07:41 am
 ملکی سا لمیت پر وار !

 ملکی سا لمیت پر وار !

07:41 am

 اس امر میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ پاکستان کو بقاء  کے لیے داخلی استحکام کی ا  ضرورت ہے۔ معاشرے میں لاقانونیت اور عدم تحفظ کا  پھیلائو  بےحد تشویشناک ہے۔عوام کی جان و مال محفوظ نہیں۔ لاہور موٹر وے اجتماعی زیادتی کا بھیانک واقعہ تو سوشل میڈیا کی بدولت حکومت کے لیے ایک چیلنج بن گیا لیکن ایسے ہی بیشتر سنگین جرائم کی تفتیش میں پولیس کی جانب سے وہ مستعدی نہیں دکھائی جاتی جو اس معاملے میں دیکھنے کو ملی۔ جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں ڈکیتیوں اور گاڑی چوری کی وارداتوں میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ معاملہ اس قدر سنگین ہوچکا ہے کہ امریکی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو وفاقی دارلحکومت میں سفر اور قیام کے دوران جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ رہنے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں۔ امن و امان کی خراب حالت فوری توجہ کی طالب ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کی بلاروک ٹوک لوٹ مار کے علاوہ دہشت گردوں کی بڑھتی سرگرمیاں بھی ملکی استحکام کے لیے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ فکری محاز پر انتشار اور مایوسی پھیلانے کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مواد کی تشہیر و ترسیل کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا منظم انداز سے استعمال کیا جارہا ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کا نعرہ لگا کر مادر پدر آزاد معاشرے کے قیام کے لیے راہیں ہموار کی جا رہی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اعصاب شکن جنگ میں  پاکستانی معاشرے نے جو ناقابل یقین  کامیابی حاصل کی  اور عساکر پاکستان کے کلیدی کردار کی بدولت جس انداز میں ملکی سالمیت کو لاحق خطرات کا سدباب ہوا اُس پر ازلی دشمن بھارت بری طرح تلملا رہا ہے۔ 
سی پیک منصوبے کی صورت ترقی و استحکام کی جانب سفر کو سبوتاژ کرنے کے لیے کئی محازوں پر یلغار جاری ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں پر تسلسل سے دہشت گردانہ حملے جاری ہیں۔  ملکی یکجہتی میں دراڑیں ڈالنے کے لیے لسانی تعصب کی بنیاد پر سیاسی نعرے بلند کر کے تقسیم در تقسیم کا عمل تیز کیا جا رہا ہے۔ دشمن بخوبی واقف ہے کہ ماضی میں لسانی تعصب کے ہتھیار سے ہی پاکستان کا مشرقی بازو جدا کیا گیا تھا۔ تعصب کے زہر میں بجھے خنجر سے ہی اسی اور نوے کی دہائی میں  سندھ  میں قومی سوچ کو  ذبح کیا گیا، جو نام نہاد لیڈر اور جماعتیں اس عمل کا حصہ رہے وہ تاریخ کے کوڑا دان میں جا پڑے ہیں۔ تاہم دشمن کے منفی ہتھکنڈوں اور زہریلے عزائم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان کی بربادی کی خواہش مودی سرکار کو چین سے نہیں بیٹھنے دے رہی۔ لسانی تعصب اور صوبائیت کے منفی تصورات سے قومی سالمیت کو ضرب لگانے کے بعد فرقہ واریت کا آزمودہ ہتھیار بھی آزمایا جا رہا ہے۔ دشمن ہر وہ حربہ استعمال کر رہا ہے جس کی مدد سے پاکستان کے گھٹنے ٹیکے جا سکیں۔ بھارت کے حاضر سروس جاسوس کمانڈر کل بھوشن یادیو کے  چشم کشا اعترافات اس امر کا بین ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ بھارت پاکستان میں انتشار پھیلانے کے لیے کرائے کے قاتلوں کے ذریعے فرقہ ورانہ نفرت کی آگ سلگاتا رہا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستان میں ایک مرتبہ پھر فرقہ ورانہ تشدد کی آگ بھڑکانے کی سر توڑ کوششیں کی جا رہی ہیں ۔
