09:35 am
آسام‘ مقبوضہ کشمیر‘ امریکہ و چین کشمکش

آسام‘ مقبوضہ کشمیر‘ امریکہ و چین کشمکش

09:35 am

نئی دہلی سے خبر کے مطابق آسام میں دس ہزار افراد کی شہریت منسوخ کر دی گئی ہے اور ان افراد کو غیر ملکی قرار دیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریاستی کوآرڈینیٹر نے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔ یاد رہے آسام میں اس سے قبل 60لاکھ افراد کی شہریت منسوخ کی گئیں تھی جن میں سے بیشتر بنگالی مسلمان تھے۔ باور کیا جاتا ہے کہ بنگلہ دیش بھارت کشیدگی میں آسامی بنگالیوں کا مسئلہ بنیاد بن چکا ہے۔
سری نگر سے بی بی سی کی رپورٹ ہے کہ بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر میں بھارت نواز سیاسی پارٹیوں کا دائرہ کار نہایت تنگ ہو رہا ہے حتیٰ کہ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ کشمیریوں کی اکثریت چین کی منتظر ہے اور چین کی بدولت کشمیریوں کو کھوئے ہوئے اختیارات واپس مل سکتے ہیں۔ اب ہوسکتا ہے کہ رہائی کے بعد محبوبہ مفتی فاروق عبداللہ سے زیادہ سخت اختیار کرلے۔ بی بی سی کے مطابق واضح رہے کہ محبوبہ مفتی کی نظربندی کے فوراً ان کی پارٹی کے درجن بھر رہنما اور سابق وزراء باغی ہوگئے اور انہوں نے سابق وزیر اور معروف تاجر الطاف بخاری کی قیادت میں اپنی پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ سابق وزرائے اعلیٰ‘ فاروق عبداللہ‘ عمر عبداللہ‘ دیگر سابق وزراء کے ساتھ محبوبہ مفتی کو بھی گزشتہ برس کے اگست میں نظر بند کیا گیا تھا۔ جس کا مطلب لیا جاتا ہے کہ انڈین وفاق کے اندر رہتے ہوئے خصوصی اختیارات کا مطالبہ کرنے والی سیاسی جماعتوں کا دائرہ کار نہایت تنگ ہوگیا ہے۔
سری نگر سے ایک رپورٹ کے مطابق ضلع شوپیاں میں دو مزید کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔ ضلع گاندربل کے علاقے کنگن میں بھارتی فوج کی گاڑی کی ٹکر سے ایک ستر سالہ شخص کے زخمی ہونے پر مظاہرے پھوٹ پڑے‘ مشتعل مظاہرین واقع کے خلاف سرینگر  لیہہ روڈ پر دھرنا دیا ہے۔ اس دھرنے کے سبب بھارتی فوجی قافلے کو روک دیا گیا ہے۔ شمالی کشمیر کے جنگلات میں پھر سے آگ لگ گئی ہے۔
بیجنگ سے رپورٹ ہے کہ امریکہ اور بھارت سے کشیدگی کے پیش نظر چینی صدر شی جن پنگ نے فوج ہائی الرٹ کر دی ہے۔ واشنگٹن بیجنگ کے مابین کرونا اور تائیوان کے حوالے سے تنائو میں اضافہ ہوگیا ہے۔ صدر شی جن پنگ نے صوبے گورنگ ڈونگ میں فوجی اڈے کا دورہ کیا اور چینی میرین کور سے خطاب میں پیپلز لبریشن آرمی کو ممکنہ جنگ کے لئے تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے‘ دوسری جانب چینی ترجمان نے کہا ہے کہ اروناچل پردیش ریاست اور لداخ کو بھارتی زیرانتظام  علاقہ بنانے کا فیصلہ منظور نہیں کرتے۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر شی جن پنگ کا یہ فوجی دورہ اس وقت ہوا جب چین اور امریکہ کے مطابق کئی دہائیوں کے دوران تائیوان اور کرونا وائرس میں وبائی امور میں اختلافات کے باعث تنائو ہے۔
تائیوان اور چین میں تاریخی طور پر اختلاف کیا ہے؟ 11اکتوبر 1911ء کو تائیوان کے موجودہ حکمرانی شاہی خاندان نے چین کو جمہوریہ قرار دیا ہے اور  ھن بادشائیت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ مگر چیئرمین مائو نے ھن بادشائیت اور موجودہ تائیوان کے شاہی خاندان کے خلاف پیپلز لبریشن آرمی قائم کرکے عوامی جدوجہد کی تھی۔ دنیا بھر میں اس عوامی چینی آرمی نے طویل ترین احتجاجی مظاہرہ نما سفر طے کیا تھا۔ راستے میں سردی کے باعث احتجاجی مظاہرین کے شرکاء بیمار اور فوت ہوتے گئے  اور جب یہ احتجاجی عوامی جلوس کامیاب ہو رہا تھا تو اس کی تعداد صرف پانچ ہزار کے قریب تھی۔ مگر یہ کامیاب عوامی سیاسی روپ یوں کامیاب ہوا کہ 1948ء میں اس کی حکومت چیئرمین مائو زے تنگ کے زیر قیادت قائم ہوگئی اور چین کا حکمران خاندان تائیوان میں منتقل ہوگیا اور تائیوان کو الگ  ملک  کہہ دیا۔ یہ ہے اصل تنازعہ تائیوان اور چین کے حوالے سے۔ موجودہ چین تائیوان کو  اپنا زمینی حصہ قرار دیتا ہے کیونکہ 1948ء تک تائیوان چین کا باضابطہ حصہ تھا‘ جبکہ امریکہ تائیوان کا ساتھی ہے کہ وہ الگ ملک ہے‘ امریکی اتحاد میں شامل ممالک تائیوان کو الگ ملک مانتے ہیں۔
ایشیاء پیسفیک یعنی جنوبی بحیرہ  چین میں کشمکش بہت تیز ہوگئی ہے وزیر خارجہ پومپیو نے بھارت‘ آسٹریلیا‘ جاپان‘ تائیوان کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کرکے سائوتھ چائنہ سمندر جسے امریکہ بھارت اپنی حکمرانی کے تصور میں لئے ہوئے ہیں۔ چین کو بحری جنگ سے دوچار کرنے کی تیاری میں ہیں۔ تائیوان فی الحال اصل مسئلہ قرار دیا جارہا ہے۔