03:20 pm
 افغان امن بحالی ۔پاکستان کا روشن کردار

 افغان امن بحالی ۔پاکستان کا روشن کردار

03:20 pm

 افغانستان میں امن کی بحالی کی خاطر بین الا فغا ن مذاکرات میں شرکت کے لئے فریقین گذشتہ ماہ سے دوحہ میں موجود ہیں۔ ایک جانب طالبان ہیں تو دوسری جانب افغان معاشرے کے مختلف طبقات کی نمائندگی کے دعویدار وں کا بہت بڑا وفد ہے جس میں کابل سرکار کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ امریکہ بہادر اور نیٹو کے علاوہ بہت سے ممالک کے نمائندے ان مذاکرات پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ تاحال دستیاب اطلاعات کے مطابق مذاکرات کے ایجنڈے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ طالبان کا اصرار ہے کہ مستقبل میں ملک کا نظم و نسق چلانے کے لئے فقہ حنفی کے اسلامی شرعی اصولوں کو اختیار کیا جائے۔ دیگر فریقین کی تجاویز ہیں کہ شیعہ آبادی اور مذہبی اقلیتوں کے عقائد کے مطابق مخصوص قوانین (پرسنل لاء) کی گنجائش پیدا کی جائے۔ دوسرا اہم حل طلب مسئلہ کافی پیچیدہ اور دلچسپ ہے۔ طالبان کا موقف یہ ہے کہ فروری میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے کو مذاکرات کے عمل میں کلیدی اہمیت دی جائے۔ طالبان مخالف قوتوں کے لیے یہ امر ہمیشہ سے باعث تشویش رہا ہے کہ ایک متحد قوت کے مقابل اُن کی دال کیسے گلے گی؟ کابل حکومت کی کمزوریاں طالبان کے نظم و اتحاد کے سامنے مزید نمایاں ہو جاتی ہیں۔
 فروری میں امریکہ اور طالبان کے مابین امن معاہدہ عملی طور پر کابل حکومت کی نفی تھا۔ لولے لنگڑے انتخابات کے بعد جب اشرف غنی کرسی صدارت پر براجمان ہونے لگے تو عبداﷲ عبداﷲ نے حسب سابق واویلا مچا کر اقتدار کی کھیر میں اپنا حصہ وصول کر لیا ۔ اب وہ افغان امن بحالی کے لیے بنائی گئی مصالحتی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے مختلف ممالک کے دورے بھی کر رہے ہیں ۔ ان اہم دوروں کا آغاز انہوں نے پاکستان سے کیا ۔ یہ خوش آئند امر رہا ہے کہ ماضی کے برعکس اب عبداﷲ عبداﷲ نے پاکستان بارے اپنا لب و لہجہ بدل کر مثبت انداز اپنایا ہوا ہے۔ تاریخ کے اس نازک موڑ پر انہیں یہ ادراک ہوا ہے کہ دنیا بھر میں اگر کوئی ملک افغانستان میں امن کی بحالی کا خواہاں ہے تو وہ پاکستان ہی ہے۔ پاکستان کے دورے کے بعد عبداﷲ عبداﷲ بھارت پہنچے ہیں ۔ ماضی کی خوشگوار گرمجوشی اُن کے بیانات سے عیاں ہے تاہم یہ واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے کہ بھارت کے فیصلہ ساز امن مذاکرات عمل میں پاکستان کے کلیدی کردار کے باعث سکتے کی سی کیفیت میں ہیں۔ بھارتی جریدے دی پرنٹ میں دفاعی اور سٹریٹجک امور کی ماہر جیوتی ملہوترہ نے اسی کیفیت کا تجزیہ کرتے ہوئے بھارت کو عارضی طور پر افغانستان میں موقع کی تلاش میں گھات لگا کر بیٹھنے کا مشورہ دیا ہے۔ 
جیوتی ملہوترہ کے مطابق پاکستان کے کلیدی کردار اور اثر و رسوخ کے مقابل بھارت اس وقت افغانستان میں فوری طور پر کوئی موثر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ تاہم اس طرح کے تجزیات سے یہ امر ثابت ہو جاتا ہے کہ بھارت افغانستان کے اکھاڑے میں ایسے شر پسندانہ عزائم کی تکمیل میں کوشاں ہے جو خطے سمیت پاکستان کے لیے مہلک ثابت ہو ں گے۔ دوسر ی جانب صدر اشرف غنی امیر کویت کی آخری رسومات میں شرکت کے فوراً بعد قطری امیر کی دعوت پر دوحہ جا پہنچے۔ جہاں غالباً انہوں نے مستقبل کے بندوبست میں اپنی کرسی کی ضمانت حاصل کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ طالبان نے ابتدائی مرحلے پر ہی قطر میں اشرف غنی سے ملاقات سے عدم دلچسپی کا اظہار کر دیا۔ یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ افغانستان سے کویت اور قطر روانگی سے قبل اشرف غنی کے وفد میں شامل اہم وزراء اور نائب صدر پاکستان کے خلاف عوامی اجتماعات اور پریس بریفنگز میں ہرزہ سرائی کرتے رہے۔ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کابل حکومت کے دو اہم نمائندوں صدر اشرف غنی اور عبداﷲعبداﷲ کے درمیان مفادات کا شدید ٹکرائو ہے۔ منقسم حکومت اور عدم یکسوئی کا شکار افغان نمائندہ وفد مذاکراتی عمل میں طالبان کے مقابل نہایت کمزور ثابت ہو گا۔ مذاکراتی عمل اگر کھٹائی میں پڑ گیا تو پاکستان اور افغانستان کے امن پسند طبقات کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ افغانستان میں پرتشدد واقعات میں تشویشناک اضافہ امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔ سب جانتے ہیں کہ بھارت ہر قیمت پر افغانستان کو پاکستان کے خلاف محاذ جنگ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ 
گذشتہ برسوں میں پاکستان کی سرزمین پر ہونے والے بیشتر دہشت گرد حملوں کے تانے بانے افغانستان کی سرزمین پر متحرک ان دہشت گرد گروہوں نے بُنے جن کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے ۔ خطے میں عالمی قوتوں کے درمیان جاری رسہ کشی نے بھی افغانستان کی صورتحال میں پیچیدگی پیدا کر رکھی ہے۔ چین کے خلاف امریکی سرکردگی میں بننے والے دھڑے میں بھارت پیش پیش ہے۔ چین سے خوشگوار تعلقات کار کی سزا دینے کے لیے پاکستان کو افغانستان کے محاذ پر الجھانے کے لیے بھارت سے بہتر کوئی اور اتحادی امریکہ کو دستیاب نہیں ہو سکتا۔ اس پیچیدہ صورتحال میں امریکی صدر ٹرمپ نے دسمبر تک امریکی فوجیوں کے افغانستان سے انخلاء کا ٹوئیٹ کر کے سب کو وقتی طور پر چونکایا ہے۔ غالب امکان ہے کہ یہ ٹوئیٹ صدارتی الیکشن مہم میں عوامی حمایت بٹورنے کا ٹوٹکا ہے۔ فوجی انخلاء کے حساس معاملے پر پینٹاگون ، سی آئی اے اور نیٹو ممالک کی رائے ممکنہ طور پر مختلف بھی ہوسکتی ہے ۔ پاکستانی وزیراعظم نے بھی واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں امریکہ بہادر کو عجلت میں کئے جانے والے انخلاء کے مضمرات سے آگاہ کرتے ہوئے یہ یاد دلایا تھا کہ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران عالمی قوتوں کی مہم جوئی کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان اور افغانستان نے اٹھایا ہے۔ افغانستان کی دن بدن پیچیدہ ہوتی صورتحال میں مستقبل کی پیش گوئی کرنا آسان نہیں تاہم پاکستان کی جانب سے امن بحالی کے لیے کی جانے والی کاوشیں اب عالمی سطح پر تسلیم کی جا رہی ہیں۔ 


 

تازہ ترین خبریں

کراچی سے ملتان سمگلنگ کی کوشش ناکام

کراچی سے ملتان سمگلنگ کی کوشش ناکام

 اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بیانیہ ملک پر مسلط کرنےکی کوشش کی جارہی ہے، شاہد خاقان عباسی

اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بیانیہ ملک پر مسلط کرنےکی کوشش کی جارہی ہے، شاہد خاقان عباسی

 پاکستان کا وفادار اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتا، نومنتخب امریکی صدرفلسطین اور کشمیریوں کیلئےکردار ادا کریں۔مولانا فضل الرحمان

 پاکستان کا وفادار اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتا، نومنتخب امریکی صدرفلسطین اور کشمیریوں کیلئےکردار ادا کریں۔مولانا فضل الرحمان

غریب کیسے زندہ رہے؟ پٹرول مہنگے ہونےکے ایک ہی ہفتے بعد عوام کو ایک اورزوردار جھٹکا

غریب کیسے زندہ رہے؟ پٹرول مہنگے ہونےکے ایک ہی ہفتے بعد عوام کو ایک اورزوردار جھٹکا

پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کی تاریخ کا اعلان کردیاگیا

پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کی تاریخ کا اعلان کردیاگیا

حکومت کو پاور پلانٹ کو گیس سپلائی بند کرنےکا فیصلہ

حکومت کو پاور پلانٹ کو گیس سپلائی بند کرنےکا فیصلہ

این آر او لیگ روزانہ سرکس لگاتی ہے، مراد سعید

این آر او لیگ روزانہ سرکس لگاتی ہے، مراد سعید

سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت 3اعشاریہ 8ریکارڈ 

سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت 3اعشاریہ 8ریکارڈ 

براڈ شیٹ معاملہ: چئیرمین نیب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سامنے طلب

براڈ شیٹ معاملہ: چئیرمین نیب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سامنے طلب

بلوچستان کے تمام معاملات اسٹیبلشمنٹ چلارہی ہے، سردار اختر مینگل

بلوچستان کے تمام معاملات اسٹیبلشمنٹ چلارہی ہے، سردار اختر مینگل

کسی بھی جماعت کو ممنوعہ فنڈنگ کی وجہ سے تحلیل نہیں کیا جاسکتا ، فنڈنگ چاہے جہاں سے بھی ہو ۔ اعتزاز احسن

کسی بھی جماعت کو ممنوعہ فنڈنگ کی وجہ سے تحلیل نہیں کیا جاسکتا ، فنڈنگ چاہے جہاں سے بھی ہو ۔ اعتزاز احسن

بختاور بھٹو زرداری کی شادی کی تاریخ سامنے آگئی

بختاور بھٹو زرداری کی شادی کی تاریخ سامنے آگئی

پاکستان نے یاسین ملک کی قید کےخلاف اقوام متحدہ کوخط لکھ دیا

پاکستان نے یاسین ملک کی قید کےخلاف اقوام متحدہ کوخط لکھ دیا

 اپوزیشن کی بڑی جماعتیں غیر ملکی فنڈنگ لیتی رہی ہیں، فارن فنڈنگ پر اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینگے ۔ وزیراعظم عمران خان 

 اپوزیشن کی بڑی جماعتیں غیر ملکی فنڈنگ لیتی رہی ہیں، فارن فنڈنگ پر اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینگے ۔ وزیراعظم عمران خان