01:16 pm
قرآن اورسائنس متصادم؟

قرآن اورسائنس متصادم؟

01:16 pm

سائنس کسے کہتے ہیں؟اس سوال کے ماہرین کے مطابق یہ طبیعی کائنات کاغیرجانبدارانہ مشاہدہ اوراس سے متعلق بنیادی حقائق کا مطالعہ،جاننے اورسیکھنے کے علوم کانام ہے ۔یہ مشاہدے سے دریافت ہونے والے نتائج یاعلمی حقائق کومرتب اورمنظم کرنے کاعلم ہے۔یہ تجرباتی علوم وحکمت یافطری وطبیعی مظہرکاباقاعدہ علم یاایسی سچائی ہے جومشاہدہ،تجربہ یااستقرائی منطق سے حقیقت کے کسی پہلوکاباقاعدہ مطالعہ ہے۔خلاصہ یہ کہ سائنس علم،معلومات،مشاہدے وتجربے،حقائق کے غیرجانبدارانہ مطالعے،استقرائی منطق سے حقیقت واقعہ تک رسائی سے عبارت ہے۔کیامذہب کوبھی ان چیزوں سے کوئی سروکارہے یانہیں۔
 
قرآن کامطالعہ کرنے والاایک عام قاری بھی محسوس کرسکتاہے کہ قرآن اپنے قاری سے کثرت اورتکرارکے ساتھ علم،مشاہدے، تدبروتفکر، جاننے، سیکھنے،علم حاصل اورحقائق کے مثبت وغیرجانبدارانہ مطالعہ کامطالبہ کرتاہے۔قرآن کے مطابق انسان کواس کی تخلیق کے بعدسب سے پہلے علم الاشیاکی بنیادپرفرشتوں پر فضیلت بخشی گئی۔ (البقرہ:30۔33) ، سب سے پہلے علم وتعلم کی اہمیت اجاگرکی۔اس کے نزول کی ابتداء ہی علم وتعلیم سے متعلق آیات سے ہوئی۔ (العلق:1۔5)،اس نے واضح کیاکہ علم والے اوربے علم برابر نہیں ہو سکتے۔(الزمر:9)،علم والے اللہ کے ہاں صاحبانِ فضل وکمال ہیں۔ (المجادلہ:11) ، اللہ تعالیٰ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جواہلِ علم ہیں۔(الفاطر:28)
جہاں تک مشاہدے،تجربے،تدبرفی الخلق کے ذریعے حقیقت تک رسائل کاتعلق ہے توقرآن میں اس قدرزوردیاگیاہے کہ اس کے مقدس اوراق میں سے کم ہی اس سے خالی ہوں گے۔قرآن کے نقطہ نظرسے ذکر ِخداوندی کی ترجیحی اہمیت محتاج دلیل نہیں لیکن اس کے نزدیک اس کے ساتھ بھی تدبر لازم ہے۔وہ اصل اہلِ ذکرانہی کو مانتاہے جو ذکرِالہٰی کے ساتھ ساتھ تخلیق ارض وسما ء میں  غوروفکر جاری رکھتے ہیں۔(آل عمران: 191) ایک عام آدمی بھی جانتاہے کہ سائنسدان جانوروں، زمین وآسمان اورپہاڑوں وغیرہ کی ساخت پراوران سے متعلق  دیگر امورپرتحقیقات پیش کرتے ہیں۔ قرآن پکار پکار کرکہہ رہاہے کہ ان چیزوں میں بِلاشبہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اورانسانوں کوترغیب دیتا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں مشاہدہ اورتفکر و تد برسے کام لیں (الغاشیہ:18۔20، ق:6)،مشاہدہ اور تدبر فی الخلق کی اہمیت کے پیش نظرقرآن نے ان لوگوں کو حیوانوں سے بھی بدتراورجہنمی قراردیاہے، جو اپنے قوائے حسی کومشاہدہ فطرت اور ذہنوں کو تفکروتدبر کیلئے استعمال نہیں کرتے۔ (الاعراف:179)
قرآن کی دعوتِ فکروتدبرکے ضمن میں یہاں یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ قرآن نے کسی مظہر ِفطرت کودیکھ کراس پرغوروفکرکئے بغیر آگے گزرجانے کونافرمانوں کی نشانی بتایاہے (یوسف:105)، اشیاء کوان کی اصلی حالت میں دیکھنے اورمشاہدے کے نتائج میں غلطی سے بچنے کیلئے قرآن بہ تکرارصحیفہ فطرت کے مطالعہ کی دعوت دیتاہے مثلا ًایک جگہ ارشاد ہے: (اللہ)جس نے تہ بہ تہ سات آسمان بنائے،تم رحمان کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پا گے،پھرپلٹ کردیکھو،کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتاہے؟ باربارنگاہ دوڑا،تمہاری نگاہ تھک کر، نامرادپلٹ آئے گی۔(الملک:3۔4)
