٹیکس سے متعلق امور نمٹانے کی اہلیت اور قابلیت ہی نہیں رکھتے۔ ہمیں ٹیکس دہندگان کی کمپیوٹرائزڈ رجسٹریشن اور شہریوں کی آمدن پر ٹیکس کا مؤثر نظام بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کڑی سزائیں دینا بھی نظام کی اصلاح کے لیے بے حد ضروری ہے۔ 
 ترقی اور شہریوں کی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے حکومتوں کو پائیدار مالی وسائل درکا رہوتے ہیں۔ صحت ، تعلیم، انفرااسٹرکچر اور دیگر خدمات کی فراہمی ایک مستحکم اور منظم سوسائٹی کے لیے ناگزیر ہے اور ان کے لیے سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ اس لیے ٹیکس محض شہری اور ریاست کے مابین لین دین کا تعلق نہیں بلکہ اسی سے شہری ہونے کی ثقافتی اور معاشرتی معنویت واضح ہوتی ہے۔  ٹیکس ادا کرنے والا اپنی شہری شناخت کا پورا ادراک رکھتا ہے۔ ٹیکس دینے سے اس کے اس احساس کی بھی توثیق ہوجاتی ہے کہ وہ ایک بڑے سیاسی و معاشی نظام کا حصہ ہے جہاں اس کے حقوق و فرائض بھی متعین ہیں۔ ٹیکس نظام کو اس زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ صرف معاشی اعتبار سے اہم نہیں بلکہ قوم کی تشکیل اور سماجی مساوات  کے لیے بھی یہ مستحکم بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ٹیکس نظام قانون کی نظر میں بلا تفریقِ رنگ و نسل اور مذہب یکساں ہونے کی ایک بڑی واضح عملی مثال فراہم کرتا ہے۔ اگر ٹیکس قومی ذمے داری کے احساس کے ساتھ دیا جائے تو ضرورت مند طبقات کی مدد اور ان کے لیے ایثار کے احساس سے قلبی تسکین بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ 
حقیقت یہ ہے کہ رنگ و نسل اور مذہب کی بنیاد پر پاکستانی سماج میں جو دوریاں پائی جاتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ذہن میں قوم کا تصور ہی واضح نہیں اور نہ ہی ہم  ریاست وشہری کے مابین تعلق کو درست طور پر سمجھ پائے ہیں۔ مالی طور پر خوش حال شہریوں کو اجتماعی فلاح کے لیے پس ماندہ طبقات کی بہتری کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہی اسلام کا پیغام ہے۔ ریاست کے غریب شہریوں کو بھی اپنی ذمے داری سے آگاہی ہونی چاہیے۔ اسلام میں تعلیم کی یکساں فرضیت بھی ایک باشعور سماج کی تشکیل کے لیے ہے۔ 
موجودہ پارلیمانی نظام کی ابتدا ہی میں یہ نعرہ لگایا گیا تھا کہ  ’’نمائندگی کے بغیر ٹیکس بھی نہیں‘‘۔ 1700ء کے دور میں امریکا میں برطانوی کالونیوں میں جن مطالبات نے انقلاب کی راہ ہموار کی ان میں ٹیکس کو نمائندگی سے مشروط کرنا بھی شامل تھا۔ امریکا کی نوآبادیات میں یہ خیال پایا جاتا تھا کہ دور دراز برطانی پارلیمنٹ میں قانون سازی کرنے والے ان کی نمائندگی نہیںکرتے۔ وہاں بننے والے قوانین(شوگر ایکٹ یا اسٹیمپ ایکٹ وغیرہ) 1689کے بل آف رائٹ سے متصادم ہیں اور بطور انگریز ان کے حقوق کے منافی ہے۔ آج یہ نعرہ فراموش کردیا گیا ہے۔ 
نمائندگی سے مراد قانون ساز ایوان میں نمائندگی یا انتخابی عہدہ ہے۔ ایسے لوگ جو ان مناصب کی آرزو رکھتے ہیں انہیں شہری ذمے داریوں کے حوالے سے زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔ عوامی نمائندگی کے امیدواروں کی جانچ پڑتال کے لیے بھی کڑا نظام ہونا چاہیے۔ اس میں اپنے اور اپنے اہل خانہ کے اثاثوں اور جائیداد کی تفصیلات دیانت داری سے بتانا بھی شامل ہے۔ پاکستان کو اس سمت میں ابھی لمبا سفر طے کرنا ہے اور اگر ہم واقعی تبدیلی کے خواہاں ہیں تو ’’نیا پاکستان‘‘ بنانے کے لیے ٹیکس نظام کے اصلاح کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ 
(فاضل کالم نگاری سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 




