11:31 am
قوم کو متحد کرنے والے مولانا عادل کی شہادت

قوم کو متحد کرنے والے مولانا عادل کی شہادت

11:31 am

شہر کراچی جید اور نامور علماء کرام کے جنازے اٹھا اٹھا کے تھک چکا... اتوار کے دن تحریک دفاع صحابہؓ کے قائد شیخ الحدیث
شہر کراچی جید اور نامور علماء کرام کے جنازے اٹھا اٹھا کے تھک چکا... اتوار کے دن تحریک دفاع صحابہؓ کے قائد شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عادل خانؒ کو قبر کی پاتال میں اتارنے کے بعد شہر کراچی کے لاکھوں غمزدہ مسلمان حکمرانوں اور ریاستی اداروں سے سوال کر رہے تھے کہ ہم زلفی بخاریوں‘ مراد شاہوں‘ بلاولوں کو سیکورٹی دے سکتے تو شیخ الحدیث ڈاکٹر عادل خان جیسے جید اور حق گو علماء کو سیکورٹی دیتے ہوئے تمہیں موت کیوں پڑتی ہے؟
میں آج کے کالم میں جہنمی قاتلوں اور ان سرپرست شیطانوں کو زیر بحث لانے کی بجائے شہید اسلام شیخ الحدیث مولانا عادل خان ؒ کے حوالے سے کچھ لکھنا چاہتا ہوں... تاکہ پاکستانی قوم جان سکے کہ نفرت کے سوداگروں نے کتنے بڑے عظیم انسان کو ان سے چھین لیا‘ علم‘ روحانیت‘ حق گوئی و بے باکی انہیں وراثت میں ملی ہوئی تھی... وہ رئیس المحدثین‘  ولی کامل شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان نور اللہ مرقدہ کے فرزند ارجمند‘ جانشین اور روحانی و علمی نسبتوں کے وارث تھے... وہ اپنے سربلند بابا کی طرح  ’’امن‘‘ کے خوگر‘ اسلام اور پاکستان کی محبت سے سرشار‘ ناموس رسالتؐ اور ناموس صحابہؓ کے چوکیدار اور پاکستان سے لے کر ملائیشیاء تک ہزاروں علماء  کے استاد تھے... شیخ الحدیث مولانا عادل خانؒ کو اردو‘ انگلش اور عربی سمیت متعدد زبانوں پر دسترس حاصل تھی... مولانا شہید نے 1973ء میں عالم اسلام کی معروف دینی یونیورسٹی جامعہ فاروقیہ سے سند فراغت حاصل کی... انہوں نے 1976ء میں کراچی یونیورسٹی میں بی اے ہیومن سائنس ‘1978ء میں ایم اے عربی‘ اور1992ء میں اسلامک کلچر میں پی ایچ ڈی کی... وہ 1980ء سے ایک ایسے دینی رسالے کے ایڈیٹر چلے آرہے تھے کہ جو  اردو‘ عربی اور انگلش میں بیک وقت چھتا چلا آرہا ہے... شہید مولانا ڈاکٹر عادل خانؒ نے ملائیشیاء  کوالالمپور کی معروف یونیورسٹی میں 2010ء سے سال 2018تک بطور پروفیسر خدمات بھی سرانجام دیں‘ سال 2018ء میں ملائیشیا ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے  آپ کو فائیو اسٹار رینکنگ ایوارڈ سے نوازا گیا... یہ ایوارڈ آپ کو ملائیشیاء  کے صدر نے عطا کیا‘ عالمی صیہونی طاقتوں کے غلام حکمرانوں کی وجہ سے پاکستان ایک ایسا بدقسمت ملک بن چکا ہے کہ جس کے جن اکابر علماء کی علمی خدمات کو بیرون دنیا میں خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے... ملائیشیاء کے صدر جس عالم اور شیخ الحدیث کو اپنے ہاتھوں سے ’’فائیو اسٹار رینکنگ ایوارڈ‘‘ عطا کرتے ہیں... اس عالم اور شیخ الحدیث کو کراچی کی سڑکوں پر بڑے ہی مظلومانہ انداز میں شہید کر دیا جاتا ہے۔
 ایسے لگتا ہے کہ جیسے جان بوجھ کر اس دھرتی سے علم و عمل کے خوگر علماء چھینے جارہے ہیں... اور دھرتی پر ’’ملالائوں‘‘ اور شہزاد رائے ٹائپ نام نہاد علمی سفیروں کا بوجھ لادا جارہا ہے... پاکستان میں زور زبردستی سے الٹی گنگا بہائی جارہی ہے... یہاں بسنے والی عوام کو نئی سے نئی آزمائشوں سے دوچار کیا جارہا ہے... ایک آزمائش ختم ہونے میں نئی آتی کہ دوسری آزمائش منہ کھولے کھڑی ہوتی ہے... کوئی سندھ کے سائیں حکمرانوں سے پوچھے کہ پاکستانی قوم اپنے خون پسینے سے ٹیکس اس لئے ادا کرتی ہے کہ وہ حکمران مافیاء اور ان کی اولادوں تک ہی ساری سیکورٹی محدود رکھیں... شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عادل خان  شہید جیسا متجر عالم دین کہ جنہوں نے کراچی کے مسلمانوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا... اور جن کی علمی خدمات کو پورے عالم اسلام میں سراہا جاتا ہے... ان کا یوں مظلومانہ انداز میں قتل ہو جانا... کیا اس بات کی نشاندہی کرنے کے لئے کافی نہیں ہے... کہ ’’علم‘‘ اور ’’علمی‘‘ شخصیات حکمرانوں کی ترجیح ہی نہیں... کیا یہ قوم ٹیکس اس لئے ادا کرتی ہے کہ سیکورٹی کے سارے اداروں کو وزیروں‘ مشیروں‘ زرداریوں اور ان کے خاندانی غلاموں کی سیکورٹی پر لگا دیا جائے... سنا ہے کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ بھارت ملک میں اس قسم کی ٹارگٹ کلنگ کروانے کے درپہ تھا۔ خدا بھارت کے بدمعاش حکمرانوں کو غارت کرے... لیکن وزیراعظم عمران خان سے سوال تو بنتا ہے کہ جب انہیں اور ان کی حکومت کے علم میں تھا کہ بھارت علماء کا قتل کروانا چاہتا ہے... تو پھر جو علماء ٹارگٹ تھے ان کی سیکورٹی کے لئے  حکومت نے کیا بندوبست کیا تھا؟
شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عادل خان انتہائی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل تھے... اس محرام الحرام میں تبت سنٹر کراچی اور اس سے قبل اسلام آباد میں بعض شرپسند ملعونوں نے حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ‘ حضرت سیدنا امیر معاویہؓ و دیگر صحابہ کرامؓ کی ناموس پر جو اعلانیہ حملے کئے... تو آپ نے ان کے خلاف دیوبندی‘ بریلوی‘ اہلحدیث مسالک کو اپنے صفحے پر متحد کرنے میں نہایت متحرک کردار ادا کیا... کراچی شارع قائدین پر گستاخان صحابہؓ کے خلاف لاکھوں انسانوں پر مشتمل انتہائی پرامن عظمت صحابہؓ مارچ کاانعقاد کرکے آپ نے شرپسند عناصر اور ان کے عالمی سرپرستوں کو پیغام دیا کہ اب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مقدس شخصیات کے خلاف کسی کو بھی زبان درازی کی اجازت نہیں دی جائے گی‘ صرف کراچی ہی نہیں‘ بلکہ اسلام آباد ہو یا ملتان... جہاں‘ جہاں عظمت صحابہؓ مارچز ہوئے آپ وہاں پہنچے... اور آپ نے عظمت صحابہؓ کا دفاع کا فریضہ بڑی دلیری سے سرانجام دیا... آپ حق بات کہنے میں کسی قسم کے خوف کو روا رکھنے کے قائل نہ تھے... آپ قانون پسند بھی تھے اور آئین پاکستان کا احترام کرنے والے بھی... آپ انسانی قدروں پر یقین رکھنے والے انسانوں میں علم کی سوغات بانٹنے والے سخی دل اور سخی مزاج انسان تھے... لیکن انسانوں میں سب سے اعلیٰ‘ انسانیت کے تاجدار خاتم النبیینﷺ اور آپؐ کے جانثار صحابہ کرامؓ اور اہل بیت اطہارؓ کی عزت و ناموس پر نہ کوئی سمجھوتہ اور نہ کمپرومائیز‘ بلکہ ناموس رسالتؐ‘ ناموس صحابہؓ و اہل بیتؓ پر جان  لٹانا اپنے لئے سعادت سمجھتے تھے... اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی اوباش پاکستان میں امن کی فضاء کو برباد کرنا چاہتے ہیں ... یہ بات بھی درست کہ پاکستان دشمن ممالک پاکستانی قوم کی وحدت کو پارہ پارہ کرنا چاہتے ہیں... لیکن یہ سوال اٹھانا میری ذمہ داری ہے کہ  ایک عالمی ایوارڈ یافتہ ممتاز عالم دین مولانا ڈاکٹر عادل خان کو سندھ سرکار نے سیکورٹی کیوں نہ دی؟
جب سندھ حکومت اور وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں کے علم  میں تھا کہ بھارت یا کوئی دوسرا ملک اپنے بدمعاش ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کے علماء پر حملے کروا سکتا ہے تو پھر حکومت نے زبانی‘ جمع خرچ کے علاوہ جید علماء کرام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے کیا اقدامات اٹھائے؟ ڈاکٹر عادل خان مرحوم  نہ فرقہ پرور تھے اور نہ فرقہ پرست بلکہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں انہوں نے بریلوی‘ دیوبندی‘ اہلحدیث اکابرین کوایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا جو کارنامہ سرانجام دیا... وہ قیامت تک آنے والے انسانوں کو بتاتا رہے گا کہ عادل خانؒ امت کی وحدت اور قوم کے اتحاد و اتفاق کے علمبردار تھے... مجھے   نہیں پتہ کہ شیخ الحدیث ڈاکٹر عادل خان کی شہات میں کون سے لعنتی عناصر شریک ہیں... یہ بتانا حکمرانوں اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے لیکن ملین  ڈالر کا سوال یہ ہے کہ  جو حکمران شہید عالم دین کو زندگی میں سیکورٹی نہ دے سکے... وہ کیا ان کی شہادت کے بعد ان کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں کامیاب ہو سکیں گے؟
 

تازہ ترین خبریں