10:21 am
اکابر علماء کی سیکورٹی سے غفلت؟

اکابر علماء کی سیکورٹی سے غفلت؟

10:21 am

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کہتے ہیں کہ ’’مولانا ڈاکٹر عادل خان کی شہادت المناک قومی سانحہ ہے … ظالموں نے ہمیں ایسی شخصیت سے محروم کر دیا جس سے روشن امیدیں وابستہ تھیں، انہوں نے ایک طرف ناموس صحابہؓ کے لئے باغیرت قائد کا فریضہ سرانجام دیا ، دوسری طرف وہ بااصول قومی وحدت کے لئے کوشاں تھے۔‘‘
بریلوی مسلک کے نامور اور ممتاز عالم دین مفتی منیب الرحمن اپنے ایک ٹویٹ میں کہتے ہیں کہ ’’مولانا ڈاکٹر عادل خان ایک نڈر، بے باک اور جید عالم دین تھے … ان کی جدائی ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔‘‘
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان  نے بھی مولانا ڈاکٹر عادل خان کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے، سچی بات تو یہ ہے کہ شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عادل خان ایک بہت بڑی عالمانہ شخصیت کے مالک تھے … ان کی شہادت کا غم پاکستان سے لے کر ملائیشیاء تک پھیلا ہوا ہے … مولانا عادل خان کو شاہ فیصل کالونی کے جس شمع شاپنگ سینٹر کے سامنے برلب روڈ قاتلوں نے گولیوں کا نشانہ بنایا … میرا سینکڑوں مرتبہ وہاں سے گزرنا ہوا، کیونکہ میں جب اپنے دوست ممتاز دانشور عالم دین ابن الحسن عباسی سے ملنے ان کے جامعہ میں جاتا تو یہیں سے گزرتا، یہاں ہر وقت گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کا رش لگا رہتا ہے … ہفتہ کی شام بھی وہاں گاڑیوں کا رش اور عوام کا اژدھام تھا … مولانا عادل خان نے گاڑی رکوائی اور اپنے بیٹے مفتی عمیر کو مٹھائی کی دوکان سے مٹھائی لینے کے لئے بھیجا … وہ دہشت گرد کہ جو دارالعلوم کورنگی سے گاڑی کے تعاقب میں تھے انہوں نے موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے قریب آکر مولانا عادل خان اور ان کے ڈرائیور کو شہید کر دیا، وہ غالباً3 یا 4 تھے … ملک و ملت کی عظیم ترین  متاع کو خون میں نہلا کر  وہ دہشت گرد بڑے سکون سے چلتے بنے، نہ انہیں کسی نے روکنے کی کوشش کی اور نہ ان کا تعاقب کرنے کی ضرورت محسوس کی۔
یہاں لوگوں کی بے حسی تو اپنی جگہ پر ہے ہی … لیکن مولانا شہید کے ساتھ ان کے ذاتی سیکورٹی گارڈز کا نہ ہونا بھی کسی المیے سے کم نہیں ، میرا اکابر علماء کی خدمت میں بڑی شدت کے ساتھ یہ سوال اٹھانا لازم ہوچکا ہے کہ کیا اپنی حفاظت کے لئے اگر سرکاری نہیں تو ذاتی باڈی گارڈز رکھنا اللہ پہ توکل کے خلاف ہے؟ دین حق کا کام کرنے اور کلمتہ الحق کا اعلان کرنے کی وجہ سے صرف کافر ہی نہیں بلکہ منافقین کے گروہ کے گروہ بھی … علماء حق کی جانوں کے دشمن ہو جاتے ہیں ، کافروں اور منافقوں  کے سرغنے تو اپنے ساتھ حفاظتی لشکر لے کر چلتے ہیں اور مولانا عادل خان جیسے حق و صداقت کے علمبردار علماء اپنے ساتھ دو، چار ، دس تو دور کی بات ایک گارڈ رکھنا بھی گوارا نہیں کرتے … تو پھر عالمی صیہونی طاقتوں  کے پروردہ دہشت گرد ایسے گولڈن چانس کیونکر مس کرنے کیلئے تیار ہوں گے کہ جب انہیں حق کے ’’ترجمان‘‘ یوں بے سروسامانی کے عالم میں سڑک کے کنارے مل جائیں؟
