08:20 am
بابری مسجد کا متنازعہ فیصلہ

بابری مسجد کا متنازعہ فیصلہ

08:20 am

لکھنئو کی ایک عدالت نے 30ستمبر 2020ء کو بابری مسجد کی شہادت میں ملوث انتہا پسند حکومتی جماعت بی جے پی کے تمام لیڈروں کو بری کر دیا ہے۔ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے 1992ء میں ہندو انتہا پسندوں کو اکسا کر انہیں تاریخی با بری مسجد شہید کر نے پر ما ئل کیا تھا۔ سا بق ڈپٹی پرا ئم منسٹر ایل کے ایڈوانی ، بی جے پی کے رہنما مر لی منوہر جو شی اور او ما بھارتی نے لگا ئے گئے الزا مات سے انکا ر کر تے ہو ئے کہا کہ انہوں نے ہندو انتہا پسندو ں کو با بری مسجد کی شہا دت پر نہیں اکسا یا ۔ یاد رہے کہ با بری مسجد سو لہویں صدی میں ایو دھیا کے مقا م پر بنائی گئی تھی ۔ حا لیہ فیصلہ گزشتہ سا ل بھارتی سپریم کو رٹ کے فیصلے کی کڑی ہے جس میں سپریم کو رٹ نے با بری مسجد کی زمین ہند وئو ں کو الا ٹ کر انتہائی متنا زعہ فیصلہ دیا تھا ۔
ہند وئوں کو با بر ی مسجد کی زمین الا ٹ کر نے کا مقصد یہ تھا کہ وہا ں پر رام مند ر تعمیر کر لیا جائے ۔ سپریم کو رٹ کے فیصلے نے مسلمانوں کو یہ سو چنے پر مجبورکر دیا ہے کہ ہندو ستان صرف ہند و ئوں کا ہے جہاں قا نو ن صرف وہ فیصلے کر نے پر مجبو ر ہے جو ہند وئوں کے حق میں جا تے ہوں ۔ اس فیصلے سے ہند و مسلم مذہبی منا فرت کا ایک نہ ختم ہو نے والا سلسلہ شرو ع ہو چکا ہے۔ سپریم کو رٹ نے با بری مسجد کی زمین کے بدلے میں مسلما نوں کو ایو دھیا میں ایک دوسری زمین  الا ٹ کر دی ہے تاکہ وہا ں پر با بری مسجد تعمیر کی جا سکے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطا بق تما م 32ملزمان (جن میں سا بق ڈپٹی پرا ئم منسٹر ایل کے ایڈ وا نی بھی شا مل ہیں) پر ہند و انتہا پسندو ں کو اکسا نے کا الزا م ثا بت نہیں ہو سکا لہٰذا انہیں با بری مسجد کی شہا دت کے الزا م سے بری کر دیا گیا ۔ سپریم کو ر ٹ نے انکشا ف کیا کہ وشوا ہند و پریشد ( جو کہ  آ را یس ایس کی ایک ذیلی جما عت ہے ) کے کا رندے اور بی جے پی کے سیا ستدان در اصل با بری مسجد کے ڈھانچے کو بچا نے کی کو شش کر رہے تھے کیو نکہ مسجد کے اندر ’’رام‘‘کے مجسمے رکھے ہو ئے تھے۔ اس مو قع پر بی جے پی کے رہنما اٹل بہا ری وا جپا ئی نے ہند و کا رندوں کو خطا ب کر تے ہو ئے فر ما یا کہ کا ر سیوکوں کو عبا دت کے لیے زمین پر بیٹھنا ہو تا ہے اور نو کیلے پتھرو ں پر بیٹھنا ممکن نہیں لہٰذا زمین کو ہمو ار کر دیا جا ئے ۔
 وا جپا ئی کی با ت سننے پر ہند وئو ں نے پور ی بابری مسجد ہی ہموا ر کر دی ۔ سپریم کو رٹ کے فیصلے نے دراصل را م جنم بھو می کی تحریک کو در ست قرار دے دیا ہے ۔  یہ فیصلہ نہ تو حقا ئق کے مطا بق ہے اور نہ ہی قانون اور انصا ف کے تقا ضے پور ے کر تا ہے ۔سپریم کو ر ٹ کے فیصلے کے مطا بق با بری مسجد کی شہا دت پہلے سے پلا ن شدہ نہیں تھی بلکہ اچا نک ایسا ہو گیا۔ ان سے سوا ل پو چھا جا نا چا ہیئے کہ ایک لا کھ سے زیا دہ انتہا پسند ہند ئو کدا لیں ‘ ہتھو ڑے ر سے اور عما رتیں تو ڑنے والے آ لا ت  لے کر کیا بابری مسجد کی سیرکر نے آ ئے تھے ۔
