06:33 am
حکومتی مسائل کی آکاس بیل اورمہنگائی کا طوفان !

حکومتی مسائل کی آکاس بیل اورمہنگائی کا طوفان !

06:33 am

حکومت کی جانب سے مہنگائی کم کرنے کے اقدامات اپنی جگہ،مہنگائی کی شرح میں ہونیوالے اضافہ کے محرکات پر بھی نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ایسا کوئی
حکومت کی جانب سے مہنگائی کم کرنے کے اقدامات اپنی جگہ،مہنگائی کی شرح میں ہونیوالے اضافہ کے محرکات پر بھی نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ایسا کوئی بحران جنم نہ لے جو عام آدمی کے ساتھ ساتھ حکومت کی بنیادوں کو غیر مستحکم کرنے کا باعث بنے،بنیادی ضروریات زندگی کی سہولیات شہریوں کو بہم پہنچانا ریاست کی ذمہ داری میں شامل ہے،کسی بھی ملک کی عوام کا خوشحال ہونا اس ملک کی ترقی و خوشحالی کی دلیل ہوتا ہے۔ بہرحال اب2سال کی حکومت کو عوام کو ریلیف فراہم کرتے ہوئے اس کی اشک شوئی کرنے کی ضرورت ہے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت کے جسم سے سنگین مسائل آکاس بیل کی طرح چمٹے ہوئے ہیں اور وہ ان مسائل کو حل کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے لیکن عوام سے جڑے بعض سنگین مسائل ایسے ہیں جنھیں آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے۔ان مسائل میں سے ایک مسئلہ مہنگائی کا ہے جس نے غریب عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ایک مہنگائی وہ ہے جو سرمایہ دارانہ نظام سے جڑی ہوئی ہے۔اس مہنگائی کو کوئی مائی کا لال اس وقت تک ختم نہیں کرسکتا جب تک سرمایہ دارانہ نظام باقی ہے لیکن بعض عوامی مسائل ایسے ہیں جنھیں ایک منظم طریقے سے عمل پیرا ہوکر ختم نہ سہی کم کیا جاسکتا ہے۔یہ مانتے ہوئے کہ ایک مہنگائی سرمایہ دارانہ نظام سے جڑی ہوئی ہے،ایک تاجروں اور صنعت کاروں کی ایجاد ہے۔ تاجر اور صنعت کار بھاری منافع کے لالچ میں اشیائے صرف کی قیمتیں اپنی مرضی سے بڑھا دیتے ہیں۔ 
پاکستان میں پرائس کنٹرول کمیشن مہنگائی کی روک تھام میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ کرپشن کی بھرمار ہے۔پرائس کنٹرول کرنے والوں کی جیبوں میں بھاری رقم آجاتی ہے تو قیمتوں میں اضافے کو کون روک سکتا ہے؟مہنگائی عوام کی زندگی پر براہ راست اثر کرتی ہے اوربے بس عوام کسی سے گلہ کرنے کے بھی قابل نہیں رہتے کیونکہ گلہ سننے والے تو سرمایہ دارانہ نظام کی غلامی تک محدود ہیں۔حکومت نے شائد ہر نوع کے مافیا سے ٹکر نہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اسی لئے چینی مہنگی بک رہی ہے حکومت خاموش ہے،آٹا نایاب ہو رہا ہے،حکومت چپ سادھ کر بیٹھی ہے ادویات مہنگی ہو رہی ہیں حکومت نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی ہے۔ ہاں البتہ ایک دو بڑھکیں ضرور سننے کو ملتی ہیں کہ مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کو چھوڑیں گے نہیں کاش وزیراعظم اس بات کو بھی اہمیت دیں کہ نہ صرف لاک ڈائون کی وجہ سے لوگ بھوک سے مرتے ہیں بلکہ مہنگائی کیوجہ سے پیدا ہونے والی بھوک بھی انہیں خودکشیوں پر مجبور کر سکتی ہے اور ان کے اپنے لوگ سر مایہ داروں کے سامنے چپ سادھے بیٹھے ہیں۔جب بھی کسی شعبے یا صنعت میں کچھ مخصوص افراد یا کمپنیاں ضرورت سے زائد منافع یا اجارہ داری قائم کرنے کے لئے گٹھ جوڑ کرتی ہیں تو دنیا کے مختلف ممالک میں اس رجحان کے تدارک کے لئے قواعد و ضوابط اور قوانین موجود ہیں اسی طرح پاکستان میں بھی اس رجحان پر نظر رکھنے کے لئے حکومت کی جانب سے قائم کیا جانے والا مسابقتی کمیشن موجود ہے جو آج سے تیرہ سال قبل ایک صدارتی آرڈی ننس کے تحت وجود میں آیا اور 2010 ء میں پارلیمان سے باقاعدہ منظور ہوا تھا اس مسابقتی کمیشن کے دائرہ کار میں زائد منافع کیلئے کاروبار میں گٹھ جوڑ قائم کر کے مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے اس کمیشن نے گذشتہ بارہ سالوں میں مختلف سیکٹرز میں گٹھ جوڑذخیرہ اندوزی اور اجارہ داری کے غلط استعمال پر کارروائی کرتے ہوئے 2399 آرڈرز جاری کئے اور مختلف سیکٹرز پر ستائیس ارب روپے کے قریب جرمانے عائد کئے لیکن ملک میں یہ مافیا اتنا طاقتور ہے کہ انہوں نے اس مسابقتی کمیشن کے فیصلوں کو ملک کی مختلف عدالتوں میں چیلنج کیا ہوا ہے۔ 
