09:37 am
اپوزیشن جلسہ اور وزیراعظم کا ’’نوٹس‘‘

اپوزیشن جلسہ اور وزیراعظم کا ’’نوٹس‘‘

09:37 am

آج پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان میچ پڑے گا… سب سے مشکل لاہور سے گوجرانوالہ ریلی لے کر پہنچنا ہے … سنا ہے کہ یہ مشکل محاذ ’’مولانا‘‘ نے سنبھال لیا ہے … یعنی مولانا فضل الرحمن لاہور سے ایک بڑی ریلی کی قیادت کرتے ہوئے گوجرانوالہ جلسہ گاہ پہنچیں گے … پنجاب بالخصوص لاہور، گوجرانوالہ، ساہیوال کو مسلم لیگ (ن) کا گڑھ قرار دیا جاتا رہا ہے … آج اندازہ ہو جائے گا کہ مسلم لیگ (ن) میں دودھ پینے والے مجنوں زیادہ ہیں … یا خون دینے والے؟
گوجرانوالہ کے جلسے کو کامیاب کرنے کی زیادہ بڑی ذمہ داری مسلم لیگ (ن)، پھر پیپلز پارٹی، جمعیت علماء اسلام اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں پر عائد ہوتی ہے … مسلم لیگ (ن) ’’ڈیل‘‘ کے کھونٹے سے رسہ تڑوا چکی ہوئی تو پھر تو گوجرانوالہ کے احتجاجی جلسے کو کامیاب کرنے کیلئے جان لڑا دے گی … لیکن اگر ’’ابے‘‘ نے ’’نکے‘‘ کی ڈیل کا  رسہ گوجرانوالہ تک دراز کیا ہوا ہوگا … تو پھر (ن) لیگ نے مولانا کے ’’آزادی مارچ‘‘ میں جیسا ہومیو پیتھک کردار ادا کیا تھا … ویسا کردار ہی اب ادا کرے گی … یہ کوئی بہانہ نہیں ہے کہ حکومت راستے بند کررہی ہے … کنٹینر لگا رہی ہے … کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے … ارے بابا! حکومت پھول پیش کرنے سے تو رہی؟ ہمارے ہاں جیسی بوسیدہ ترین جمہوریت رائج ہے … اسی جمہوریت کی کوکھ سے ایسے موقعوں کیلئے  راستوں کی بندش، مخالفین کیلئے زمین تنگ کرنا اور گھروں پر چھاپے ہی برآمد ہوتے ہیں۔
اگر گوجرنوالہ کے احتجاجی جلسے کو کامیاب بناتے ہوئے … چار چھ ہزار کارکن  گرفتار بھی ہوگئے تب بھی یہ حکومت کی ناکامی اور اپوزیشن کی کامیابی تصور ہوگی … شائد اسی لئے مولانا فضل الرحمن شروع دن سے ہی اپنے کارکنوں کے دلوں سے اس راہ میں ہونے والی گرفتاریوں کا ڈر  اور خوف نکالتے رہے ہیں … جمعیت علمائے اسلام ہو ، مسلم لیگ (ن) ہو یا پیپلز پارٹی … کوئی شک نہیں کہ یہ قومی سیاسی جماعتیں ہیں … یہ وہ قومی وحدت کی جماعتیں ہیں کہ جن کی جڑیں صرف چاروں صوبوں میں ہی نہیں بلکہ آزاد کشمیر سے لے کر گلگت  بلتستان تک کے عوام میں پائی جاتی ہیں … یقینا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو بار بار اقتدار ملا … مگر افسوس کہ ان کا دور اقتدار بھی عالمی اسٹیبلشمنٹ کی غلامی کا حصہ ہی رہا … آج پی ڈی ایم کے سربراہ وطن عزیز کو عالمی اسٹیبلشمنٹ اور عالمی صیہونی طاقتوں کی غلامی سے نجات دلانے کا نعرہ لے کر میدان میں کودے ہیں … یقینا ان سے بڑھ کر کون اس نعرے کی ’’قیمت‘‘ کو جان سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتیں بالخصوص ن لیگ اور پیپلز پارٹی بھی پاکستان کو عالمی صیہونی طاقتوں کی غلامی سے نجات دلانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوں گی؟ عالمی صیہونی طاقتوں کی غلامی سے نجات کانعرہ  بہت مقدس ہے  اور میں جانتا ہوں کہ اس مقدس نعرے پر جائیں لٹانے والے کارکنوں کی بھی مولانا کے پاس کوئی کمی نہیں … مولانا کا مخاطب تو سرے سے عمران خان ہے ہی نہیں … وہ تو عالمی صیہونی طاقتوں کے بڑوں کو للکار رہے ہیں  ، جب وہ انہیں للکار رہے ہیں تو پھر اس حکومت کی کیا حیثیت ہے؟
