08:18 am
کہاں قائداعظم ؒکے ارشادات‘ کہاں نوازشریف؟

کہاں قائداعظم ؒکے ارشادات‘ کہاں نوازشریف؟

08:18 am

نوازشریف کو لندن میں بیٹھ کر اب قائداعظمؒ کے ارشادات یاد آرہے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ اگر قائداعظمؒ کی کوئٹہ میں فوج سے متعلق تقریر کو پڑھ لیاجاتااور اس پہ عمل درآمدکیاجاتا تو بنگلہ دیش کا واقعہ پیش نہیں آتا نوازشریف کو معلوم ہوناچاہیے کہ بانی پاکستان نے کوئٹہ میں ہی سیاستدانوں اور سرداروں سے خطاب کرتے ہوئے ان سے کہا تھا کہ’’ صوبائیت پھیلانے والے پاکستان کے دوست نہیں ہوسکتے‘‘۔ نوازشریف صوبائیت پھیلانے والے پہلے سیاستدان اور تاجر ہیں جنہیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے‘ تاہم سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ نوازشریف کس منہ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ فوج کاسیاست میں کوئی کردار نہیں ہے‘ سویلین ہی پالیسی تشکیل دیتے ہیں‘ فوج نہیں‘ لیکن موصوف خود‘ جیساکہ میں نے اپنے گزشتہ کالموںمیں بڑی وضاحت سے لکھاہے کہ نوازشریف فوج کی خوشامد اور چاپلوسی کرکے تین دفعہ وزیراعظم بنے ہیں۔ اگر جنرل جیلانی اور جنرل ضیا ء الحق سیاست میں انہیں متعارف نہیں کراتے توان کا پورا خاندان گمنامی کے اندھیروں میں بے نام ہوجاتا۔لیکن موجودہ حالات میں نوازشریف  کو جو بات انتہائی ناگوار رہی ہے وہ یہی ہے کہ فوج عمران خان کے اتنے قریب کیوں ہے۔ حالانکہ ماضی میں بھی فوج نے سیاسی حکومتوں کی پالیسیوں پر عملدرآمدکیا ہے اور ان کا ساتھ دیاہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ عمران خان پاپولر ووٹوں کے ذریعہ انتخابات جیت کر وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں اگر فوج انتخابات میں ان کا ساتھ دیتی تو جیسا کہ نوازشربف اور ان کے ساتھی کہہ رہے ہیں تو وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر بغیر کسی دوسری پارٹی کی مدد سے حکومت بناتے اور اس کانظم ونسق چلاتے۔ لیکن عمران خان معمولی سی اکثریت سے حکومت کررہے ہیں۔
 نوازشریف کا یہ بیانیہ کہ میری جنگ عمران خان سے نہیں ہے بلکہ عسکری اداروں سے ہے‘ اس ناقابل تردید حقیقت کو ظاہر کرتاہے کہ وہ فوج جیسے محترم قومی‘ ادارے سے خواہ مخواہ ٹکر لے رہے ہیں‘ جو ملک کی سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں بلکہ اندرونی دشمنوں سے بھی برسرپیکار ہیں۔ جن  میں اب نوازشریف اوران کا خاندان بھی شامل ہوگیاہے۔
 اس وقت ایک اور ناقابل تردید حقیقت یہ بھی ہے کہ بھارت‘ امریکہ اور اسرائیل سب مل کر پاکستان کے اندر خلفشار پیداکرنے کی کوشش کررہے ہیں‘ نوازشریف ان پاکستان دشمن قوتوں کے آلہ کار بن چکے ہیں‘ امریکہ پاکستان سے اس لئے ناراض ہے کہ وہ چین کا ہرفورم پر کیوں ساتھ دیتاہے کیونکہ پاکستان چین کے ساتھ سی پیک جیسے اقتصادی معاہدے سے جڑاہوا ہے جس میں روڈ اینڈ بیلٹ کا عالمی منصوبہ بھی شامل ہے۔ تاہم امریکہ کی طرح   پاکستان بھی اپنے قومی مفادات کی روشنی میں اپنی خارجہ پالیسی تشکیل دیتاہے‘ اس خارجہ پالیسی میں چین کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے ‘ پاکستان کے عوام خصویت کے ساتھ پڑھے لکھے باشعور نوجوان پاکستان چین دوستی کو انتہائی قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس وقت ہزاروں پاکستانی طلباء طالبات چین کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم ہیں۔یہ نوجوان پاکستان واپس آکر پاکستان کو جدید ویژن کی روشنی میں معاشی وسماجی ترقی سے ہمکنار کریںگے۔ یہ بات سامراجی طاقتوں کو بڑی ناگوار گزررہی ہے۔ یہ طاقتیں نوازشریف کو استعمال کرکے پاکستان کے خلاف اپنا شیطانی منصوبہ پورا کرناچاہتے ہیں۔ سامراج کے اس شیطانی منصوبے میں پاکستان کی فوج کوکمزور کرناشامل ہے تاکہ پاکستان کا دفاع کمزور ہوسکے اور پھر بھارت اپنی روایتی پاکستان دشمنی سے فائدہ اٹھاکر اس کے خلاف جارحیت کاارتکاب کرسکے۔ پاکستان کے خلاف یہ ففتھ جنریشن وار کاحصہ ہے۔
 موجودہ حالات کی ایک ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ عمران خان کو ابھی تک حالات کی سنگینی کا ادراک نہیں ہے‘ ان کے لب ولہجہ میں مخالفین کیلئے  کوئی لچک نہیں ہے‘ جبکہ حکومت کانظم ونسق چلانے اور گڈگورڈننس کے لئے مخالفین کوبھی ساتھ لے کر چلنا پڑتاہے۔ لیکن عمران خان نے ایسا نہیں کیا‘وہ مخالفین کو پاکستان کا دشمن نمبر ایک تصور کرتے ہیں‘ حالانکہ حزب اختلاف کی جماعتوں میں سب کرپٹ یا پاکستان دشمن نہیںہیںاور نہ ہی ان کی اکثریت فوج کے خلاف ہے‘ لیکن عمران خان نے سب کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیاہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں سیاسی انتشار آہستہ آہستہ حقیقت کا روپ دھاررہاہے۔دراصل عمران خان کو اپنے شروع کے دوسال کے دوران اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روکنے کی کوشش کرنی چاہئیں تھی لیکن انہوں نے اس طرف سنجیدگی سے دھیان نہیں دیا اور نہ ہی ان کے  ساتھیوں نے‘ جس کی وجہ سے ایک عام آدمی پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف بولتا ہوا نظر آتاہے‘ کورونا کی وبا نے بھی پاکستان کے معاشی وسماجی حالات پر ایک کاری ضرب لگائی ہے ۔ حزب اختلاف ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو ہی حکومت کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے اور پریشان حال عوام کو یہ لولی پاپ دے رہی ہے کہ مہنگائی کو کم کرنے کا واحد حل یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت کو چلتا کیاجائے‘ حالانکہ یہ نہ تو مہنگائی کو کم کرنے کاحل ہے بلکہ اس طرز عمل سے ملک میں انارکی پھیلنے کے خدشات پیداہوسکتے ہیں۔ نوازشریف جان بوجھ کر ایک سامراجی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں لیکن وہ بات بھول گئے ہیں کہ ان کے اس پاکستان دشمن ایجنڈے اور رویے سے خود ان کو اور ان کے خاندان اور حواریوں کو کتنا نقصان پہنچ سکتاہے ؟ نوازشریف سب کچھ اپنے ذاتی مفادات کیلئے عوام کو سڑکوں پر لاکرقربانی کا بکرا بناناچاہتے ہیں تاکہ لااینڈ آرڈر  کامسئلہ پیدا ہو اور اس بحران کی صورت میں حکومت ختم ہوجائے‘ اور وہ خود سامراجی طاقتوں کی مدد سے پاکستان میں دوبارہ اقتدار حاصل کرسکیں۔ کیا یہ سوچ کسی محب وطن شخص کی ہوسکتی ہے۔؟ ذرا سوچئے۔