09:37 am
انتہا پسندہندوؤں کی تاریخی خیانت 

انتہا پسندہندوؤں کی تاریخی خیانت 

09:37 am

بھارت میں مسلم تہذیب وتمدن کے آثاراگرچہ شدت پسندہندوتنظیموں کوروزِاول سے کھٹکتے ہیں لیکن اب بھارت کی انتہا پسند سیاست کا مرکزی نکتہ ہی برصغیر پرمسلم تہذیب کے اثرات سے چھٹکار ااور مسلمانوں کی نشانیاں مٹانابن گیاہے۔اس کی ایک واضح مثال گزشتہ دنوں اس وقت دیکھی گئی جب بھارت کے تاریخی حیثیت کے شہرالٰہ آبادکانام اترپردیش کی ریاستی حکومت کی جانب سے تبدیل کرکے ’’پریاگ راج ‘‘اورفیض آبادکانام بدل کر’’ایودھیہ‘‘ رکھاگیا۔الٰہ آبادجیسے تاریخی شہرکانام تبدیل کرنے کی مضحکہ خیزوجہ یہ بتائی گئی کہ شہرکااصلی اورپرانانام’’ پریاگ راج‘‘ ہی تھا۔حکومتی جماعت کی جانب سے دعویٰ کیاگیاہے کہ وہ صرف تاریخ میں درج غلطیوں کودرست کررہی ہے حالانکہ تاریخ دان اس بات کو سرے سے نہیں مانتے۔ الٰہ آبادیونیورسٹی کے سابق وائس چانسلرپروفیسراین آر فاروقی کے مطابق تاریخی دستاویزات اورکتابوں کے مطابق پریاگ راج نام کاکبھی کوئی شہربساہی نہیں،البتہ ’’پریاگنام ‘‘سے منسوب ہندوئوں کاایک زیارتی مقام ضرورہواکرتاتھا، جس کاذکراب صرف کتابوں میں موجود ہے۔
مغل سلطنت کے بانی جلال الدین محمداکبر کاآباد کردہ443سالہ قدیم شہرالٰہ آبادنہ صرف بھارت بلکہ پاکستان کیلئے بھی تاریخی اہمیت کاحامل ہے۔ مفکرِپاکستان ڈاکٹرعلامہ محمد اقبالؒ نے 1930ء  میں اپناخطبہ اسی شہرمیں منعقدہ مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں دیاتھا۔ اردوکے مشہورشاعراکبرالہ آبادی کاتعلق بھی اسی شہرسے تھا۔اسی لیے جب اکبرنے اقبالؒ کولنگڑے آم کاتحفہ بھیجاتواس پر بے ساختہ اقبال ؒنے کہا:
اثر یہ تیرے انفاسِ مسیحائی کا ہے اکبر
الہ آباد سے لنگڑا چلا، لاہور تک پہنچا
بھارت کیلئے یہ شہراس حوالے سے اہم ہے کہ بھارت کاسب سے بڑامیلا’’کمبھ کامیلہ ‘‘جوہربارہ سال بعدمنعقدہوتاہے اسی شہرمیں ہوتاہے،یہی وہ مقام ہے جہاں ہندومت کے دومقدس دریائوں گنگا اورجمنا کاسنگم ہوتاہے۔بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہرلال نہروکا تاریخی گھر’’آنندبھون‘‘ بھی اسی شہرمیں ہے اوریہ شہربالی وڈاسٹارامیتابھ بچن کی جائے پیدائش بھی ہے۔الہ آباداورفیض آبادکے ناموں کی تبدیلی کے ساتھ ہی ریاست میں آگرہ، لکھنواورعلی گڑھ کے نام بھی بدل کر ہندوناموں پررکھنے کا مطالبہ زورپکڑگیاہے۔ اس سے قبل بھارتیاجنتاپارٹی کے رکن اسمبلی برجیش سنگھ نے چندماہ قبل دیوبندشہرکانام بدل کر’’دیوورند‘‘ رکھنے کی تجویزبھی پیش کی تھی اورریاستی حکومت اس مطالبے پربھی سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔شہروں کانام تبدیل کرنے سے انتہاپسندتنظیموں کوکھلی چھوٹ مل گئی ہے اورمسلم تہذیب کی علامات کوچن چن کرنشانہ بنایاجارہاہے۔ اترپردیش کی دیکھادیکھی بھارتی ریاست گجرات کی حکومت نے بھی اعلان کردیاہے کہ وہ احمدآبادکانام بدل کر’’کرناوتی‘‘ کرنے جارہی ہے۔ریاست کے وزیراعلیٰ وجے روپانی کاکہناہے کہ ریاست کے لوگ ایک عرصے سے احمدآبادکانام تبدیل کرکے کرناوتی رکھنے کامطالبہ کررہے ہیں،اب حکومت ان کے مطالبہ پرغورکررہی ہے۔مزیدیہ کہ اگرنام بدلنے کے عمل میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں آئی توآئندہ پارلیمانی انتخابات سے پہلے احمدآبادکانام تبدیل کردیاجائے گا۔اس کیلئے مطلوبہ منظوری حاصل کرنے کیلئے قانونی عمل شروع کردیاگیا ہے۔نائب وزیر اعلیٰ نے وزیراعلیٰ کے بیان کی مزیدوضاحت کرتے ہوئے کہاکہ احمدآبادنام ہندوؤں کی غلامی کی علامت ہے جبکہ کرناوتی ہندوئوںکےافتخار، وقار، ثقافت اورخودمختاری کا غماز ہے ۔اسی طرح گجرات کی پڑوسی ریاست مہاراشٹر میں بھی کم ازکم دوشہروں کے نام بدلنے کامطالبہ سامنے آیاہے۔حکمران جماعت شیوسیناکے رکن پارلیمان سنجے راوت نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ اترپردیش کے وزیراعلیٰ نے الٰہ آبادکانام پر یاگ راج اورفیض آبادکانام ایودھیا کر دیا ہے، مہاراشٹرکے وزیراعلی اورنگ آبادکانام’’ سمبھاجی نگر‘‘اورعثمان آباد کانام ’’دھاراشیونگر‘‘کب رکھیں گے؟