 با بری مسجد کی شہا دت کا نظا رہ اپنی آ نکھو ں سے کر نے والے کسی بھی غیرجانبدار شخص سے پو چھا جا ئے تو وہ کہہ اٹھے گا کہ یہ خا لصتاََ ہند ئو انتہا پسندی کا ایک جیتا جاگتا مظا ہرہ تھا ۔ سپریم کو رٹ کا حا لیہ فیصلہ کینگر و کو رٹس کے متعصبا نہ اور جا نبدا ر فیصلوں کی ایک مثا ل ہے ۔ اس طر ح کے فیصلے بھا رت کے جسٹس سسٹم کے لیے زیر قاتل ثا بت ہو ں گے۔ ایسے فیصلے مقد موں سے پہلے ہی کر لیے جا تے ہیں کیو نکہ ان فیصلو ں میں مجر موں کو ناجائز فوا ئد پہنچا نا مقصو د ہو تا ہے ۔ ان فیصلو ںکا  انصا ف اور قا نون سے کو ئی تعلق نہیں ہو تا۔ حقیقت میں عد لیہ کو انتظا میہ کے زیر اثر نہیں ہو تا چاہیئے ۔ اس کے لیے ایسا ماحو ل پیدا کر نا پڑتا ہے جس میں جج پر کسی قسم کا  دبائو نہ ہو تاکہ وہ  آ ئین اور قانو ن کے مطا بق فیصلے کر سکیں۔ ججوں پر انتظا میہ کا ہی نہیں بلکہ معاشی ، سما جی اور سیا سی دبا ئو بھی نہیں ہو نا چاہیئے ۔ اگر صحیح فیصلہ عد لیہ کی پہچان ہے تو غیرجانبدا ر فیصلہ عد لیہ کی معراج ہے ۔ دہلی ہا ئی کو ر ٹ کے سا بقہ چیف جسٹس اے ۔ پی شا ہ کہتے ہیں کہ بھا رتی عد لیہ کے فیصلے پر یشان کن ہیں ۔ ایک جج کی حیثیت سے میرا یہ فر ض بنتا ہے کہ میں سپریم کو رٹ کے معیا ر کی تنزلی پر وا ویلا کرو ں ۔ سپریم کو رٹ کے حا لیہ فیصلے جن میں (CAA)سویلین امینڈمنٹ ایکٹ ، مقبو ضہ کشمیر میں کر فیو اور انٹر نیٹ سر وس کی معطلی شامل ہیں، چیخ چیخ کر اس با ت کی گوا ہی دے رہے ہیں کہ یہ سکیو لر بھا رت نہیں ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ با بری مسجد پر فیصلہ اس با ت کو ثا بت کر تا ہے کہ سپریم کو ر ٹ پر ہند و توا کی فلا سفی کا گہرا اثر ہے ۔ بلا شبہ لکھنئو کو رٹ کا حا لیہ فیصلہ ہند و توا کی آئیڈیالوجی کو مزید مضبو ط کر لے گا اور اس فیصلے سے پورے بھا رت کو یہ پیغا م گیا ہے کہ بھا رت کے  قا نو ن میں اقلیتوں کے لیے کو ئی جگہ نہیں ۔ بر صغیر پا ک و ہند کی تقسیم کے بعد جوا ہر لا ل نہرو اور نیشنل انڈین کا نگریس نے بھا رت کو ایک سیکو لر ملک بنانے کا وعدہ کیا تھا جس میں تما م اقلیتوں کو برابر کے حقوق ملنے تھے ۔ نہرو اکثر کہا کر تے تھے کہ بھا رت کی مختلف قو میں ہی در اصل بھارت کی طا قت ہیں ۔ اس کے بر عکس انتہا پسند ہند و بعد میں بی جے پی سے منسلک ہو گئے جنہوں نے سیکو لر ازم کو سخت نا پسند کیاکیو نکہ وہ ہندوستان کو مہا بھا رت کا ر و پ دینا چا ہتے ہیں جس میں اقلیتو ں اور خا ص  طو ر پر مسلمانوں کی کو ئی گنجا ئش نہیں ۔ وہ بھا رت کو ہند و اکثر یتی ریاست بنا نا چا ہتے ہیں ۔
2014ء سے بی جے پی مو دی سر کا ر کے زیر اثر اب پو ری قو ت سے مہا بھا رت کے فلسفے کو عملی جا مہ پہنا رہی ہے ۔ مو جود بھا رت میں مذہبی تعصب اور اقلیتوں پر مظالم کو ہتھیا ر کے طو ر پر استعما ل کیا جا رہا ہے ۔ با بری مسجد کے نا جا ئز فیصلے کے بعد ہند وئوں اور مسلمانوں میں خلیج وسیع سے وسیع تر ہو تی جا رہی ہے اور نریندر مو دی کے ہو تے ہو ئے اب اس با ت میں کوئی شک نہیں رہا کہ یہ نہرو اور گا ندھی کا بھا رت نہیں بلکہ انتہاپسند ہند وئوں کا بھا رت ہے ۔