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ موت کا وقت مقرر ہے اور جب ، جیسے ، جہاں موت آنی ہو توپھر کوئی حفاظتی دستہ اسے روک نہیں سکتا، یہاں پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حفاظتی گارڈز ساتھ رکھنا اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے ؟ ان سوالوں کا جواب تو مفتیان کرام ہی دے سکتے ہیں، لیکن میرے ذاتی خیال کے مطابق اپنی حفاظت کے لئے گارڈز مقرر کرنا موت کے فرشتے کو روکنے کیلئے نہیں بلکہ بدنسل، موذیوں اور درندں سے بھی بدتر شقی القلب دہشت گردوں کو  پرے دھکیلنا ہوتا ہے، وہ اکابر علماء کہ جو پوری امت کے لئے مصلح کا کردار ادا کررہے ہوتے ہیں … جن سے علم حاصل کرکے ان کے ہزاروں شاگرد علماء… آگے لاکھوں انسانوں میں علم کی دولت  بانٹ  رہتے ہوتے ہیں … اب ان اکابر علماء کو کون سمجھائے کہ ان کی ذات صرف ملک میں  ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی طور پر امت کے لئے نافع ہوتی ہے … ان کی عاجزی، انکساری اور اللہ پر توکل اپنی جگہ پر …لیکن ان کے ساتھی علماء، علماء کی جماعتیں ، جن مدارس کے وہ مہتمم ہیں، جن مساجد کے وہ خطیب ہیں ، ان مدارس اور مساجد کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان جید علماء کی سیکورٹی کا بندوبست کریں… حکمرانوں کی یہ عجب منطق ہے کہ ڈاکٹر عادل خان کے قتل میں بھارت ملوث ہے … عوام پوچھتے ہیں کہ بھارت یا کوئی دوسرا ملک وزیر اعلیٰ، صوبائی وزیروں، وفاقی وزیروں، مشیروں، وفاقی سیکرٹریوں، چیف سیکرٹریز و دیگر گورنمنٹ آفیشلز کو چھوڑ کر صرف علماء حق پر ہی کیوں حملے کرواتا ہے؟
اگر ریاستی اداروں اور حکمرانوں کے علم میں ہے کہ علماء بین الااقوامی طاقتوں کے ٹارگٹ پر ہیں تو پھر ان صوبائی مشیروں ، وزیروں سے سیکورٹی واپس لے کر ان علماء کرام کو کیوں نہیں دی جاتی کہ جن کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں، ’’فرقہ واریت‘‘ پاکستان میں کہاں ہے؟ مجھے تو پاکستان میں فرقہ واریت کہیں پر نظر نہیں آتی… ناموس رسالتﷺ اور ناموس صحابہؓ و اہل بیتؓ کا دفاع کرنا، ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ اور غیرت کی نشانی ہے  اور خوش آئند بات یہ ہے کہ شیعہ راہنمائوں نے بھی مولانا ڈاکٹر عادل خان کے ظالمانہ قتل کی شد ید الفاظ میں مذمت کی ہے … میرا مفتی منیب الرحمن، مولانا حنیف جالندھری، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، مولانا لدھیانوی سمیت دیگر علماء کے ہم مشرب علماء، شاگردوں، ان کے مدارس کے سینئر اساتذہ، شیوخ الحدیث اور ان کے مسالک کے نوجوانوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے اپنے علماء کی کم از کم اتنی سیکورٹی کو تو یقینی بنائیں کہ پاکستان دشمن عناصر انہیں لاوارثوں کی طرح سڑکوںپر گولیوں سے چھلنی تو نہ کرتے پھریں؟ مولانا ڈاکٹرعا دل خانؒ کو اگر سندھ یا وفاقی حکمت نے سیکورٹی نہیں دی تھی تو ان کے جامعہ، ان کے ساتھ علماء اور ہم مسلک اکابرین کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان کی سکیورٹی کا بندوبست کرتے۔ (وماتوفیقی الا باللہ)