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کو ساڑھے سات کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا لیکن اس جرمانے کو کمپیٹیشن اپیلٹ ٹربیونل میں چیلنج کر دیا گیا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس مافیا کو کنٹرول کرنے کے لئے اپنے اقدامات کی بدولت کہاں کھڑی ہے اس مافیا کو کنٹرول کرنے کے لئے انتظامی اور آئینی سقم کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اس مسابقتی کمیشن کو مضبوط کرنے کے لئے اس کے عدالتی نظام کو بھی دوام بخشنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ کمیشن اپنے قواعد و ضوابط اور آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف عملًا حرکت میں آسکے۔اگر دیکھا جائے تو اس کمیشن کی کارکردگی کے علائوہ بھی ایسے محرکات ہیں جو مہنگائی میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں جن میں شرح سود میں اضافہ،ٹیکسز کا بوجھ،ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹیوں کا غیر فعال ہونااور حکومت کی انتظامی معاملات میں سست روی شامل ہے اور یہی وجہ ہے کہ انتظامی معاملات سست روی کی وجہ سے ملک میں موجود اسی طاقتور مافیا نے پہلے گندم اور چینی برآمد کرکے منافع کمایا اور اب یہی مافیا یہی اشیا درآمد کر کے منافع کما رہے ہیں ۔
میڈیسن کمپنیوں نے شوگر، بلڈ پریشر، السر اور دیگر بیماریوں کی ادویات کئی گنا زیادہ مہنگی کردی ہیں۔علاج معالجے کی بنیادی سہولتیں بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہوچکی ہیں۔بچوں کے دودھ سے لیکر گھر کے راشن تک کے معاملات میں گھروں میں لڑائی جھگڑے عام ہوتے جارہے ہیں۔15 ہزار روپے ماہانہ کمانے والا شخص کس طرح اپنے گھریلو اخراجات پورے کررہا ہے؟ یہ وہی جانتا ہے یا پھر اس کا خدا جانتا ہے،کوئی نہیں جانتا تو بس حاکم وقت نہیں جانتا۔عوام کو آج دو وقت کی روٹی تک میسر نہیں،غربت کا یہ عالم ہے کہ پہلے لوگ اپنے بچوں کو فروخت کیا کرتے تھے،مگر اب بچے خود ہی بھوک سے مررہے ہیں۔ آج لوگوں کے حالات زندگی اس نہج پر آپہنچے ہیں کہ25 روپے کی چینی اور10 روپے کی پتی خرید کر صبح کا ناشتہ کررہے ہیں۔کئی گھرانے تو اس سے بھی محروم ہیں۔کیا مسائل کے خاتمے کے لئے غریب کو مرنا ہوگا۔میں ایک عام آدمی ہوں اور اس وقت جب یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو شدید مایوس ہوں کہ اس کا فائدہ کیاہوگا؟کیونکہ ایسی ہزاروں تحریریں موجود ہیں جوکہ صرف کاغذات کی حد تک محدود ہیں،مگر امید ہے کہ انسان کہلانے والے،انسان بن کر انسان کی فلاح کیلئے کام کریں۔ 
تحریک انصاف لمبے لمبے پراجیکٹس پر سر کھپا رہی ہے لیکن اسے عوامی زندگی پر براہ راست اثرانداز ہونے والے مسائل پر توجہ دینے کی فرصت نہیں لیکن یاد رکھا جائے کہ حکومت کی اس لاپرواہی اور غیر ذمے داری کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے حکومت کی اولین ذمے داری ہے کہ وہ اشیائے صرف کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے والے اداروں کی غیر ذمے داری اور کرپشن کے خلاف سخت ترین اقدامات کرے اور ان اداروں خصوصاً پرائس کنٹرول کمیشن میں کرپشن کی روک تھام کے لیے سخت ترین اقدامات کرے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت کے جسم سے سنگین مسائل آکاس بیل کی طرح چمٹے ہوئے ہیں اور وہ ان مسائل کو حل کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے لیکن عوام سے جڑے بعض سنگین مسائل ایسے ہیں جنھیں آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے۔