یہاں قرآن باربارنگاہ ڈالنے اورغوروفکرکرنے پرزوردے رہاہے۔سائنسی زبان میں یہی چیز مشاہدہ (Observation) اور تجربہ (Experiment)  کہلاتی ہے۔کسی چیز کا بار بار مشاہدہ کرنے اورحالات بدل بدل کریعنی تجربہ کرکے مطالعہ کرنے اور غور و فکر کرکے گہرے نتائج اخذ کرنے کو سائنسی تحقیق کہاجاتاہے۔تجربہ اور مشاہدہ کی انتہائی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اس سے ربِّ کریم کی قدرتِ کاملہ پرایمان مضبوط اواطمینانِ قلب نصیب ہوتاہے چنانچہ مشاہدہ تجربہ اورتدبرفی الخلق کے اعتبارسے بھی قرآن اورسائنس میں ایک واضح تعلق نظرآتاہے۔
اس حقیقت سے انکارنہیں کہ قرآن ہرگز سائنس کی کتاب نہیں،اس کااصل اوربنیادی کام انسان کی ہدایت ہے تاہم وہ جہاں انسان کواللہ کی معرفت کادرس دیتاہے وہاں اللہ کی کبریائی، خلاقیت اورعلم وقدرت وغیرہ کے اظہارکیلئے اور اپنے دعوئوں کی حقانیت کے ثبوت میں کائنات اوراس میں کارفرما قوانین طبیعی سے تعرض کرتے ہوئے ان کے کسی نہ کسی پہلو کوبطورِدلیل پیش کرتاہے اورساتھ ہی ساتھ کائنات اوراس کے مظاہرکے مشاہدے اورمطالعے کی دعوت دیتا ہے۔ گویاحقیقت تک رسائی کیلئے جن چیزوں پرسائنس کاانحصار ہے،قرآن بھی سچائی تک پہنچنے کی غرض سے انہی چیزوں کوذریعہ بنانے کوکہتاہے۔یہی وجہ ہے کہ فلاسفر،علمائے دین اوراہل سائنس کے نمایاں اوربڑے بڑے افرادنے مذہب اور سائنس کے تصادم کے تصورکاردکیااوران کی قربت کااثبات کیاہے مثلاًمعرکہ آرا سائنسی نظریہ ’’اضافیت‘‘ (Relativity)پیش کرنے والا، بیسویں صدی کاسب سے بڑا سائنسدان آئن اسٹائن کہتاہے:سائنسی تحقیق آدمی میں ایک خاص قسم کے مذہبی احساسات پیداکرتی ہے،یہ ایک طرح کی عبادت ہے۔میرے لیے راسخ ایمان کے بغیر اصلی سائنسدان کاتصورمحال ہے۔ معروف فرانسیسی سائنس دان،فزیشن،ماہرامراضِ قلب اورفرانس کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق صدر ڈاکٹرموریس بکائی لکھتے ہیں‘اس میں کوئی تعجب نہیں ہوناچاہیے کہ اسلام نے مذہب اورسائنس کوہمیشہ جڑواں بہنیں تصورکیا ہے۔آج بھی،جبکہ سائنس ترقی کی انتہاؤں کوچھورہی ہے،وہ ایک دوسرے کے قدم بقدم ہیں۔
میں ان سائنس مخالف دوستوں کی خدمت میں عرض کرناچاہتا ہوں کہ اگر وہ تحقیق کی تھوڑی سی زحمت بھی گواراکریں اور تعصب کی عینک اتارکر دیکھیں توانہیں معلوم ہوگاکہ مذہب اورسائنس کی قربت کا قائل صرف ڈاکٹرموریس بکائی نہیں،دنیا کے اکثر سائنسدان ہیں حتیٰ کہ آپ کوشائدہی کوئی ایسا معتبر سائنسدان ملے جومذہبی ذہن نہ رکھتاہو۔ آئزک نیوٹن جسے دنیائے سائنس کا سب سے بڑانام سمجھا جاتا ہے، دہریت کی مخالفت اورمذہب کے دفاع میں زوردار مضامین لکھتارہاہے۔اس نے اپنی متعددتحریروں میں ببانگ دہل اقرار کیاہے کہ یہ کائنات اللہ کے وجودکی ناطق شہادت ہے۔فرانسس بیکن،جوسائنسی طریق تحقیق کے بانیوں میں سے ہے ،سائنس اورمطالعہ فطرت کو کلامِ اللہ کے بعدایمان کاسب سے ثقہ ثبوت قرار دیتا ہے۔