راوت نے مزیدکہاکہ ان دونوں شہروں کے نام بدلنے کامطالبہ بہت پراناہے لیکن ماضی کی حکومتوں نے مسلمانوں کی ناراضی کے خدشے سے ان کانام تبدیل نہیں کیا۔اسی طرح بھارت کی جنوبی ریاست تلنگانہ میں بھی ایک ہندونوازرہنمانے اعلان کیاہے کہ اگران کی حکومت اسمبلی انتخابات میں اقتدارمیں آگئی تووہ حیدرآباداورجڑواں شہر سکندرآبادکے اسلامی ناموں کوبدل دیں گے۔ ان ناموں کوبدلنے کے پیچھے بھی یہی دلیل دی جارہی ہے کہ ان کے موجودہ نام ہندوؤں کی غلامی کی علامت ہیں۔بقول ان کے یہ سبھی شہردورِ قدیم میں ہندوئوں اورہندومذہبی کرداروں کے نام پرتھے جنہیں مسلم حکمرانوں بالخصوص مغلوں نے تبدیل کردیا۔ ابھی تک کوئی ایک بھی ایسی ٹھوس دلیل پیش نہیں کی جاسکی،جس کی بناپریہ دعویٰ ثابت کیاجاسکے مگر ہندو تنظیموں کے اعلیٰ عہدیداروں سے کارکنان تک سبھی اس بات کودہراتے ہیں کہ مسلمان بادشاہوں بالخصوص مغل حکمرانوں نے ہندومت کے تاریخی شہروں کانام قصداًتبدیل کیا۔
دنیابھرکے مبصرین کااس بات پراتفاق ہے کہ شہروں،علاقوں کے نام بدلنے کے پیچھے اصل مقصد ماضی کی نام نہادعظمت اور تہذیبی وراثت کوبحال کرنانہیں بلکہ دورِحاضرکے مسلمانوں کویہ باورکرواناہے کہ جمہوری بھارت کی تہذیب وتمدن کامطلب ہندوتہذیب وتمدن ہے اوراس تہذیب میں مسلمانوں اور ماضی کے مسلم حکمرانوں کاکوئی کردارنہیں،خود بھارت کے اندربھی منصف مزاج شخصیات کی جانب سے ایسے خدشات کابارہا اظہار کیاجاچکاہے۔
شہروں کے نام تبدیل کرنے کے مطالبات کے علاوہ تاج محل،پراناقلعہ اوردہلی کی جامع مسجدجیسی تاریخی عمارتوں کے گرد نئے تنازعات کھڑے کیے جارہے ہیں اورتاریخی عمارتوں کے بارے میں یہ تاثرپھیلایاجارہاہے کہ یہ عمارتیں ہندومندروں کوتوڑ کربنائی گئی تھیں۔بھارتی دارالحکومت دہلی کے ہمایوں پورمیں واقع تغلق دورکے ایک مقبرے کو مندر میں تبدیل کیاجاچکاہے جبکہ دہلی کے مرکزمیں انڈیا گیٹ کے نزدیک واقع اکبرروڈ کاتنازع بڑھتا جارہا ہے۔اب تواکبرروڈکے سائن بورڈپرکہیں کالک لگادی جاتی ہے توکہیں راتوں رات مہارانا پرتاپ روڈکابورڈنصب کردیاجاتا ہے حالانکہ سرکاری طورپرابھی تک سڑک کانام تبدیل کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیاگیا۔کافی عرصے سے اکبرروڈکانام شدت پسند ہندو تنظیموں کو کھٹک رہاہے اورکئی بارسڑک کے بورڈکے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنے کے الزام میں کئی ہندوانتہا پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کوگرفتاربھی کیاگیامگرکچھ عرصہ قبل بھارت کے وزیراعظم نے بھی دہلی کے اکبرروڈ کانام تبدیل کرکے رانا پرتاپ کے نام پررکھنے کااشارہ دیا تھا،جس سے شدت پسند تنظیموں کوشہ ملی مگراس بیان پرخود بھارت کے چندنمایاں طبقات کی جانب سے غیر متوقع ردِعمل سامنے آیا۔بھارت کے مشہوردانشور پروفیسررام پنیانی نے اپنے مختلف لیکچروں میں سڑک کانام تبدیل کرنے کوشدیدتنقیدکا نشانہ بنایا۔ پروفیسر پنیانی کے بقو ل سٹرک کانام تبدیل کرنے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ بادشاہ اکبرغیرملکی اورمسلمان تھااوراس کا ہندوستانی تاریخ سے بطورہندوستانی کوئی تعلق نہیں تھاجبکہ مہاراناپرتاپ ہمارے اپنے ہندوراجہ تھے۔اس لیے اکبرروڈکا نام تبدیل کر کے مہاراناپرتاپ روڈرکھاجائے۔ آیئے!دیکھتے ہیں کہ کیامہارانا پرتاپ اوربادشاہ اکبرکی لڑائی اپنی حکومت اور ریاست کیلئے تھی یایہ ہندومت اوراسلام کی جنگ تھی۔(جاری ہے)