08:17 am
اسرائیل‘ عرب ‘ داعش اور بھارت

اسرائیل‘ عرب ‘ داعش اور بھارت

08:17 am

جب کسی خطہ اور سرزمین میں ’’نیا‘‘ کچھ ہونا ہوتا ہے تو اس خطے اور سرزمین پر کچھ  قوتیں انتہا پسندوں اور مذہبی شدت پسندوں کو تخلیق کرتی ہے۔ ان کی تخلیق اور نشوونما کے جملہ تقاضے پورے کرتی ہیں اور ان کی جملہ ضرورتیں پوری کرتی ہیں۔ یہ انتہا پسند اور مذہبی شدت پسند‘ جب اپنے تخلیق کندہ کے منصوبے کے مطابق فتنہ و فساد کا ناپسندیدہ عمل مکمل کر دیتے ہیں تو ان کی تخلیق کار قوتیں ہی ’’ مسیحا‘‘  بن کے ان مذہبی شدت پسندوں کو کچل کر خطے اور سرزمین کے عوام پر احسان کر دیتی ہیں تاکہ اس تباہ شدہ عمارت پر نئی عمارت تخلیق پاسکے۔
داعش انتہا پسندوں کا وہ گروہ تھا‘ جسے اسرائیل نے عراق و شام میں تخلیق کیا‘ یہ امریکی چھتری تلے فروغ پاتا پودا تھا۔ اسرائیل کا داعش کو تخلیق کرنے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں عرب سنیوں کو شدت پسند‘ مذہبی دہشت گرد ثابت کرنا تھا۔ میری توجہ اس طرف امارات پالیسی اسٹڈیز کی ابوظہبی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر ابتسام نے مبذول کروائی تھی۔ ڈاکٹر ابتسام کس قدر دور تک دیکھ رہی تھی؟ اب سنی عرب شدت پسند کہلاتے ہیں۔
اسرائیل نے داعش کو تخلیق کرکے‘ عراق کو کردستان کی تخلیق کے لئے استعمال کیا تھا‘ داعش کے خلیفہ ابوبکر بغدادی کو ہاشمی خلافت کا وارث ثابت کیا گیا تھا‘ داعش کا ہدف سنی سعودی شاہی خاندان کے انہدام کو بنایا گیا تھا۔ داعش عراق میں شیعہ کے خلاف مذہبی شدت پسند سنی کا نام بنا دیا گیا تھا۔ حیرت اور تعجب ہے کہ ابوبکر بغدادی نے جہاں عراقی شیعہ عربوں کے خلاف محاذ آرائی کی وہاں اس نے ایران کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا‘ جہاں سعودی بادشاہت کو ہدف بنا لیا‘ وہاں امریکہ کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا۔ اسرائیل کے خلاف تو بالکل بھی نہیں داعش بولا نہ ابوبکر بغدادی کو اہل فلسطین کا درد نظر آیا۔ 
داعش کو کچل دینے کی آڑ میں امریکہ نے گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا اور بشارالاسد کے ظالمانہ اقتدار کو بھی بالواسطہ طور پر تحفظ دے دیا ہے سعودی عرب اور امارات کو داعش سنی سوچ کے ذریعے ڈرا دیا گیا۔ یوں خلیجی سنی عرب ریاستوں اور سعودی عرب کو امریکی دفاعی چھتری تلے ’’پناہ‘‘ تلاش کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ اگلا مرحلہ اسرائیل کو خلیجی عرب ریاستوں سے تسلیم کروانے کا تھا جو اب تدریجی مراحل طے کررہاہے۔ امارات و بحرین اسرائیل کو تسلیم کرچکے ہیں۔ قطر بھی کچھ مدت بعد کرلے گا اور یوں قطر کا جو ’’محاصرہ‘‘ سعودیہ و امارات نے کیا تھا و ہ ’’نئی صلح‘‘ سے ختم ہو جائے گا۔ اسرائیل عرب دنیا میں مشرق وسطیٰ کے اہم کھلاڑی کے طور پر اپنا کھیل جار ی رکھے گا۔ امارات نے ایف35 طیارے امریکہ سے مانگے مگر اسرائیل نے مخالفت کر دی۔ اب قطر نے مانگ لیے ہیں تو بھی اسرائیل نے مخالفت کر دی ہے۔ عرب کس خوش فہمی میں ہیں اور ایران کا خوف؟ کیا کچھ یہ خوف عربوں سے آسانی سے کروا رہا ہے؟ مگر کیا یوں اسرائیل نواز ہوکر عرب محفوظ ہو جائیں گے؟ خود عربوں کو سنجیدگی سے اس پہلو پر بھی سوچنا چاہیے کہ ان کے خطے، سرزمین، جغرافیے عظیم تر اسرائیل میں شامل کیے جانے کے منصوبے کھلے عام موجود ہیں۔ عرب کس قدر مصیبت میں ہیں ہر طرف سے؟ جبکہ ایرانی عوام بھی بہت مصیبت میں ہے۔
اسرائیل کی پیدا کردہ داعش کو افغانستان  میں بھارت نے اپنی گود میں لے لیا ہے۔ امریکہ کا ’’فارن پالیسی‘‘ میگزین نہایت ثقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی یہ رپورٹ ہے کہ بھارت نے افغانستان میں داعش کی سرپرستی شروع کر رکھی ہے۔ طالبان ماضی سے بھارت کے مخالف رہے۔ القاعدہ کو بھی بھارت نے سرپرستی نہیں دی۔ یہ سرپرستی القاعدہ کو ہمیشہ اور بھرپور امریکہ سے ملی۔ القاعدہ اور اسامہ بن لادن کے نام پر افغانستان کو امریکہ و ناٹو نے تباہ کر دیا۔ اسی اسامہ بن لادن اور القاعدہ سے تعلق کے سبب صدام حسین کے عراق پر حملہ کیا گیا۔ عراق پر حملہ، صدا م کا خاتمہ ، ایک طرف ایران کو خوش کرتا امریکی عمل تھا تو دوسری طرف اسرائیلی امریکی گریٹر اسرائیل ایجنڈے کی تکمیل بھی۔
طالبان نے امریکہ سے جو معاہدہ کیا ہے اس کے مطابق طالبان مستقبل میں القاعدہ کی مدد نہیں کریں گے۔ امریکہ افغانستان سے نکل رہا ہے۔ بھارت کی پاکستان مخالف سازشوں کا امریکی مرکز تہس نہس ہو رہا ہے۔ لہٰذا بھارت نے اسرائیلی تخلیق داعش کو گود لے لیا ہے تاکہ داعش کے ذریعے افغانستان میں فتنہ و فساد جاری رکھا جائے۔ اگر افغانستان پرامن ہوگیا، مستحکم ہوگیا تو پاکستان میں بدامنی کا جو بھارتی ایجنڈا ہے وہ کیسے جاری رہے گا؟ لہٰذا مستقبل کی جو پاک بھارت جنگ ہے اس میں داعش کا کیا کردار ہوگا، اسرائیلی انداز بھارت مقبوضہ کشمیر پر نافذ کرچکا۔ اب اسرائیلی انداز میں ہی پاکستان و افغانستان  کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بھارت استعمال کرے گا د اعش کو۔ ’’فارن پالیسی‘‘ میگزین کا شکریہ کہ اس نے بھارت کو کچھ تو بے نقاب کیا ہے۔