لیکن جان کی امان ملے … تو عرض کروں کہ اگر اپوزیشن کی تحریک کے نتیجے میں حکومت رخصت بھی ہوگی تو پھر کیا ہوگا؟ کیا پیپلز پارٹی اور ن لیگ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے حصار سے نکلنے کیلئے تیار ہوں گی؟ یا ملک ایک دفعہ پھر عالمی طاقتوں کے مفادات کے تحفط کیلئے لگا دیا جائے گا۔
پاکستان کے عوام … اس حکومت کی کارکردگی سے سخت مایوس اور ناراض ہیں … ان کی بلاء سے پی ٹی آئی کی حکومت کل کی بجائے آج چلی جائے … کیونکہ عوام سمجھتے ہیں کہ اس حکومت نے کروڑوں پاکستانی کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھین لیا ہے … ستم در ستم ادرک آٹھ سو روپے کلو، چینی 105 روپے کلو ، پیاز80 روپے، لہسن چھ سو روپے ، انگور تین سو روپے، دالیں ہوں، کوکنگ آئل ہو ، ادویات ہوں  یا دیگر ضروریات زندگی … ان کی قیمتوں کو آگ لگ ہوئی ہے، سبزی منڈیوں اور بازاروں پر حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے ، آٹا، دودھ ، چاول، دہی ، ٹماٹر، غرضیکہ کوئی شخص ایک چیز بھی حکومت کے طے کردہ ریٹ پر فروخت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے … لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اور وزیراعظم فرماتے ہیں کہ  میں نے ’’نوٹس‘‘ لے لیا۔ کوئی انہیں بتائے کہ آپ کے ’’نوٹس لینے‘‘ سے کسی چیز کی قیمت میں ایک دھیلے کی بھی کمی واقع نہیں ہوئی … اب آپ اس ’’نوٹس‘‘ کا تعویذ بناکر حفیظ شیخ سمیت دیگر وزیروں کے گلے میں ڈال دیں … غریب کو سستے آٹے، سستے دودھ، سستے تیل،  سستی ادویات سے غرض ہے … آپ کے ’’نوٹس‘‘ سے  نہیں ، عوام رُل رہے ہیں  اور آپ کا ’’نوٹس‘‘ شائد اقوام متحدہ میں تقریر کرنے گیا ہوا ہے؟
عمران خان نے بدھ کے دن یہ اعلان بھی کیا ہے کہ ’’کچھ بھی ہو جائے اپوزیشن سے مفاہمت نہیں ہوگی … نہ ہی این آر او دوں گا، شریف خاندان نے سرکاری خزانہ ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا‘‘ بالکل ٹھیک اپوزیشن سے بالکل نہ مفاہمت کریں اور نہ این آر او دیں، لیکن قوم کو ذرا یہ بھی بتا دیں کہ آپ نے اپنے دو سالہ دور حکومت میں شریف خاندان یا زرداری خاندان سے کتنے ارب روپے برآمد کروائے؟ اگر ایک ٹیڈی پیسہ بھی نہیں تو کیوں؟ نواز شریف گرفتار رہے … شہباز شریف اور حمزہ شہباز آج بھی گرفتار ہیں … زرداری ، ا ن کی بہن فریال کرپشن کیسزز میں عدالتوں کے دھکے کھا رہے ہیں … آپ کی حکومت، نیب ، عدالتیں سب مل کر بھی ان دونوں خاندانوں  سے اگر ملکی خزانے سے لوٹا ہوا ایک دھیلا بھی برآمد نہیں کرواسکیں تو پھر کہنے والوں کو تو موقع ملے گا ہی کہ یہ احتساب نہیں بلکہ انتقام ہے، مجھے کسی کرپٹ سے کوئی ہمدردی نہیں ہے … لیکن سوال تو بنتا ہے کہ حکومت تمام تر طاقت ہونے کے باوجود اگر اربوں، کھربوں کی کرپشن میں سے ایک پائی وصول کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئی تو کیا یہ احتساب کی ناکامی نہیں ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ ’’آٹے، چینی کی قیمتیں نہیں بڑھنی چاہیے تھیں … لیکن بڑھیں‘‘ اور وزیراعظم یقین دلاتے ہیں کہ ’’مہنگائی پر جلد قابو پالیں گے‘‘
 کب سر کب؟ جب عوا م مر جائیں گے؟ یہ مہنگائی کوئی انڈیا  یا لندن میں ہوئی ہے  کہ جس پر قابو پانے کیلئے سرحدوں کو عبور کرنا پڑے گا؟ آپ پاکستان کے وزیرا عظم ہیں … کل کی بجائے آج ہی  عملاً مہنگائی پر قابو پالیجئے … آپ کو کس نے منع کیا ہے۔ (وما توفیقی الا باللہ)