 محرم الحرام کے موقع پر ایک ٹی وی چینل کی غیرذمہ دارانہ روش نے ملک بھر میں مسلکی کشیدگی کی فضاء پیدا کردی۔ملک گیر سطح پر احتجاجی جلوسوں،ریلیوں اور سوشل میڈیا پیغامات کا تانتا بندھ گیا۔اگرچہ تمام مسالک کے سنجیدہ حلقوں اور جید علماء کرام نے فرقہ وارانہ محاز آرائی سے گریز کرتے ہوئے امن و اخوت کی ہدایت کی لیکن نفرت انگیز مواد کی تشہیر کا سلسلہ تھما نہیں۔ اس سارے معاملے میں صوبائی اور وفاقی حکومتیں گو مگو کی کیفیت  کا شکار دکھائی دیں۔ سوشل میڈیا سے پھیلائے جانے والے قابل اعتراض مواد کی روک تھام کا کوئی موثر نظام حکومت کے پاس نہیں۔ ایک جانب فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے والے نادیدہ عناصر عوامی جذبات بھڑکا رہے ہیں تو دوسری جانب اسلام بیزار اور نظریہ پاکستان سے بیر رکھنے والے نام نہاد لبرل طبقات ملک کی فکری اساس پر وار کر رہے ہیں۔ کراچی میں معروف عالم دین  ڈاکٹر عادل خان کی المناک شہادت ملک کو فرقہ وارانہ جنگ کی جانب دھکیلنے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ اس المناک واردات سے کئی روز قبل بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر پرو پیگنڈہ کرنے والے صحافی تسلسل سے پاکستان میں شیعہ سُنی کشیدگی اور فرقہ وارانہ تقسیم کی داستانیں رقم کر رہے تھے۔ ایک منہ پھٹ ریٹائرڈ بھارتی فوجی افسر نے تو کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر پاکستان میں مسلکی کشیدگی کی بنیاد پر خون ریزی کی بھارتی خواہشات کے منصوبے بیان کر دئیے۔ یہ انکشافات آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ سادہ لوح عوام کو دشمن کے پھیلائے جال سے بچانا علماء کی ذمہ داری ہے۔ 
ڈاکٹر عادل  کی شہادت کوئی پہلا واقعہ نہیں کہ جس میں علماء کرام کو ہدف بنایا گیا ہو۔ اس سے قبل مفتی تقی عثمانی  پر بھی کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے۔ یہ امر قابل افسوس ہے کہ نہ تو حکومت اپنے فرائض کی تکمیل میں سنجیدہ ہے اور نہ ہی دینی حلقے جید علماء کی حفاظت کے معقول انتظام پر توجہ دے رہے ہیں۔ یہ امر شبے سے بالا ہے کہ ڈاکٹر عادل خان کی شہادت کے پیچھے بھارتی ہاتھ ہے۔ یہ معاملہ  مذمتی بیانات اور ہڑتالوں کے  بجائے حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر کرنے سے ہی سلجھے گا۔ حکومت ہوش کے ناخن لے۔ وہ مذہبی طبقات جو ملکی سلامتی اور بقا ء کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ رہتے ہیں انہیں اعتماد میں لے کر فرقہ وارانہ کشیدگی کا فوری سدباب کیا جائے۔ ماضی میں بھی فرقہ واریت کے عفریت کو قابو کرنے کے لیے ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے جید علماء نے تاریخی کردار ادا کیا تھا۔المیہ یہ ہے کہ آج مذہبی حلقے بھی حضرت شاہ احمد نورانیؒ جیسی صاحب بصیرت قیادت سے محروم ہیں جنہوں نے قاضی حسین احمد،علامہ عبدالستار خان نیازی اور علامہ سمیع الحق جیسی بے لوث شخصیات کے تعاون سے  حزب اختلاف  میں رہتے  ہوئے ملک میں اتحاد و یکجہتی کی فضا قائم کرنے کے لیے حزب اقتدار سے زیادہ خدمات انجام دی تھیں۔ اس قحط الرجال کے دور میں عوام کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار سندھ کی حکمران جماعت اپنے فرائض کا ادراک کرنے کے بجائے اسلام آباد فتح کرنے کی مہم جوئی میں مصروف ہے۔ مختصر بات یہ کہ پاکستان اس وقت فرقہ وارانہ یا لسانی تفریق کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ حکومت پر اکتفا کرنے کے بجائے محب وطن حلقے اپنی بساط مطابق دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے موثر کردار ادا کرتے رہیں۔

تازہ ترین خبریں