 

تازہ ترین خبریں

`` ون ڈے اور ٹی ٹونٹی رینکنگ میں بابراعظم کونسی پوزیشن پر آگئے ؟آئی سی سی نے تازہ ترین رینکنگ جاری کر دی

`` ون ڈے اور ٹی ٹونٹی رینکنگ میں بابراعظم کونسی پوزیشن پر آگئے ؟آئی سی سی نے تازہ ترین رینکنگ جاری کر دی

واٹس ایپ نے صارفین کی سہولت کیلئے ایک اور شاندار فیچر متعارف کروا دیا

واٹس ایپ نے صارفین کی سہولت کیلئے ایک اور شاندار فیچر متعارف کروا دیا

آئندہ چوبیس گھنٹوں کا موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے ٹھنڈی ٹھنڈی پیشنگوئی کر دی

آئندہ چوبیس گھنٹوں کا موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے ٹھنڈی ٹھنڈی پیشنگوئی کر دی

یوکرین پر حملہ کیا تو ایک بھی روسی فوجی واپس اپنے ملک نہیں جائیگا، بڑے ملک نے روس کو وارننگ دیدی

یوکرین پر حملہ کیا تو ایک بھی روسی فوجی واپس اپنے ملک نہیں جائیگا، بڑے ملک نے روس کو وارننگ دیدی

شہزا د اکبر کی جگہ کس کو تعینات کیا جائیگا؟ پانچ اہم نام سامنے آگئے

شہزا د اکبر کی جگہ کس کو تعینات کیا جائیگا؟ پانچ اہم نام سامنے آگئے

گھر میں بچے اکیلے ہیں،شاہد آفریدی نے بائیو سیکیور ببل سے باہر نکلنے کی درخواست کردی

گھر میں بچے اکیلے ہیں،شاہد آفریدی نے بائیو سیکیور ببل سے باہر نکلنے کی درخواست کردی

مزیدکتنا عرصہ قیمتیں نیچے نہ آنے کاامکان ہے ؟  وزیر خزانہ شوکت ترین نے پریشان کن خبر سنا دی

مزیدکتنا عرصہ قیمتیں نیچے نہ آنے کاامکان ہے ؟ وزیر خزانہ شوکت ترین نے پریشان کن خبر سنا دی

جب ہم ملتان یا لاہور تک پہنچیں گے تو عمران خان اپنے وزن سے گر جائے گا، پی ڈی ایم رہنما کا دعویٰ

جب ہم ملتان یا لاہور تک پہنچیں گے تو عمران خان اپنے وزن سے گر جائے گا، پی ڈی ایم رہنما کا دعویٰ

ٹویٹر پر شہری کا طنز، جمائمہ خان نے کھری کھری سناتے ہوئےپاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا دیا

ٹویٹر پر شہری کا طنز، جمائمہ خان نے کھری کھری سناتے ہوئےپاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا دیا

غریب کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو گیا، آٹے کی فی کلو قیمت میں ہوشربا اضافہ

غریب کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو گیا، آٹے کی فی کلو قیمت میں ہوشربا اضافہ

میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان کر دیا گیا

میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان کر دیا گیا

کرپشن میں اضافہ ، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان  سےاستعفے کا مطالبہ

کرپشن میں اضافہ ، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان سےاستعفے کا مطالبہ

کتنے حکومتی اراکین ن لیگ میں شامل ہونے کو تیار ہیں؟ دعوے نے ہلچل مچادی

کتنے حکومتی اراکین ن لیگ میں شامل ہونے کو تیار ہیں؟ دعوے نے ہلچل مچادی

موبائل سگنل اور سڑکیں بند۔۔وفاقی وزیر داخلہ نے بڑا اعلان کر دیا

موبائل سگنل اور سڑکیں بند۔۔وفاقی وزیر داخلہ نے بڑا اعلان کر دیا