07:39 am
ہندو توا اسٹیبلشمنٹ

ہندو توا اسٹیبلشمنٹ

07:39 am

کیا دلچسپ معاملہ ہے کہ برصغیر میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے مابین، اعلیٰ ذات کے ہندوئوں اور کم تر ذات کے دلتوں کے ساتھ جب ذات پات کی تقسیم مذہبی طور پر دائمی ہو جائے گی تو امن،سلامتی،سکون،اطمینان کہاں سے برصغیر میں آتا؟یہی وجہ ہے کہ خراسان،موجودہ افغانستان،سینٹرل ایشیاء سے مسلمان ترک فاتحین برصغیر کا رخ کرتے رہے۔وہ شجاعت اور دلیری کو سامان حرب و تہذیب بناتے تھے اس لئے وہ کامیاب اکثر رہتے تھے کیونکہ مذہبی طور پر ہندو ازم کی انسانی تحقیر و تقسیم ابدی ہوچکی ہے۔
کیا ہندوستان ایک حراستی مرکز ہے؟ ہندو ازم حراستی مرکز کا تخلیق کار ہے؟ مشرف عالم فاروقی ایک نابغہ روزگار مسلمان تخلیق ادب کرتا کردارہے۔ وہ ہندوستان کو ایک حراستی مرکز کہتاہے۔ کیا ملک ایک کاغذ کا کمرہ ہوتا ہے؟ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ہندوئوں نے ان کے ملک کو ایک کاغذی ملک بنا دیا۔ اندرا گاندھی نے1971 ء سے پہلے ایک ہندو دانشور برامینیم کو اندلس مطالعہ کے لئے بھیجا تھا کہ کس طرح آٹھ صدیاں حکمرانی کرنے والے مسلمان عرب اندلس سے ہمیشہ کے لئے نکال دیئے گئے اور اندلس ایک متشدد  مسیحی ریاست بن گیا تھا۔ 
سقوط ڈھاکہ اسی اندلس مطالعہ تاریخ کا ایک باب تھا مگر کیا یہ اکیلے اندرا گاندھی کا ذہن تھا؟ کہ برصغیر کی تاریخ سے مسلمانوں کو کھرچ دیا جائے؟ یہ مرار جی ڈیسائی بھلا کون تھا بھارت میں ایک کانگریسی وزیراعظم۔ رئیس احمد جعفری ایک مسلمان مصنف، مئولف، مورخ، مترجم، اس نے ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ذہنی و فکری اسلوب ہندوتوا پر احتجاج کیا تو اسی وزیراعظم مرار جی ڈیسائی نے قوت جواب دیا کہ رئیس احمد جعفری کو ہندوستان چھوڑ کر پاکستان چلے جاناچاہیے۔ کیا مرار جی ڈیسائی کے اندر ہندوتوا موجود تھا؟ کیا مودی،امیت شا، ادیتھاناتھ اکیلے ہندوتوا کے بانی ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں۔ ان سے پہلے بھی ہندوتوا موجود تھا۔ 1923 ء میں ہندوتوا نظریہ طلوع ہو رہا تھا۔
مسلمان نے برصغیر کی مشترکہ تہذیب و تمدن کو تخلیق کیا۔ یہ مغل اعظم اکبر کون تھا؟ ہندوئوں،سکھوں،مسلمانوں کی مشترکہ تہذیب و تمدن کی علامت،کیا اس نے ہندوئوں کے ساتھ ظلم کیا،یہ جو ترک مغل حکمران تھے۔ یہ جو سلطان ٹیپو تھا۔ کیا یہ مشترکہ مسلمان ہندو تہذیب کو فروغ دیتے کردار نہ تھے؟کیا انہوں نے ہندو مندروں کی تعمیر اور اخراجات کے لئے جائیدادیں وقف نہ کی تھی؟ کیا ان کی فوج اور انتظامیہ میں ہندو موجود نہ تھے؟ بالکل تھے اور بہت زیادہ تھے۔