مشاہدہ فلک کیلئے پہلے پہل ٹیلی اسکوپ استعمال کرنے والامشہورسائنسدان گلیلیوکہتاہے کہ یہ کائنات اوراس کے سارے حقائق اللہ کے تخلیق کردہ ہیں ،کائنات اللہ کی تحریرکردہ دوسری کتاب ہے، لہٰذاسائنس اورعقیدہ ومذہب کبھی ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہوسکتے۔جدیدعلمِ فلکیات کابانی کیپلر سائنس کی طرف آیاہی اپنے مذہبی رجحانات کی بناپرتھا،اس نے واضح کیاہے کہ اس نے اپنی سائنسی دریافتوں سے اللہ کوپہچاناہے۔
یہ توسائنسدانوں کے خیالات تھے۔جہاں تک علمائے اسلام کاتعلق ہے ان کے حوالے اس سے بھی زیادہ پیش کیے جاسکتے ہیں لیکن اختصارکو ملحوظ رکھتے ہوئے میں صرف دوحوالوں پر اکتفا کروں گا،ایک علامہ اقبالؒ کا،جوفلسفہ اورعلم دین دونوں میں مسلمہ حیثیت اورجدید مغربی تہذیب کے بہت بڑے ناقدہیں اوردوسرا مولاناسید مودودیؒ کا،جوبیسویں صدی کے دوران مسلمانانِ برصغیر میں مغربی تہذیب و اقدارکے مقابلہ میں اسلامی تہذیب اقدارپراعتمادپیدا کرنے اور احیائے اسلام کے حوالے سے ایک اہم اورنمایاں مصنف اور جانے پہچانے عالمِ دین ہیں۔ موخرالذکر رقمطراز ہیں‘حقیقت یہ ہے کہ سائنس کاکوئی شعبہ ایسانہیں ہے جو انسانوں کے دل میں ایمان کوگہری جڑوں سے رائج کرنے والانہ ہو۔ فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، اناٹومی، اسٹرانومی غرض جس علم کوبھی دیکھیں اس میں ایسے حقائق سامنے آتے ہیں جوانسان کوپکااورسچامومن بنادینے کیلئے کافی ہیں۔ سائنس کے حقائق سے بڑھ کرآدمی کے دل میں ایمان پیداکرنے والی کوئی دوسری چیزنہیں ہے۔یہی تووہ آیاتِ الہٰی ہیں جن کی طرف قرآن بارہاتوجہ دلاتاہے۔مقدم الذکر کہتے ہیں‘واقعہ یہ ہے کہ مذہبی اورسائنس،مختلف طریق کاراپنانے کے باوجود،اس اعتبارسے بالکل ایک ہیں کہ دونوں کامطمع نظرحقیقت و اقعہ تک رسائی ہے۔
جب یہ بات واضح ہوگئی کہ قرآن کی دعوتِ مطالعہ فطرت اورانفس وآفاق سائنس کی ترقی میں بنیادی اوراہم کرداراداکرنے والی چیزیں ہیں،مذہب سائنس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کومہمیزلگاتاہے اوراس حقیقت کااعتراف دنیاکے عظیم سائنس دانوں اور مفکرین نے واضح الفاظ میں کیاہے تواس خیال کی بھی آپ سے تردیدہوگئی کہ اسلامی فکرو تہذیب کاسائنس کی ترقی میں کوئی کردارنہیں لہٰذااس پر مزید تفصیلی دلائل کی حاجت نہیں البتہ اس تصورکا بوداپن متحقق کرنے کی غرض سے اس پربطورِخاص چند سطورصرف کرنا ضروری معلوم ہوتاہے۔
یہ حقیقت مسلم اورغیرمسلم محققین نے عام تسلیم کرلی ہے کہ قرونِ وسطیٰ کے مسلمانوں کی سائنسی ترقی قرآن وحدیث کے مشاہداتی وتجرباتی اندازِ نظرکواپنانے پرزوردینے کی بناپرتھی  اورمتعدد سائنسی دریافتیں مختلف شرعی احکام اورتقاضوں کا نتیجہ تھیں،مثلاًالجبراکواسلامی قانونِ وراثت اور فلکیات، جغرافیہ،جیومیٹری اور ٹرگنومیٹری کوسمت قبلہ اوراوقاتِ نمازمعلوم کرنے کی اسلامی تقاضوں کے تحت ترقی ملی۔ابن النفیس نے بخاری کی حدیث’’اللہ نے کوئی مرض ایساپیدانہیں کیا،جس کی دواپیدانہ کی ہو‘‘کواپنی عظیم سائنسی دریافتوں کی بنیاد بنایاتھا۔