10:22 am
عالم اسلام کاایک اورسانحہ

عالم اسلام کاایک اورسانحہ

10:22 am

 (گزشتہ سے پیوستہ)
غورطلب بات یہ ہے کہ اس معاہدے سے کس نے کیاحاصل کیا؟اس معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل کادیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہواچاہتا ہے۔ وہ یوں کہ اس کوخلیج عرب کی ایک بڑی معیشت تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔اس کی عرب دنیاکے سب سے جدید ملک کے ساتھ شراکت داری قائم ہوجائے گی۔ یواے ای کویہ خواب دکھایاگیاہے کہ اسرائیل کی زراعت سے دفاعی شعبے تک جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔یہ سمجھنے کیلئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں کہ اسرائیل اس خطے میں کسی کواتناطاقتوربنتے نہیں دے گاکہ کل کلاں وہ اس کیلئے خطرہ بن جائے،تاہم دونوں ممالک خودکواگرایک مخالف خطے میں پاتے ہیں توان کے درمیان فوجی تعاون کھیل کاپانسہ پلٹنے کیلئے اہم عامل ثابت ہو گا۔
دوسری جانب ابوظہبی قطرپراس مقصد کیلئے دباؤڈالے گا کہ وہ بھی اس کی پیروی کرے یاپھروہ بظاہرامریکی عوام کی نظروں میں امن کامخالف سمجھاجائے گا۔فلسطینی یاکم سے کم اعتدال پسند حلقے امریکہ کی گزشتہ دوسال کے دوران اسرائیل نوازپالیسی سے مطمئن نہیں ہیں،انہیں اب ایک نیاموقع مل جائے گاکہ وہ اپنی حتمی ریاست کے قیام کیلئے زیادہ فعال کردارادا کرسکیں۔ انہیں خلیج کی جانب سے خاطرخواہ اقتصادی امدادمل سکتی ہے۔
بظاہرفلسطینیوں کویہ خواب بھی دکھایاگیاہے کہ یواے ای کے ساتھ معاہدے کے بعداسرائیل غرب اردن کے سرحدی علاقے کو قومیانے کے منصوبے کومنجمد کردے گا۔یہ ایک معجزہ ہی ہے لیکن فلسطین کی سول سوسائٹی اورنوجوانوں کیلئے اس سے بھی بڑا معجزہ یہ ہے کہ نوجوانوں کودبئی کے غربِ اردن سے کاروباری رابطے کے نتیجے میں کافی اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے اوروہ پچھلی سات دہائیوں سے جاری معاشی مشکلات سے چھٹکارہ پاکرغربت اورمفلسی کی دلدل سے نکل سکتے ہیں اوراپنی آنے والی نسل کوبہترین ضروریات زندگی کے ساتھ بہترین تعلیم کے زیورسے آراستہ کرسکیں گے جبکہ اسرائیل سمجھتاہے کہ اس لالچ سے وہ فلسطینیوں کی آئندہ آنے والی نسل کواپنے خلاف جہادسے بھی دور کر سکتاہے۔
یقینااس معاہدے کے بعدشدیدترین مخالفت کرنے والے بھی کھل کرسامنے آگئے ہیں۔ بظاہریواے ای اوردیگرذرائع ابلاغ کواسرائیلی اورامریکی میڈیامیں ان مخالفین کے خلاف پروپیگنڈہ کوبڑی پذیرائی مل رہی ہے کہ ایران اوراخوان المسلمون بلاشبہ ایسے کسی معاہدے کی اس لئے مخالفت کررہے ہیں کیونکہ ایسا معاہدہ ان کے امور‘لوگوں کوریڈیکل بنانے، فلسطینی نصب العین (کاز)اور یروشلم کے بارے میں پتوں کی بڑے موثراندازمیں فعالیت کوکم کردے گاجبکہ اماراتی دنیابھرکے مسلمانوں کیلئے اس مقدس شہر کے دروازے کھولیں گے۔ترکی کی حکمران جماعت بھی اس امن معاہدے کی مخالفت میں ایران کی صف میں شامل ہوگئی ہے لیکن اس کیلئے ضرررساں امریہ ہے کہ استنبول میں سیکولرحضرات اور کاروباری افراداس طرح کی جارحانہ خارجہ پالیسی سے مایوس ہوتے جارہے ہیں۔ نتیجتاً اسرائیلی کاروباری اپنے کاروبارکوترکی سے خلیج کی منڈی میں منتقل کردیں گے کیونکہ انہیں ترکی میں اس معاہدے کی مخالف ایک جارحانہ حکومت کاسامنا ہے۔
