09:39 am
اپوزیشن کا جلسہ…پولیس کو انعام پر چیف جسٹس کی برہمی!

اپوزیشن کا جلسہ…پولیس کو انعام پر چیف جسٹس کی برہمی!

09:39 am

٭گوجرانوالہ،آج جناح سٹیڈیم ن لیگ کے جلسہ کی اجازت، متعدد شرائط پکڑ دھکڑ شروع O اقوام متحدہ، انسانی حقوق کمیٹی، پاکستان کی بھاری کامیابی، بھارت میں یوم سیاہ O لندن: پاک فوج نے بین الاقوامی مقابلہ جیت لیاO یورپ کرونا اک دم تیز، متعدد ممالک میں تعلیمی ادارے بندO آزاد کشمیر، دو وزرا کرونا کی زد میں O مجرم کو پکڑنے پر انعام کیوں؟ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ برہمO سعودی عرب جلد اسرائیل سے تعلقات قائم کرے، امریکی وزیرخارجہ کی ہدائتO جنوبی بھارت: طوفانی بارشیں، 32 افراد ہلاک O مولانا عادل کی شہادت کو پانچ روز، کوئی ملزم گرفتار نہیں O شریف خاندان: ایک کمپنی میں 25 ارب روپے کا مزید سرمایہ دریافت O کلثوم نواز کے ضمنی انتخاب پر ن لیگ کی حکومت نے ڈھائی ارب روپے خرچ کئے، یاسمین راشد وزیر صحت پنجاب O ٹرمپ، بیٹا کرونا میں مبتلا!O ’’اوئے عمران نیازی! اپنے ہتھکنڈوں سے باز آئو‘‘ بلاول زرداری۔
٭کئی روز کی چَخ چَخ کے بعد بالآخر حکومت نے اپوزیشن کو آج جناح سٹیڈیم میں جلسہ کرنے کی مشروط اجازت دے دی۔ مگر مختلف شہروں میں اپوزیشن کے رہنمائوں اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ بھی شروع کر دی۔ محاورہ ہے کہ اڑیل بکری بالآخر دودھ تو دے دیتی ہے مگر اس میں مینگنیاں ڈال دیتی ہے۔ جب کھلے جلسہ کی اجازت دے دی تو کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کیوں؟ ویسے یہ نئی بات نہیں۔ ماضی میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتیں بھی یہی کچھ کرتی تھیں۔ میں نے لاہور میں ن لیگ کی حکومت کو پیپلزپارٹی کے جلوسوں پر اور پیپلزپارٹی کی حکومت کو ن لیگ کی ریلی پر لاٹھیاں اور آنسو گیس برساتے دیکھا ہے۔ پیپلزپارٹی کے ایک جلوس کا دلچسپ منظر کہ جلوس کے دونوں طرف کچھ کارکن ہاتھوں میں پانی سے بھری بالٹیاں لئے چل رہے تھے۔ آنسو گیس شروع ہوتی تو یہ پانی میں تولئے بھگو کر متاثرہ افراد کے چہروں پر پھیرتے جاتے۔ ایک بالٹی بردار آنسو گیس خارج کرنے والے گولے بالٹی کے پانی میں ڈالتا جاتا۔ گولوں کی گیس پانی میں بند ہو جاتی ہے۔ ان دنوں تحریک انصاف کا کوئی وجود نہیں تھا۔ خدا کرے، حکومت اور اپوزیشن، دونوں ہوش کے ناخن لیں (عجیب محاورہ ہے!)۔
٭ایک اہم بات: بلاشبہ تحریک انصاف کے اقتدار کا ڈھائی سالہ دور عوام کے لئے شدید مہنگائی کی اذیت کا باعث بنا ہے (انڈے 165 روپے، کوئٹہ میں 200 روپے درجن!) ادرک 1000 روپے کلو تک، وزیراعظم اب تک مہنگائی کے بارے میں 11 بار تشویش کا اظہار کر چکے ہیں مگر عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔ ساری توجہ ’’چوروں، ڈاکوئوں کو نہیں چھوڑوں گا‘‘ کی گردان تک محدود رہی ہے۔ اندرون و بیرون ملک جتنی مرضی کامیابیوں کی دھوم مچا لو، اقوام متحدہ میں ’بے مثال‘ تقریریں کر لو، غریب عوام کو روٹی نہیں ملے گی تو سب ’کامیابیاں‘ تقریریں اور خوش خبریاں بے کار!! عوام کا پہلا اور اہم ترین مسئلہ روٹی، علاج معالجہ اور تعلیم کا ہے۔ یہ چیزیں حکومت کا مسئلہ نہیں بن سکیں۔ اب اپوزیشن کے ہنگامہ خیز مظاہرے شروع ہو رہے ہیںتو حکمرانی ہلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ قومی اسمبلی میں اتحادی پارٹیاں چھوڑتی جا رہی ہیں، باقی آنکھیں دکھا رہی ہیں۔ (اسمبلی میں تحریک انصاف کے 157 ممبر ہیں۔ حکومت بنانے کے لئے کم از کم 172 چاہئیں)۔ چلیں! یہ حکومت تو نااہل، نالائق نکلی مگر اپوزیشن کی جماعتیں 30,30 سال حکمران رہیں! ان کے زمانے میں ملک میںکون سی شہد اور دودھ کی نہریں بہہ رہی تھیں؟ اسی دور میں حکمران ملک کا کئی کئی کھرب کا سرمایہ لوٹ کر باہر محلات اور اثاثے خرید لئے!! اب متعدد بیماریوںمیںپھنسے بستروں پر پڑے ہیں۔ امرودوں کے چھلکے خشک کالے چنے اور گھی کے بغیر ابلی ہوئی سبزیاں کھا رہے ہیں؟ کیا فائدہ دولت کی لوٹ مار کے ڈھیروں کا۔
٭اب ذرا گوجرانوالہ کے جلسے کے بارے میں ضلعی انتظامیہ اور اپوزیشن کے معاہدہ کا کچھ ذکر! دونوں فریقوں کے اس معاہدہ میں طے پایا ہے کہ جلسے میں قومی اداروں (پاک فوج، عدلیہ، پارلیمنٹ وغیرہ) کے خلاف کوئی بات نہیں ہو گی، اسلحہ کی نمائش نہیں ہو گی وغیرہ۔ یہ شرائط ہر دور میں ہر جلسے پر عائد ہوتی رہی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاک فوج کے خلاف کوئی بات نہیں کہی جاسکے گی تو مریم نواز کیا بات کرے گی؟ موصوفہ اور ان کے والد نوازشریف کی تو تقریریں فوج کے خلاف بیانیہ سے ہی شروع ہوتی ہیں، اور اسی پر ختم ہوجاتی ہیں! قارئین کے لئے ایک اطلاع کہ گوجرانوالہ کے جناح سٹیڈیم میں 35 ہزار افراد کی گنجائش ہے۔
٭جلسے کی بات لمبی ہوگئی۔ پنجاب پولیس نے 33 روز بعد تحفہ میں ملنے والے موٹر وے کیس کے ایک مجرم کو ’گرفتار‘ کر لیا تو پنجاب کے حاتم طائی وزیراعلیٰ نے پولیس کی اس عدیم المثال کارکردگی (33 دن!) پر سرکاری خزانے سے  50 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کر دیا۔ اس پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب محمد قاسم خاں سخت برہم ہو گئے کہ ’’انعام کس بات کا؟ پولیس کی ڈیوٹی ہی مجرموںکو پکڑنے کی ہوتی ہے۔ اس نے ایک مجرم کو گرفتار کیا ہے تو انعام کیا اور کیوں؟‘‘ میں بڑے احترام اور ادب کے ساتھ چیف جسٹس صاحب سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ حضور! مسئلہ چاندی کا پیالہ ہاتھ آ جانے کا ہے جس میں مسلسل پانی پیتے رہنے سے پیٹ پھول جاتا ہے! جناب عالی! حاتم طائی اپنی جیب سے سخاوت کیا کرتا تھا۔ یہاں حکمرانوں کو سرکاری خزانے ہاتھ آ گئے ہیں۔ وزیراعظم ایک پسندیدہ مدرسے کو 30 کروڑ روپے عطا کر دیتا ہے، پنجاب کا وزیراعلیٰ کسی مطالبے یا قانونی کارروائی کے بغیر چھ شوگر ملوں کے مالک اپنے پرانے دوست کو چینی کی ناجائز برآمد کے لئے سرکاری خزانے سے تین ارب روپے تحفہ میں دے دیتا ہے۔ اندھیر نگری، چوپٹ راج! کوئی پوچھنے والا نہیں! نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن کا محکمہ، ایف بی آر، وزارت خزانہ کھلی آنکھوں کے ساتھ قوم کا سرمایہ لٹتے دیکھتے رہے۔ پولیس کے ان درندوں میں سے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی۔یہ سب خونخوار بھیڑیے باعزت بری ہو کر اگلے عہدوں پر ترقیاں پا گئے! رحیم یار خاں میں اے ٹی ایم کی چوری کے ایک ملزم کو پولیس نے سرعام گولی مار کر قتل کر دیا! سب پولیس والے باعزت بری!! عدالتیں کیا کر سکتی ہیں؟ انہوں نے پولیس کے دائر کردہ مقدموں اور گواہیوں کی بنیاد پر فیصلے سنانے ہوتے ہیں، پولیس خود ہی قاتل، خود ہی مجرم، خود ہی مدعی خود ہی گواہ ہو تو کیسے مقدمے، کیسا انصاف؟؟
٭پاکستان کی بیرون ملک عظیم خوش کن کامیابی کہ بھارت کی شدید مخالفت کے باوجود اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کے ایشیائی انتخابات میں پاکستان  تمام بین الاقوامی امیدواروں کے مقابلے میں زیادہ، 191 میں سے 169 ووٹ لے کر سرفہرست کامیاب رہا، سعودی عرب ہار گیا، چین کے ووٹ بھی پاکستان سے 30 کم رہے۔ اس الیکشن میں پاکستان کو 169، ازبکستان کو 164، نیپال کو 150 اور چین کو 139 ووٹ ملے، سعودی عرب کو صرف 90 ووٹ مل سکے، پاکستان کی اس کامیابی کا خاص پہلو یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کو ہرانے کے لئے سر توڑ کوششیںکیں۔ تمام 193 ممالک میں باقاعدہ پمفلٹ تقسیم کئے گئے اور سفارتی ملاقاتیںکی گئیں ۔ الیکشن والے دن بھی جنرل اسمبلی میں بھارتی نمائندے پاکستان کے خلاف سرگرم رہے مگر حیرت انگیز نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کو 191 میں سے سب سے زیادہ 169 ووٹوں کی ریکارڈ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ یقینا یہ پاکستان کے سفارت کاروں کی قابل تحسین شاندار کامیابی ہے۔ اس پر بھارت کو جو شدید ناکامی ہوئی اور سخت صدمہ پہنچا ہے اس کا اندازہ بھارت کی وزارت خارجہ کے ایک اہم ترجمان کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’آج کا دن ’’یوم سیاہ ہے!‘‘ اس نمایاں کامیابی کے اگلے روز برطانیہ میں سینڈھرسٹ کی مشہور عالم فوجی چھائونی میں فوجی ڈرل (پریڈ) کے بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی فوج نے شاندار ٹرافی جیت لی۔ پاک فوج تین سال سے مسلسل یہ ٹرافی جیت رہی ہے۔ بے حد مبارکباد!