اس نے خون کی دل سے پھیپھڑوں کی طرف حرکتPulmonary Circulation) ( کودریافت کیااوراپنی اس تحقیق کوحشراجسادکے روایتی اسلامی تصورکی تائید میں پیش کیا۔مسلم کیمیاگری اورعلم نجوم کے محرکات بھی مذہبی تھے۔قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ ان اسلامی ذرائع علم کے مستند ماہرین(علمائے دینیات)کے افکار وتحریرات نے بھی مختلف سائنسی علوم کی تحریک پیداکی۔مثال کے طورپر طبِ اسلامی میں سرجری اورتشریح الاعضاپرامام غزالی کی تصنیفات کے اثرات ہیں جنہوں نے ان علوم کوتخلیقاتِ ربانی کے ادراک کیلئے استعمال کرنے پرزوردیا۔پندرہویں صدی کے مسلم ماہرِکونیات علی القوشجی نے ارسطا طالیسی تصورِسکونِ زمین کوغزالی وغیرہ ایسے عظیم مسلم ماہرینِ علومِ دین کی تنقیدارسطوسے تحریک پاکررد کیاتھا۔امام غزالی نے خودارسطوکے تصور کائنات کوردکرتے ہوئے تعددِعوالم کاتصورپیش کیا۔
قرآن علمی سطح پرہمیں ایسے خزانے عطا کر سکتا ہے جن کے عشرعشیرسے بھی دیگرصحائف اورعلوم کے اوراق خالی ہیں۔آج دنیا کوقرآن کے لازوال علمی سرچشمہ کی تلاش ہے اوروہ جتناجلداس کوپالے اس کیلئے بہترہوگا۔دنیامیں آج بھی ایسے لوگوں کی بڑی تعدادموجودہے جوکائناتی نظام کے بارے میں اپنے منفردافکارونظریات رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ ہرجگہ پائے جاتے ہیں لیکن سنجیدہ علمی حلقوں میں ان کی گفتگوسنناتک گوارانہیں کیاجاتا۔ ایساکیوں ہے؟اس کاسبب یہ ہے کہ گزشتہ صدی کے اواخرسے علمی حلقوں میں کسی بھی مفروضہ یا تجربہ کے درست ہونے، نہ ہونے کیلئے ایک اصول تنقیع بر بنائے تغلیط متعین کردیا گیا۔ اہلِ علم کے الفاظ میں وہ زریں اصول یہ ہے‘ اگر تمہارے پاس صرف کوئی تھیوری ہے توبراہِ مہربانی اسے سمجھانے میں ہمارا وقت ضائع نہ کرو،البتہ اگرتمہارے پاس اس تھیوری کی صحت وعدمِ صحت کوثابت کرنے کاکوئی عملی طریقہ موجودہے توہم سننے کیلئے تیارہیں۔ اسی معیار کے اتباع میں علمی حلقوں نے صدی کے آغاز میں آئن سٹائن کی پذیرائی کی، آئن سٹائن نے ایک نئی تھیوری (نظریہ مناسبت)پیش کی اورکہا‘ میرامانناہے کہ کائنات اس ترتیب پرچل رہی ہے، تمہارے پاس میرے نظریہ کوغلط یاصحیح جانچنے کے تین راستے ہیں۔اور پھرچھ سال کی مختصرمدت میں اس کے نظریے نے تینوں راستوں کوکامیابی کے ساتھ عبورکرلیا۔اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ فی الواقع آئن سٹائن کوئی عظیم انسان تھا،البتہ اتناضرورثابت ہوتاہے کہ وہ اس لائق تھاکہ اس کی بات کوبغور سناجائے۔
اسلام،اسلامی تہذیب اوراہل اسلام کے دنیائے سائنس میں غیرمعمولی کردارکومغربی اہلِ علم وقلم،جوبالعموم اسے ماننے میں تعصب میں مبتلا ہوتے ہیں،نے بھی نہایت واضح لفظوں میں تسلیم کیاہے۔ مثلاًرابرٹ بریفالٹ لکھتا ہے‘ مسلمانوں نے یونانیوں سے کہیں بڑھ کرتجربات پرزوردیا۔ول ڈیوراں اقرارکرتاہے کہ مسلم کیمیا دان علمِ کیمیاکے بانی ہیں۔ یورپ کوسائنسی طریق تحقیق سے متعارف کرانے والامشہورمغربی سائنسدان راجربیکن بھی مسلم سائنسدانوں سے متاثرتھا۔یہ اوراس نوع کے دیگرلاتعداد واضح شواہدکے ہوتے ہوئے سائنسی ترقی میں اسلامی فکروتہذیب کے کردار کاانکار،حق کامنہ چڑانے کے مترادف ہے۔