جہاں تک یواے ای کاساتھ دینے والا دوسرے ملک بحرین کاتعلق ہے تواس نے توبرسوں قبل بین المذاہب مکالمے کاآغازہی اس لئے کیاتھاکہ اس کی آڑمیں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کاراستہ کھولاجائے اورگزشتہ چندبرسوں سے اپنے ہاں کی شیعہ آبادی میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے پیچھے ملوث ایرانی ہاتھوں کوواضح پیغام دیاجائے۔ عمان اور کویت فی الحال اس معاملے کوبغوردیکھنے کی پالیسی پرگامزن ہیں لیکن سب سے بڑاتحفہ،جومشرقِ وسطیٰ میں بنیادہی کوتبدیل کرکے رکھ دے گا،وہ سعودی عرب کے علاوہ کوئی اورنہیں ہے جبکہ خطے کے سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ممکن ہی نہیں کہ یواے ای اوربحرین اتنابڑاقدم سعودی مشاورت کے بغیراٹھاسکیں کیونکہ سعودی ولی عہدشہزادہ محمدبن سلمان ابوظہبی کے ولی عہدمحمد بن زایدالنہیان کے انتہائی قریبی دوست اور اتحادی ہیں۔نوجوان سعودی ولی عہد نے پہلے ہی مملکت کی تاریخ میں اصلاحات کے نام پر’’سعودی عرب وژن 2030ء ‘‘سب سے بڑامنصوبہ شروع کررکھاہے جس میں جہاں دبئی جیسی تمام سہولیات کے ساتھ ایک ایسانیاشہر بنایاجارہا ہے۔ ملک بھرمیں سینماوتھیٹرکے ساتھ مغربی میوزک کے پروگرامزکاآغازہوچکا ہے جس کے جواب میں بیشتروہ تمام مذہبی علماء جنہوں نے ان اقدامات کواسلامی معاشرے کے خلاف آواز اٹھائی تھی،ان کی اس آوازکونہ صرف دبادیاگیاہے بلکہ ایک سخت گیرپالیسی کابرملااعلان کرکے امریکی ومغربی میڈیاسے تحسین بھی وصول کی جا چکی ہے۔
امریکی اورمغربی میڈیاجوبظاہرسعودی صحافی جمال خاشفجی کے ترکی میں سعودی سفارت خانے میں بہیمانہ قتل پرٹرمپ سے اس ظالمانہ عمل پرکارروائی کامطالبہ کررہاتھا،اس نے بھی حالیہ یواے ای اوربحرین کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے پرایک مرتبہ پھرسعودی ولی عہدمحمدبن سلمان کی تعریف میں توصیفی کلمات کے انبارلگاتے ہوئے اپنے اداریوں میں لکھا ہے کہ’’ ریاض سربراہ اجلاس کے بعد محمدبن سلمان نے ہی ٹرمپ کے ساتھ مل کرخلیج میں سفارتی نشاثانیہ میں اہم کرداراداکیا ہے‘‘ مگرساتھ ہی یہ مشورہ بھی دیاہے کہ انہیں خودبڑی احتیاط سے اپنے ملک میں دوررس نتائج کی حامل اصلاحات کوعملی جامہ پہنانا ہوگاتاکہ وہ خودیروشلم کی جانب جانے والی شاہراہ پرچلنے کیلئے عرب اتحاد کی قیادت کرسکیں اوروہاں امن کی دعاکرسکیں ۔تاہم یہ بات طے ہے کہ خطے میں اس دھماکے بعدعالم اسلام کوشدیددھچکالگاہے جس کے جواب میں عالم اسلام میں اتحادکی کوششوں کوبری طرح ناکامی کامنہ دیکھناپڑگیاہے اوریہی امریکہ ومغرب کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی کامیابی ہے جوکہ عالم اسلام کیلئے ایک سانحے سے کم نہیں۔