تازہ ترین خبریں

وزیر اعظم کی ان تھک کوششوں سے ہر شعبے میں نمایاں بہتری آنے لگی ہے،شہبازگل

وزیر اعظم کی ان تھک کوششوں سے ہر شعبے میں نمایاں بہتری آنے لگی ہے،شہبازگل

ارشدملک جیسے جج کون تیار کرتاہے۔۔ مسلم لیگ نے ایک بار پھر الزامات کی پوچھاڑ کردی،

ارشدملک جیسے جج کون تیار کرتاہے۔۔ مسلم لیگ نے ایک بار پھر الزامات کی پوچھاڑ کردی،

اب ہم عمران خان کوجیل بھیجیں گے،سوائے ایک چیز کے !تمام سہولتیں دیں گے،رانا ثنا اللہ

اب ہم عمران خان کوجیل بھیجیں گے،سوائے ایک چیز کے !تمام سہولتیں دیں گے،رانا ثنا اللہ

پشاور،گھر میں گیس سلنڈر پھٹنے سے بچہ جاں بحق ،5 افراد شدید زخمی

پشاور،گھر میں گیس سلنڈر پھٹنے سے بچہ جاں بحق ،5 افراد شدید زخمی

وزیراعلیٰ پنجاب سے عثمان ڈار کی ملاقات،وزیراعظم کے دورہ سیالکوٹ کیلئے انتظامات پر تبادلہ خیال

وزیراعلیٰ پنجاب سے عثمان ڈار کی ملاقات،وزیراعظم کے دورہ سیالکوٹ کیلئے انتظامات پر تبادلہ خیال

 سابق حکمرانوں نے معیشت،اداروں اور سیاسی نظام کو معذور کیا،فردوس عاشق اعوان

سابق حکمرانوں نے معیشت،اداروں اور سیاسی نظام کو معذور کیا،فردوس عاشق اعوان

شادی کی تقریب غم میں تبدیل ہو گئی ، کرنٹ لگنے سے 3 مزدورجاں بحق

شادی کی تقریب غم میں تبدیل ہو گئی ، کرنٹ لگنے سے 3 مزدورجاں بحق

شادی کی تقریب غم میں تبدیل ہو گئی ، کرنٹ لگنے سے 3 مزدورجاں بحق

شادی کی تقریب غم میں تبدیل ہو گئی ، کرنٹ لگنے سے 3 مزدورجاں بحق

اسمبلیوں سے استعفوں پر اپوزیشن اتحاد میں اتفاق۔۔۔۔ نوازشریف اور مریم نواز کے ترجمان نے بڑا اعلان کردیا

اسمبلیوں سے استعفوں پر اپوزیشن اتحاد میں اتفاق۔۔۔۔ نوازشریف اور مریم نواز کے ترجمان نے بڑا اعلان کردیا

 کے ایم سی ملازم شہزاد کو بوسہ مہنگا پڑ گیا، شوکاز نوٹس جاری کرکے 7 دنوں کے اندر جواب طلب

کے ایم سی ملازم شہزاد کو بوسہ مہنگا پڑ گیا، شوکاز نوٹس جاری کرکے 7 دنوں کے اندر جواب طلب

 جمہوریت کے نام پر نام نہاد سیاسی پارٹیاں سماج اور جمہور کا مذاق اڑا رہی ہیں۔سینیٹر سراج الحق

جمہوریت کے نام پر نام نہاد سیاسی پارٹیاں سماج اور جمہور کا مذاق اڑا رہی ہیں۔سینیٹر سراج الحق

ملتان جلسہ سے قبل کارکنان کی گرفتاریوں اور تشدد کے خلاف جےیوآئی سمیت پی ڈی ایم کےملک بھر میں مظاہرے

ملتان جلسہ سے قبل کارکنان کی گرفتاریوں اور تشدد کے خلاف جےیوآئی سمیت پی ڈی ایم کےملک بھر میں مظاہرے

 موجودہ نااہل، سلیکٹیڈ اور مسلط کردہ حکمرانوں سے چھٹکارے کا وقت آگیا ہے،8 اکتوبر کوبڑے فیصلے متوقع ہیں ، ترجمان پی ڈی ایم میاں افتخار حسین

موجودہ نااہل، سلیکٹیڈ اور مسلط کردہ حکمرانوں سے چھٹکارے کا وقت آگیا ہے،8 اکتوبر کوبڑے فیصلے متوقع ہیں ، ترجمان پی ڈی ایم میاں افتخار حسین

کلبھوشن کیس۔ پاکستان نے بھارتی دعویٰ بے بنیاد قرار دے دیا

کلبھوشن کیس۔ پاکستان نے بھارتی دعویٰ بے بنیاد قرار دے دیا