 

تازہ ترین خبریں

کراچی سے ملتان سمگلنگ کی کوشش ناکام

کراچی سے ملتان سمگلنگ کی کوشش ناکام

 اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بیانیہ ملک پر مسلط کرنےکی کوشش کی جارہی ہے، شاہد خاقان عباسی

اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بیانیہ ملک پر مسلط کرنےکی کوشش کی جارہی ہے، شاہد خاقان عباسی

 پاکستان کا وفادار اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتا، نومنتخب امریکی صدرفلسطین اور کشمیریوں کیلئےکردار ادا کریں۔مولانا فضل الرحمان

 پاکستان کا وفادار اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتا، نومنتخب امریکی صدرفلسطین اور کشمیریوں کیلئےکردار ادا کریں۔مولانا فضل الرحمان

غریب کیسے زندہ رہے؟ پٹرول مہنگے ہونےکے ایک ہی ہفتے بعد عوام کو ایک اورزوردار جھٹکا

غریب کیسے زندہ رہے؟ پٹرول مہنگے ہونےکے ایک ہی ہفتے بعد عوام کو ایک اورزوردار جھٹکا

پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کی تاریخ کا اعلان کردیاگیا

پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کی تاریخ کا اعلان کردیاگیا

حکومت کو پاور پلانٹ کو گیس سپلائی بند کرنےکا فیصلہ

حکومت کو پاور پلانٹ کو گیس سپلائی بند کرنےکا فیصلہ

این آر او لیگ روزانہ سرکس لگاتی ہے، مراد سعید

این آر او لیگ روزانہ سرکس لگاتی ہے، مراد سعید

سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت 3اعشاریہ 8ریکارڈ 

سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت 3اعشاریہ 8ریکارڈ 

براڈ شیٹ معاملہ: چئیرمین نیب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سامنے طلب

براڈ شیٹ معاملہ: چئیرمین نیب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سامنے طلب

بلوچستان کے تمام معاملات اسٹیبلشمنٹ چلارہی ہے، سردار اختر مینگل

بلوچستان کے تمام معاملات اسٹیبلشمنٹ چلارہی ہے، سردار اختر مینگل

کسی بھی جماعت کو ممنوعہ فنڈنگ کی وجہ سے تحلیل نہیں کیا جاسکتا ، فنڈنگ چاہے جہاں سے بھی ہو ۔ اعتزاز احسن

کسی بھی جماعت کو ممنوعہ فنڈنگ کی وجہ سے تحلیل نہیں کیا جاسکتا ، فنڈنگ چاہے جہاں سے بھی ہو ۔ اعتزاز احسن

بختاور بھٹو زرداری کی شادی کی تاریخ سامنے آگئی

بختاور بھٹو زرداری کی شادی کی تاریخ سامنے آگئی

پاکستان نے یاسین ملک کی قید کےخلاف اقوام متحدہ کوخط لکھ دیا

پاکستان نے یاسین ملک کی قید کےخلاف اقوام متحدہ کوخط لکھ دیا

 اپوزیشن کی بڑی جماعتیں غیر ملکی فنڈنگ لیتی رہی ہیں، فارن فنڈنگ پر اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینگے ۔ وزیراعظم عمران خان 

 اپوزیشن کی بڑی جماعتیں غیر ملکی فنڈنگ لیتی رہی ہیں، فارن فنڈنگ پر اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینگے ۔ وزیراعظم عمران خان