10:19 am
دو محاذوں پر جنگ

دو محاذوں پر جنگ

10:19 am

 ه(گزشتہ سے پیوستہ)
 زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ’’بھارتی چیف کو اس طرح کی شیخی بگھارتے وقت اپنی دفاعی کمزوریوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو دنیا کے سامنے بری طرح عیاں ہوچکی ہے‘‘۔بھارتی دفاعی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے رواں برس چین کے ساتھ شمالی سرحد پر کئی مہینوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ بھارت کا دفاع پہلے بالاکوٹ کے ناکام اقدام اور حال ہی میں لداخ میں بے نقاب ہوا۔اس دوران بھارت کے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی لداخ کے دورہ پر ہیں۔ وہ لداخ کو ’فخر ہندوستان‘ قرار دے رہے ہیں۔
 
لداخ کو بھارت نے اپنی یونین ٹیریٹری یا کالونی بنا دیا ہےجبکہ لداخ تاریخی اعتبار سے کشمیر کا ہی حصہ ہے۔بھارتی وزیر لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسل لیہہ کے انتخابات کے سلسلے میں شکوٹ یوکما،شکوٹ شما،شکوٹ گوگما،پھیانگ، چشکو، پھیانگ تھانگانک میں مہم چلا رہے ہیں۔آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد تجارت،زراعت، روزگار،ثقافت،زمین اور جائیداد وغیرہ کیلئے لیہہ اور کرگل کے لوگوں کے حقوق چھین لئے گئے ہیں۔اب انہیں کوئی آئینی تحفظ نہیں۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 3اکتوبر کو ریاست ہماچل پردیش اور لداخ کے درمیان اٹل بہاری واجپائی کے نام سے منسوب دنیا کی طویل ترین 9.2کلو میٹر دوطرفہ ہائی وے ٹنل ’’اٹل ٹنل‘‘کا افتتاح کیا جو ریاست ہماچل پردیش کو براستہ منالی لداخ سے جوڑ رہی ہے۔اس دفاعی اہمیت کی حامل زیر زمین سرنگ سے منالی کا کیلانگ لیہہ تک 46کلومیٹر اور چارگھنٹے کی مسافت کم ہو گی۔بھارت جو مرضی کر لے یہ درست ہے کہ وہ اپنی کسی بھی مذموم حرکت کے خلاف پاکستانی قوم کے جذبے اور مسلح افواج کی تیاریوں کو نظر انداز نہ کرسکے گا۔جنوبی ایشیاء  کے امن و خوشحالی کی خاطر بھارت نے تیسری صدی کے چانکیائی بیانیے کو نہ چھوڑا اور اکیسویں صدی کے خطے کے امن و ترقی کے ماڈل کونہ اپنایا تو یہ اس کے لئے تباہ کن ہو گا۔
 جنرل راوت نے یو ایس۔انڈیا اسٹریٹجک پارٹنرشپ فورم کے زیر اہتمام سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ پاکستان اور چین کی افواج سے بھارت کو شمالی اور مغربی سرحد پر مشترکہ کارروائی کا خطرہ ہے۔’’ہماری شمالی سرحد پر کوئی خطرہ بڑھا تو پاکستان اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے اور ہمیں مغربی سرحد پر مشکلات پیدا کرے گا‘‘ مگر ساتھ میں پاکستان کو دھمکی بھی دی کہ اگر پاکستان نے مس ایڈونچر کیا تو'بھاری نقصان کا سامنا' کرنا پڑے گا ۔پاکستان نے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے بیان کی مذمت کی اورکہاکہ اشتعال انگیز بیانات دینے اور اپنے ہمسائیوں پر الزامات عائد کرنے کے بجائے اپنے کام پر توجہ دیں۔ بھارت کی سینئر عسکری قیادت کی جانب سے اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات سے بی جے پی۔آر ایس ایس کا رویہ آشکار ہو رہا ہے، جو خطرناک انتہا پسند نظریات سے بھرپور،بالادستی کے ارادے اور پاکستان کے خلاف پائے جانے والے جنون کا مجموعہ ہے اور یہ نظریہ بھارتی ریاستی اداروں میں سرایت کرگیا ہے۔ بھارتی حکومت ہر جغرافیائی سیاسی یا عسکری دھچکے پر غلطیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے بے بنیاد اور اشتعال انگیزی کو مزید ہوا دیتی ہے۔بھارت کی لداخ اور بالاکوٹ ناکام حملوں سے اس کی دفاعی صلاحیت دنیا کے سامنے شرم ناک حد تک بے نقاب ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرا۔افغانستان میں اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا دورہ دہلی اورنریندر مودی،قومی سلامتی کے مشیر،وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقاتیں بھی اسی تناظر میں ہوئی ہیں مگر بھارت ،چین اور پاکستان کے ساتھ دو محازوں پر لڑنے کے کھوکھلے دعوے کرنے اور متشدد بیانات کے بجائے حقائق کا سامنا کرے۔ ان سے بھارت کو ذلت کے سوا کچھ نہیں ملا،بھارتی قیادت کو پاکستان مخالف رائے عامہ ہموار کرنے،توسیع وجارحیت پسندانہ عزائم کے بجائے کشمیر سمیت تصفیہ طلب مسائل کا پرامن حل نکالنے پر توجہ دینی چاہیے،جن سے وہ راہ فرار اختیار کر رہا ہے۔