جی بالکل موجود تھے۔انگریزوں نے اپنی سلطنت میں  ہندوئوں کو سماجی،معاشرتی سطح پر فوقیت دی اور حکومتی سطح پر بھی۔ کیا کانگرس کی تخلیق ایک انگریز کے ہاتھوں نہ ہوئی تھی،مگر کیا سرسید احمد،علی گڑھ،مسلم لیگ کسی انگریز کی تخلیق تھی؟علامہ اقبال کسی انگریز کی تخلیق تھا جس نے مجبور و بے بس مسلمانوں کے شمالی سرحدی علاقہ جات میں ایک محفوظ مسلمان ریاست کا تصور دیا تھا۔
مولانا ابو الکلام،حسین احمد مدنی،ان کے رفقاء نے برصغیر میں مشترکہ مسلمان و ہندو تہذیب و تمدن کے احیاء کی سیاست کی اور پاکستان کی مخالفت کی تھی۔یہ لوگ برصغیر کے ساتھ مخلص ضرور تھے،مگر سادہ لوح ثابت ہوئے۔ کیا تقسیم برصغیر کا ذمہ دار قائداعظم تھا؟ جسونت سنگھ نے تحقیق کرکے کتاب جناح لکھی اور تقسیم برصغیر کی ذمہ داری جناح کی بجائے ہندوئوں پر ثابت کر دی، جی نہیں۔ تقسیم برصغیر کا ذمہ دار وہ تنگ نظر،متعصب،ہندو ذہن تھا جو مسلمان پانی اور ہندو پانی کو ریلوے اسٹیشنوں پر بھی نصب کرواتا تھا۔یہی قدیم عہد کا ہندوتوا ذہن مودی،امیت شا، ادتیھا ناتھ جوگی کی صورت میں آج بھارت کا حکمران ہے۔
فرق صرف یہ تھا کہ کانگرسی عہد میں مسلمان دشمنی منافقت کے ساتھ تھی۔ مسلمانوں کو صدر وزیر بھی بنالیا جاتا تھا،سکھ بھی صدر بنا دیا گیا تھا مگر یہ صرف منافقت تھی سکھوں کے ساتھ بھی،مگر مودی،امیت شا،جوگی کے ذریعے ہندوتوا کے اظہار نے برصغیر کو دو ٹوک ہندوتوا کی سرزمین بنا دیا۔ سکھ مجبور و بے بس ہونے کے سبب اپنا الگ پنجاب مانگ رہے ہیں جسے وہ خالصتان کہتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر والوں کو پانچ اگست2019 ء کو اس آئینی تحفظ جسے 370 اے کہتے  ہیں سے محروم کرکے انہیں یرغمال بنالیا گیا۔ محبوبہ مفتی کتنے عرصے بعد رہا ہوئی ہے؟ آتے ہی اس نے 370 کی واپسی اور خصوصی حیثیت کے احیاء کا مطالبہ کیا ہے۔ فاروق عبداللہ کشمیری نفسیات بتاتے ہیں کہ وہ چین کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ برصغیر کو مسلمانوں سے پاک کر ڈالنے کے لئے بی جے پی نے شہریت قانون نافذ کیا۔ بنگالی مسلمان جو ہجرت کرکے انڈیا میں آگئے تھے وہ پھر مسترد ہوگئے۔ ان سے شہریت کا ثبوت مانگا جارہا ہے۔ وہ مسلمان جو صدیوں سے انڈین تھے اور آج انڈیا میں ہیں ان سے شہریت کا ثبوت مانگا جارہا ہے؟ یہ ہے ہندوتوا کا مفہوم۔ مگر مرار جی ڈیسائی تو کانگرسی ذہن تھا اس نے کیوں مسلمان مصنف رئیس احمد جعفری کو کہا تم انڈیا چھوڑ دو اور پاکستان چلے جائو جبکہ نہرو نے جوش ملیح آبادی کو انڈیا میں رک  جانے کے لئے کہا  تھا۔ جوش نے سوچا نہرو تو میرا دوست ہے مگر آنے والی میری نسلوں کا  دوست تو کوئی نہیں ہوگا لہٰذا وہ نہرو سے دوستی کے باوجود پاکستان چلا آیا۔ کیا جوش کی ہجرت غلط تھی؟ اصل بات یہ ہے کہ ہندو ذہن کی اسٹیبلشمنٹ ہندوتوا ہے۔ وہ مسلمان، مسیحی،سکھ دشمن ہے وہ کم تر ذات کے دلت کی بھی دشمن ہے۔ یہ جو ہندوتوا کے نظریاتی مختلف کیمپس ہیں ان سب کی تخلیق کار ہندوتوا اسٹیبلشمنٹ ہے۔