08:21 am
وزیراعلیٰ‘ شہید مولانا عادل خان کے جامعہ میں

وزیراعلیٰ‘ شہید مولانا عادل خان کے جامعہ میں

08:21 am

حب ریور روڈ پر واقع جامعہ فاروقیہ کی وسیع و عریض اور پرشکوہ عمارت میں جب ہم داخل ہوئے... تو فضاء سوگوار تھی... ایسے لگا کہ جیسے جدید مدرسہ اور عظیم الشان مسجد کے درودیوار... جامعہ کے باغیچوں میں اُگے ہوئے پودے اور پھول بھی اپنے ’’باغباں‘‘ کے قتل پر روتے ہوئے زبان حال سے پوچھ رہے ہوں کہ انسانوں کے بچوں میں علم کی دولت بانٹنے والے انسانیت کے خدمت گار ڈاکٹر عادل خان کو خون میں نہلانے والے انسانیت کے دشمن اور ان کے سرپرستوں کو نمونہ عبرت بنانے کے لئے بھلا کوئی ’’انسان‘‘ تیار ہوگا؟
ایک دن قبل یعنی پیر کے دن وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی اپنی ٹیم کے ساتھ یہاں سے ہو کر جاچکے تھے اور انہوں نے مولانا عادل خان شہید کے بھائی مولانا عبیداللہ خالد... شہید کے بیٹیوں مولانا انس عادل اور مفتی عمیر عادل کو یقین دہانی بھی کروائی تھی کہ ’’قاتل جلد پکڑے جائیں گے‘‘ لیکن بالخصوص علماء کے قاتلوں کو پکڑنے کے حوالے سے حکمرانوں کی ’’جلد‘‘ کا مطلب چونکہ ہر ذی شعور سمجھتا ہے... اس لئے مراد علی شاہ کے دعوے پر یقین کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ مراد علی شاہ نے جامعہ فاروقیہ میں جید علماء کرام سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف بھی کہا کہ ’’مولانا ڈاکٹر عادل خانؒ ہمیشہ  ان کی رہنمائی کیا کرتے تھے۔‘‘ ... اللہ‘ اللہ‘ کیا بات ہے وزیراعلیٰ سندھ کی؟ اپنے رہنمائوں کے ساتھ ان کی حکومت کا یہ حسن سلوک کہ بار‘ بار تقاضے کے باوجود مولانا عادل شہید کو سیکورٹی دینا گوارانہ سمجھا گیا... اور اب بہانہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے کسی فیصلے کوبنایا جارہا ہے... مولانا عادل شہید کو سیکورٹی نہ دینے کے معاملے پر ثاقب نثار کے فیصلے کا حوالہ دینے والے صوبائی وزیر سعید غنی سے کوئی پوچھے کہ کیا یہ وہی چیف جسٹس ثاقب نثار نہیں ہیں کہ جنہوں نے بذات خود  شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتل برآمد کی... مگر وہ لیبارٹری میں جا کر ’’شہد‘‘ میں تبدیل ہوگئی تھی‘ وزیراعلیٰ  مراد علی شاہ کی یقین دہانی کے باوجود اگر شہید مولانا ڈاکٹر عادل خان کے لواحقین نے مقدمہ درج کروانے  سے انکار کر دیا ہے... تو یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ مظلوم عوام کا اعتماد اب اس سسٹم اور پاکستان میں قائم نظام انصاف سے اٹھ چکا ہے... پرویز مشرف دور ہو‘ زرداری دور ہو‘ یا اب عمران خان کا دور... ہر دور میں علماء کرام کے قیمتی خون کو پانی سے سستا سمجھ کر بہایا گیا۔ 
گزشتہ 30سالوں میں سینکڑوں علماء کرام کے قتل کے مقدمات درج ہوئے... لیکن ان  میں سے کتنے علماء ہیں کہ جن کے اصل قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہو؟ جب علماء کے قتل کے مقدمات فائلوں میں دب کر رہ جائیں گے... اور قاتل پڑوسی ملکوں کے دارالحکومتوں میں گلچھرے اڑائیں گے تو ’’مظلوم‘‘ اس بوسیدہ سسٹم اور ناکام نظام انصاف پر اعتماد کیسے کرے گا؟
سندھ حکومت مولانا عادل کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں کتنی سنجیدہ ہے؟ اس کا اندازہ صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کے اس بیان کو پڑھ کر لگایا جاسکتا ہے... فرماتے ہیں کہ ’’شیخ رشید کو مولانا عادل کے قتل میں شامل تفتیش کیا جائے‘‘ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت سندھ شیخ رشید کو مولانا عادل شہید کے قتل میں شامل تفتیش کرنا چاہتی ہے تو اس کا فورم کیا میڈیا ہے؟ حکومت سندھ اس حوالے سے قانونی  طریقہ کار اختیار کرے تو اسے کون روک سکتا ہے؟ لیکن یہاں بھی نظر یوں آرہا ہے کہ سندھ حکومت مولانا عادل خان شہید کی آڑ میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر رہی ہے... سندھ حکومت نہ تو مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید کو سیکورٹی دے سکی... نہ ابھی تک ان کے قاتلوں کو گرفتار کر سکی‘ بلکہ الٹا جب وہ کبھی ثاقب نثار اور کبھی شیخ رشید والا مذاق کرے گی تو... یہ مظلوموں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوگا‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق سی ٹی ڈی نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’مولانا ڈاکٹر عادل خان پر حملے میں پاکستان کے قریبی ملک اور بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ ملوث ہے... عوام حیران و پریشان ہو کر پوچھ رہے ہیں... بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا نام تو واضح ہوگیا... مگر ’’قریبی‘‘ ملک کون ہے؟ کہ جس کا نام لینے سے  حکام‘ حکمران اور میڈیا خوفزدہ ہے... میں نے جغرافیے اور نقشے سے ’’قریبی ملک‘‘ نام کا پڑوسی ڈھونڈنے کی پوری کوشش کی... مگر مجھے تو اس نام کا پاکستان کا کوئی پڑوسی نظر نہیں آیا... جو حکام مولانا عادل خان شہید کے قتل میں ملوث ’’قریبی ملک‘‘ کانام لینے سے ڈرتے ہوں... وہ قاتلوں کو پکڑنے میں کیا خاک کامیاب ہوسکیں گے؟ یاد رکھیے کہ ’’قاتل‘‘ ’’قاتل‘‘ ہوتے ہیں نہ وہ ’’قریبی‘‘ ہوتے ہیں اور نہ ’’پڑوسی‘‘ میرا شہید ڈاکٹر عادل خان سے کوئی خاص ذاتی تعلق نہ تھا... لیکن میں ان کے حوالے سے اگر تیسرا کالم لکھ رہا ہوں تو اس کی بنیادی  وجہ... وہ حدیث مبارکہ ہے کہ جس میں علماء کو انبیاء کا وارث قرار دیا گیا ہے... جس سرزمین پر انبیاء کرام کے وارث... شیخ الحدیث کو انتہائی مظلومیت کے عالم میں شہید کر دیا جائے... وہ سرزمین کبھی ترقی کر ہی نہیں سکتی... شہر کراچی کہ جو پہلے ہی شہر ناپرساں بن چکا ہے... پاکستان کہ جو پہلے ہی سے مسائل کے بھنور میں پھنسا دیا گیا ہے... وہاں مولانا عادل خان جیسے عظیم علماء کو  خاک و خون میں تڑپا دینا عذاب خداوندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے‘ میں حکمرانوں اور ریاستی اداروں کی بار‘ بار توجہ اس جانب مبذول کروا رہا ہوں کہ کسی عام انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ چے جائیکہ  اک نامور عالم دین کا قتل ناحق ہو جائے اور پھر اس قتل کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا ذریعہ بنا لیا جائے... مجھے شہید مولانا کے جانشین مولانا انس عادل بتا رہے تھے کہ تمام مسلمان مسالک اور عوام کو متحد کرکے ناموس رسالتؐ اور ناموس صحابہؓ و اہل بیتؓ  کے دفاع میں کھڑا  کرنا ان کے شہید بابا کا خواب تھا... وہ خالص علمی شخصیت تھے... جو علوم انہوں نے ساری زندگی پڑھے اور پڑھائے تھے ... قرآن و حدیث کے ان علوم سے ہی انہوں نے ناموس رسالتؐ‘ ناموس صحابہؓ و اہل بیتؓ کا تحفظ کرنا سیکھا تھا‘ جوانسالہ انس عادل نے بتایا کہ کراچی سے درجنوں کلو میٹر دور... حب ریور روڈ  پر واقع اس جامعہ فاروقیہ میں قوم کے ایک ہزار رہائشی طلباء شروع سے لے کر آخر یعنی دورہ حدیث تک عربی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں... انہوں نے بتایا کہ یہاں طلباء کو میٹرک تک تعلیم بھی دی جاتی ہے اور تعلیم کا یہ سارا سلسلہ بالکل مفت ہے۔
مولانا ڈاکٹر عادل خان کی تعلیمی اور تدریسی خدمات کا زمانہ معترف ہے... مولانا شمس الحق کشمیری‘مفتی عبدالوحید اور حافظ عبدالحفیظ رحیمی میرے ہمراہی تھے... مولانا عبداللطیف معتصم نے جب ان کے تعلیمی اور تدریسی کارناموں کے حوالے سے ہمیں بتایا تو میرے  منہ سے بے اختیار نکلا کہ یہ تو علم کی دنیا کے ’’حکیم سعید‘‘ تھے... آہ انہیں بھی حکیم سعید کی طرح جرم  بے گناہی میں مار ڈالا گیا... اور وزیراعظم کہتے ہیں کہ انہیں بھارت نے مروایا... ارے بھائی آپ وزیراعظم کاہے کے ہو؟ کیا آپ کا کام فقط اطلاع دینے تک ہی محدود ہے؟ کراچی علماء کمیٹی  نے مولانا عادل شہید کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف جمعہ کے دن ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے... علماء معاشرے کے معزز ترین طبقات میں شامل ہیں۔ اگر ان کا نظام انصاف سے اعتماد اٹھ گیا ... تو پھر عام آدمی کی حالت تو بہت بری ہوگی۔اللہ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے۔ (آمین)