07:45 am
مولاناڈاکٹر عادل خان شہید،ایک بھائی ،ایک دوست

مولاناڈاکٹر عادل خان شہید،ایک بھائی ،ایک دوست

07:45 am

بالآخر حضرت مولانا ڈاکٹر عادل خان بھی شہادت کی عظیم سعادت حاصل کرکے اپنے رب کی بارگاہ میں جاپہنچے ہیں...مولانا ڈاکٹر عادل خان میرے بھائی بھی تھے... دوست بھی تھے...سفر وحضر کے رفیق بھی تھے....مشیر اور رازداں بھی تھے اور معاون اور دست راست بھی تھے …مولانا عادل خان کی شہادت کی اطلاع ملنے سے لے کر آج تک عجیب کیفیت ہے۔سمجھ نہیں آتی کہ کیا کہوں؟کیا لکھوں؟...ڈاکٹر عادل خان سے میرے تعلق کی کہانی ڈاکٹرعادل خان سے شروع نہیں ہوتی بلکہ میرے محسن اور مربی استاذالمحدثین شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان سے شروع ہوتی ہے-استاذالمحدثین شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان سے میری جو تقریباً چالیس برس پر محیط رفاقت،معیت،نیاز مندی تھی وہ تو اللہ رب العزت کی رحمت سے ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے۔اس عرصے میں ڈاکٹرعادل خان سے کئی حوالوں سےکئی مواقع پر تعلق رہا،اسفار میں رفاقت رہی, کاموں میں اشتراک رہا۔اس عرصے کی بھی بہت سی سنہری یادیں ہیں...
بہت سی قابل ذکر باتیں ہیں،لیکن حضرت شیخ کی رحلت کے بعد کا جو عرصہ ڈاکٹرعادل خان کے ساتھ گزرا اس کی نوعیت ہی الگ ہے.... اس کی بات ہی کچھ اور ہے …شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان کی رحلت یوں تو سب اہل حق کے لیے بڑا سانحہ تھا لیکن وفاق المدارس اورمیری ذات کیلئے وہ بہت بڑا حادثہ تھا جس کے نتیجے میں بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا تھا میں نے حضرت شیخ کے جنازے کے موقع پر کہاتھا اور رسماً نہیں بلکہ دل کی گہرائی سے کہا تھا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ شیخ سلیم اللہ خان کی رحلت سے صرف ڈاکٹرعادل خان اورعبیداللہ خالد ہی یتیم نہیں ہوئے بلکہ میں اور ہم سب یتیم ہوگئے تھے …دکھ،صدمہ،تنہائی،مشکل اور پریشانی کی اس گھڑی میں جہاں اکابر ومشائخ نے سرپرستی فرمائی...ساتھ دیا....تعاون کیا....وہیں ڈاکٹرعادل خان میرے لیے ذاتی طور پر نعمت غیر مترکبہ ثابت ہوئے تھے....ڈاکٹرعادل خان جب سے ملائشیا سے واپس تشریف لائے اور رفتہ رفتہ اجتماعی،دینی،تحریکی،علمی اور بالخصوص وفاق المدارس کے معاملات میں مشاورت،رابطے، اشتراک عمل اور تعاون کا سلسلہ بڑھتا رہا تو میرایہ تاثر دن بدن پختہ ہوتا چلا گیا جس کا میں نے ان کی زندگی میں بھی بار ہا اظہار کیا کہ مجھے یوں لگتاتھا جیسے حضرت شیخ سلیم اللہ پھر سے جوان ہوکر....پھر سے تازہ دم ہوکر لوٹ آئے ہیں...ڈاکٹرعادل خان کے کام کرنے کے انداز کو دیکھ کر لگتاتھا جیسے 80 ء کی دہائی لوٹ آئی ہو اور حضرت شیخ سلیم اللہ خان جیسے اس وقت ہمارے آگے آگے چلتے تھے اب ڈاکٹر عادل خان ہمارے شانہ بشانہ تھے …
ڈاکٹرعادل خان کو اللہ رب العزت نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا... ذہانت ایسی کہ رشک آتاتھا…جس زبان میں گویا ہوتے یوں لگتاان کی مادری زبان ہے …جرات وبہادری اپنے والد گرامی سے ورثے میں پائی تھی …کسی قسم کے حالات میں حوصلہ نہیں ہارتے تھے …کسی کا تاثر نہیں لیتے تھے …ان کا ظاہر وباطن ایک ساتھا....ایک دم اجلا...بالکل ہی صاف وشفاف....جو دل میں ہوتا وہی زبان پر آتا …جیسے جلوت میں تھے ویسے خلوت میں تھے …گاہے ہم ایک دوسرے سے مذاق کرتے.... سدا ہی بے تکلفی سے پیش آتے.... لیکن باہمی احترام اور اعتماد میں کبھی ذرا بھی کمی نہیں آنے دی …میرے لیے وہ بھائی اور دوست بھی تھے اور مولانا سلیم اللہ خان کی نشانی بھی …وہ میرے ساتھ ایسی محبت،ایسے خلوص،اتنی اپنائیت کا اظہار کرتے کہ حیرت ہوتی....رشک آتا… ڈاکٹرعادل خان کے ملائشیاسے پاکستان منتقل ہونے جامعہ فاروقیہ کے معاملات سنبھالنے اور بہت سے امور کو سلجھانے میں الحمدللہ اس عاجز نے شیخ سلیم اللہ خان کے خاندان کے ایک فرد اور جامعہ فاروقیہ کے خادم کے طور پر کردار ادا کیا اور ان کے پاکستان تشریف لانے کے بعد میں جہاں پہنچ سکا....مجھ سے جوبن پڑا اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے اسے دینی فریضہ...ذاتی ذمہ داری اور شیخ سلیم اللہ خان کا حق سمجھ کر سرانجام دیا اور مولانا ڈاکٹرعادل خان پر بھی اللہ رب العزت کروڑوں رحمتیں نازل فرمائیں انہوں نے بھی تعلق نبھانے کا حق ادا کردیا...(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں